Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفل قربانی کی شرعی حیثیت

 

نفل قربانی کی شرعی حیثیت

Madinah Madinah

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کواپنی آخرت کی تیاری کے لیے جن عبادات کی ترغیب دی ہے اُن میں اُن عبادات کو خاص مقام حاصل ہے جو نفل کہلاتی ہیں، کیوں کہ فرائض کو ایک لازمی چیز ہیں، ان کے بغیر تو بندگی کی ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی، جب کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور اُس سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اُن فرائض کے علاوہ بھی کچھ عبادات ہونی چاہئیں تاکہ بندے اپنی اپنی محبت اور اپنی اپنی استطاعت و گنجائش کے مطابق اللہ تعالیٰ کے قرب میں خوب ترقی پاتے رہیں، تو اسی محبت و قربت کے تعلق میں ترقی پانے کے لیے نوافل عبادات کام آتی ہیں۔

نبی کریم ﷺ سے اپنی ذات مبارکہ کی طرف سے اور اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت ہے ۔ چنانچہ مسند بزار وغیرہ یہ روایت موجود ہے:

عن ابی رافع ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ضحی بکبش عنہ و بکبش عن امتہ (تلخیص الحبیر لابن حجر العسقلانی۔ج3ص204)

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک مینڈھا اپنی قربانی کے طور پر اور ایک مینڈھا اپنی امت کی طرف سے قربان فرمایا۔

اس سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ غیر کی طرف سے قربانی کرنا جائزہے چاہے وہ زندہ ہو یا وفات یافتہ۔ چنانچہ مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ میت کی طرف سے قربانی کرنے کی حقیقت بتلاتے ہوئے لکھتےہیں:

معنی التضحیۃ عن المیت اھداء الثواب لہ(اِعلاء السنن۔د17ص268)

یعنی میت کی طرف سے قربانی کرنے کا مطلب اور حقیقت اس قربانی کا ثواب اُس میت کو ہدیہ کرنا ہے۔

پھر نبی کریمﷺ نے حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کا جو حکم دیا تھا، اس پر لکھتے ہیں:

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریمﷺ کو اپنی جانب سے قربانی کیے جانا پسند ہے، اس لیے جس میں استطاعت ہوتواس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنے حبیب اور اپنے نبیﷺ کی طرف سے ہر سال قربانی کرے چاہے وہ ایک بکری ہو یا بڑے جانور میں کوئی حصہ ہو، ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائے۔

فقہ حنفی کی کتابوں میں میت کی طرف سے اس کے ثواب کے لیے نفل قربانی کا جائز ہونا بالکل واضح ہے، کیوں کہ جس طرح میت کے ثواب کے لیے کوئی بھی صدقہ کیا جاسکتا ہے، حج کیا جاسکتا ہے، اسی طرح نفل قربانی بھی کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ صاحبِ اعلاء السنن لکھتے ہیں:

من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اصحیۃ نفسہ من التصدق و الاکل و الاجر للمیت و الملک للذابح۔ قال الصدر:المختار انہ ان بامر المیت لایاکل منھا و الا یاکل (اعلاء السنن)

جس نے میت کی طرف سے قربانی کی تو جس طرح اپنی ذاتی قربانی میں سے صدقہ بھی دے سکتے ہیں اور خود بھی کھا سکتے ہیں اسی طرح اُس نفل قربانی سے بھی خود کھاسکتےہیں اور صدقہ بھی دے سکتے ہیں۔ علامہ صدر نے فرمایا: مختار مسلک یہ ہے یہ اگر میت کی طرف سے قربانی خود اس میت کے حکم سے کی ہے تو پھر خود نہ کھائے ورنہ اس میں سے خود کھاسکتا ہے۔

مجموعہ رسائل عبد اللہ بن زید آل محمود میں ہے کہ:

کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے میت کی طرف سے قربانی کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

یجوز ان یضحی عنہ کما یحج عنہ و نقل صاحب الاختیارات عنہ انہ قال: التضحیۃ عن المیت افضل من الصدقۃ بثمنھا(ص105)

میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے جس طرح کہ اس کی طرف سے حج جائز ہوتا ہے۔ اورصاحبِ اختیارات نے شیخ ابن تیمیہ سے نقل کیا ہے کہ: میت طرف سے قربانی کرنا ، اس کی طرف سے نقد رقم صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

اسی طرح شافعیہ کے ہاں ایک روایت اسی کے مطابق ہے کہ میت کی طرف سے قربانی درست ہے، اگرچہ اس نے وصیت نہ کی ہو، کیوں کہ یہ بھی صدقے کی ہی ایک شکل ہے، اور میت کی طرف سے صدقہ درست ہوتا ہےاوراس کے لیے نفع مند بھی۔(المنۃ الکبری شرح السنن الکبری۔ج4۔ص461)

اسی طرح سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ ایک فتوے میں فرماتےہیں:

لہ ان یضحی عن المیت و لہ ان یضحی عن الحی من اھل بیتہ کان یذبح اضحیۃ عنہ و عن والدیہ الاحیاء و عن اھل بیتہ من زوجۃ و اولاد و لہ ان یضحی عن المیت من ابیہ او امہ او خالتہ او خالہ او نحوذلک و لیس لذلک حد۔(فتاوی نور علی الدرب)

آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی میت کی طرف سے قربانی کرے،اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنے گھروالوں میں سے کسی زندہ کی طرف سے قربانی کرے، مثلا اپنی طرف سے کرے، اپنے زندہ والدین کی طرف سے کرے، اپنی بیوی بچوں کی طرف سے کرے، اور یہ بھی جائز ہے کہ اپنے وفات پانے والے متعلقین مثلا والد، والدہ، پھوپھو، ماموں وغیرہ کی طرف سے قربانی کرے۔ اس سب کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔

اسی فتوے میں مزید فرماتے ہیں:

الصدقۃ بالمال، بالنقود ، و الذبائح و الملابس و الاطعمۃ کلھا طیبۃ اذا قصد بہا وجہ اللہ و التقرب الی اللہ عن الاحیاء و الاموات فی رمضان وفی غیرہ۔(فتاویٰ نور علی الدرب)

زندوں کی طرف سے ہو یا مُردوں کی طرف سے صدقہ کرنا بہت ہی عمدہ ہے،چاہے وہ صدقہ مال کی شکل میں ہو، نقدرقم ہو، یا قربانیاں ہوں، یا لباس اور کھانا وغیرہ ہو، بشرطیکہ ان سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضااور اس کی قرب حاصل کرنا ہو۔

٭…٭…٭

 

حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے فاطمہ! جاؤ اپنی قربانی پر حاضری دو، کیونکہ اس کے خون سے جونہی پہلا قطرہ گرے گا تمہارے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے نیز وہ جانور (قیامت کے دن) اپنے خون اور گوشت کے ساتھ لایا جائے گا اور پھر اسے ستر گنا (بھاری کرکے) تمہارے میزان میں رکھا جائے گا۔ حضرت ابوسعید رضی اﷲ عنہ نے (یہ عظیم الشان فضیلت سن کر بے ساختہ) عرض کیا :یا رسول اﷲ! کیا یہ (فضیلت عظیمہ صرف) آل محمد کے ساتھ خاص ہے کیونکہ وہ (واقعۃً) اس کار خیر کے زیادہ مستحق ہیں یا آل محمد اور تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے؟

 آپﷺنےارشاد فرمایا: (یہ عظیم الشان فضیلت) آل محمد کے لئے تو بطور خاص ہے اور تمام مسلمانوں کے لئے بھی عام ہے (یعنی ہر مسلمان کو بھی قربانی کرنے کے بعد یہ فضیلت حاصل ہوگی)۔(الترغیب والترہیب)

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک مینڈھا اپنی قربانی کے طور پر اور ایک مینڈھا اپنی امت کی طرف سے قربان فرمایا۔ (تلخیص الحبیر لابن حجر العسقلانی۔ج3ص204)

 

 

 جامع و مانع مسنون دعائیں

اَللّٰهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، وَ أَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ

اے اللہ! تمام کاموں میں ہمارا اَنجام اَچھا بنا اور ہمیں دُنیا کی رُسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات عطاء فرما۔ (مسند احمد۔ طبرانی فی الکبیر)

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا،  أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا

اے اللہ!میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں بے کاری اور سستی سے، اور بزدلی اور بخل سے اور (سخت)بڑھاپےاور قبر کے عذاب سے۔ اے اللہ! میرے نفس کو متقی بنا دیجیے، اور اس کو پاک بنادیجیے، آپ ہی اس کا بہترین پاک کرنے والے ہیں،آپ ہی اس کے سنبھالنے والے اور مالک ہیں۔ (صحیح مسلم)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor