Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک اچھا قدم

ایک اچھا قدم

Madinah Madinah

حال ہی میں وطن عزیز کی مرکزی حکومت نے ’’ یکساں نظام تعلیم‘‘ کے نام سے ایک پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں :

(۱) پورے ملک کے تعلیم اداروں میں پہلی سے لے کر پانچویں کلاس تک کے بچوں کے لئے ایک یکساں تعلیمی نصاب کا تعین کیا گیا ہے۔

(۲)  پہلی جماعت سے لے کر پانچویں جماعت تک کے بچوں کے مضامین کے مواد میں بہتری لائی گئی ہے خصوصاً اسلامیات کے نصاب میں۔ اس نصاب کے تحت بچوں کو مخصوص قرآنی سورتوں کے عربی تلفظ مع ترجمہ ،مخصوص احادیث کا عربی تلفظ مع ترجمہ اور صبح و شام کی تقریبا پچاس کے قریب  مسنون دعائیں  جنہیں یاد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات پر مبنی اسلامی مواد بھی پیش کیا گیا ہے۔

(۳) پورے ملک کے سرکاری و نیم سرکاری اس کے علاوہ ملٹی نیشنل اسکولز اور پرائیویٹ اداروں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اس نصاب کی پابندی کریں اور یکساں نظام امتحان کی پالیسی بھی زیر غور ہے۔

جلد ہی یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور پھر اسے منظوری کے بعد پورے ملک میں لاگو کیا جائے گا۔

اس بل کی بازگشت ابھی سنائی دے ہی رہی تھی کہ اچانک ملک کے چند ہودیوں اور پرویزیوں کو ’’اسلامیات ‘‘ کے اس مذکورہ نصاب نے تنگ کر نا شروع کر دیا۔ اور پچھلے دس پندرہ دنوں سے ان کا ایک مخصوص ٹولہ اپنا سارا کام چھوڑ کر اخبارات میں اس ’’مذکورہ نصاب ‘‘ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے نظر آ رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مختلف ٹاک شوز میں بھی ’’ اپنا زہر ‘‘ اگلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ان کو باقی آٹھ مضامین سے کچھ سروکار نہیں ، اعتراض ہے تو صرف اسلامیات کے نصاب سے ۔ بقول ان کے ’’ پہلے سے پانچویں جماعت کے بچوں کوجن کی عمر چھ سے سات سال اور آٹھ سال تک کی ہو گی اسے ترجمہ تک تو بات ٹھیک تھی مگر عربی آیات کا تلفظ اور عربی احادیث کا تلفظ زبانی یاد کروانے کا بوجھ کیوں لاد دیا گیا ہے؟ اس قدر بچوں کا ذہن متحمل نہیں ہو سکتا اور اس کے ساتھ ساتھ اعتراض یہ کہ بچوں کو دعائیں بھی یاد کروائی جائیں گی یعنی بچہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کی دعا اور اترتے ہوئے کی دعا ، کپڑے پہننے اور بیت الخلاء جانے آنےکی دعائیں بھی یاد کرے۔ جب آپ اتنا کچھ بچے کے ذہن میں بھر دیں گے تو وہ دوسرے مضامین کو کیا وقت دے پائے گا۔

اس طرح کے اور بہت سارے بے سروپا اعتراضات اور لغویات ان کی طرف سے جاری و ساری ہیں۔ لیکن حکومت نے ان تمام اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک بہت اچھا اور احسن اقدام کیا ہے،اس طبقے کو اعتراض قبول کرنے سے مکمل انکار کر دیا ہے، اللہ کرے کہ یہ اسی استقامت کا مظاہرہ کرے جب تک کہ یہ بل پاس نہیں ہو جاتا۔

وطن عزیز کےتعلیمی اداروں میں بے چاری ’’اسلامیات‘‘ کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ اور پھر ان تعلیمی اداروں سے جس طرح کے گریجویٹ ہو رہے ہیں انہیں ٹھیک سے نماز ، تلاوت اور سورہ اخلاص تک کا  صحیح تلفظ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ اس کی مثالیں ہمارے میڈیا میں آج بھی موجود ہیں۔

لہذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے بچوں کی تربیت کی آغاز ان کے بچپن سے ہی شروع کر دینا چاہے۔ یہ ان کے لئے بوجھ نہیں بلکہ باعث برکت اور رحمت ہے۔

اسلام میں اس دینی تربیت کا آغاز بچے کی ولادت سے ہی ہوجاتا ہے، جب پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، حدیث ِنبوی ہے کہ

’’رأیت رسول اﷲ ﷺ أذَّن في اُذن الحسن بن علي حین ولدته فاطمة‘‘( سنن ابو داؤد)

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ آپ نے حضرت حسنؓ بن علیؓ کے کان میں اذان دی، جب اُنہیں سیدہ فاطمہؓ نے جنم دیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کو سب سے پہلے اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً اللہ کی کبریائی اور وحدانیت، نبی کی رسالتؐ اور نماز کی دعوت دی جاتی ہے۔

حضرت عبد اللہؓ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے وقت میں 10 برس کا تھا اور میں اس وقت قرآن کریم کی تمام مُحکم آیات سیکھ چکا تھا۔( صحیح بخاری )  (مُحکم کا لفظ ان آیات پر بولا جاتا ہے جو متشابہ یا منسوخ نہیں ہیں۔)          

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے:

افتحوا علی صبیانکم أوّل کلمة بلا إله إلا اﷲ ( شعب الایمان )

اپنے بچوں (کی تعلیم یا بولنے) کا آغاز لا إلہ الا اﷲ سے کیا کرو۔

عبادات اور نماز کے احکام سکھانے کے بارے میں فرمانِ نبویؐ ہے:

مُروا أولادکم بالصلاة وهم أبناء سبع سنین واضربوهم علیها وهم أبناء عشر سنین وفرقوا بینهم في المضاجع    )سنن ابوداؤد)

اپنے بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس برس کے ہو جائیں تو (نماز کے لئے) مارنے سے بھی گریز نہ کرو اور (اس عمر میں) ان کے بستر علیحدہ کردو۔

حدیث کی کتاب مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ عنوان ’’بچے کو نماز کا کب حکم دیا جائے؟‘‘ قائم کرکے اس کے تحت مختلف صحابہ کرامؓ کے معمولات ذکر کئے گئے ہیں :

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرمایا کرتے کہ بچوں کو بھی نماز کے لئے اُٹھایا کرو چاہے وہ ایک سجدہ ہی کریں۔عبد اللہ بن عمرؓ اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ بچے کو اس عمر میں نماز سکھایاکرتے جب اسے دائیں او ر بائیں کی پہچان ہوجائے۔ عبد الرحمن یحصبی کے نزدیک جب بچہ بیس تک گنتی گننا سیکھ جائے تب بچے کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے۔ ابو اسحق کا معمول یہ تھا کہ 7 سے 10 برس کی عمر کے دوران بچے کو نماز سکھا دیا کرتے۔

مذکورہ بالا صرف چند روایات ذکر کی ہیں ورنہ اس موضوع پر پوری کتاب ناکافی ثابت ہو کہ کیسے اسلاف نے اپنے بچوں کی تربیت کی اور اس سے معاشرے میں کیسا بدلاؤ آیا۔ اسلام میں بچپن کی تعلیم وتربیت کی نہ صرف اہمیت ہے بلکہ ہمیں اس کا حکم بھی دیا گیا ہے اور اس تعلیم کو محض اخلاقیات تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ قرآنی آیات اور فرامین نبویؐ کے تذکرے کے بعد اس موضوع پر مزید حیلہ جوئی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ہمارے یہاں چونکہ کچھ لوگ اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ شرمندہ سے ہوئے پھرتے ہیں یہ انہی کی طرف چند اعتراضات ہیں ورنہ عام عوام ، والدین اور دیگر اہل دل حضرات کی یہی دلی خواہش ہے کہ اسکولز اور بقیہ تمام تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے نصاب کو مضبوط کیا جائے اور اسے خاص اہمیت دی جائے۔

الحمد للہ کافی عرصے بعد حکومت کی طرف سے ایک اچھے اقدام کی خوشبو آئی ہے۔ اللہ کرے کہ اس مرحلے پر کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ ہرگز نہ کیا جائے۔

 ............

 

منصوبہ بندی کر لیں

ہر انسان خسارے میں ڈوبتا جا رہا ہے… مگر وہ جو اپنی زندگی کے اوقات… ایمان، عمل صالح، حق کی دعوت اور صبر کی دعوت میں خرچ کر رہے ہیں… اس لئے ہمارے نئے سال کی منصوبہ بندی بھی انہی چار چیزوں پر منحصر ہونی چاہیے… اور ہمیں روز اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگنی چاہیے کہ… یا اللہ! ہمیں خسارے سے بچا… ان الانسان لفی خسر … فرمایا تمام کے تمام انسان خسارے میں گرتے جا رہے ہیں… مگر وہ جو ایمان لائے… اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے… اور حق کی دعوت دی اور صبر کی تاکید کی… اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو خسارے سے بچائے… اور سورہ ’’والعصر‘‘ اچھی طرح سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے… یہ سورہ مبارکہ ایک پوری کتاب ہے، ایک مکمل نصاب ہے… اور پوری پوری تاریخ ہے… بس ضرورت اس بات کی ہے کہ… ہم گھاٹے ، نقصان اور خسارے سے ڈر جائیں… اور اس سے بچنے کے لئے اپنی جان، اپنا مال ، اپنا وقت… اور اپنا سب کچھ لگا دیں… اس لئے سال کے آغاز میں ہی ترتیب بنا لیں کہ… اس سال کے گھاٹے اور خسارے سے کس طرح بچنا ہے؟ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ؟…کیا کہنا ہے او رکیا نہیں کہنا؟…کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا ؟ کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا؟… کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا… ہمیں اپنی زندگی کا روزنامچہ خود تیار کرنا ہے… ہمیں اپنا حساب خود لینا ہے تاکہ آگے درد ناک حساب اور عذاب سے بچ جائیں… اگر اس سال ہم اپنی نماز ٹھیک کر لیں…مکمل ٹھیک ،مکمل مضبوط اور مکمل جاندار… اور ہم اس سال اپنا جہاد ٹھیک کر لیں … مکمل اخلاص ، قربانی اور وفاداری والا جہاد تو ان شاء اللہ … خسارے سے بچنے کے چاروں لوازمات مکمل ہو جائیں گے…

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor