Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

توبہ کی قبولیت کا دن

توبہ کی قبولیت کا دن

Madinah Madinah

علامہ ابن رجبؒ فرماتے ہیں:

’’ہمارے اسلاف تین عشروں کی بہت عظمت ولحاظ کرتے تھے۔ ایک رمضان المبارک کا آخری عشرہ، دوسرا ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور تیسرا محرم الحرام کا پہلا عشرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیس دن کے بعد چالیس دن کی تکمیل کے لیے جن دس دنوں کا اضافہ کیا تھا، وہ یہی محرم الحرام کے دس دن تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دس محرم الحرام کے دن باری تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محرم الحرام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمانا، اس کے شرف اور خصوصی فضیلت پر دالّ ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی مخلوق کی نسبت ہی اپنی طرف فرماتا ہے۔‘‘ (لطائف المعارف)

محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔اس ماہ کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں ۔ ماہ  محرم الحرام   زمانۂ آدمؑ سے مکرم و معظم چلا آتا ہے۔ خصوصاً دس محرم الحرام جس کو عاشورا کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کی بڑی فضیلت ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں اتارا گیا اور اسی دن حضرت آدم و حوا علیھما السلام کی توبہ قبول کی گئی۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی گئی، حضرت وہبؒ سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ آپ اپنی قوم کو اس بات کا حکم دیجئے کہ وہ محرم کے پہلے عشرے میں میرا قرب حاصل کریں پھر جس دن دس محرم ہو تو میری طرف رجوع کریں تاکہ میں ان کی مغفرت کروں۔

اسی طرح ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ایک شخص سے کہا اگر تو رمضان المبارک کے بعد کسی مہینے کا روزہ رکھنا چاہتا ہے تو محرم کا روزہ رکھ کیونکہ اس میں ایک دن ایسا ہے کہ اس دن میں اللہ تبارک وتعالیٰ ایک قوم کی توبہ قبول کرتے ہیں اور باقی دوسروں کی بھی توبہ قبول فرماتے ہیں۔

اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ چالیس راتیں پوری ہوئیں جو قرآن پاک میں اربعین لیلہ سے مذکور ہیں، اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی اور قتاوہ سے روایت ہے کہ ’’والفجر‘‘ سے بھی اسی دن کی صبح شروع سال سے مراد ہے۔

ایک حدیث میں مرفوعاً منقول ہے کہ اسی دن توبہ حضرت آدم علیہ السلام کی قبول ہوئی، حضرت ادریس علیہ السلام آسمان پر گئے، سفینہ حضرت نوح علیہ السلام نے قرار پکڑا، توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی، حضرت یوسف علیہ السلام کو قید سے رہائی ملی، حضرت یعقوب علیہ السلام بینا ہوئے، حضرت ایوب علیہ السلام کو بلا سے نجات ملی، حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے شکم سے باہر تشریف لائے، دریائے نیل نے حضرت موسیؑ اور بنی اسرائیل کو راستہ دیا، فرعون غرق ہوا، حضرت داؤدؑ پر اللہ کا کرم ہوا اور حضرت سلیمانؑ کو ان کا ملک واپس ملا۔ (فضائل اعمال)

خلاصۃ الحقائق میں حدیث مرفوع ہے کہ فرشتے حاملان عرش اس دن کی تعظیم کرتے ہیں اور عبداللہ بن سلام سے منقول ہے کہ حضرت آدمؑ کی پیدائش جمعہ یوم عاشورا کو ہوئی، اسی دن ہابیلؑ شہید ہوئے، آسمان سے پہلی بارش برسی، منجملہ اس کے یہ ہے کہ لوح وقلم، عرش و کرسی، ستارے، آسمان، فرشتے، دریا، پہاڑ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت عیسیؑ اسی دن پیدا ہوئے۔

چونکہ یہ مہتم بالشان دن اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک نہایت ہی اہم و بابرکت ہے، اس لیے اس دن کی عبادت کا ثواب بھی یقیناً دوسرے دنوں سے بڑھ کر ہوگا اور عبادات میں سے روزہ چونکہ بہت بڑی عبادت ہے، اس لیے اس دن کے روزے کی بڑی فضیلت ہے۔ عشرہ محرم کے روزوں کی فضیلت حدیث صحیح میں وارد ہے کہ رمضان کے بعد اللہ کے مہینہ محرم کے روزے افضل ہیں ( رواہ مسلم)۔

عمل الیوم واللیلہ میں حضرت ابوذرغفاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺفرماتے تھے: محرم کے ایک دن کا روزہ برابر ہے تیس روزہ کے۔ ( رواہ طبرانی فی الصغیر)

ایک روایت میں ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ برابر ہے ساٹھ برس کی عباد ت قائم اللیل و صائم النہار کے۔ ( رواہ الحافظ ابن ناصر باسنادہ و ذکرہ الحافظ الصلاحی فی عمل الیوم واللیلہ)۔

غنیۃ الطالبین میں حدیث مرفوع ہے کہ رسول اللہﷺنے چڑیا کو دیکھ کر فرمایا کہ پہلے اسی پرندے نے یوم عاشورا کا روزہ رکھا۔ (غنیۃ الطالبین)

نعمان بن سعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے علاوہ مجھے کس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس کے متعلق ایک آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے سنا، میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے رمضان کے علاوہ کون سے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہو تو محرم کے روزے رکھا کرو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اسی دن دوسری قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ (ترمذی)

ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماہِ محرم میں روزے رکھنا اور عبادات کرنا مسنون اور افضل ترین اعمال میں سے ہے حتیٰ کہ رمضان المبارک کے بعد ماہِ محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے اور محرم میں بھی نویں اور دسویں کا روزہ دیگر دنوں کے روزوں سے افضل ہے، لیکن افسوس کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ شروع ہوتا ہے، روزوں کے منافی امور کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ شہادتِ حسین کی یاد میں دودھ، پانی یا مشروبات کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں، دیگیں پکا کر لوگوں میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے، خوش ذائقہ ماکولات و مشروبات کا اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں اور جوں جوں دسویں محرم کا دن قریب آتا ہے، ویسے ہی  ان امور کے دائرہ میں وسعت اور تیزی آتی چلی جاتی ہے۔ گویا محرم اور یوم عاشوراء کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جتنا اہتمام روزے کا فرمایا کرتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی ترغیب دلاتے، دورِ حاضر کے مسلمان ماہِ محرم میں اتنا ہی اس کے منافی دعوتوں اور ضیافتوں کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے یہ بات از خود سمجھ آجاتی ہے کہ ماہِ محرم کی حرمت و تعظیم کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعۂ شہادت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں جو اس مہینے کی حرمت کی کڑیاں واقعہ کربلا اور شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ سے ملاتے ہیں۔ اس لئے کہ ماہِ محرم کی حرمت تو اس دن سے قائم ہے جس دن سے یہ کائنات بنی ہے جیسا کہ ہم نے اس دن کے متعلق احادیث ذکر کی ہیں۔

ایک حدیث مبارکہ جس کا ذکر ہم پہلے بھی کر چکے ہیں آخر میں ایک مرتبہ پھر بطور یاد دہانی پڑھ لیں کہ یہ توبہ و استغفار کا دن ہے، اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ سچی توبہ قبول فرماتے ہیں۔

حضرت وہبؒ سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ آپ اپنی قوم کو اس بات کا حکم دیجئے کہ وہ محرم کے پہلے عشرے میں میرا قرب حاصل کریں پھر جس دن دس محرم ہو تو میری طرف رجوع کریں تاکہ میں ان کی مغفرت کروں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں سچی توبہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor