Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

فلسفہ شہادت

فلسفہ شہادت

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو قربان کردینااور اس کے دین کی سربلندی کے لئے اس کی دی ہوئی جان کو اسی کے سپرد کردینا ”شہادت“ کہلاتا ہے اور یہ بہت بڑی سعادت، نہایت اُونچا اور بلند مقام اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کا بہت اعلیٰ ذریعہ ہے، ایسے شخص کو اسلام میں ”شہید“ کہاجاتا ہے۔

جب اللہ تعالیٰ کی اس سرزمین پر روحانی واَخلاقی اَقدارکو ایک ایک کر کے مٹایا جانے لگے، جب انسانیت پر انسان ہی کے ہاتھوں عرصہ حیات تنگ کردیا جائے، ان سے کارِزیست کے لوازم چھین لئے جائیں، دین و ملت کا شیرازہ بکھیراُ جانےلگے،رب کے باغی انسان ، رب کے فرماں بردار انسانوں پر ظلم وستم ڈھانے لگیں، رب کے دین کے پیغام میں رکاوٹ بن کرکھڑے ہوجائیں اور انسان یہ محسوس کرنے لگے کہ اب اس کے لئے زمین کا اندر والا حصہ، باہر والے حصے سے بہتر ہے، تو ایسے وقت میں رب تعالیٰ کے عطا کردہ اس جسد عنصری کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کردینا اور خاکی و جود کو راہِ خدا میں دے دینا بڑی عزیمت اور بڑی سعادت کا مقام ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان نچھاور کرنے والے ان خوش نصیب لوگوں کی قربانی سے پوری کائنات اور پوراانسانی معاشرہ محفوظ ومامون ہوجاتا ہے اور حیاتِ نوپاتا ہے۔دنیا کے لوگوں کو ملنے والی حیاتِ نودرحقیقت ان سرفروشوں اور جانبازوں کے رہین منت ہوتی ہے، جنہوں نے اپنا آج، دین و ملت کے کل پر قربان کردیاہوتا ہے، اس لئےاللہ واحد کی جانب سے ایسے شجاع اور بہادروں کو ایک حیاتِ جاودانی سے نوازا جاتا ہے اور ان کے لئے حکم یہ ہوتا ہے کہ انہیں ”مردہ“ تک نہ کہا جائے، ان کی حیات کو تسلیم کیاجائےاور ان کے اس خصوصی اِحترام کو ان کے بعد بھی برقرار رکھاجائے۔

ان جانبازوں کے حصے میں یہ حیات جاودانی اس لئے آئی کہ انہوں نے روز روز کی موت کو بیچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی زیست خریدلی اور درحقیقت یہی مرنے والے ہیں جو ہمیشہ جینے والے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ انسان اپنی یہ حیاتِ فانی دے کر بھی اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا نہیں کر سکتاکیونکہ یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا مزید کرم ، احسان اور انعام ہے کہ وہ اپنی ہی عطاء کی ہوئی زندگی کو اس کے راستے میں خرچ کرنے پر بھی بلند مقام ومراتب سے نوازتا اور جنت میں بلند درجات عطاء فرماتا ہے۔

 ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: ”بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض میں خرید لیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں۔ وہ (کافروں کو بھی) قتل کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہوتے ہیں۔ اس نے اپنے اوپر سچا وعدہ قائم کرلیا ہے جو تورات اور انجیل اور قرآن میں (لکھا گیا) ہےاور اللہ سے زیادہ کون اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے، سو تم اپنے اس سودے پر جو تم نے کیا ہے خوشی مناو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔“(سورۃ التوبۃ:111)

خرید وفروخت کا یہ معاملہ مسلمانوں کے لئے کس قدر مبارک اور کتنا منافع بخش ہے کہ یہاں ایک فانی جان اور مال دے کر ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی انہیں مل جائے گی۔

اگر غور کیاجائے تو خرچ صرف مال ہوا، جان یعنی روح تو مرنے کے بعد بھی باقی رہے گی اور ہمیشہ رہے گی، اور رہا مال تو وہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا ہے، انسان تو اپنی پیدائش کے وقت دنیا میں بالکل خالی ہاتھ آیا تھااور خود اس کا جسم اور روح بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے، جس کو آخرت کی نعمتوں اور جنت کا معاوضہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے جنت عطاء کردی۔ اسی لئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور تعجب فرمایاکرتے:

”اے اللہ! یہ عجیب تجارت ہے کہ مال اور قیمت دونوں تمہیں (یعنی ہم انسانوں کو)ہی دے دئیے۔“

یہ مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و انعام ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو مومنوں سمیت تمام مخلوق کا خالق و مالک ہے ، مومن کی نہ جان اپنی ہے اور نہ مال ، بلکہ جان بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور مال بھی اسی نے عطا ءفرمایا ہے، اس لئے مومن کا اللہ کی راہ میں اپنی جان ومال فدا کرنا بہت ہی حقیر فدیہ ہے اس لئے اس حقیر جان ومال کو اللہ کی راہ میں قربان کرنےکا بدلہ جنت نہیں نہ بن سکتی تھی،مگر یہ تو محض اللہ کا فضل و انعام ہے کہ اس نے مومن کو اس کی راہ میں جان ومال کا نذرانہ دینے پر جنت کا مستحق قراردیا، اس سے بڑھ کر اور کامیابی کیا ہوسکتی ہے۔

اس کامیابی کو دیکھیے کہ کس طرح شہداء کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا جا رہاہے:

ترجمہ: ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجاتے ہیں ،تم ان کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں“ (سورۃ البقرۃ:154)

 .................

 

دو مفید مسنون دعائیں

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے جو دعائیں سنی ہیں انہیں میں زندگی بھر نہیں چھوڑوں گا(ان میں سے ایک یہ ہے)

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ  وَ أُكْثِرُ ذِكْرَكَ  وَ أَ تَّبِعُ نَصِيْحَتَكَ وَ أَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ‏

اے اللہ! مجھے اپنا بڑا شکرگزار اور کثرت سے ذکر کرنے والا، آپ کی نصیحت کی پیروی کرنے والا اور آپ کی وصیت کو پورا کرنے والا بنا دیجیے(مسند احمد بن حنبل)

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ یہ دعاء بکثرت مانگا کرتے تھے:

‏‏اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَ مَا تَعَمَّدْتُ  وَ مَا أَسْرَرْتُ وَ مَا أَعْلَنْتُ وَ مَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ‏

اے اللہ!معاف فرمادے مجھے وہ گناہ جو میں نے خطا سے کیے اور وہ بھی جو میں نے جان بوجھ کر، اور وہ بھی جو چھپ کر کیے اور وہ بھی جو علانیہ کیے ، اور وہ بھی ناواقفیت کی وجہ سے ہوئے اور وہ بھی جو جانتے بوجھتے کیے۔ (مسند احمدبن حنبل)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor