Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

”بے آہِ سحر گاہی“

 

”بے آہِ سحر گاہی“

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں اعمال خیر وشر کی صلاحیت ودیعت فرمائی ہے،انہی اعمال کی بدولت ہماری دنیوی و اُخروی حیات کا ڈھانچہ تعمیر ہوتا ہے خواہ اچھا یابرا… کیونکہ اعمال ہی عادات کا روپ دھارتے اور پھر ہماری شخصیت کا تعین کرتے ہیں، قرآن و سنت سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسانی اعمال کے اثرات ضرور بالضرور ظاہر ہوتے ہیں، انفرادی اعمال کے اثرات انفرادی وشخصی ہوتے ہیں جبکہ اجتماعی افعال پورے معاشرے پر اثرات انداز ہوتے ہیں

ان الذین امنو ا وعملواالصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا

”ایمان لانے اور اعمال صالحہ بجالانے کا اثر کیا مرتب ہوگا ؟ فرمادیا گیا کہ ان کے قلب محبت سے لبریز کردئیے جائیں گے“

یعنی جس طرح اچھے کاموں کے اثرات اچھے ہی ہوتے ہیں بعینہٖ برے کاموں کے اثرات بھی خوفناک اور بھیانک ہوتے ہیں…

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو حضرت انسان کی جہاں حیات دنیوی میں رہنمائی فرماتا ہے وہیں آخرت کی یاد دہانی کا سامان بھی مہیا کرتا ہے اور یہی دین اسلام کی خوبصورت تصویر ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو دارین کی سعادتوں کا خوگر بنانا چاہتا ہے، اسلام سے پہلے انسانیت اپنی عالمگیر تباہی میں مبتلا اسی وجہ سے تھی کہ معاشرہ راہِ اعتدال سے ہٹ کر افراط و تفریط کا شکار ہوچکا تھا… ایک طرف دنیا کا انہماک اس درجہ بڑھ گیا تھا کہ فکر آخرت سے لوگ یکسر بے پرواہ ہوجاتے تھے ،دوسری طرف آخرت سے استغراق کا یہ عالم تھا کہ رہبانیت کی بو آنے لگتی لیکن اسلام نے زندگی کے ہر گوشے کو راہِ اعتدال کے قمقموں سے روشن کردیا جس کی بدولت انسانیت” معراج“ کی حقدار ٹھہری…

دین حق اپنے پیرووں سے صرف اتنا مطالبہ کرتا ہے کہ ان کے اعمال و حرکات،اُٹھنا بیٹھنا، لین دین، عبادات ومعمولات اور اخلاق ومعاملات حکم خداوندی اور اسوہ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے مطابق ہوں، اس کے عوض ان کو دنیوی و اخروی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ رضاء الہٰی کا انعام دیا جائے گا

 ورضوان من اللہ اکبر

”اور خالق کی رضاء تو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے“

لیکن اگردین حق کے اس مطالبے کو پس پشت ڈال دیا تو اس کے مضرات کو بھی بھگتنا پڑے گا…انسانی فطرت عمومی طور پررذائل کی جانب زیادہ میلان رکھتی ہے جس کی وجہ سے اس کا نفس اسےہر لمحہ گناہوں میں مبتلا کرنے کی سعی نامبارک میں مشغول رہتا ہے اور پھر ان گناہوں کے اثرات بد انسان کی پوری زندگی کو اجیرن بنادیتے ہیں۔

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:ان العبد لیحرمہ الرزق بالذنب یصیبہ

”بیشک بندہ اپنے گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم ہوجاتا ہے‘‘

اس حدیث میں گناہوں کا صرف ایک اثر گنوایا گیا ورنہ وحشت قلبی، امراض جسمانی،مخلوق کے دل میں نفرت اور بزدلی جیسے بے شمار اثراتِ معاصی ہیں جو اہلِ خرد کےمشاہدہ میں عام ہیں، بات لمبی ہوتی جارہی ہے اس موضوع کو یہی سمیٹتے ہوئے اصل بات جو عرض کرنا مقصود ہے اس کی طرف آتے ہیں، کالم کے شروع میں عرض کیاتھا کہ انفرادی اعمال کے اثرات انفرادی اور اجتماعی کے پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں اسی وجہ سے آج کی اس مجلس میں ایک ایسے اجتماعی گناہ یا خطا کی جانب توجہ مبذول کرانا مقصود ہے جس میں من حیث القوم خواص و عوام سب ہی مبتلا ہیں اور وہ ہے

 ”صبح کی نیند‘‘

صبح کی نیندکے ممنوع ہونے کے بارے میں صراحتاً جو روایات واردہوئی ہیں وہ اگرچہ سند کے اعتبار سے بہت ضعیف ہیں، لیکن عمومی روایات اور تعامل سلف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صبح کی نیند ناپسندیدہ عمل ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے، البتہ خاص حالات اور عذر کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے اور اس کے متعلق اباحت کی صحیح روایات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل موجود ہے، اشخاص اور حالات کے اعتبار سے بھی حکم مختلف ہوگا۔

لیکن افسوس ہے کہ امت کا ایک بہت بڑے طبقے نے صبح کے بعد سونا زندگی کا لازمی حصہ بنایا ہوا ہے، آج معاشرے کا ہر فرد رزق کے بارے میں پریشان ہے، کما کما کے تھک جانے کے بعدبھی دلی سکون کے نہ ہونے اور ضروریات کے پورا نہ ہونے نے دل ودماغ کو بوجھل کردیا ہے، معاشیات کی نظر سے اس کا ذمہ افراط و تفریط زر کو بھی بنایا جا سکتا ہے، لیکن سوچئے تو سہی اور کیا کمی ہے، وہ کمی نبی کریم ﷺکی تعلیم پر عمل نہ کرنا ہے، پھر ایسی غفلت پر اگر رزق کی پریشانی ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟

فجرکی نماز جوہر مسلمان کا وظیفہ حیات تھا اس سے ہی غفلت کیسے ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔شاعر مشرق کی شاعری میں صبح کی نماز عنوانات بدل بدل کر ظاہر ہوتی ہے اور اپنی معنویت کا اظہار کرتی ہے۔ مثلاً اقبالؒ نے ایک جگہ کہا ہے    ؎

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی ”آدابِ سحر گاہی“

ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے    ؎

عطّارؔ ہو ، رومیؔ ہو ، رازیؔ ہو ، غزالیؔ ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا ”بے آہِ سحَرگاہی“

یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں مارکیٹوں کا مزاج ہی رات گئے تک کاروبار کرنا اور صبح دیر سے کھلنا بن گیا ہے، لیکن کیا اس کاحل صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنا ہے، یقیناً جواب نفی میں ہے تو اس دعوت کو عام کیجیے، مارکیٹ کلچر تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔ سومایوسی کی کوئی بات نہیں، بس ذرا ہمت کی ضرورت ہےاورقدرت نے ہمیں اس کرونا نامی وباء کے ذریعہ اس کا حل کھلی آنکھوں دکھا دیا ہے کہ کس طرح حکومتی آرڈر پرمارکیٹیں ٹائم سےکھلتی اور بند ہوتی رہیں ہیںتو اگر اسی حادثاتی تجربے سے ہی کچھ سیکھ لیا جائے تو میرا نہیں خیال کہ ہم اس عادت بد سے چھٹکارا نہ پاسکیں…

کہا جاتا ہے کہ فجر کے بعد کے چھ گھنٹے استعمال کرنے والے شخص کے دن روشن ،پرسکون ہوتے ہیں، جبکہ دیر سے اٹھنے والے کے بوجھل اور ناکامیوں سے عبارت، اللہ نے کائنات کو ایک فطرت، ایک قانون کے تحت خلق کیا ہے، سورج صبح طلوع ہوتا ہے، تاریکی کو روشنی میں بدل دیتا ہے، اس کی کرنوں سے پھول کھلتے، فضائیں مہکتی ہیں، سبزہ چرند  پرند قوت و افزائش حاصل کرتے ہیں، جس طرح سورج دوپہر کو طلوع نہیں ہو سکتا، انسان بھی دوپہر کو جاگ کر کامیابی و سکون حاصل نہیں کر سکتا۔

فجر کے بعد چھ گھنٹوں کی مثال ہماری نوجوانی کی ہے، جس طرح نوجوانی کا دور ہماری زندگی کا بہترین صلاحیتوں سے بھراخوابوں کو حقیقت بنانے کا دور ہوتا ہے، اسی طرح چوبیس گھنٹوں کی نوجوانی صبح کے یہ چھ سات گھنٹے ہیں، جن کے استعمال سے ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔

اس وقت انسان کو فطرت کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے، اس لیے وہ بہتر فیصلے کرتا ہے، جبکہ صبح کے گھنٹوں کو سو کر برباد کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسان نوجوانی کو سو کر ضائع کرڈالے۔ طلوعِ آفتاب کے وقت جاگنے میں ہی صحت ، سکون، ترقی کا رازپوشیدہ ہے۔

دنیا کی کامیاب قومیں فطرت کے اسی اصول‘‘جلدی سونا، اندھیرے جاگنا’’کے تحت ہی ترقی و ایجادات کی منازل طے کر سکیں۔جو قومیں خندہ پیشانی سے جاگتے ہوئے صبح کا استقبال کرتی ہیں، وہی اس سے بیش بہا فوائد حاصل کرتی ہیں، ہمارا دھیان ابھی تک اس باریک اور انتہائی اہم نقطے کی جانب نہیں گیا کہ رات کے اندھیروں میں بلاوجہ جاگنا ہمیں سوائے اندھیروں کے کہیں نہیں پہنچائے گا۔

روشن مستقبل کے لیے ہمیں روشن صبح کا انتخاب کرنا ہوگا جو کہ ترقی یافتہ اقوام اور کامیاب لوگوںکا طرزِ حیات ہے، مگر جو لوگ دن کا بہترین وقت سو کر گزاردیں وہ کبھی ترقی نہیںکر سکتے، نہ ہی نفسیاتی جسمانی اُلجھنوں سے آزاد خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔

بحیثیت مسلمان بھی ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنے اطراف واکناف کے لوگوںاور خاص طور اپنی اولادکو صبح جلد اُٹھنے کے اس بہترین ہتھیار سے ابھی سے لیس کریں جو کہ انہیں اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے کل شدت سے درکار ہوگا۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں موجود غلط روایات کو مثبت طرززندگی میں بدلنے کے لیے اقدامات کریں،تاکہ ہم بھی فطرت سے ہم آہنگ ہو کر بھر پور، پرسکون اور کامیاب زندگی بسر کرسکیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor