Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مقام صحابه

 

مقام صحابه

Madinah Madinah

محمد رسول اللہ (الفتح)

محمد ( ﷺ ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔

’’ گویا یہاں ’’محمد رسول اللہ ‘‘ ایک دعوی ہے اور اس کے ثبوت میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت اور کردار کو پیش کیا گیا ہے کہ جسے آنحضرت ﷺ کی صداقت میں شک و شبہ ہو اسے آپ ﷺ کے ساتھیوں کی پاکیزہ زندگی کا ایک نظر مطالعہ کرنے کے بعد خود اپنے ضمیر سے فیصلہ لینا چاہیے کہ جس کے رفقاء اتنے بلند سیرت اور پاکباز ہوں وہ خود صدق و راستی کے کتنے اونچے مقام پر فائز ہوں گے۔

کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا ‘‘( بصائر وعبر حضرت بنوری رحمہ اللہ )

آج تذکرہ ہے نبی کریم ﷺ کے ان خوش نصیب، بلند مرتبہ اور عالی شان ساتھیوں کا۔

جن کی محبت، عقیدت اور اطاعت۔

ایمان کا لازمی تقاضا بھی ہے اور ایمان کی حقیقت تک پہنچنے کا راستہ بھی۔

صحابی کون ہوتا ہے؟

جس نے نبی کریم ﷺ کے مبارک زمانے میں ایمان قبول کیا اور اسی ایمان کی حالت میں نبی کریمﷺ کی زیارت، صحبت، اور مجالست کا شرف پایا۔

’’ والذین معہ ‘‘ میں ’’مع‘‘ کے لفظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔

اسی لئے اگر کسی شخص نے زمانہ پایا مگر ایمان لا کر ساتھ نہ ہوا… گو کہ بعد میں ایمان لے آیا ہو… یا زمانہ پاکر ایمان بھی لایا مگر جسمانی معیت اختیار نہ کر سکا۔

اس نے صحابیت کا شرف نہ پایا۔

٭…٭…٭

نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ وہ خوش قسمت جماعت ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے شرف و کرامت کے اعلیٰ ترین مراتب پر فائز کرنے کے لئے خود چن لیا۔

ملاحظہ ہو قرآن مجید کی یہ آیت…

ترجمہ: پھر وارث بنا دیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا۔ ( فاطر ۲۲)

اللہ تعالیٰ کی انتخاب فرمودہ جماعتیں دو ہیں۔

(۱) انبیاء کرام علیہم السلام

(۲) نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

اور ان منتخب بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہے

’’ آپ کہہ دیجیے کہ حمد سب اللہ کے لئے ہے اور سلام ہے ان بندوں پر جن کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے ( النمل ۵۹)

ظاہر ہے کتاب یعنی قرآن کے پہلے وارث حضرات صحابہ کرام ہیں اور پہلی نص قرآنی کی رو سے وہ اللہ کے منتخب بندے ہیں۔

اور اس آیت میں منتخب بندوں کے لئے سلام کا انعام ہے۔

اس طرح تمام صحابہ کرام سلام خداوندی میں شامل ہیں…

’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد رسول اللہ کے قلب مبارک کو ان میں سب سے بہتر پایا سو ان کو اپنی رسالت کے لئے مقرر فرمالیا پھر آپ ﷺ کے علاوہ تمام لوگوں کے قلوب پر نظر ڈالی تو آپ ﷺ کے اصحاب کے قلوب کو بہتر پایا انہیں اپنے نبی کی صحبت اور اپنے دین کی نصرت کے لئے منتخب فرمالیا‘‘ ( ابو داؤد الطیالسی)

اور مسند بزاز میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ کو انبیاء کے علاوہ تمام اہل جہان میں سے چن لیا ہے‘‘

اس چنیدہ اور برگزیدہ جماعت کو نبی کریم ﷺ کی صحبت عطا کی گئی۔

یہ وہ خوش قسمت جماعت ہے جسکی تعلیم و تربیت، تصفیہ و تزکیہ کے لئے سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کو معلم و مزکی مقرر کیا گیا۔

اور یہ بات بطور احسان کے انہیں جتلائی گئی۔

’’ بہت بڑا احسان فرمایا اللہ نے مومنین پر کہ بھیجا ان میں ایک عظیم الشان رسول انہی میں سے… وہ پڑھتا ہے ان کے سامنے اسکی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور گہری دانائی… بلا شبہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے ‘‘ ( آل عمران )

حضرات صحابہ کرام نے اس انعام الہی کی قدر دانی کی۔

وہ رسول اللہ ﷺ کی محبت میں فناء ہوئے۔

صحبت کو غنیمت جانا … اور تعلیم و تزکیہ کی نعمت کے حصول کے لئے خود کو وقف کر دیا۔

وہ نبی کریم ﷺ کے رنگ میں اچھی طرح رنگ گئے۔

ایک ایک عمل اور ہر ہر عادت میں اخلاق نبوت کا نمونہ بن گئے۔

وہ اس امر کی دلیل بن گئے کہ نبی کریم ﷺ کو جن مقاصد کی تحصیل و تکمیل کے لئے بھیجا گیا تھا آپ ﷺ نے ان کو پورا کر دیا۔

یوں وہ نبوت کی صداقت کی چلتی پھرتی برہان بن گئے۔

اللہ تعالیٰ کے اس انعام عظیم کی قدردانی اور عملی شکر پر ان کو دو انعامات مزید عطا ہوئے۔

(۱) وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے محبوب بن گئے۔

اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی محبت… ان کے لئے اپنی رضائ… اور دنیا و آخرت میں ان کی کامیابی کو قران مجید کی درجنوں آیات میں ذکر فرمایا۔

’’ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے ‘‘

’’ رضی اللہ عنہم ‘‘ کا اعلان تو ان کے بارے میں ایسا جچا کہ قیامت تک ان میں سے ہر ایک کے نام  کا گویا لازمی جز بن گیا۔

اولئک ھم المفلحون… اولئک ھم الصادقون… اولئک ھم المفلحون… الفائزون۔

اور کیا کیا محبوبانہ عطائیں… قرآن مجید کی ہر ہر سورت اور ہر ہر منزل میں۔

یہاں تک  باہمی … محبت۔

کہ کوئی ان کا نام بے ادبی سے لیتا ہے یا ان کی شان میں کوئی نازیبا لفظ بولتا ہے تو جواب آسمانوں سے آتا ہے:

’’ اور جب ان ( منافقوں ) سے کہا جائے کہ تم بھی اب ایمان لاؤ جیسا لوگ ( صحابہ کرام ) ایمان لائے ہیں تو جواب میں کہتے ہیں کیا ہم ان بے وقوفوں جیسا ایمان لائیں ؟… یہ خود ہی بے وقوف ہیں مگر نہیں جانتے‘‘ ( البقرۃ )

اور نبی کریم ﷺ نے تو صحابہ کرام سے محبت کو اپنی محبت کی شرط قرار دے دیا۔

اب جو شخص چاہے کہ اسے نبی کریم ﷺ کی محبت نصیب ہو۔

یا دعوی کرے کہ وہ محب رسول ہے۔

تو صحابہ کرام سے محبت رکھے اور اس کا ثبوت پیش کرے۔

ورنہ محروم ہے اور محروم رہے گا۔

’’ اللہ سے ڈرو… اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملے میں … میرے بعد ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناؤ… کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا۔ اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی … اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ستایا… اور جو اللہ تعالیٰ کو سنائے گا عنقریب اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا‘‘ (ترمذی)

(۲) دوسرا انعام یہ کہ انہیں قیامت تک معیار ہدایت اور نشان حق بنا دیا گیا۔

اب حق و باطل کی پہچان… صحیح و غلط کی جانچ… اور سچ اور جھوٹ کا پیمانہ۔

حضرات صحابہ کرام کا عمل ہے۔

جس کا ایمان و عمل ان کے مطابق وہ درست، کامیاب اور ہدایت یافتہ۔

اور جس کا راستہ ان سے جدا… وہ دین حق سے جدا۔

’’ اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہ راست پر آ جائیں گے اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو درحقیقت وہ دشمنی میں پڑ گئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے (البقرۃ ۱۳۷)

یہ معیار حتمی ہے… یقینی ہے۔

جو اس پر کھرا نہ اترا اس کا حکم بھی قرآن مجید میں موجود ہے:

’’اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے اُس کو ہم اسی راہ کے حوالے کر دیں گے جو اُس نے خود اپنائی ہے اور اُسے دوزخ میں جھونکیں گے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔( النساء ۱۱۵)

’’ ویتبع غیر سبیل المومنین ‘‘

’’ المومنین ‘‘ سے مراد حضرات صحابہ ہیں کہ سب سے پہلے مومنین وہی ہیں۔

جو ان کے راستے سے ہٹ کر چلے گا اس کا انجام آیت میں واضح ہے۔

٭…٭…٭

آئیے! بات سمیٹتے ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں چند باتیں ہر مسلمان کے عقیدے اور عمل کا حصہ ہونی لازم ہیں۔

(۱) صحابہ کرام، انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد تمام انسانوں سے افضل ہیں اور ان کے بعد کوئی شخص خواہ کیسا مقرب کیوں نہ ہو ان کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔

صحابی رسول حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ جو خود عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔

مقام صحابی کے بارے میں فیصلہ کن بات فرماتے ہیں۔

 ’’ خدا کی قسم! صحابہ کرام میں سے کسی شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہو کر اپنے چہرے کا غبار آلود کر لینا غیر صحابہ کی عمر بھر کی عبادت سے افضل ہے اگرچہ اس کو عمر نوح عطا ہو جائے ( مجمع الزوائد )

یہ اہلسنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

(۲) تمام صحابہ کرام عادل ہیں اور محفوظ ہیں یعنی ان کی بخشش یقینی ہے اور ان سے جو گناہ ہوئے وہ معاف کر دئے گئے۔

قرآن مجید میں ان کے بارے میں وعدہ ہے:

’’ جس دن رسوا نہیں کرے گا اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے‘‘ ( التحریم ۸)

(۳) صحابہ کرام معیار حق ہیں اور نجات صرف ان کے اتباع میں ہے۔

قرآنی آیت اور روایت پیچھے ذکر ہوئیں۔

(۴) صحابہ کرام کی محبت… اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کے لوازم میں سے ہے۔

اللہ و رسول کا ہر محب ان سے محبت رکھے گا۔

اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ اللہ و رسول سے بغض رکھنے والا ہو گا…اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا مستحق ہوگا۔

(۵) صحابہ کرام میں چار دیگر تمام سے افضل ہیں۔

ابو بکر صدیق … عمر فاروق… عثمان غنی… علی المرتضیٰ  رضی اللہ عنہم

اور ان کے باہمی مراتب بھی اسی ترتیب سے ہیں۔

اور ان کے بعد جن صحابہ کرام کے کچھ خاص فضائل و مناقب قرآن و حدیث میں آئے وہ دیگر سے افضل ہیں۔

مثلاً عشرہ مبشرہ، مہاجرین و انصار میں سے سابقین فی الاسلام… اہل بدر… بیعت رضوان والے…اہل بیت وغیرہ

(۶) صحابہ کرام ؓ کے جو باہمی اختلاف ہوئے ہم ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

تمام فریقوں کے بارے میں اپنے دل اور زبان کی حفاظت کرتے ہیں۔

سب کی محبت اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اور سب کا ذکر خیر اور الفت کے ساتھ کرتے ہیں۔

’’ تمام صحابہ کرام سے محبت کرنا اور ان کے درمیان جو واقعات پیش آئے ان کو لکھنے، پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا، ان سے رضامندی کا اظہار کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان پر اعتراضات نہ کرنا، انہیں معذور سمجھنا، اور یہ یقین رکھنا واجب ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ایسے اجتہاد کی بنیاد پر کیا جس سے نہ کفر لازم لاتا ہے اور نہ فسق ثابت ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس پر انہیں ثواب ہو گا‘‘ ( شرح عقیدہ سفارینی)

اور جو شخص ان میں سے کسی کی شان میں بھی نامناسب الفاظ کہے ۔

اسے حدیث مبارک کے الفاظ کہے جائیں:

’’ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کے بارے میں نامناسب بات کہتے ہوں تو کہو: اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر ( ترمذی )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor