Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابہ کرام کا ذوقِ محبت

 

صحابہ کرام کا ذوقِ محبت

Madinah Madinah

ایک سچے محب کیلئے محبوب کا ساتھ نصیب ہو جانا ‘ اُس کی معیت کا مل جانا اور اس کی بارگاہ میں شرفِ حضوری پا لینا ‘ اس سے بڑھ کر اُس کیلئے کوئی نعمت نہیں ہو سکتی ۔ اس امت کے سب سے بڑے اور سب سے عظیم محب ِ رسول ‘ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کیسے محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت اور ساتھ کیلئے تڑپتے تھے ‘ اس کا اندازہ اس روایت سے لگالیں:

’’قالت عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا : بینما نحن جلوس فی بیت ابی بکر فی نحر الظہیر ۃ ، قال قائل لابی بکر : ھذا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم متقنعا ، فی ساعۃ لم یکن یا تینا فیھا : فقال ابو بکر : فداء لہ ابی و امی ، واللّٰہ ما جاء بہ فی ھذہ الساعۃ الا امر۔ قالت : فجاء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاستأذن ، فاذن لہ فد خل ، فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لابی بکر : اخرج من عندک  فقال ابو بکر : انما ھم اھلک بابی انت یا رسول اللّٰہ ، قال: فانی قداذن لی فی الخروج ، فقال ابو بکر : الصحبۃ بابی انت یا رسول اللّٰہ ؟ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : نعم (صحیح البخاری)

’’ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے حالات کو بیان کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے بھانجے حضرت عروہ ؒ کو بتاتی ہیں:

ایک دن ہم ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے اور ٹھیک دوپہر کا وقت تھا کہ کسی نے آکر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں‘ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہ تھا  حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس اطلاع پر بولے کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ‘ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے ۔ جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے تو اندر آنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر آپ اندر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ تھوڑی دیر کیلئے یہاں سے سب کو اٹھا دو ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہاں تو آپ کے گھر والے ہی ہیں‘ میرے باپ آپ پر فدا ہوں ۔ تب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میرے والد آپ پر قربان ! کیا مجھے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہو سکے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ہاں ۔‘‘

سیرت ابن ہشام کی روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مزید یہ الفاظ بھی منقول ہیں :

’’قالت:فواللّٰہ ماشعرت قط قبل ذلک الیوم ان احدا یبکی من الفرح ، حتی رأیت ابا بکر یبکی یو مئذ‘‘

’’ اللہ کی قسم! مجھے اُس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ کوئی شخص بہت زیادہ خوشی کی وجہ سے رو بھی سکتا ہے ‘ یہاں تک کہ میں نے اس دن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خوشی کی وجہ سے روتے ہوئے دیکھا‘‘۔

کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ محب ِ صادق ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خوشی کا اُس وقت کیاٹھکانہ ہو گا ‘ جب انہیں یہ مژدئہ جاں فزا ملا کہ وہ ہجرت کے مبارک سفر میں رفاقت اور معیت کے شرف سے نوازے جا رہے ہیں ۔ یقینا تمام صحابہ کرام ہی اس رفاقت ‘ معیت اور ساتھ کیلئے تڑپتے تھے اور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی دولت خیال کرتے تھے ۔

اسی لیے تو بجا طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس آسمان و زمین نے رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفیﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں دیکھا اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر کوئی محبت کرنے والا نہیں دیکھا ۔ بلاشبہ جس رسمِ محبت کی بنیاد ہمیں اُن حضرات کے ہاں نہیں ملتی ‘ وہ ہماری خام خیالی تو ہو سکتی ہے لیکن بارگاہِ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبول ہرگز نہیں ہو سکتی کہ یہی خوش قسمت لوگ تھے کہ جنہوں نے بارگاہِ رسالت ِ مآب میں اپنے گھر بار ‘ اپنا کاروبار ‘ اپنی اولاد اور اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا ‘ تو پھر بھی صرف یہی عرض کیا :

ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

(آپ نے تو اپنی قیمت صرف دونوں جہان بتائی ہے ‘ یہ قیمت تو بہت سستی ہے‘اسے مزید بڑھا دیجئے )

یقینا یہ ہی وہ ہستیاں ہیں جو صحیح اور غلط اور سنت و بدعت کے درمیان معیار ‘ کسوٹی اور پہچان ہیں ۔ اگر کوئی بارگا ہ محمدی تک پہنچنا چاہتا ہے تو اُس کیلئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اسی لیے تو قرآن مجید کہہ رہا ہے:

فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا ( البقرۃ ‘ ۱۳۷)

( تو اگر یہ لوگ بھی ویسے ہی ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ ہدایت پا جائیں گے )

اور حدیث پاک میں راہِ نجات کو متعین کرتے ہوئے واضح طور پر فرما دیا گیا :

ما انا علیہ و اصحابی

(جس راستے پر میں اور میرے صحابہ چل رہے ہیں)(جامع الترمذی ‘ تاریخ واسط)

بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت ِ رسول اور ان کا اتباع رسول ہی اس حد تک کامل و مکمل ہے کہ وہ ان اشعار کے صحیح مصداق نظر آتے ہیں :

بہارِ حسن کو یوں جذب کر لوں دیدہ و دل میں

محبت میں میرا ذوقِ نظر معیار ہو جائے

میری آنکھوں میں چشم مست ساقی کا وہ عالم ہے

نظر بھر کر جسے بھی دیکھ لوں مے خوار ہو جائے

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور ساتھ مل جانا کتنی بڑی نعمت محسوس ہوتا تھا اور اس سے محرومی کو وہ اپنے لیے کتنی بڑی مصیبت سمجھتے تھے ‘ اس کا کچھ عکس اس روایت میں نظر آتا ہے :

’’ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما : ان رجلاً اتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال:یا رسول اللّٰہ انی لا حبک ‘ حتی انی لا ذکرک ، فلولا انی اجی فانظر الیک ظننت ان نفسی تخرج ، فاذکر انی ان دخلت الجنۃ صرت دونک فی المنزلۃ فشق ذلک علی واحب ان اکون معک فی الدرجۃ ، فلم یرد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئا فانزل اللّٰہ عزوجل : ومن یطع اللّٰہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم (النساء :۶۹)فد عاہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتلا ھا علیہ‘‘ ( المعجم الکبیر ، طبرانی)

(حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور جب بھی مجھے آپ کی یاد ستاتی ہے تو میں آکر آپ کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیتا ہوں‘ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے لگتا ہے کہ میری جان ہی نکل جائے گی ۔ اب مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ اگر میں جنت میں داخل بھی ہو گیا تو آپ سے بہت نچلے درجے میں ہوں گا‘ گویا اس طرح میں زیارت سے محروم رہوں گا اور یہ تو میرے لیے بڑی مشکل ہے‘ میں تو چاہتا ہوں کہ جنت کے درجے میں آپ کے ساتھ ہی ہوں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو کوئی جواب نہیں دیا ‘ یہاں تک کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :

’’ اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جیسے انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں‘‘۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور یہ آیت اُن کو پڑھ کر سنادی )

اللہ اکبر! کیا محبت کی انتہاء اور معراج ہے کہ یہ سب کچھ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ جنت میں کیسی کیسی نعمتیں ہوں گی ‘ جو کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کا دل اُن لذتوں کا پورا تصور کر سکتا ہے ‘ لیکن محب صادق کو بغیر محبوب کے دیدار اور رفاقت کے کیسے چین آسکتا ہے ‘ جس نے کہا ہے بالکل سچ کہا ہے:

کسی کی زلف پر مر کر معلوم ہو تجھے

کتنی ہے فرقت کی رات کس پیج و تاب میں

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor