Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اَپنا گھر

 

اَپنا گھر

Madinah Madinah

ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہی عطاء کردہ ہے، ہم سب اُسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا بھی محتاج نہیں ہے۔

اُس کریم رب کی مہربانی ہے کہ اس نے زمین پر ہمیں مسجد عطاء فرمائی اور پھر اس مسجد کی عزت و اکرام اور شرف و فضیلت کے اظہار کے لیے اسے ”اللہ تعالیٰ کا گھر“کہا گیا ، اسی لیے اب یہ مساجد ہر مسلمان کو اسی طرح محبوب ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان مساجد کی قدر قیمت ہے۔

”مسجد“ کا معنیٰ ہے ”سجدے کی جگہ“ اور رب کریم کو اپنے بندوں کی عبادات میں جو چیزیں سب سے زیادہ پسند ہیں ان میں ایک اہم ترین چیز”سجدہ“ ہے۔ یہ سجدہ بظاہر بہت آسان ساعمل ہے مگر اس وقت بھی دنیا میں کتنے لاکھوں کروڑوں لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرنے سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ وہ دنیا کے باقی بے شمار کام کر لیتےہیں، صبح وشام بھاگ دوڑ بھی کر لیتےہیں اور چل پھر بھی لیتےہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدے کی توفیق انہیں نہیں ملتی۔

اور کیوں نہ ہو کہ وہ کہنے میں ایک سجدہ ہے مگر جسے نصیب ہوجائے تو اسے باقی سب مخلوقات کے سامنے سجدہ ریزی سے نجات عطاء کردیتا ہے:

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

دیتا ہے تجھے ہزار سجدوں سے نیاز

اللہ تعالیٰ کے لیےسجدہ تو خوش نصیب لوگوں کو ملا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ جسے اپنا قرب عطاء کرنا چاہتے ہیں اسی کو سجدے کی توفیق دیتے ہیں ۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

”جس حالت میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے وہ ”سجدے“ کی حالت ہے“ (الحدیث)

در اصل انسان سے عاجزی اور انکساری اور عبدیت و بندگی مطلوب ہے اور جس میں یہ عبدیت و بندگی جتنی زیادہ ہوتی ہے وہ اسی قدر رب کریم کے قریب ہوتا ہے اور اسی طرح جو عمل جس قدر زیادہ بندگی والا ہوتا ہے وہ عمل خود بھی اسی قدر اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتا ہے اور اس عمل کو کرنے والا بھی اُسی قدر رب کریم کے قریب ہوتا ہے۔

اب سجدے کو دیکھیں تو یہ انسان کی طرف سے کسی کے سامنے اپنی بندگی اور غلامی کے اظہار کا سب سے آخری درجہ ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مقام بھی بہت بلند ہے اور اس سے قرب بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔

جب سجدے کا یہ مقام ہے تو خاص اس سجدے والے عبادت یعنی نمازکے لیے جو جگہ مختص کی جائے، اسے تعمیر کیا جائے، اسے آباد کیا جائے، اس کی ترقی میں حصہ لیا جائے، تو یہ سب اعمال بھی رب کریم کو بہت محبوب ہوجاتے ہیں۔

ہم کسی کو پانی پلادیں تو سامنے والا اس احسان کو ضرور یادرکھتا ہے اور موقع ملنے پر اس احسان کا بدلہ اداء کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔

غور کریں کہ رب کریم تو سب سے بڑے ”شکور“ ہیں یعنی قدر دان ہیں، بندے کی نیکی کو محفوظ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑے ”محسن“ بھی ہیں یعنی سب سے بڑھ کر احسان کرنے والے بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر احسان کا بدلہ دینے والے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی احسان کرنے والا نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر احسان کا بدلہ دینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

اب کتنی خوش نصیبی ہوگی کہ کوئی بندہ ”اللہ کے گھر“ یعنی مسجد کی تعمیر کرجائے، اس کی تعمیر میں حصہ شامل کردے، تو پھر جب رب کریم اس بندے کی اس نیکی کا اس کو بدلہ دیں گے تو وہ کتنا شاندار ہوگا؟

علماء لکھتے ہیں کہ ”بدلہ عمل کی جنس سے ہوتا ہے“

یا یوں سمجھ لیں کہ جس طرح ہمارے ہاں محاورہ ہے کہ”جیسا کرو گے ویسا بھروگے“

اب اس طرح توجہ کریں کہ مسجد بنانے والا جو جگہ بنا رہا ہے وہ کس کی طرف منسوب ہوتی ہے؟ اسے کس کا گھر کہا جاتا ہے؟

یقیناً جواب یہی ہے کہ: اللہ کا گھر

اب جس نے اللہ کا گھر بنایا ہے تو بھرے گا بھی ویسے ہی یعنی اس کے بدلے میں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”اپنا گھر“ ملے گا۔

اور آپ یہ جانتے ہیں کہ ”اپنا گھر“ کون سا ہوتا ہے؟

اپنا گھر وہ ہوتا ہے جو ہمیشہ پاس رہے، جسے کوئی چھین نہ سکے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کریم ﷺ نے یہ خوش خبری دی کہ :

”جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے گھر بنایا تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں گھر بنادیتے ہیں“ (الحدیث)

جی ہاں!

مسجد کی تعمیر کرنے والے اور اس میں حصہ لینے والے چھوٹے چھوٹے چمکتے ستاروں پر اپنی نظر نہ رکھیں بلکہ چاند اور سورج پر اپنی نظر رکھیں، یعنی اپنے مقاصد بلند رکھیں، اپنی نیت اونچی اور پاکیزہ رکھیں، اس عمل سے اپنا مقصود کسی دنیوی غرض و مفاد کو نہ بنائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت کو اپنا مقصد بنائیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ بھی جنت کے گھر کا ہے ۔

پھر یہ بھی سمجھ لیں کہ جنت میں گھر کا وعدہ اس لیے نہیں ہے کہ یہ معاملہ ”اُدھار“ بن جائے، بلکہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو تو فناء کی چیز بنایا ہے اس لیے اگر اللہ کا گھر بنانے کا بدلہ صرف دنیا میں گھر وغیرہ دینے کی شکل میں ہوتا تو جس طرح ایک وقت میں یہ دنیا فناء ہوجائے گی تو اس بندے کا وہ گھر بھی فناء ہوجائے گا

لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و مہربانی دیکھیں کہ اس نے مسجد کی تعمیر کے بدلے میں بندے کے لیے جنت میں گھر بنادیا کیوں کہ جنت کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ کی نعمتوں اور خوشیوں کا گھر بنایا ہے اور اس طرح بندے کو مسجد کی تعمیر پر جنت میں جو گھر ملے گا وہی حقیقت میں اس کا ”اپنا گھر“ ہوگا، جو ہمیشہ اس کے پاس رہے گا، کوئی اس سے اُسے چھین نہیں سکے گا، اس گھر پر کبھی فناء طاری نہ ہوگی، اور نہ ہی وہ گھر کبھی ویران یا خراب ہوگا۔

 اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں سے مساجد کی تعمیر کا کام لیتے ہیں جس طرح یہ حقیقت ہے اسی طرح دوسری جانب یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے دشمن ہیں وہ اسی دشمنی کے حساب سے اللہ تعالیٰ کے گھرون یعنی مساجد کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔

چند دہائیاں قبل جب ”سربیا“ میں کافروں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نسل کُشی کی مہم شروع کی گئی تو اس وقت ان کافروں نے سب سے زیادہ جن نشانات اور عمارتوں کو مٹانے اور ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی وہ مسلمانوں کی مساجد تھیں۔

چنانچہ وہاں کے صرف ایک شہر میں تمام بڑی مسجدوں کو ڈائنا مائٹ لگانے کے بعد سرب فوجیوں نے گھڑی دیکھ کر سب کو بیک وقت اڑادیا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سربوں نے مسجدوں کو صرف تباہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ جہاں ہوسکا وہاں ان کی کوشش تھی کہ ساتھ ہی ساتھ ان کا ملبہ بھی اٹھادیا جائےتاکہ اس علاقے سے اسلام کا ہر نشان یوں مٹادیا جائے کہ اس علاقے کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔ چنانچہ بانیا لوکا اور مشرقی بوسنیا کے شہروں میں مسجدوں کو بنیادوں سے اڑادینے کے بعد فوری طور پر ان کا ملبہ صاف کردیا گیا۔اسی طرح مشرقی شہر بیلژیہ میں تیرہ مارچ انیس سو ترانوے کی رات سربوں نے چھ مسجدوں کو ڈائنا مائیٹ کے ساتھ اڑانے کے بعد دوسرے دن بلڈوزروں کے ساتھ تمام ملبہ صاف کردیا۔ ایک اندازے کے مطابق بوسنیا کے سرب علاقے ریپبلکا سربسکا میں چار سو پچاس مسجدیں تباہ کی گئیں۔ الغرض ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں پندرہ سو سے زیادہ جامعہ اور دو ہزار مسجدیں تباہ ہوئیں ہیں۔

یہ بات تصویر کے دوسرے رُخ کر سامنے رکھنے کے لیے لکھ دی ہے ورنہ حق اور باطل کی آویزش کا یہ سلسلہ اور اس کے یہ مظاہر ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ ایک طرف حق کا نشان بلند رکھنے کے لیے مساجد کی تعمیر کرنے والے رہے ہیں تو دوسری طرف باطل کو اُبھرنے کا موقع دینے والے اور حق کے نشانات یعنی مساجد وغیرہ کو مٹانے کی کوششیں کرنے والے بھی موجود رہے ہیں۔

اب خوش قسمت وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ گھروں کو تعمیر کرتے ہیں، اسے آباد کرتے ہیں، ان کی تعمیر اور آبادی میں حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمادے،آج موقع ہے مساجد کی تعمیر میں حصہ لے کر جنت میں ”اپنا گھر“ بنوالیا جائے۔

 

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان فرمائیں گے… کہاں ہیں میرے پڑوسی؟ کہاں ہیں میرے پڑوسی…فرشتے عرض کریں گے اے ہمارے رب آپ کا پڑوسی بننے کی کس کو مجال ہے؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے

این عُمَّار المساجد

کہاں ہیں مسجدیں آباد کرنے والے؟

یہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارک ہے … اس حدیث کے راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں اور محدثین نے اسے ’’حدیث صحیح ‘‘ قرار دیا ہے…یہ ’’حدیث قدسی‘‘ ہے… ’’حدیث قدسی‘‘ وہ ہوتی ہے جس میں رسول کریم ﷺ … اللہ تعالیٰ کا کوئی فرمان … اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سناتے ہیں کہ… اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے… حدیث شریف کے الفاظ دوبارہ پڑھیں… مسجدیں تعمیر کرنے والے، مسجدیں آباد کرنے والے، مسجدوں سے محبت رکھنے والے… مسجدوں کا اہتمام کرنے والے… اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں… اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا پڑوسی قرار دیا ہے … یعنی اللہ تعالیٰ کے ’’قرب‘‘ کا اعلیٰ مقام… قریب ،بہت قریب… بے شک مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے… اللہ تعالیٰ غیرت و جلال والا ہے… اپنے ’’ گھر‘‘ کی خدمت کے لئے اپنے قریبی بندوں کو ہی توفیق دیتا ہے… دنیا میں ان کو مال دے کر ، ان کو توفیق دے کر ان سے اپنا گھر بنواتا ہے… اور اس کے بدلے جنت میں ان کے لئے اپنے’’قرب‘‘ میں گھر بناتا ہے… اللہ تعالیٰ کو نہ گھر کی ضرورت نہ مکان کی… دنیا میں وہ جو اپنا ’’گھر‘‘ بنواتا ہے… وہ بھی اس کے بندوں کے کام آتا ہے… بندے اس گھر میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا ’’قرب‘‘ پاتے ہیں، سکون پاتے ہیں… اور طرح طرح کی انمول نعمتیں پاتے ہیں… اور پھر اس ’’گھر‘‘ کے بدلے اللہ تعالیٰ جنت میں ہمیں جو ’’گھر‘‘ عطاء فرمائیں گے… وہی ہمارا اپنا گھر ہو گا… خالص اپنا گھر… نہ کوئی ہمیں وہاں سے نکال سکے گا… نہ کوئی ہمیں وہاں ستا سکے گا … اس گھر پر نہ چھاپے پڑیں گے اور نہ ڈاکے… اس گھر میں نہ غم ہو گا نہ موت… اس میں نہ ذلت ہو گی نہ قلت… وہ گھر ایسا ہے کہ جس کی شان میں قرآن کی آیات اُتری ہیں… یا اللہ ہم سب کو’’ اپنا گھر‘‘ عطاء فرما…

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا … جو اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بنائے گا… اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت  میں گھر بنائیں گے… یہ حضور اقدس ﷺ کی طرف سے اپنے اُمتیوں کے لئے ’’سچا وعدہ‘‘ ہے …رسول کریم ﷺ کا ہر وعدہ سچا ہے… مسجد کے بارے میں تو یہاں تک فرمایا کہ جو ایک چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد بنائے گا… اس کے لئے بھی جنت میں گھر بنے گا… یعنی مسجد کی تعمیر میں اخلاص کے ساتھ اتنا حصہ کہ… ایک چڑیا کے گھونسلے جتنی جگہ ہماری طرف سے بن جائے… اللہ تعالیٰ کا شکر کہ اُس نے…ہمارے لئے اتنا عظیم انعام مقرر فرمایا … رسول کریم ﷺ کا شکریہ کہ انہوں نے ہماری اس عظیم عمل کی طرف رہنمائی فرمائی

ﷺ…ﷺ …ﷺ

ہمارا وطن کون سا ہے؟

سائنسدان جو کہتے ہیں ، کہتے رہیں… وہ روز اپنی بات اور اپنی تحقیق بدلتے ہیں… قرآن مجید نے ہمیں بتایا ہے…اور یہی اٹل سچ ہے کہ… ہم انسانوں کا اصل وطن ’’ جنت‘‘ ہے… اس لئے تو زمین پر ہم جیسی کوئی مخلوق نہیں…اور زمین کی کوئی مخلوق ہم جیسی نہیں… تھوڑی بہت مشابہت تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ایک دوسرے کے ساتھ ہوتی ہی ہے … مگر یہ پکی بات ہے کہ ہم ’’زمین‘‘ کے رہنے والے نہیںہیں… ہمارے والد حضرت آدم علیہ السلام اور ہماری والدہ حضرت حوا علیہا السلام ’’ جنت‘‘ کے رہنے والے تھے… جنت ہی ہمارا اصل وطن ہے… اسی لئے ہم میں سے جو بھی سچی فطرت پر ہوتا ہے… وہ ہمیشہ ’’ جنت‘‘ کا مشتاق رہتا ہے… ہمارے اندر ایک خفیہ جستجو اس بات کی رہتی ہے کہ… ہم اپنے اصلی ’’وطن‘‘ میں واپس جائیں… اس لئے زمین پر ہمارا دل نہیں لگتا… ہمیں مکمل اطمینان نہیں ملتا… ہمیں ’’زمین‘‘ پر ایک ’’مسافر‘‘ کی طرح بھیجا گیا ہے … زمین ہمارے لئے ایک امتحان گاہ ہے… جہاں ہم نے پرچہ دینا ہے… اور یہاں سے چلے جانا ہے … اب آگے ہمارے لئے دو کام ہیں… ایک راستہ … اور ایک منزل یا مکان… زمین سے جنت تک کا راستہ بہت دور اور بہت مشکل ہے… یہ چاند اور مریخ سے بہت آگے ہے… یہ آسمانوں سے بھی آگے ہے … پھر جب ہم یہ راستہ عبور کر کے جنت پہنچ جائیں گے تو وہاں ہمیں… منزل اور مکان چاہیے… جنت ہی وہ جگہ ہے جو انسان کے شایان شان ہے…  جنت ہی میں انسان کی ہر خواہش ہر تمنا پوری ہوسکتی ہے… زمین سے جنت تک کا راستہ ہمارے لئے تب آسان ہو گا جب ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلیں گے… اس راستے کو مانیں گے، اس کو اپنائیں گے… اس پر جان ومال لگائیں گے… اور جنت میں ’’ اپنا مکان ‘‘ ہمیں تب ملے گا جب ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے گھر سے جڑ جائیں گے…بعض اعمال اور بھی ہیں جن کی برکت سے جنت کا مکان ملتا ہے… اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں اپنے راستے جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ جوڑا ہے… اور اپنے گھر یعنی خانہ کعبہ اور مساجد کے ساتھ منسلک فرما دیا ہے… اللہ تعالیٰ کے راستوں میں سب سے قریب راستہ جہاد فی سبیل اللہ کا ہے… اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین جگہ ’’مسجد ‘‘ ہے…

اپنے اصلی وطن کے شوق… اور اپنے حقیقی گھر کی جستجو میں… مجاہدین فی سبیل اللہ… دس نئی مساجد تعمیر کرنے کی مہم چلا رہے ہیں… آپ بھی اس مہم میں بھرپور حصہ لیجئے، ان شاء اللہ بہت خیر ہو جائے گی…

عورت کا کمال

یہاں ایک بات اپنی مسلمان ماؤں اور بہنوں کے لئے عرض کر رہا ہوں… اللہ تعالیٰ نے ’’عورت‘‘ میں بے شمار صفات رکھی ہیں… اس کی ایک صفت ’’ضد ‘‘ ہے… ہر عورت ’’ضدی‘‘ ہوتی ہے… یعنی اپنی بات اور اپنے نظریات پر پکی… آپ جانتے ہیں کہ ہر ’’صفت‘‘ اچھے کاموں میں بھی استعمال ہو سکتی ہے اور برے کاموں میں بھی… مثلاً مال کے بارے میں کھلا ہاتھ… یہ ایک صفت ہے… اس صفت کو صحیح استعمال کیا جائے تو اس کا نام ’’سخاوت‘‘ ہے… جو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ صفت ہے… لیکن اگر کھلا ہاتھ گناہ کے کاموں میں خرچ کرنے میں ہو تو … یہ ’’اسراف اور تبذیر‘‘ ہے جو کہ شیطانی صفت ہے… عورت کی ’’ضد‘‘ اگر اچھے کاموں میں ہو تو وہ اسے ایمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے… حضرت آسیہ علیہا السلام کو دیکھ لیں کہ… ایمان پر کیسے جم گئیں؟ … اور اگر یہ ضد برے کاموں میں ہو تو… عورت شیطان کا سب سے مضبوط ہتھیار بن جاتی ہے… ابو لہب کی بیوی کو دیکھ لیں کہ… اس ضدی عورت نے کتنے بڑے خاندان کو جہنم کا ایندھن بنا دیا… یعنی ’’ضد‘‘ عورت کی فطرت اور اس کے خمیر کے اندر موجود ہے… اسی لئے حضور اقدس ﷺ نے امت کے مردوں کو سمجھایا کہ… عورت کو زیادہ سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو… یہ ٹوٹ جائے گی مگر اپنی ضد نہیں چھوڑے گی… ویسے حضرت آقا مدنی ﷺ نے عورتوں کی اصلاح پر ایسی خاص توجہ فرمائی… اور اسی اصلاح ہی کے لئے زیادہ نکاح بھی فرمائے کہ… عورت کو دین پر اور اچھے کاموں پر ’’ضدی‘‘ بنا دیا جائے… چنانچہ یہ محنت کامیاب رہی اور اسلام اور دین پر مضبوطی سے قائم ضدی عورتوں نے…اسلام کی وہ خدمت کی ہے جو مرد بھی نہیں کر سکے… بات کچھ دور نکل رہی ہے… واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں… موضوع یہ ہے کہ… دنیا میں ’’مسلمان عورت‘‘ کا گھر کونسا ہوتا ہے؟…آپ غور کریں تو حیران ہوں گے کہ… دنیا میں ’’مسلمان عورت‘‘ کا کوئی گھر نہیں ہوتا… وہ جس گھر میں پیدا ہوتی ہیں … وہ ماں باپ کا گھر کہلاتا ہے… اور ماں باپ اس تاک میں رہتے ہیں کہ… کب اس کے لئے اچھا رشتہ آئے تو اسے اپنے گھر سے روانہ کریں … اب یہ دوسرے گھر چلی گئی… وہ گھر شوہر کا گھر کہلاتا ہے … اس گھر میں بوڑھی ہوئی تو… اب یہی گھر اولاد کا گھر بن گیا…

کئی عورتوں کو وراثت وغیرہ میں ’’مکان ‘‘ مل بھی جاتا ہے… مگر آپ غور کریں تو وہ گھر بھی اس کی طرف منسوب نہیں ہوتا… اور خود اسے بھی یہی فکر ہوتی ہے کہ اپنا گھر اپنی اولاد کو دے دے… وجہ کیا ہے؟… وجہ یہ ہے کہ عورت ضدی ہے… اسے جنت سے نکالا گیا …یہ زمین پر آ گئی… مگر ا س کے اندر یہ ضد چھپی ہوئی ہے کہ میں نے واپس اپنا اصلی گھر ہی لینا ہے… یعنی جنت والا گھر… اسی لئے اس نے دنیا کے کسی گھر کو ’’اپنا گھر‘‘ قرار نہیں دیا… ضدی جو ہوئی… اور اللہ تعالیٰ کی پیاری بھی… اسے ندامت ہے کہ مجھے اپنی غلطی کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا…اب میں اپنے رب کو منا کر واپس جنت ہی میں گھر حاصل کروں گی… اور جب تک جنت والا گھر نہیں مل جائے گا… زمین پر کسی گھر کو اپنا گھر نہیں کہوں گی… آپ حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کے ان الفاظ پر غور کریں جو قرآن مجید کی آیت بن چکے ہیں

رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتاً فِیْ الْجَنَّۃِ

یا اللہ! میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا دے

فرعون کے بڑے بڑے محلات میں اسے چین نہ آیا… ان محلات میں نہریں بہتی تھیں اور دنیا کی ہر راحت وہاں موجود تھی…مگر ایمان والی عورت اپنی ضد پر کھڑی ہے کہ… جنت کا گھر چاہیے… فرعون کا گھر نہیں چاہیے… آپ ازواج مطہرات کے حجروں پر غور کریں… کائنات کی یہ ملکائیں اور شہزادیاں کس طرح سے کچے کمروں میں خوش حال رہیں… اور بالآخر ان کے یہ کمرے بھی ان کے جنت کے گھروں کا حصہ بن گئے… کیونکہ وہ سب مسجد نبوی میں شامل ہو گئے…

میں نے خود ایسی کئی مساجد دنیا بھر میں دیکھی ہیں جو… مسلمان عورتوں نے تعمیر کرائیں… اور اب بھی کویت، امارات وغیرہ میں…مساجد کی تعمیر کے اکثر اداروں کے پیچھے مسلمان خواتین کا مال ہے … ابھی کچھ عرصہ پہلے ’’مصر‘‘ میں ایک مسجد کی توسیع کا معاملہ تھا… سامنے عیسائیوں کا گرجہ تھا جو زیادہ قیمت دے کر آس پاس کے پلاٹ خریدتا جا رہا تھا تاکہ مسجد دب جائے… گرجے والوں کے اس طرز عمل کی وجہ سے وہاں پلاٹوں کی قیمت بھی آسمانوں کو چھونے لگی… تب چند مسلمانوں نے مسجد سے متصل پلاٹ مسجد کے لئے خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ… گرجے کی یلغار کو روکا جا سکے اور مسجد کی توسیع کی جا سکے… بس اعلان ہونے کی دیر تھی کہ مسلمان ٹوٹ پڑے اور اس میں اکثر ’’چندہ ‘‘ مسلمان عورتوں کا تھا … ایک نئی دلہن نے تو سارا زیور اتار کر چندے کی جھولی میں ڈال دیا… اور جب زیورات سے خالی ہوئی تو خوشی سے روتی ہوئی سجدے میں گر گئی… مسجد کے چندے میں عورتوں اور مردوں کا تناسب نوے اور دس کا رہتا ہے… نوے فی صد مال عورتیں دیتی ہیں … اور دس فی صد مرد… اس مسجد کا تذکرہ آ گیا تو اس میں دو واقعات اور بھی… ایمان میں اضافے کے لئے عرض کر دیتا ہوں…کہتے ہیں کہ… مسجد کے معززین مسجد کے باہر کھڑے ہو کر چندے کا اعلان کر رہے تھے تو ایک معصوم بچہ اپنے لئے جو دہی کا ڈبہ خرید کر گھر جا رہا تھا جوش سے آگے بڑھا… اس نے وہ ’’ڈبہ‘‘ حوالے کر دیا کہ اسے مسجد کی تعمیر میں لگا دیں…جو لوگ وہاں جمع تھے وہ بہت متاثر ہوئے … مسجد والوں نے اعلان کر دیا کہ …کون یہ دہی کا ڈبہ خریدتا ہے… لوگوں میں سے ایک نے کافی اچھی رقم دے کر وہ خرید لیا… اور وہ رقم مسجد کے چندے میں ڈال دی گئی…پھر وہ آدمی جس نے ڈبہ خریدا تھا بچے کو الگ لے گیا کہ بیٹا یہ دہی واپس لے جاؤ اور اسے کھا لو… بچے نے کہا…ہرگز نہیں …وہ تو میں نے اپنے پیارے رب کو دے دی ہے… اب واپس نہیں لے سکتا… اسی مسجد میں دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک معذور مسلمان دو بیساکھیوںپر چلتا ہوا مسجد میں نماز ادا کرنے آیا…اس نے ’’تعمیر مساجد‘‘ کا اعلان سنا تو نماز کے بعد اپنی دونوں بیساکھیاں چندے والے کپڑے پر ڈال دیں… اور خود زمین پر گھسٹ گھسٹ کر گھر جانے لگا… لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو زار و قطار رونے لگے…دراصل مسجد کے بارے میں سچے مسلمانوں کا یہ ذوق… حضرت آقا مدنی ﷺ کی محنت کا نتیجہ ہے… آپ ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر شروع فرمائی تو خود مزدوری میں لگ گئے … اپنی چادر اُتار کر زمین پر ڈال دی اور اینٹیں اُٹھانے لگے… حضرات صحابہ کرام نے یہ منظر دیکھا تو اپنی چادریں اُتار کر پھینکنے لگے اور تیزی سے کام کی طرف دوڑے… اور انہوں نے یہ شعر پڑھا

لئن قعدنا والنبی یعمل

ذاک لعمر اللّٰہ عمل مضلل

ترجمہ: اگر ہم بیٹھے رہیں اور رسول کریمﷺ خود کام کر رہے ہوں تو اللہ کی قسم یہ ہمارے لئے بڑی گمراہی اور خسارے کی بات ہے…

وہ لوگ جو مجاہدین کے مساجد بنانے پر اعتراض کرتے ہیں… ان کی خدمت میں بھی یہی مذکورہ بالا شعر پیش کیا جاتا ہے… حضرت آقا مدنی ﷺ اور حضرات صحابہ کرام نے جو کام کیا… مجاہدین اگر سچے ہیں تو وہ بھی وہی کام کریں گے …

بات یہ چل رہی تھی کہ… ایمان والی عورت اس ضد میں پکی ہے کہ… اس نے واپس اپنے وطن یعنی جنت میں ہی… اپنا گھر بنانا ہے… چنانچہ اس کی خاطر وہ فرعون کے محلات کو ٹھکرا دیتی ہے… اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی…روایات میں آتا ہے کہ… جب اہل جنت مرد اپنے محلات کی طرف جائیں گے تو ان کی ایمان والی بیویاں پہلے ہی ان محلات کے دروازے پر موجود ہوں گی… اصلی مالکن…اپنے اصلی وطن میں اپنے اصلی گھر کے دروازے پر اپنے خاوند کا استقبال کرے گی… اے مسلمان ماں… اے مسلمان بہن… تجھے تیری یہ مبارک ضد… مبارک ہو، ہزار مبارک…

جماعت میں ہر سال ، دو سال کے بعد…تعمیر مساجد کی مہم چلتی ہے… اب تک الحمد للہ درجنوں مساجد تعمیر اور آباد ہو چکی ہیں… اب اس سال ایک ماہ کے لئے یہ مبارک مہم بدھ کے دن سے شروع ہے … اور اس مہم کا نام رکھا گیا ہے… اپنا گھر مہم…

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو … اپنے ’’قرب‘‘ میں ہمارا ’’ اپنا گھر‘‘ عطاء فرمائے… آئیے ہم سب اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں… اور مکمل اخلاص کے ساتھ، خالص اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے اس مہم میں اپنا حصہ ڈالیں…

لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor