Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حقوق کی ادائیگی

 

حقوق کی ادائیگی

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی صورت میں جو انمول اور بے مثل تحفہ نوع انسان کو عطاء فرمایا اس کی اہمیت کا احاطہ ممکن ہی نہیں کیونکہ حضرت انسان پر خالق کائنات کی جانب سے کی جانے والی ہمہ قسم نعمتیں ایک جانب اور دوسری جانب صرف نعمت ’’ایمان‘‘ہو، تب بھی نعمت’’ ایمان‘‘ ہی کاپلڑا بھاری رہے گا، یہی وجہ ہے کہ ایمان کو دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔

 اس شریعت کو پھر اللہ تعالیٰ نے دوحصوں میں گویا تقسیم فرما دیا کہ اس کا ایک حصہ خاص ’’ذات باری تعالیٰ ‘‘سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ ہمارے آپسی تعلقات کا ہے، ذات باری تعالیٰ سے متعلق حصہ’’حقوق اللہ‘‘ اور انسانوں کے آپسی تعلق کے حصہ کو’’حقوق العباد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان دونوں کو اپنی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت ومقام حاصل ہے اور ان دونوں کے تلازم سے ہی نور ایمان کو جلا ملتی ہے۔ کسی ایک کی زیادتی اور دوسرے کا فقدان جہل مطلق کی دلیل ہے، آج کے اس مشینی اور خود غرض دور میں ان میں توازن قائم کرنے والے انگلیوں پر شمار کیے جا سکتے ہیں ورنہ ہر ایک ان میں افراط وتفریط کا شکار ہی نظر آتا ہے، اسی لئے ہماری گھریلوزندگی ہو یا معاشرتی، انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی، دینی طبقات ہوں یاد نیوں، ہر ہر شعبے میں ہرفرد اپنی جگہ شکوہ کناں نظر آتا ہے کہ اُس کے حقوق تلف کیے جارہے ہیں ،غصب کیے جارہے ہیں۔

 ان سب خرابیوں کی اصل جڑ یہی ہے کہ ان میں توازن قائم نہیں کیاجاتا، حالانکہ قرآن و سنت کے مطالعہ سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ ان دونوں قسم کے حقوق کی پاسداری ہی ہمارے لئے ایک اصلاحی و فلاحی معاشرہ کی تشکیل کا باعث بن سکتی ہے۔ قرآن و حدیث میں ہر ہر شعبے اور ہرہر فرد کے الگ الگ حقوق کا تذکرہ اور اہمیت اُجاگر کی گئی ہے۔آئیے مختصراً ان میں سے چند کا مذاکرہ کیے دیتے ہیں…

حقوق اللہ

اللہ تعالیٰ نے حضورﷺاور قرآن مجید کے ذریعے اپنے سارے حقوق بندوں کو بتادیئے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور تمام وہ کام کرو جس کا اللہ اور رسولﷺ نے حکم دیا۔

حقوق العباد

عباد جمع ہے عبد کی جس سے مراد ہے انسان یا بندہ۔ اس طرح حقوق العباد کا مطلب ہے بندوں کے لئے ضروری یعنی حقوق۔ حقوق العباد میں دنیا کے ہر مذہب، ہر ذات و نسل، ہر درجے اور ہر حیثیت کے انسانوں کے حقوق آجاتے ہیں۔ اگر ہم عزیزوں کے حقوق ادا کریں تو اس کے ساتھ غیروں کے حقوق بھی ادا کریں۔ غلام اگر مالک کی خدمت کرے تو مالک بھی غلام کا پورا پورا خیال رکھے۔ والدین اگر اولاد کے لئے اپنی زندگی کی ہر آسائش ترک کردیں تو اولاد بھی ان کی خدمت اور عزت میں کمی نہ کرے یہی اسلام کی تعلیم ہے پوری انسانیت کے لئے۔ حقوق العباد میں مختلف حیثیت اور درجات کے لوگوں کے حقوق آجاتے ہیں۔

تمام انسانوں کے لئے حقوق

جب ہم انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں مخصوص قسم کے لوگوں کے حقوق نہیں آتے بلکہ پوری انسانیت ہماری نظر کرم اور توجہ کی منتظر ہوتی ہے۔ اسلام نے پوری انسانیت کے حقوق ادا کرنے پر اس قدر زور دیا ہے کہ کسی بھی مذہب میں کچھ نہیں کہا گیا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان قوم کو بہترین امت کہا گیا ہے۔مسلمان اس لئے سب سے بہترین امت ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو نیکی کی ہدایت دیتے ہیں اور برائی سے روکتی ہیں۔میں اپنے حقوق کو معاف کردوں گا مگر بندوں کے حقوق کی معافی نہیں دے سکتا۔

والدین کے حقوق

قرآن پاک نے والدین کے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ:

ماں باپ کی خدمت گزاری اچھی طرح کرو۔

آپ(ﷺ) کہہ دیجئے کہ جوکچھ اپنے مال سے خرچ کروگے اس میں والدین کا بھی حق ہے۔

حدیثِ نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام ہے:ماں باپ کا نافرمان جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔

حضور پاکؤﷺ نے بھی والدین نے ساتھ عزت و احترام محبت اور خدمت کی سخت تاکید کی تھی۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:   تمہاری جنت تمہارے والدین ہیں اگر وہ خوش ہیں تو تم جنت میں جاو گے۔

اولاد کے حقوق

ماں باپ جس طرح اولاد کی پرورش، خدمت اور تعلیم و تربیت کرتے ہیں وہ اولاد کا حق ہے۔ اولاد کی بہترین پرورش اور تعلیم و تربیت ماں باپ کا فرض بن جاتا ہے۔ ایک حدیث اس بات کو اس طرح ثابت کرتی ہے۔باپ جو کچھ اپنی اولاد کو دیتا ہے ان میں سب سے بہتر عطیہ اچھی تعلیم و تربیت ہے۔

عزیزوں اور قرابت داروںکے حقوق

ہر انسان کے عزیز و اقارب ضرور ہوتے ہیں اور زندگی بھر ان سے تعلق قائم رہتا ہے۔ اللہ نے ان کے بہت سے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں:

جوکچھ اپنے مال میں سے خرچ کروگے اس میں والدین کا بھی حق ہے اور قرابت داروں کا بھی۔

حضورپاک ﷺ نے بھی عزیزوں اور رشتہ دارون کے حقوق مقرر کردئیے اور فرمایا:’’رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘

اس طرح یہ بات ظاہر ہوگئی کہ قرآن مجید اور احادیث نے عزیزوں اور رشتہ داروں کے بہت سے حقوق مقرر فرمادئیے ہیں۔ یعنی ان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، غریب رشتہ داروں کی مدد کرنا اور اسی طرح کے بہت سے ایسے کام کرنا جن سے رشتہ داروں سے تعلقات خوشگوار قائم رہیں ہمارے فرائض میں شامل ہیں۔

ہمسایوں کے حقوق

ہمسائے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے سب سے زیادہ زور ان ہمسایوں پر دیا ہے جو گھر سے بالکل نزدیک رہتے ہیں۔ ان کا ہم پر حق سب سے زیادہ ہے اور وہ ہماری توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو ہمارے ہمسایوں کو تکلیف پہنچائے۔ حضورپاک ﷺنے ہمسایوں کے بارے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھر کی دیواریں اتنی اونچی نہ کرو کہ ہمسایوں کی دھوپ اور روشنی رک جائے۔

اس کے علاوہ اساتذہ کےحقوق،غلاموں، ناداروں، مسکینوں اور مفلسوں کے حقوق غرض زندگی کا کوئی شبہ اور طبقہ ہائے انسانی کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کے حقوق بیان نہ کردئیے گئے ہوں،اختصار کے پیش نظر ان کا ذکر ترکیے دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ حضور اکرمﷺ نے تمام انسانوں کی بہتری اور بقاء کے لئے اپنے اعمال، کردار اور اخلاق و اقوال سے ایسا نمونہ پیش کیا جو قیامت تک کے لئے سب کی رہبری کرتا رہے گا۔ آپ ﷺ رحمتِ عالم تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کوئی بھی طبقہ آپ ﷺکی توجہ اور حسن سلوک سے محروم نہ تھا۔ آپ ﷺ سب سے پہلے خود حقوق ادا کرتے اور پھر دوسروں کو تاکید فرماتے تھے۔ہمیں بھی آج یہ ہی روش اختیار کرنا پڑے گی کہ سب سے پہلے ہم خود اپنی ذات سے متعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کریں اور اُس کے بعد پھر اپنے حقوق کی بات کریں تب ہی معاشرہ فلاح کی طرف گامزن ہو گا ورنہ اسی ڈگر پہ چلتے صدیاں بھی بیت جائیں فلاح کی منزل ہم سے ایسے ہی کوسوں دور ہی رہے گی جیسے آج ہے۔اللہ پاک ہم سب کو سچا اور مخلص مسلمان بنائے۔آمین

 

 

شرور سے نجات اورمغفرت کی دو جامع دعائیں

 اَللّٰهُمَّ   إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي  وَ مِنْ شَرِّ بَصَرِي  وَ مِنْ شَرِّ لِسَانِي  وَ مِنْ شَرِّ قَلْبِي  وَ مِنْ شَرِّ مَنِيِّي

اے اللہ! میں اپنے سننے کے شرسے، اپنے دیکھنے کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرمگاہ کے شر سے آپ کی پناہ لیتا ہوں۔ (سنن ابو داود، اَبواب الوتر، باب فی الاستعاذۃ)

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَ جَهْلِي  وَ إِسْرَافِي فِي أَمْرِي  وَ مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ۔ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَ جِدِّي  وَ خَطَئي  وَ عَمْدِي  وَ كُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي

اے اللہ! میرے لیے میری خطاؤں اور جہالتوں کو اور میرے کاموں میں میری بے جازیادتیوں کو اور میرے بارے میں آپ جو کچھ بھی مجھ سے زیادہ جانتے ہیں سب کو بخش دیجیے۔ اے اللہ! میرے لیے میرے مذاق اورمیری سنجیدہ (والے گناہوں کو)اور میری خطاؤں اور میرے جان بوجھ (کر کیے جانے والے گناہوں) کوکہ وہ سب کچھ میری ہی کوتاہیاں ہیں، آپ بخش دیجیے۔ (متفق علیہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor