Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دل کا سُدھار

 

دل کا سُدھار

Madinah Madinah

”دلوں پر فتنے اس طرح پیش کیے جائیں گے جس طرح چٹائی کے پتے پتے(جوڑے جاتے ہیں)، چنانچہ جو دل ان فتنوں کو قبول کر لیتے ہیں توان پر سیاہ نکتے لگا دیے جاتے ہیں اور جو دل ان فتنوں کو قبول نہیں کرتے تو ان پر سفید نکتے لگا دیے جاتے ہیں، پھر بس دو ہی قسم کے دل بن جاتے ہیں ایک بالکل سفید اور ایک بالکل سیاہ اوندھے منہ برتن جیسے“

یہ بات ”صحیح مسلم شریف“ میں موجود ایک حدیث کا مفہوم ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کوسُدھار دے اور ان کی اصلاح فرمادے۔ آمین

انسانی دل بڑی عجیب چیز ہے، یہ انسان کے وجود کی مین پاور ہے، پورے جسم میں جس چیز کی بھی سپلائی ہوتی ہے یہیں سے ہوتی ہے، کسی بھی اچھائی یا بُرائی کو سب سے پہلے یہی قبول کرتا ہے، حتیٰ کہ انسان اگر صحیح فطرت پر قائم ہو تو یہ اچھائی اور بُرائی میںتمییز بھی کر لیتا ہے۔

اسی لیے نبی کریمﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا تھا:

استفت قلبک

اپنے دل سے مسئلہ پوچھ لیا کرو

یعنی اگر فطرت سلامت ہو اور پھر کسی معاملے میں شک و شبہ ہو جائے تواس معاملے میں دل خود صحیح اور غلط میں کسی نہ کسی حدتک تمییز کر لیتا ہے اور پھر انسان اپنے عزم اور فیصلے کااختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو صحیح راستے پر چل پڑے اور چاہے تو غلط رُخ اختیار کر لے۔

دل کی قوت اور طاقت کا اندازہ لگائیے کہ اسی کی وجہ سے انسان کو چھوٹا سال عمل بے حد وزنی ہوجاتا ہےا ور پھر با اوقات اسی کی وجہ سے بڑے بڑے دکھائی دینے والے اعمال بالکل ہی بے وزن اور بے قیمت بھی ہوجاتے ہیں۔

نبی کریمﷺ نے سمجھایا:

”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے اعمال کو نہیں دیکھتے بلکہ تمہارے دِلوں اور تمہاری نیتوں کو دیکھتے ہیں“

اس حدیث شریف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں سے اعمال مطلوب نہیں ہیں، کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر نماز، روزہ، حج، زکوۃ، جہاد وغیرہ کے احکامات ہی نہ دیے جاتے ہیں، بلکہ اس حدیث شریف میں یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ اعمال کی قدر و قیمت نیتوں پر موقوف ہوتی ہے۔

 اگر عمل میں نیت وہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہے تو وہ عمل نہ مقبول ہوجاتا ہے اور پھر وہ نیت جس قدر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہو اور جس قدر اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہو تو اُسی قدر اس نیت سے کیے جانے والے اعمال میں وزن اور قیمت پیدا ہوجاتی ہے ۔

اور اگر عمل میں کوئی نیت ہی نہ ہو یا ایسی نیت ہو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہ ہو، تو وہ عمل دیکھنے میں کتنا ہی عمدہ، کتناہی خوبصورت، کتنا ہی بھلائی اور خیرخواہی والا ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ بے قیمت اور بے وزن شمار ہوگا۔

قرآن کریم نے ”دل“ کی مختلف کیفیات کی طرف رہنمائی کی ہے ۔ ان میں سے بعض قابل تعریف ہیں اور بعض مذموم ۔ یہ کیفیات درج ذیل ہیں:

قلب سلیم:

الا من اتی اللہ بقلب سلیم

قلب سلیم یعنی سلامتی والا دل جو کفر سے، شرک سے، نفاق سے، گناہوں کی آلودگی سے اور برے اخلاق کی سیاہی سے سلامت اور صاف ستھرا ہو

قلب منیب:

من خشی الرحمن بالغیب و جاء بقلب منیب

منیب کا معنی عاجزی سے رجوع کرنے والا تو قلب منیب وہ ہے جس میں عاجزی و تواضع ہو اور اسی عاجزی اور تواضع کے ساتھ وہ دل رب کی طرف رجوع رکھتا ہو

قلب مُخبت:

فتخبت لہ قلوبھم

قلبِ مخبت کا معنیٰ جھکاؤ والادل، یعنی جس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کے احکام اور اس کی فرماں برداری کی طرف جھکا رہتا ہو۔

قلبِ وجل:

والذین یوتون ما آتوا و قلوبہم وجلۃ انہم الی ربہم راجعون

کانپنے والا، خوف والا دل، یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان اور اس کی ہیبت سے کانپتاہو، اس کی پکڑ سے بے خوف نہ رہتا ہو

قلبِ متقی:

من یعظم شعائر اللہ فانہا من تقوی القلوب

تقویٰ اصل دل میں ہوتا اور عمل سے اس کا ظہور ہوتا ہے، چاہے وہ بندہ خلوت میں ہو یا جلوت میں، اور اگر دل میں تقوی نہ ہو تو عموماً جلوت میں تو دکھلاوے کے لیے تقوی اختیار کیا جاتا ہے مگر خلوت اور تنہائی تقوے سے خالی ہوجاتی ہے

قلبِ مہدی:

ومن یومن باللہ یہد قلبہ

ہدایت یافتہ دل وہ ہوتا ہے جس میں ایمان ہو، ایمان کانور ہو، ایمان والا یقین ہو

قلبِ مطمئن:

و تطمئن قلوبہم بذکر اللہ

مطمئن دل وہ ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہو، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مانوس ہو، اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شغف اور لگاؤ ہو

قلبِ حی:

ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب

قلب حی یعنی زندہ دل، اور یہ وہ دل ہے جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے عبرت لیتا ہو، نصیحت قبول کرتا ہو،کائنات کے اُتار چڑھاؤ کو محض طبیعت کی کارسازی نہ سمجھتا ہو بلکہ اسے یہ یقین ہو کہ کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انسان کی عبرت کے لیے ہے ، سبق آموزی کے لیے ہے، اور آخرت کی سچائی سمجھانے اور حساب و کتاب کی یاددھانی کے لیے ہے

قلب مریض:

فیطمع الذی فی قلبہ مرض

بیمار دل وہ ہے جس میں نفاق ہو، جس میں حرام شہوت اور خواہش بھری ہوئی ہو

قلبِ اعمیٰ:

لکن تعمی القلوب التی فی الصدور

اندھا دل وہ ہے جسے اپنی ذات اور اپنی ذات سے باہر حق کی کھلی کھلی نشانیاں بھی دکھائی نہ دیں، جو دنیا کے معاملات میں تو بہت سمجھدار ہومگر آخرت اور دین و ایمان کے حقائق کو وہ دیکھتا ہی نہ ہو

قلب لاہی:

لاہیۃ قلوبہم

لاہی دل یعنی غفلت والا دل، جسے فضولیت اور فانی چیزوں کی لت لگ چکی ہو،وہ انہیں مگن ہو چکا ہو

قلبِ آثم:

لاتکتموا الشہادۃ و من یکتمہا فانہ آثم قلبہ

قلبِ آثم یعنی گناہ گار دل، وہ جو حق کی گواہی کو چھپا لے، جو حق پر پردہ ڈالے، جو حق کو چھپانے کی کوشش کرے

قلبِ متکبر:

قلب متکبرجبار

تکبر والا دل، جس اپنے رب کی ربوبیت اور اس کی شانِ معبودیت کے سامنے جھکنے سے کتراتا ہو، اس میں اپنی ہتک سمجھتا ہو، اللہ تعالیٰ کی مخلوقات پر ناحق اپنی بڑائی جتلاتا ہو، اوران پر ظلم وستم کرتا ہو

قلبِ غلیظ:

و لوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک

قلب غلیظ یعنی سخت دل، وہ دل میں جس میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے رحمت اور نرمی نہ ہو، وہ بندوں سے خدائی لب و لہجے میں بات کرتا ہو، اور خدا کی طرح لوگوں کی پکڑ دھکڑ کرتا ہو

قلبِ مختوم:

و ختم علی سمعہ و قلبہ

مہر لگاہوا دل، یعنی وہ بدبخت جس کی بُرے کرت اس درجہ پر پہنچ چکے ہوں کہ وہ حق کو قبول نہ کرنے کا پکا عزم کر چکا ہو، حق کے ساتھ ہمیشہ دشمنی برقرار رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہو، حق کی بات سن کر بھی ان سنی کر دیتا ہو، تو اس پر مہر لگا دی ہے کہ پھر اس میں حق داخل نہیں ہوتا

قلبِ قاسی:

و جعلنا قلوبہم قاسیۃ

سخت دل، جسے جس قدر وعظ و نصیحت کی جائے اس پر اثر نہ کرے، اور بڑی بڑی نعمتیں پاکر یا بڑی سخت آزمائشیں دیکھ کر کسی بھی صورت وہ ایمان کے لیے نرم نہیںہوتا، اور اللہ کی یاد اس پر اثر انداز نہ ہو

قلبِ غافل:

و لا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا

غافل دل جو اللہ تعالیٰ کی طاعت و فرماں برداری کے بجائے نافرمانی اور اس کی یاد کی بجائے لہو و لعب میں مشغولیت کو ترجیح دیتا ہو

قلبِ اغلف:

و قالوا قلوبنا غلف

اوندھا دل، جس کا منہ الٹا کردیا گیا، اس لیے اب اس میں کوئی خیر داخل نہیں ہوتی، یعنی جس نے باطل پر قائم رہنے کو ہی منتخب کر لیا اور اسی کو درست بھی سمجھ لیا تو گویااس نے اپنا دل اوندھا کر دیا اگر کوئی بھی اس میں کوئی چیز ڈالے تو کیسے ڈالے؟ یعنی کوئی اس کو راہِ حق پر کیسے لائے؟ جس نے خود ہی روشنی سے آنکھیں بند کر لیں اب وہ کسی اور سے کس طرح اندھیرے کا شکوہ کرسکتا ہے!

قلبِ زائغ:

فاما الذین فی قلوبھم زیغ

ٹیڑھا دل، جنہیں سیدھا راستہ ملا مگر وہ خود اپنی کج فہمی کی وجہ سے اس سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے اپنی طرف سے الٹ پلٹ راستے نکال لیے اور انہیں پر خود بھی چلنے لگے اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلانے لگے

قلبِ مریب:

و ارتابت قلوبہم

شک والادل، جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے وعدوں اور وعیدوں کے بارے میں شک ہو، وہ ظاہری حالات کا غلام ہو، اگر حالات موافق لگیں تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے وعدوں کو سچ سمجھنے لگے اور اگر اسی دوران حالات کچھ ناموافق ہو جائیں تو اس کا دل بھی پھر جائے اور وہ ان وعدوں سے اس کا یقین اُٹھ جائے اور وہ انہیں محض ایک طفل تسلی قرار دے کر طعنہ زنی اور عیب جوئی میں لگ جائے

دل کے متعلق ان مختصر اشاراتی قرآنی ہدایت سے معلوم ہوا کہ دل کا سُدھار بہت ضروری ہے اور اس کا سُدھار درج ذیل چیزوںسے جڑا ہوا ہے:

(1)سلامتی (2)رجوع الی اللہ (3)عاجزی و تواضع (4)اللہ تعالیٰ کا خوف (5)تقوی (6)ایمان و ہدایت (7)اللہ تعالی کا ذکر (8)عبرت انگیزی

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنی رضااور اپنی پسند کے مطابق سُدھار دے۔ آمین

… … 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor