Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رجوع اِلیٰ اللہ

 

رجوع اِلیٰ اللہ

Madinah Madinah

آج کل دنیا میں بسنے والا ہر انسان مختلف مسائل کا شکار ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر مسائل و مصائب کا شکار ہے۔ ہر کوئی سکون و اطمینان کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن سکون و اطمینان ہماری زندگیوں سے کوسوں دور ہوتا جا رہاہے اور ہم دن بدن، لمحہ بہ لمحہ بے سکونی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان حالات سے نکلنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے؟ یقیناً ایک مسلمان اپنے تمام تر مسائل کے حل کے لیے قرآن وسنت کی طرف رجوع کرتا ہے اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ جو فرد یا قوم، اپنے مسائل کا حل ان کو چھوڑ کر کہیں اور تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ گمراہ ہوتے ہیں اور مزید پریشانیوں میں بھی مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔

آئیے دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایسے حالات کے بارے میں کیا فرماتے ہیں:

ظھرالفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون(سورہ الروم 41)

    ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کی اپنے ہاتھ کی کمائی سے، تاکہ مزا چکھائے ان کو ان کے اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں‘‘

یقیناً یہ ہمارے ہاتھوں کے اعمال ہیں جن کی پاداش میں ہم آج طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تو رحمٰن ورحیم ہے، ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ وہ تو کسی قوم پر ظلم نہیں کرتا۔ ہاں تنبیہات کرتا ہے چھوٹے چھوٹے عذابوں اور آزمائشوں میں مبتلا کر کے جھنجھوڑتا ہے کہ لوگ جاگ جا ئیں۔

ولنذ یقنہم من العذ اب الا دنیٰ دون العذاب الاکبرلعلہم یرجعون۔

’’اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزہ چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ اپنی باغیانہ روش سے باز آ جائیں‘‘(سورہ السجدہ 21)

یعنی یہ چھوٹے چھوٹے عذاب اس لیے ہو تے ہیں کہ قوم رجوع الی اللہ کرلے۔ شاید نصیحت اور عبرت حاصل کر لے۔ شاید کہ اس کی غفلت دور ہو جائے۔

اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا توساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیاکہ میری طرف سے تمہیں ہدایت ملتی رہے گی، جو اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ جنتوں میں داخل ہو گا اور جو اس ہدایت کے راستے سے روگردانی کرے گا اسے دوزخ میں داخل کیاجائے گا۔

ہدایت کے اس سلسلے میں اللہ تعالی نے ہر دور میں پیغمبر مبعوث فرمائے اور قرآن مجید نے کہاکہ اللہ تعالی نے ہر قوم کی طرف ایک ایسا شخص ضرور بھیجاجو انہیں راہ ہدایت دکھانے پر مامور ہوتاتھا۔

ان انبیاء علیہم السلام نے انسانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یادکرانا چاہا کیونکہ پہلا انسان ہی آسمان سے درس توحید ساتھ لے کر اس زمین میں وارد ہوا تھا پھر ابلیس نے مختلف حیلے بہانوں سے انسانوں کو ان کا اولین سبق بھلا دیا اور انہیں ہوس نفس میں مبتلاکر کے اپنے خدا سے دور کر دیا، جن جن اقوام نے انبیاء علیہم السلام کے دوبارہ یاد کرانے پر اس سبق توحید کو پھر ازبر کر لیا وہ کامیاب ہو گئیں اس دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی۔ فوزوفلاح و کامرانی کا ان سے وعدہ ہے جیسے قوم سبا، جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعوت الی اللہ قبول کر لی تو اس قوم کی خوشحالی کاعالم یہ تھا کہ ایک شخص اگر خالی ٹوکرہ سر پر رکھ کر باغات کے نیچے سے صرف گزر جاتا تو دوسرے کونے پر پہنچنے سے پہلے پک کرخود بخود گرنے والے پھلوں سے اس کا ٹوکرہ بھر جایاکرتاتھا۔

 اسی طرح جب مسلمانوں نے محسن انسانیت ﷺکی دعوت الی اللہ کو قبول کر لیاتو یہ عالم ہو گیاکہ ایک شخص رات گئے حضرت عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ کے گھر آیا اور کہاکہ زکوۃ دینے اتنے سومیل دور سے آیاہوں، حضرت نے فرمایاکہ تیرا برا ہو راستے میں بانٹ دی ہوتی۔ اس نے عرض کی:اے امیرالمومنین! سارے راستے آواز لگاتاآیا ہوں کہ لوگو! زکوۃ کا مال ہے کوئی تو لے لو!۔ خداکی قسم کوئی زکوۃ لینے والا نہیں ملا۔

اس کے برعکس جن اقوام نے انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو جھوٹ سمجھا اور ان کا مذاق اڑایا وہ قومیں کتنی ہی بڑی معاشی طاقت تھیں یا کتنی ہی بہترین سائنس و ٹیکنالوجی کی حامل تھیں انہیں اللہ تعالی کے دردناک عذاب سے کوئی نہیں بچا سکا۔ ان اقوام کی باقیات آج بھی موجود ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے بتایا کہ ان جیسی قوت کسی اور قوم کو نہیں دی گئی تھی، وہ پہاڑوں کو کھود کر ان میں اپنے مسکن بناتی تھیں اور کھجورکے تنوں سے زیادہ لمبے ان کے قد تھے اورقوت اور طاقت اس قدر تھی کہ اپنے مضبوط ہاتھوں سے درختوں کو ان کی جڑوں سمیت کھینچ کر اکھاڑ لیتے تھے اور اپنی طاقت کے نشے میں کسی کو اپنا ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے تب پھر اللہ تعالی کے رسول نے انہیں رجوع الی اللہ کی دعوت دی اور انہیں کہا اس اللہ سے ڈرو جو تمام جہانوں کا اکیلا رب ہے تو اس قوم نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اس نبی علیہ السلام کا انکار کیا اور اسے جھٹلا دیا اور بار بار کی تنبیہات کے باوجود اپنی ضد پر اڑے رہے اور پھر کہنے لگے کہ لے آؤعذاب جس کا تم ایک عرصے سے ڈراوا دیتے آ رہے ہو۔

اللہ تعالی کے نبیوں نے اپنی آخری حد تک ان قوموں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان قوموں نے مان کر ہی نہ دیا تب وہ انبیاء علیہم السلام ان قوموں سے مایوس ہو کر وہاں سے ہجرت کر گئے اور آج تک ان قوموں کے علاقے گواہ ہیں کہ اتنے شاندارتمدن، اتنی عالی شان تہذیبیں، بہترین معاشی نظام اور وقت کی بہترین تعلیم سے مزین سائنس و ٹیکنالوجی چشم زدن میں ایسے زمیں بوس ہوئے پھر صدیوں کی خاک نے انہیں اپنے اندر دفن کر دیا اور آج ان بت پرست قوموں کے عبرت انگیزآثارملتے ہیں جنہیں اپنا ثانی نظر نہیں آتاتھا۔

آج پوری انسانیت پر پھر وہی حالات ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے آنے سے پہلے ہوا کرتے تھے پس آج بھی انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات ہی انسانیت کو اس جنجال سے نجات دلا سکتی ہیں، انسانیت کو ایک بار پھر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا ہوگا، سود سے بھری ہوئی اور غریبوں کا اور غریب اقوام کا استحصال کرنے والی سودی معیشت کو ترک کرنا ہوگا، جس طرح آخری نبی نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات عطاء کی اسی طرح بڑی قوموں کو چھوٹی قوموں کی گردنوں سے اپنے تہذیبی، دفاعی اور معاشی طوق اتارکر انہیں اپنی غلامی سے آزاد کرنا ہوگا اور ایک رب کی غلامی میں سب کو لانا ہو گا، تب ہی یہ ممکن ہو سکے گا کہ انسانیت سکون کا سانس لے سکے۔

دولت کی حرص، اقتدارکی ہوس اورلذت نفسی سے بھری آنکھیں وہ قباحتیں ہیں جو انسان کو جہاں اللہ تعالی سے دور لے جاتی ہیں وہاں خود انسانیت کو ذلت و رسوائی کے اندوہناک گڑھے میں جا ڈالتی ہیں ان آلائشوں کی بجائے انسان کو للہیت، تقوی اور اخلاص و دیانت جیسی تعلیمات ہی دنیا وآخرت کی کامیابیوں و کامرانیوں کی طرف لوٹا پائیں گی۔

گزشتہ ایک طویل عرصے سے امت مسلمہ کے ہاں مختلف نوعیت کے تجربات ہو رہے ہیں، کبھی سوشلزم تو کبھی کیمونزم، کبھی سیکولرازم تو کبھی مغربی جمہوریت اور کبھی ملے جلے تجربات لیکن ان سب کا نتیجہ سوائے ناکامی اور رسوائی کے کچھ نہیں نکلا۔ بعثت نبویﷺ سے آج تک اور آج سے تاقیامت اس امت کو صرف خلافت راشدہ کا نظام ہی مشکلات سے نکال سکتاہے باقی تمام تجزئے، تمام جائزے اور تمام تر مشاورتیں اور کل دانشوریاں باطل ہیں اور امت کو صرف رجوع الی اللہ ہی وہ واحد نسخہ جو سب سے بڑے مربی و حکیم و طبیب نے تجویزکیا اور یہی پہلا اور یہی آخری نسخہ ہے۔

ہر سربراہ خاندان اپنے خاندان کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو اللہ تعالی کی طرف پلٹا کر لائے۔ قرآن نے حکم دیا ہے کہ خود کو اور اپنے اہل عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ سربراہ خانہ اس بات کا خیال رکھے کہ کیا اس کے گھر میں سب امور اللہ تعالی کے حکموں کے مطابق سرانجام پا رہے ہیں؟ فرائض کی ادائیگی اور محرمات کا خیال رکھاجارہاہے؟ اور کیا رزق کی آمدنی کے ذرائع حلال پر مبنی ہیں؟ اور کیااہل خانہ کا اٹھنا بیٹھناصالح اور نیک لوگوں کے ساتھ ہی ہے؟ سربراہ خانہ اس بات کا بھی ذمہ دار ہے کہ اپنے اہل خانہ کو کتاب اللہ کے ساتھ جوڑے، دنیاکے علوم و فنون پر بہت توجہ دینا اور کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دینا یا صرف تلاوت و جھاڑ پھونک اور حلف اٹھانے تک محدود کر دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ ہر ہر مسلمان انفرادی طور پر اپنی نمازوں سمیت کل فرائض و واجبات کی ادائگی اور منہیات سے بچنے کا ذمہ دار ہے اوراپنے ایک ایک عضوکا ذمہ دار ہے کہ اس نے ان اعضا کو کیا ان کے دینے والے کی مرضی سے استعمال کیاہے؟؟ جب تک ایک ایک فرد اپنے گریبان میں نہیں جھانکے گا اس وقت تک بحیثیت قوم ہم اپنی اصلاح نہیں کر سکتے اور جب تک ہر ہر قوم اپنی اصلاح نہیں کر لیتی ہم بحیثیت امت اپنی شناخت نہیں منوا سکتے اور جب تک امت مسلمہ اپنے فرض منصبی پر لوٹ کر نہیں آتی عالم انسانیت کی راہنمائی کامنصب کفارومشرکین کے ہاتھوں میں رہے گا اور دریاؤں میں پانی کے بجائے انسانوں کا خون بہتاہوا نظر آئے گا۔

رجوع الی اللہ ایک ایسا نسخہ ہے جس میں سب کافائدہ پنہاں ہے اس دنیاکا بھی اور آخرت کا بھی۔

٭…٭…٭

محبوبیت اسم محمد (ﷺ)

سیدنا ابو القاسم حضرت محمد ﷺ کے نام گرامی قدر میں بے مثال محبوبیت اور کشش ہے ۔ دنیا بھر میں اس نام کو جس قدر زیادہ عزت ، احترام ، محبوبیت ، مقبولیت اور شرف و فضیلت حاصل ہے ، وہ کسی اور نام کو حاصل نہیں ۔

قرآن کریم میں کتنے خوبصورت انداز سے کہا گیا ہے :مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ (سورۃ الفتح)”محمد اللہ کے رسول ہیں“

قیامت کے دن جب ساری خلق حساب و کتاب شروع نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوگی اور مختلف انبیاء کرام علیہم السلام بھی سفارش سے معذرت کر دیں گے اور آخر میں لوگ اس سفارش کی درخواست آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کریں گے اور آپ اللہ تعالی کی اجازت سے سفارش کے لیے آگے بڑھیں گے اور اسی مقصد کے لیے سجدہ میں جائیں گے تو اللہ تعالی اس دن جب سب اولین و آخرین جمع ہوں گے اپنے اس محبوب ترین نبی کو اسی نام محمد سے پکار کر فرمائیں گے :

يا مُحَمَّد، ارْفَعْ رَأْسَك، وقلْ يُسْمَعْ لك، وسَلْ تُعْطَ، واشْفَعْ تُشَفَّعْ (متفق علیہ)

یا محمد ! اپنا سر اوپر اُٹھائیے ، آپ بات کیجیے آپ کی بات سنی جائے گی ، آپ مانگیے آپ کو عطاء کیا جائے گا اور سفارش کیجیے ، آپ کی سفارش قبول ہوگی۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے الشفاء میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ اہل مکہ کے ہاں یہ بات مشہور تھی کہ جس گھر میں محمد نام والا ہو وہ گھرانہ پھلتا پھولتا ہے اور ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق زیادہ حاصل ہوتا ہے ۔

نام محمد سے محبت و عقیدت کا ایک منفرد مظہر یہ بھی ہے کہ سمرقند شہر میں ”تربۃ المحمدین“ کے نام سے ایک قبرستان ہے جس میں صرف انہی مسلمانوں کو دفن کیا جاتا تھا جن کا نام ”محمد“ ہو ۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor