Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ذکر حبیب ﷺ

 

ذکر حبیب ﷺ

Madinah Madinah

آقا مدنی ﷺکی سیرتِ مبارکہ پر بہت کتابیں لکھی گئیں اور اب تک لکھی جارہی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا انداز ہے اور اپنا رنگ۔ کسی نے جامع کتب لکھیں کہ آقا ﷺ کی روشن زندگی کا ہر پہلو اُمت کے سامنے لائیں، کسی نے ایک خاص پہلو متعین کرکے اس پر لکھا تاکہ اسے خوب واضح کرکے لوگوں کے سامنے رکھے اور کسی نے مختصر انداز میں خلاصہ پیش کردیا کہ مطالعہ کی عادت نہ رکھنے والے اور بڑی کتابیں دیکھ کر گھبرا جانے والے لوگ تھوڑے وقت میں اس معطر زندگی کی خوشبو پالیں اور اسے اپنے دل میں بسالیں۔

انہی کتابوں میں ایک بڑی شان والی کتاب قاضی عیاض مالکی ؒ کی تصنیف ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰﷺ‘‘ ہے۔ اپنے منفرد انداز اوراسلوب کی وجہ سے یہ کتاب کتبِ سیرت میں ایک امتیازی مقام کی حامل ہے۔ ربیع الاوّل کا برکتوں والا مہینہ شروع ہوچکا ہے اور یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں سید الاوّلین والآخرین شفیع المذنبین حضرت محمدﷺ کا ورودِ مسعود اس ظلمت کدہ کیلئے باعث تنویر بنا۔ اس مہینے کی مناسبت سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ بات آپﷺکے ذکر خیر تک ہی رکھی جائے۔ نبی کریمﷺکا ذکر موجب برکات بھی ہے اور کفارۂ سیئات بھی۔ پریشانیوں کا حل بھی ہے اور بیماریوں کا علاج بھی۔ دکھوں کا مداوا بھی ہے اور زخموں کا مرہم بھی اور سب سے بڑھ کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا تذکرہ اﷲ رب العزت کی رضا حاصل کرنے کا بہترین، آسان ترین اور موثر ترین ذریعہ ہے۔

زمین پر بیٹھ کر آپ ﷺکا تذکرہ کرنے والے شخص کیلئے آسمانوں پر محفل سجتی ہے اور ملاءِ اعلیٰ میں اس کے تذکرے گونجتے ہیں۔ سبحان اﷲ! آقاﷺکی اپنی شان کی بلندی کا اندازہ کون لگا سکتا ہے جب صرف زبان سے آپ ﷺ کا ذکر خیر کرنے والوں کو اتنے اونچے مقامات نصیب ہوتے ہیں۔

میں بات عرض کر رہا تھا قاضی عیاض مالکی ؒ کی کتاب ’’الشفاء‘‘ کی۔ عجیب عاشقانہ انداز میں لکھی ہوئی کتاب ہے، اﷲ رب العزت نے اس کے مطالعہ کی توفیق بخشی، جی چاہا کے اسی کتاب کے کچھ کلماتِ برکت نقل کرکے آج آقا ﷺ کے ذکر مبارک کی محفل سجائی جائے۔

نبی اکرم ﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے حسنِ صورت اور حسنِ سیرت میں اپنی تمام مخلوقات پر امتیاز بخشا، قاضی عیاضؒ نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف اَقوال نقل کیے ہیں کہ یہ عشاق نبی کریمﷺکے حسن صورت پر کس قدر فداء تھے۔

حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اﷲﷺسے بڑھ کر حسین میں نے کوئی نہیں دیکھا، گویا کہ سورج آپﷺکے رخ انور پر چمکتا تھا۔ اور جب آپ ﷺ مسکراتے تو یوں محسوس ہوتا کہ نور کی شعاعیں آپ کے دندان مبارک سے خارج ہو رہی ہیں۔

حضرت علی کرَّم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ آپ کی تعریف کرنے والا ہر شخص یہ کہنے پر مجبور ہوتا کہ میں نے آپ ﷺسے پہلے اور بعد میں آپ جیسا حسین کوئی نہیں دیکھا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے حسن بے مثال سے خوب اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیں لیکن آپ کی دید سے ان کی سیری نہ ہوتی تھی بلکہ شوق بڑھتا ہی چلا جاتا تھا۔ جب آپ دنیا سے پردہ فرما گئے اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپ ﷺکی زیارت میسر نہ رہی تو آپس میں آپﷺ کے حلیہ مبارک کا ذکر کرکے اپنے شوق کو تسکین دینے کی کوشش کرتے۔

روایات میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ان ساتھیوں سے جنہیں اﷲ تعالیٰ نے حسنِ بیان کا ملکہ عطاء فرمایا تھا فرمائش کیا کرتے کہ وہ ان کے سامنے حضور اکرم ﷺکے پرنور سراپا کا نقشہ کھینچیں۔ حقیقت ہے کہ آپ ﷺ کے حسن کو بیان کرنا بھی عام زبان کے اختیار میں نہ تھا، خاص لوگوں نے اگر کچھ کہا تو آخر میں انہیں بھی اپنے عجز کا اعتراف کرنا پڑا۔

 قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب میں ایسی کئی مفصل روایات نقل کی ہیں جن میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حسن صورت کا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے۔

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم ﷺکا حلیہ مبارک دریافت کیا اور وہ حضور ﷺکے حلیہ مبار ک کو بہت ہی کثرت سے اور وضاحت سے بیان کیا کرتے تھے۔ مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ ان اوصاف جمیلہ میں سے کچھ میرے سامنے بھی ذکر کریں تاکہ میں ان کے بیان کو اپنے لئے حجت اور سند بناؤں۔

ماموں جان نے حضور اکرمﷺ کے حلیہ شریف کے متعلق یہ فرمایا کہ :

آپ ﷺخود اپنی ذات والا صفات کے اعتبار سے بھی شاندار تھے، اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے رتبہ والے تھے، آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ماہِ بدر کی طرح چمکتا تھا۔ آپﷺ کا قد مبارک بالکل متوسط قد والے آدمی سے کسی قدر طویل تھا۔ لیکن لمبے قد والے سے پست تھا، سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا، بال مبارک کسی قدر بَل کھائے ہوئے تھے۔ اگر سر کے بالوں میں اتفاقاً خود مانگ نکل آتی تو مانگ رہنے دیتے، ورنہ آپ ﷺ خود مانگ نکالنے کا اہتمام نہ فرماتے۔ جس زمانے میں حضور ﷺ کے بال مبارک زیادہ ہوتے تھے تو کان کی لو سے متجاوز ہوجاتے تھے۔

آپ ﷺ کا رنگ مبارک نہایت چمکدار تھا اور پیشانی مبارک کشادہ، آپ ﷺکے ابرو خمدار باریک اور گنجان تھے۔ دونوں ابرو جدا جدا تھے ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں تھے، ان دونوں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت اُبھر جاتی تھی، آپ ﷺ کی ناک مبارک بلندی مائل تھی اور اس پر ایک چمک اور نور تھا، ابتداً دیکھنے والا آپ ﷺ کو بڑی ناک والا سمجھتا۔ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک بھرپور اور گنجان بالوں کی تھی، آنکھ مبارک کی پُتلی نہایت سیاہ تھی،رخسار مبارک ہموار ہلکے تھے گوشت لٹکے ہوئے تھے، آپ ﷺ کا دہن مبارک اعتدال کے ساتھ فراخ تھا۔ آپﷺکے دانت مبارک باریک آبدار تھے اور ان میں سے سامنے کے دانتوں میں ذرا ذرا فصل بھی تھا، سینے سے ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی، آپ ﷺ کی گردن مبارک ایسی خوبصورت اور باریک تھی جیسا کہ مورتی کی گردن صاف تراشی ہوتی ہے اور رنگ میں چاندنی جیسی صاف اور خوبصورت تھی، آپ ﷺ کے سب اعضاء نہایت معتدل اور پُرگوشت تھے اور بدن گھٹا ہوا تھا پیٹ اور سینہ مبارک ہموار تھا لیکن سینہ فراخ اور چوڑا تھا۔

آپ ﷺ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان قدرے زیادہ فصل تھا، جوڑوں کی ہڈیاں قوی اور کلاں تھیں۔ کپڑا اتارنے کی حالت میں آپ ﷺ کا بدن مبارک روشن اور چمکدار نظر آتا تھا۔ چہ جائے کہ وہ حصہ جو کپڑوں میں محفوظ ہو، ناف اور سینہ کے درمیان ایک لکیر کی طرح بالوں کی باریک دھاری تھی، اس لکیر کے علاوہ دونوں چھاتیاں اور پیٹ مبارک بالوں سے خالی تھا، البتہ دونوں بازوؤں اور کندھوں اور سینہ مبارک کے بالائی حصہ پربال تھے۔ آپ ﷺ کی کلائیاں دراز تھیں اور ہتھیلیاں فراخ۔ نیز ہتھیلیاں اور دونوں قدم گداز پُرگوشت تھے، ہاتھ پاؤں کی انگلیاں تناسب کے ساتھ لمبی تھیں۔ آپ ﷺکے تلوے قدرے گہرے تھے۔ اور قدم ہموار تھے کہ پانی ان کے صاف ستھرا اور ان کی ملاحت کی وجہ سے ان پر ٹھہرتا نہیں تھا فوراً ڈھل جاتا تھا۔ جب آپ ﷺ چلتے تو قوت سے قدم اُٹھاتے اور آگے کو جھک کر تشریف لے جاتے۔ قدم زمین پر آہستہ پڑتا، زور سے نہیں پڑتا تھا۔

آپ ﷺ تیز رفتار تھے اور ذرا کشادہ قدم رکھتے چھوٹے چھوٹے قدم نہیں رکھتے تھے۔ جب آپ ﷺچلتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا پستی میں اتر رہے ہیں، جب کسی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن سے پھر کر توجہ فرماتے۔ آپ ﷺ کی نظر نیچی رہتی تھی، آپ ﷺکی نگاہ بہ نسبت آسمان کے زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی۔ آپﷺ کی عادت شریفہ عموماً گوشۂ چشم سے دیکھنے کی تھی،یعنی غایت شرم و حیا کی وجہ سے پوری آنکھ بھرکر نہیں دیکھتے تھے، چلنے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو اپنے آگے کردیتے تھے اور آپ ﷺ پیچھے رہ جاتے تھے۔ جس سے ملتے سلام کرنے میں خود ابتداء فرماتے۔‘‘

اور پھر یہ خوبصورت بدن معطر کتنا تھا؟ دیکھئے اس بارے میں حضرات صحابہ کرام کیا فرماتے ہیں:

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺکے جسد مبارک سے بڑھ کر نہ عنبر کی خوشبو کو پایا اور نہ مشک کو۔

حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا، مجھے آپ ﷺکے ہاتھ سے ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس ہوئی گویا آپ نے اپنا ہاتھ ابھی عطر کی شیشی سے نکالا ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس راستے سے گزرتے بعد میں آنے والا پہچان لیتا کہ آپ ﷺ اس راستے سے گزرے ہیں (آپ کے جسم اطہر کی خوشبو کے سبب)

ایک روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مصافحہ کرنے والے شخص کا ہاتھ صبح سے شام تک معطر رہتا۔ اور ایسا شخص اگر کسی بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیتا تو وہ بچہ دوسرے بچوں کے درمیان خوشبو کی وجہ سے ممتاز رہتا۔

اب آپ ذرا بتائیے کہ آپ کو زندگی میں کبھی کسی یورپین انگریز کے ساتھ بیٹھنے کا یا کم سے کم اس کے قریب سے گزرنے کا اتفاق ہوا؟؟ یقین مانیئے ایک زندہ انگریز کے جسم میں ایک مرے ہوئے خنزیر سے زیادہ اور گندی بدبو ہوتی ہے۔ یہ ملعون اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ان کی شکلیں مزید مسخ ہوجاتی ہیں، انہی کی شکلیں دیکھ کر ان کے ایک ہم جنس نے نظریۂ ارتقاء قائم کرکے اپنے آباء واجداد کے بارے میں عجیب وغریب اشکالات کا اظہار کردیا تھا۔ ان لوگوں کا نبی اکرم ﷺکی شانِ اقدس میں گستاخی کرنا اور زبان درازیاں کرنا دراصل ایسا ہے جیسا کہ ایک بھنگی ہمیشہ عطر فروش سے متنفر رہتا ہے اور اس کی دوکان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔

تویہ بدبودار گندے لوگ جو انسانیت کے نام پر ایک غلیظ دھبے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے، جن کے بارے میں ان کے خالق ومالک کا فرمان ہے کہ یہ لوگ چوپاؤں سے بھی زیادہ ذلیل اور گمراہ ہیں، جلتے رہیں، مرتے رہیں اور بھونکتے رہیں۔

نبی اکرم ﷺ کے مبارک ذکر کی ہوائیں چلتی رہیں گی، آپ ﷺکے نام کی خوشبو مہکتی رہے گی۔

ہمارے آقا ﷺ کااپنے رب کے ہاں کیا مقام ہے؟ اس پر اس کتاب میں کئی فصول قائم کی گئی ہیں، جنہیں قرآنی آیات اور احادیث سے مزین کیا گیا ہے۔ ایک فصل سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اﷲ تعالیٰ نے مخلوق کو دو جماعتوں میں تقسیم فرمایا اور مجھے ان میں سے بہترین جماعت میں رکھا، یہ دوجماعتیں اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال ہیں۔ اور میں اصحاب الیمین میں سب سے بہتر ہوں، پھر ان دو جماعتوں کو تین کردیا، اصحاب المیمنۃ، اصحاب المشئمۃ اور السابقون، پس میں سابقین میں سے ہوں اور ان میں سب سے بہتر ہوں۔ پھر لوگوں کو قبائل میں تقسیم کیا اور مجھے سب سے اشرف قبیلے میں پیدا فرمایا۔ میں اولادِ آدم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا اور اﷲ کے نزدیک سب سے بڑے مقام والا ہوں لیکن فخر میں مبتلا نہیں۔پھر قبائل کو گھرانوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھرانے میں پیدا فرمایا۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام نے حضور اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:

”میں زمین کے ہر کونے میں پھرا ہوں، میں نے محمد ﷺسے افضل انسان اور بنی ہاشم سے بہتر گھرانا نہیں دیکھا۔“

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”معراج کی رات نبی اکرم ﷺکی سواری کے لئے براق لایا گیا۔ اس نے کچھ شدت کا مظاہرہ کیا تو جبرئیل علیہ السلام نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: کیا تو محمد ﷺکے ساتھ ایسا معاملہ کر رہا ہے؟ یاد رکھ! تجھ پر اﷲ تعالیٰ کے ہاں ان سے بڑے مرتبے والا کوئی شخص سوار نہیں ہوا۔“

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی ایک روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”میں اولین اور آخرین میں سب سے زیادہ مقام والا ہوں لیکن فخر میں مبتلا نہیں۔“

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor