Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اولادِ آدم کیلئے تحفہ

 

اولادِ آدم کیلئے تحفہ

Madinah Madinah

سیدنا حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے والد ہیں‘ ان سے ہی نسلِ انسانی کا آغاز ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت سے پیدا فرمایا اور ان کو قبلہ قرار دے کر فرشتوں کو حکم دیا کہ تم ان کو سجدہ کرو ۔

یہ سجدہ تعظیم کیلئے تھا ‘ عبادت کیلئے نہ تھا اور گزشتہ امتوں میں کسی بڑے شخص کے احترام کیلئے سجدئہ تعظیمی کیا جاتا تھا ۔

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ سے جب صحابہ کرام نے اجازت مانگی کہ ہم آپ کو تعظیم اور احترام کے لیے سجدہ کرنا چاہتے ہیں تو خاتم النبیین ﷺ نے منع فرما دیا اور اب قیامت تک کسی انسان کے سامنے تعظیم اور احترام کیلئے بھی سجدہ کرنا درست نہیں ہے ۔

سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت اعزاز سے نوازا اور ان کو زمین میں اپنا جانشین قرار دیا تاکہ ان کی نسل سے آنے والے انسان خود اپنی ذات پر اور پوری کائنات پر اللہ تعالیٰ کے احکامات جاری کریں  ۔

حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ابتدائی طور پر رہائش پذیر تھے اور وہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے ، بس صرف ایک پابندی تھی کہ ایک خاص درخت کے قریب نہیں جانا اور اس کا پھل نہیں کھانا ۔

ادھر ابلیس یعنی شیطان چونکہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے مردود ٹھہرا تھا اور حکمِ الٰہی کے ٹھکرانے کی سزا میں اس سے ‘ اس سے تمام سابقہ اعزازات واپس لے لیے گئے تھے‘ اس لیے وہ ہر وقت حضرت آدم علیہ السلام سے بدلہ لینے کیلئے تدبیریں سوچتا رہتا تھا ۔

وہ بے وقوف اس زعم میں مبتلا تھا کہ میں آگ سے بنایا گیا ہوں اور آدم مٹی سے‘ آگ کی فطرت میں  بلندی ہے اور مٹی کی فطرت میں پستی ۔ اس لیے میرا درجہ بڑا ہے‘ پھر میں آدم کو سجدہ کیوں کروں ۔ بس اسی تکبر نے اُسے مار ڈالا اور اس کی ہزاروں سال کی عبادت رائیگاں چلی گئی ۔ اگر وہ یہ سوچ لیتا کہ میں کیا اور میرا مرتبہ کیا ‘ جب میرا خالق و مالک مجھے حکم دے رہا ہے کہ میں آدم کو سجدہ کروں تو مجھے بلا چوں و چرا سجدہ کر لینا چاہیے تو وہ کبھی ملعون نہ بنتا ۔

بہر حال ! سب انسانو کے والد سیدنا آدم اور ہم سب کی والدہ حضرت حوا علیہما السلام جنت میں رہتے تھے اور خوب مزے کی زندگی گزارتے تھے ۔ یہ دونوں چونکہ خود نیک دل ‘ نیک فطرت اور نیک سیرت تھے‘ اس لیے دوسروں کو بھی ایسا ہی سمجھتے تھے ۔ وہ نہ خود جھوٹ بول سکتے تھے اور نہ ہی کسی دوسرے کے بارے میں یہ تصور کر سکتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہو گا ۔

ابلیس نے ان دونوں کی اسی نیکی کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ایک دن ان کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خاص درخت کا پھل کھانے کی ممانعت تھی ‘ وہ صرف ابتدائی اور عارضی نوعیت کی پابندی تھی ‘ ورنہ یہ پھل تو ایسا ہے کہ اس کو کھا کر آپ دونوں فرشتے بن جائیں گے اور ہمیشہ یوں ہی جنت میں رہیں گے ۔

ابلیس نے صرف یہ وسوسہ ہی نہیں ڈالا بلکہ قسمیں کھا کھا کر انہیں کہا کہ میں تمہارا خیرا خواہ ہوں اور تمہاری بھلائی کیلئے ہی یہ مشورہ دے رہا ہوں ۔ حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام اس کے کہنے میں آگئے اور وہ پھل کھا بیٹھے‘ جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ۔

نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں شخصیات فوری طور پر لباس جنت سے محروم کر دئیے گئے اور جنت میں رہائش کے ذریعے جو عارضی اعزاز و اکرام کا سلسلہ تھا ‘ وہ ختم کر کے انہیں اس دنیا میں بھیج دیا گیا جہاں کی ’’ خلافت ‘‘ کیلئے انہیں پیدا کیا گیا تھا ۔

حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام اپنی اس کوتاہی پر سخت شرمسار تھے کہ انہوں نے کیوں ابلیس کی باتوں میں آکر ممنوعہ درخت کا پھل کھایا ۔ ابلیس نے جان بوجھ کر حکمِ الٰہی کو توڑا تھا لیکن وہ بجائے شرمندہ ہونے کے اپنی غلطی پر اصرار کرنے لگا اور اپنے گناہ پر حیلے بہانے بنانے لگا ‘جب کہ ہمارے ابا جان اور اماں جان نے جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی تھی لیکن اس کے باوجود وہ توبہ کرنا چاہتے تھے اور اپنے رب جل شانہ کو راضی کرنا چاہتے تھے ۔ بس ایک انسان اور شیطان میں یہی فرق ہونا چاہیے ۔

اللہ تعالیٰ کو اپنے اس مخلص بندے اور اپنی پاک باز بندی پر رحم آگیا اور ان دونوں کو توبہ و استغفار کیلئے وہ دعا سکھائی گئی ‘ جو قیامت تک ان کی اولاد یعنی تمام انسانوں کیلئے بہت بڑا تحفہ اور نعمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دل میں یہ دعا ڈالی گئی اور انہوں نے نہایت عاجزی سے بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کیا :

رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْن (الاعراف ۔۲۳)

( اے ہمارے رب! ہم نے تو اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر آپ نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم لازمی طور پر نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے)

اس امت کے کچھ نیک لوگوں سے پوچھا گیا :

’’ جس شخص سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ کیا کرے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا :

’’ وہ ہی کام کرے جو اس کے سب سے پہلے والدین حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام نے کیا تھا ‘ اپنی غلطی پر ندامت اور آئندہ نافرمانی نہ کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرے‘‘۔

بے شک یہ دعا اولادِ آدم کیلئے قیامت تک بہت بڑا سرمایہ ہے‘ جس کے ذریعہ وہ اپنے گناہ بارگاہِ الٰہی سے معاف کروا سکتے ہیں ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor