Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مسلمان:ناموس رسالت پر قربان

 

مسلمان:ناموس رسالت پر قربان

Madinah Madinah

مسلمانوں کے ”سر“ سلامت ہی اس لیے ہیں کہ وہ ناموسِ رسالت پر قربان کر دیے جائیں ، مسلمانوں کی گردنیں باقی ہی اس لیے ہیں کہ انہیں ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر کٹوا دیا جائے۔

جو ”سر“ ناموس رسالت پرقربان ہونے سے خوف زدہ ہو، وہ مسلمان نہیں، منافق کا سر ہوتا ہے۔ جو گردن ختم نبوت کی خاطر کٹنے سے انکار کردے وہ گردن ملعون ہوجایا کرتی ہے۔

ختم نبوت کا تحفظ خود خدا نے کیا ۔ ناموس رسالت کا دفاع خود پروردگار نے کیا۔ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کی خاطر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

ملعون صدر میکرون اور اس کے فرانسیسی گستاخوں کو کوئی بتائے کہ امت محمدیہ ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔ اس کا دامن آج بھی اُن عشاق رسولﷺ سے بھرا ہوا ہے کہ جو ناموس رسالت کی خاطر اپنے ”سر“ ہتھیلیوں پر لیے پھرتے ہیں۔ انہیں نہ اپنے ”کفن“ کی فکر ہے ، نہ ”دفن“ کی پرواہ۔ ناموسِ رسالت کے دفاع کی تحریک میں انہیں نہ زخمی ہونے سے ڈر لگتا ہے اور نہ ہی تختہ دار پر چڑھنے سے۔

تم رسول اللہﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کو اگر اپنی کامیابی سمجھتے ہو تو سن لو!تم سے بڑا بے وقوف اور جاہل کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔

دین اسلام سلامتی والا دین ہے۔ مسلمان اس سلامتی کو عام کرتا ہے۔ لیکن دُنیا کا امن خاتم النبیین حضرت محمد کریمﷺ کی عزت و ناموس کے ساتھ وابستہ ہے۔ تم مادیت پرست مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو تو غلام بنا سکتے ہو لیکن عشاقِ رسول ﷺ کے ”ایمان“ کو نہ چھین سکتے ہو، نہ مٹا سکتے ہو اور نہ ہی غلام بنا سکتے ہو۔

گستاخِ رسول دنیا کے کسی ملک میں بھی چھپ جائے، زمین کے جس حصے میں بھی چلاجائے نہ مسلمانوں کے وار سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی رب کے عذاب سے۔

یہ گستاخ ہی بڑے لعین ہیں، جو یہ بھی نہیں جانتے کہ جس کا ذکر پروردگار نے بلند کردیا ہو، جس کی شان میں آسمان کے فرشتے، دریاوں اور سمندروں کی مچھلیاں ، نباتات وجمادات اور ایک ارب نوے کروڑ مسلمان، شجر و حجر بلکہ خود خالق کائنات درود و سلام بھیجتے ہوں، اس پاکیزہ پیغمبرﷺ کی گستاخی کرنے والے اپنا آپ ہی برباد کرتے ہیں۔

قرآن حکیم کی سورۃ الکوثر میں ارشاد ہے:

ان شانئک ھو الابتر

یقینا(اے محمدﷺ) آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے

قرآن پاک کی اس مبارک آیت کی روشنی میں ملعون صدر میکرون سمیت دیگر فرانسیسی گستاخوں کو جاننے کی کوشش کریں تو وہ سب کے سب ایک نطفہ حرام ہیں کہ جن کو اپنے باپوں کا ہی پتہ نہیں، جس کی ولدیت کے خانوں میں نامعلوم لکھا ہوا ہووہ اگر ناموس رسالت پر حملہ آور ہوں گے تو جائیں گے کہاں بچ کر؟ آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں کسی نہ کسی عبد اللہ شیشانی، غازی ممتاز قادری یا غازی خالد کے ہتھے ضرور چڑھ جائیں گے۔

یاد رکھئے عبد اللہ شیشانی کا ”رد عمل“اس ”مکروہ عمل“ کا نتیجہ تھا کہ جو ایک ملعون استاذنے کیا تھا۔ اگر تمہارا عمل ”ملعون“ ہوگا تو پھر ”رد عمل“ میں عبد اللہ جیسے کم سن نوجوان ہی پیدا ہوں گے۔

سو باتوں کی ایک بات کہ تم اپنی سیاہ کرتوتوں سے توبہ تائب ہو جاؤ ، اسلام قبول نہیں کرنا چاہتے نہ کرو لیکن کبھی قرآن پاک کو جلانا، اور کبھی پیغمبر اسلامﷺ کے توہین آمیز خاکے چھاپنا اس کی اجازت کوئی بھی مسلمان تمہیں نہیں دے گا۔

یاد رہے کہ اس خاکسار نے ”مسلمان“ لکھا ہے ،”منافق“ کی بات نہیں کی!

و ما علینا الا البلاغ

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب، رحمۃ للعالمین، سیدنا و مولانا حضرت آقا محمدﷺ کو بہت عظمت اور بڑی شان عطاء فرمائی ہے۔

انا اعطیناک الکوثر

(اے حبیب!) بے شک ہم نے آپ کو ڈھیر ساری خیر عطاء فرمائی ہے

اب کوئی انہیں کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

ماودعک ربک و ما قلی

(اے حبیب!) آپ کے رب نے آپ کو نہ تو چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے

اب کون اُن کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے؟

و للآخرۃ خیر لک من الاولیٰ

اُن کے لیے ہر آنے والا وقت ، پہلے اور پچھلے وقت سے بہترہوتاہے

یعنی ہر لمحہ ،ہر وقت، ہرگھڑی اور ہرساعت میں ان کے لیے خیر اور بھلائی بڑھتی رہتی ہے

اب کوئی اُن کے لیے خیر کا راستہ کیسے بند کر سکتا ہے؟

و لسوف یعطیک ربک فترضی

آپ کا رب آپ کو آئندہ اتنا کچھ دے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے

اب ان سے یہ خوشیاں کون چھین سکتا ہے؟

الم نشرح لک صدرک

ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ کُشادہ کر دیا ہے

اب کوئی انہیں کیوں کر ستانے اور اپنے حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا سامان کر سکتا ہے؟

و وضعنا عنک وزرک

ہم نے آپ سے آپ کا بوجھ اُتار دیا ہے

اب کوئی ان دل کو کیوں کر بوجھل بنا سکتا ہے؟

و رفعنا لک ذکرک

ہم نے آپ (کی خوشی اور شان کے اِظہار) کے لیے آپ کا تذکرہ اونچا کر دیا ہے

اب کوئی ان کے تذکرے اور شان کو کیسے گھٹا سکتا ہے؟

انا فتحنا لک فتحا مبینا

یقین جانو! ہم نے آپ کو کھلی اور روشن فتح عطاء کردی ہے

اب کوئی انہیں کیسے شکست دے سکتا ہے؟

لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر

اللہ تعالیٰ نے تمہاری اگلی اورپچھلی تمام کوتاہیاں معاف کردی ہیں

اُن سے تو کوئی کوتاہی ہو ہی نہیں سکتی تھی کیوں کہ وہ تو معصوم تھے بلکہ خاتم المعصومین تھے ،اور اگر بالفرض کوئی کوتاہی ہو بھی جاتی تو وہ ہونے سے پہلے ہی معاف کی جاچکی ہے۔  اب اُن پر کوئی کیسے اُنگلی اُٹھا سکتا ہے؟

و یتم نعمتہ علیک

اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی نعمت کو مکمل کردیا ہے

اب کمالات کا منبع اور سرچشمہ حضوراکرمﷺ کی مبارک ذات بن چکی ہے، جسے رب کریم کی نعمت چاہیے اسے انہی کے در پر آنا پڑے گا

و یھدیک صراطا مستقیما

اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیدھے راستے پر چلا دیا ہے

اب کوئی انہیں کیسے گمراہ کرسکتا ہے؟ بلکہ کوئی اور بھی اگر سیدھے راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اسے بھی حضرت آقامدنیﷺ کے پیچھے چلنا ہوگا، کیوں کہ انہیں رب کریم نےسیدھے راستے پر چلایا ہے ، اس لیے ان کا راستہ ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے

و ینصرک اللہ نصرا عزیزا

اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی مدد کی ہے جو سب پر غالب آنے والی ہے

اللہ اکبر! اب کوئی بھی اُن پر غالب آنے کا سوچے بھی نہ اور جس نے ایسا کوئی اقدام کیا تو وہ خود مغلوب اور پاش پاش ہوکر رہے گا

انا ارسلناک شاھدا و مبشرا و نذیرا

بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے

اب وہ جس کے حق میں گواہی دیں گے وہ بچ جائے گا اور جس کے خلاف گواہی دیں گے وہ ہلاک ہوگا۔ کوئی سمجھدار انسان اپنے گواہ کو بھی ناراض کیا کرتا ہے؟ اور جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے گواہ کو ناراض کرتا اور ان کی دشمنی مول لیتا ہے تو وہ پاگل خود بربادی کی طرف جا رہا ہے۔

ما ضل صاحبکم و ما غوی

تمہارا نبی نہ تو سیدھے راستے کو بھولا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے

اب جو ان کے خلاف جاتا ہے تو وہ راستہ بھولا ہوا بھی ہے اور بھٹکا ہوا بھی ہے

و ما ینطق عن الہوی

وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے

اللہ اکبر! حضور اکرمﷺ کی ہربات سچ اور سو فیصد سچ اور ان کے خلاف بولنے والی ہرزبان جھوٹی اور سو فیصد جھوٹی ۔ جی ہاں! اُن کے خلا ف بولی جانے والی ہر بات بکواس اور نِری بکواس

ما کذب الفؤاد ما رای

جو کچھ انہوں نے دیکھا دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی

اب جو ان کے دیکھے ہوئے کو غلط کہتا ہے تو وہ خود غلط ہے اور اسی کااپنا دل غلط ہے

ما زاغ البصر و ما طغی

اُن کی آنکھ نہ تو چکرائی ہے اور نہ ہی حد سے آگے بڑھی ہے

اس لیے ان کی بصیرت اور بصارت سب سے بڑھ کر ہے، بلکہ انہی کی بصیرت اور بصارت سب سے زیادہ معتبر ہے۔ جس کی بصیرت اور بصارت جس قدر اُن کے قریب ہوگی وہ اسی قدر حق کے قریب ہوگا اور جو جس قدر اُن سے دور ہوگا وہ اسی قدر حق سے دور ہوگا

لقد رای من آیات ربہ الکبری

انہوں نے اپنے رب کی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھا دیکھا ہے

سائنس اور ٹیکنالوجی کو بڑا سمجھنے والے اُن کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں، جدید ترقیات پر للچانے والے ان کے سامنے بہت بونے ہیں۔

و ما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین

ہم نے تو انہیں سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے

سلطان العارفین حضرت سیدی امام احمد رفاعی حسینی قدس سرہ فرماتے ہیں:

أي سادة: عظِّموا شأن نبيِّكم، هو البرزخ الوسط الفارق بين الخَلق والحقِّ، من اتَّصل به اتَّصل، ومن انفصل عنه انفصل، قال عليه صلوات الله وتسليماته: (لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعاً لمَا جِئْتُ). (مراحل السالکین )

”اے بزرگو! اپنے نبیﷺ کی شان اور عظمت کو تسلیم کرو، کیوں کہ خالق اور مخلوق کے درمیان وہی فرق کرنے والا واسطہ ہیں، جو اُن کے ساتھ جُڑ گیا وہ وہ حق کے ساتھ جڑ گیا اور جو اُن سے کٹ گیا وہ حق سے کٹ گیا، اُن پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں اور تسلیمات ہوں فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اس دین کے تابع نہ ہو جائے جسے میں لایا ہوں۔ “

اُن کی آمد و بعثت انسانیت اور کائنات کے لیے سراپا رحمت کا پیغام ہے۔

ساغر صدیقی مرحوم کہتے ہیں:

بزمِ کونین سجانے کے لیے آپ آئے

شمعِ توحید جلانے کے لیے آپ آئے

ایک پیغام جو ہر دِل میں اُجالا کردے

ساری دُنیا کو سُنانے کے لیے آپ آئے

قافلہ والے بھٹک جائیں نہ منزل سے کہیں

دور تک راہ دِکھانے کے لیے آپ آئے

٭٭٭

سیدنا و مولانا حضرت آقا محمدمدنیﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے اتنی شان عطاء فرمائی ہے تو اس شان کی حفاظت کا بند و بست بھی بہت عجیب کیا ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کرنے والے کو عبرت ناک سزا کی خبردی ہے اور جب بھی کوئی بدبخت اُن کی شانِ اقدس میں گستاخی سے باز نہیں آیا تو اسے عبرت ناک سزا دی بھی ہے۔

وہ ”سراپا رحمت“ ہیں اور جو ”رحمت“ سے دشمنی مول لیتا ہےیا اس کا مذاق اُڑانے کی کوشش کرتا ہے تو خود بتلائیے کہ وہ ”انسانیت“ تو کیا کسی بھی مخلوق کا خیر خواہ اور ہمدرد ہو سکتا ہے؟

اسی لیے ان کے دشمنوں کے بارے میں سو فیصد یقینی خبر دیدی گئی ہے:

ان شانئک ھو الابتر

بے تمہارا دشمن ہی وہ (بدنصیب) ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے

اب جس کی ”جڑ“ ہی کٹ جائے تو وہ چیز کہاں باقی رہ سکتی ہے؟ اس کی عزت کیسے بحال رہ سکتی ہے؟ اسے کامیابی کیوں کر مل سکتی ہے؟ وہ تو بے نام ہو جاتا ہے، بدنام بن جاتا ہے، بے نشان رِہ جاتا ہے، اور ناکام کہلاتا ہے۔

ایسوں کے بارے میں یہ بھی اعلان موجود ہے:

و الذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم

جو لوگ اللہ کے رسول کو ستاتے ہیں تو اُن کے لیے درد ناک عذاب ہے

اس اعلان کو مزید وضاحت کے ساتھ پھر بیان کیا گیا ہے:

ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الآخرۃ و اعد لہم عذابا  مہینا

جو اللہ اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں(یعنی ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں)تو اُن پر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ کی لعنت ہے اور اللہ نے ان کے لیے ذلت سے بھرا عذاب تیار کر رکھا ہے

٭٭٭

عالَم کفر کو یہ بات اچھی جان لینی چاہیے کہ مسلمانوں کے ہاں ”رسول اللہﷺ“ کی ذات گرامی کی عزت و ناموس ”سرخ لائن“ ہے اور جو گستاخی کرکے اِس ”سرخ لائن“ کو کراس کرنے کی کوشش کرے گا، وہ کسی ایک مسلمان کا نہیں تمام مسلمانوں کا دشمن ہے، وہ پورے اسلام کا دشمن ہے، اوراُمت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے جو بھی نبی کریمﷺ کو بُرا کہتا ہے یا آپ کی شانِ اقدس میں تنقیص و گستاخی کرتا ہے تو اس کی سزا ”قتل“ ہے۔

ہندوستان کے معروف اور مقبول عالم دین حضرت ملا احمد جیون صدیقی رحمۃ اللہ علیہ جن کی کتاب ”نور الانوار“ صدیوں سے دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں شامل ہے، وہ اپنی کتاب تفسیرات احمدیہ میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:

 ترجمہ: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام پر سب سے بڑا طعن اور حملہ یہ ہے کہ سیدِ دو عالَم کی شانِ اقدس میں گستاخی کی جائے، کیوں کہ اس سے شریعتِ محمدیہ کی گستاخی اور سارے اِسلام کی بے حرمتی ہوتی ہے“ (بامحمد، باوقار۔ص146)

اس لیے اسلام کے دامن سے وابستہ تمام مسلمانوں اور تمام حکمرانوں اور طاقتور لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گستاخانِ رسالت کی سرکوبی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں، اور ایسے مجرموں کو صفحہ ہستی سے مٹاڈالیں۔

یاد رکھنے کے قابل ہے جس طرح نبی کریمﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا بے نام و نشان رِہ جاتا ہے اسی طرح جو نبی کریمﷺ کی شان و عظمت اور ناموس و عزت کے لیے جان و مال قربان کرتااور گستاخانِ رسالت کا قلع قمع کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہےتو وہ بامراد اور نیک نام بنادیا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے لے کر شیشان کے عبد اللہ تک یہ ساری داستانِ عشق و محبت اس کی گواہ ہے۔

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor