Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تربیت اولاد

 

تربیت اولاد

Madinah Madinah

نیک اولاد کسی بھی انسان کے لئے بیش بہا قیمتی سرمایہ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے گراں قدر عطیّہ ہوتا ہے۔ اس لئے والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاں اپنے بچوں کی بہتر نشوونما کے لئے صحیح نگہداشت وپرورش کا سوچتے ہیں، وہیں ان کو چاہئے کہ وہ بچوں کی درست خطوط پر تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں ،کیونکہ اگرآج ان پیارے اور لاڈلے بچوں کو پاکیزہ اخلاق اور نیک خصال سے آراستہ کردیا جائے گا تویقیناً آج کی یہ معصوم کلیاں مستقبل میں گلستانِ حیات کی خوبصورتی اور اس کی رونق کو دوبالا کرنے کا باعث ہوں گی اور اگر خدانخواستہ اپنے عیش کی دنیا کی فکر میں بدمست ہوکر ان کی تربیت کا معاملہ لااُبالی پن کی نذر ہوگیا تو آنے والادن یقیناًوالدین کے لئے بڑا اذیّت ناک اور سوہانِ روح ہوگا۔

اپنی اولاد کی تربیت کے معاملہ میں سردمہری کا مظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جو کربناک صورت حال پیش آسکتی ہے اس سے اہل ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آگا ہ کردیا ہے تاکہ وہ اپنی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے اہل وعیال اور اپنی آل اولاد کو عذاب الٰہی میں گرفتا ر ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکر کرسکیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَھْلِيکُمْ نَارًا وَقُودُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃ۔(التحريم)

’’اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ‘‘[سورہ تحریم:۶]

اور اہل ایمان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کے بارے میں ایک لمحہ کے لئے بھی کسی طور پر غفلت کا شکار نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمیشہ اپنے متعلقین کی آخرت کی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی شیطان کی راہ کو اختیار نہ کرنے پائے۔سورۂ طور میں ہے کہ:

﴿قَالُوا إِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِي أَھْلِنَا مُشْفِقِين۔ [الطّور]

’’کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے‘‘[سورہ طور]

اولاد کے بارے میں ان کی اسی بے قراری اور ان کے فکر واندیشہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں بھی اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

 اولاد کی پرورش سے متعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله عليہ کے چند ضروری ہدایات :

عورتوں میں عادت ہے کہ بچوں کو جن بھوت اور دوسر ی ڈراؤنی چیزوں سے ڈراتی ہیں یہ بہت غلط بات ہے اس سے بچے کا دل کمزور ہوتا ہے۔ ماں کو چاہیے بچے کو باپ سے ڈراتی رہے۔

 اگر لڑکا ہو تو اس کے سر پر بال مت بڑھاؤ اور اگر لڑکی ہے تو جب تک پردے میں بیٹھنے کے قابل نہ ہوجائے زیور مت پہناؤ۔ اس سے ایک تو جان کا خطرہ رہتا ہے اور دوسری بات کہ بچپن سے ہی زیور کا شوق دل میں ہونا اچھی بات نہیں۔

 بچوں کے ہاتھوں سے غریبوں کو کھانا، کپڑا پیسہ اور ایسی چیزیں دلوایا کریں۔ اسی طرح کھانے پینے کی چیزیں ان کے بھائی بہنوں کو یا اور بچوں کو تقسیم کرایا کرو تاکہ آپ کے بچوں میں سخاوت کی عادت ہو۔

زیادہ کھانے والے کی برائی بچوں کے سامنے کیا کرو لیکن نام لے کر نہیں کہ فلاں زیادہ کھاتا ہے بلکہ اس طرح کے جو زیادہ کھاتے ہیں لوگ اسے حبشی کہتے ہیں بیل جانتے ہیں۔

اگر لڑکا ہو تو سفید کپڑے کی رغبت اس کے دل میں پیدا کیجئے اور رنگین لباس سے اس کو نفرت دلائیں کہ ایسے کپڑے لڑکیاں پہنتی ہیں تم ماشاءاللہ مرد ہو۔ ہمیشہ اس کے سامنے ایسی باتیں کیا کریں۔ اگر لڑکی ہو تو بہت تکلف کے کپڑوں کی اسے عادت مت ڈالئے۔

بچوں کی سب ضدیں پوری مت کریں۔ اس سے بچے کا مزاج بگڑ جاتا ہے۔

چِلّا کر بولنے سے روکیں خاص طور پر اگر لڑکی ہے تو چلّانے پر خوب ڈانٹیے ورنہ بڑی ہوکر پختہ عادت ہو جائے گی۔

جن بچوں کی عادتیں خراب ہیں یا پڑھنے لکھنے سے بھاگتے ہیں یا تکلف کے کھانے کے اور کپڑے کے عادی ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں ان کے ساتھ بیٹھنے سے اور ساتھ کھیلنے سے ان کو بچائیں۔

ان باتوں سے نفرت دلاتے رہو، غصہ، جھوٹ بولنا، کسی کو دیکھ کر جلنا یا حرص کرنا، چوری کرنا، چغلی کھانا، بے فائدہ بہت باتیں کرنا۔ بے بات ہنسنا یا زیادہ ہنسنا، دھوکہ دینا، بھلی بری بات کانہ سوچنا اور جب ان میں سے کوئی بات ہو جائے تو فوراًاس کو روکیں اور اس پر تنبیہ کیجئے۔

اگر کوئ چیز توڑ پھوڑ دے یا کسی کو مار بیٹھے تو بچے کو مناسب سزا دو تاکہ پھر ایسا نہ کرے۔ ایسی باتوں میں پیار دلار بچے کو کھو دیتا ہے۔

بچہ جب سات برس کا ہو جائے تو نماز کی عادت ڈالو۔ جب مکتب میں جانے کے قابل ہوجائے تو اول قرآن مجید پڑھوائیں۔

بہت سویرے مت سونے دیں اور جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں۔

کبھی کبھی بچوں کو نیک لوگوں کی حکایتیں سنایا کیجئے۔

ان کو ایسی کتابیں مت دیکھنے دو جن میں عاشقی معشوقی کی باتیں ہوں یا بےہودہ قصے اور غزلیں وغیرہ ہوں۔

مکتب سے آنے کے بعد بچے کو کسی قدر دل بہلانے واسطے کچھ دیر کھیلنے دو تاکہ اس کی طبعیت کند نہ ہوجائے لیکن کھیل ایسا ہو جس میں کوئ گناہ نہ ہو اور چوٹ لگنے کا اندیشہ نہ ہو۔

آتش بازی یا باجہ یا فضول چیزیں مول لینے کے لیے پیسے مت دو اور کھیل تماشے دکھانے کی عادت مت ڈالیں(آج کے دور کے اعتبار سے بے مقصد موبائل وہ بھی اسمارٹ فونز، ویڈیو گیمز، ایسے کھیل جن سے صحت کا نقصان ہو اور صرف پیسوں کا ضیاع ہو، اپنے گلی محلے، اسکولز، کالجز یا یونیورسٹیز کے ایسے دوستوں اور سہیلیوں کے ساتھ گھومنے کےلیے پیسے اور اجازت دینا وغیرہ سب شامل ہیں)

اولاد کو ضرور کوئی ایسا ہنر سکھلا دیں جس سے ضرورت اور مصیبت کے وقت چار پیسے حاصل کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کرسکے۔

لڑکیوں کو کم از کم اتنا لکھنا پڑھنا ضرور سکھائیں کہ ضروری خطوط اور گھر کا حساب کر سکیں۔

بچوں کو عادت ڈالئے کہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کریں۔ اپاہج اور سست نہ ہوجائیں۔ انہیں کہیں رات کو اپنابستر خود بچھائیں اور صبح اٹھ کر خود تہہ کرکے احتیاط سے رکھ دیں۔

لڑکیوں کو ہدایات دیں کہ جو کام کھانے پکانے، سینے پرونے، کپڑے رنگنے کے ہیں انہیں نہایت دل لگا کر سیکھیں۔

جب بچے سے کوئی اچھی بات ظاہر ہو تو لازمی اسے شاباش دو، پیار کریں اور کچھ انعام دیں تاکہ اس کا دل بڑھے اور جب کوئ بری بات دیکھو تو بچے کو تنہائ میں سمجھائیں کہ دیکھو اچھے نیک لوگ ایسا کام نہیں کرتے اور کرنے والے کو لوگ برا جانتے ہیں اور اگر بچہ دوبارہ غلط عمل دہرائے تو بچے کو مناسب سزا دیں۔

بچے کو کوئی بھی کام چھپا کر مت کرنے دیں۔ کھیل ہو یا کھانا ہو یا شغل کا کوئی بھی کام ہو۔

کوئ کام محنت کا اس کے ذمہ مقرر کریں جس سے صحت اور ہمت رہے اور سستی نہ آنے پائے۔

بچوں کو چلنے میں تاکید کریں کہ بہت جلدی نہ چلیں اور چلتے ہوئے نگاہ اوپر اٹھا کر نہ چلے۔

اس کو عاجزی اختیار کرنے کی عادت ڈالیں، زبان سے، چال سے اور برتاؤ سے۔ شیخیاں نہ مارے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor