سلف کا خوفِ آخرت۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی وَلی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ

Madinah Madinah

خوفِ آخرت ہی درحقیقت گناہوں سے بچانے کا ذریعہ ہے، دِلوں میں خوفِ آخرت کی روح جب تازہ تھی، اور آخرت کی جواب دَہی کا جذبہ غالب تھا، تو مسلمان کے اَخلاق و اَعمال آج سے مختلف تھے، ان کی زندگی اِیمان و عمل کی ضیاء پاشیوں سے منور تھی، لیکن آج یہ جذبہ سرد پڑچکا ہے، اِسی لئے ہماری اِنفرادی اور اِجتماعی زندگی گھٹا ٹوپ اَندہیروں میں ڈوب چکی ہے۔ ہمارے سلف خوفِ آخرت کے جذبہ سے سرشار تھے۔

اس مختصر مضمون میں اس سلسلہ کے چند واقعات کی نشاندہی کی کوشش کی گئی ہے، شاید ہمارے دِل بھی اس متاعِ گم شدہ سے دوبارہ بہرہ وَرہوجائیں، اور ہماری زندگیاں پھر سے حیاتِ نو حاصل کرلیں۔

ہمارے اَسلافِ کرام ،صحابہ، تابعین، اَئمہ کی صفات کا سر چشمہ حضور اَکرمﷺ کی ذاتِ اَقدس تھی بلکہ اُن نفوسِ قدسیہ پر آپﷺ ہی کی صفات کا عکس تھا،اس لئے ہم اس سلسلہ کی ابتداء آپﷺ ہی کے ذکرِ جمیل سے کرتے ہیں :

آنحضرتﷺ:

حضورِ اکرمﷺ ،خاتم الانبیاء، افضلِ رُسل تھے، محبوبِ خاص تھے، تاہم خوفِ آخرت کا عالَم یہ تھا کہ فرمایا کرتے کہ مجھ کو کچھ نہیں معلوم کہ میرے اوپر کیا گذرے گی۔ آپﷺ کے رَضاعی بھائی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے جب وفات پائی تو آپﷺتعزیت کو تشریف لے گئے، نعش رکھی تھی، ایک عورت نے نعش کی طرف مخاطب ہو کر کہا، خدا گواہ ہے کہ خدا نے تجھ کو نوازا، آپﷺ نے فرمایا تم کو کیونکر معلوم ہوا؟

بولیں: خدانے ان کو نہیں نوازاتو اور کس کو نوازے گا؟

ارشاد ہوا کہ مجھ کو بھی ان کی نسبت بھلائی کی توقع ہے، لیکن پیغمبر ہو کر بھی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟

حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !آپ کے بال پکنے لگے۔ فرمایا:مجھے سورئہ ہود، واقعہ، مرسلات اور عم یتساء لون نے بوڑھا کردیا،( ان سورتوں میں قیامت،حشر، نشر کے واقعات مذکور ہیں)

اُبَیَّ بن کعبؓ سے روایت ہے کہ جب دو تہائی رات گذر جاتی تو یہ اَلفاظ ادا فرماتے :”لوگو! خدا کو یاد کرو ،خدا کو یاد کرو، خداکو یاد کرو، زلزلہ آرہا ہے، اس کے پیچھے پیچھے آنے والا آرہا ہے، موت اپنے سامان کے ساتھ آپہنچی، موت اپنے سامان کے ساتھ آپہنچی ہے۔ “

آپﷺ فرمایا کرتے: ”لوگو، جو کچھ میں جانتا ہوںاگر تم جانتے ہوتے توتم کو ہنسی کم اور رونا زیادہ آتا‘‘

ایک دوسری روایت میں زیادہ تفصیل ہے کہ آپﷺ فرمایاکرتے:

’’ میں ایسی چیزوں کو دیکھتا ہوں جن کو تم نہیں دیکھتے ، اور ایسی باتوں کو سنتا ہوںجن کو تم نہیں سنتے، آسمان چرچرارہا ہے، اور اس کو چرچرانا چاہئے، چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے سجدہ میں نہ ہو، بخدا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ، عورتوں سے لذت کوشی نہیں کرتے، اور جنگلوں کی طرف اللہ کا نام لیتے ہوئے نکل کھڑے ہوتے۔

اس حدیث کے راوی حضرت ابو ذر غفاریؓ ہیں انہوں نے جب اس کو سنا تو فرمانے لگے: کاش میں ایک درخت ہوتا، جس کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا۔

ایک دفعہ آپﷺ نے نہایت موثر خطبہ دیا اور اس میں ارشاد فرمایا:

اے جماعتِ قریش:اپنی آپ خبر لو، میں تم کو خدا سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں تم کو بھی خدا سے نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں تم کو بھی خدا سے نہیں بچا سکتا، اے صفیہ! رسول ِ خداﷺ کی پھوپھی میں تجھ کو بھی خدا سے نہیں بچا سکتا۔ اے محمدﷺ کی بیٹی فاطمہؓ! میں تجھ کو بھی خدا سے نہیں بچا سکتا۔

ایک مرتبہ آپﷺ نماز کے لئے تشریف لائے،آپﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہنس رہے ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ تم اگر موت کو یادرکھو تو اس طرح سے نہ ہنسو، موت کو یادرکھو، قبر ہر روز کہتی ہے، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں، اور جب کوئی بندہ مومن دفن ہوتا ہے، تو قبر اس سے کہتی ہے : خوش آمدید!

میری پشت پر چلنے والوں میں تو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا، اب جبکہ تو میرے قبضہ میں آیا ہے تو دیکھے گا کہ میں تیر ے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہوں، اس کے بعد زمین تاحدِ نگاہ وسیع و فراخ ہوجاتی ہے اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

اور جب کوئی گناہگار یا کافر بندہ دفن ہوتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے! تو میری پشت پر چلنے والوں میں سب سے زیادہ ناپسند تھا، اب جب کہ تو میرے قبضہ میں آیا ہے تو دیکھے گا کہ میں تیرے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہوں، اس کے بعد قبر اس کو دَبا لیتی ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوجاتی ہیں اور اس کو ڈسنے کے لئے ستر سانپ مقرر کردئیے جاتے ہیں، اگر ان میں سے ایک سانپ بھی زمین پر اپنی پھنکار ماردے تو قیامت تک زمین میں کچھ نہیں اُگے، یہ ستر سانپ اس کو ڈستے رہتے ہیں اور نوچتے رہتے ہیں تا آنکہ حساب و کتاب کا وقت آجائے۔

 پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا‘‘

ایک دفعہ اَعراب بادیہ کا مسجد نبویﷺ میں اتنا ہجوم ہوا کہ آپ پسنے کے قریب ہوگئے، مہاجرین نے اُٹھا کر لوگوں کو ہٹایا، آپﷺ نکل کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے میں تشریف لائے، اور تقاضائے بشری سے بددعاء زبان سے نکل گئی، فوراً قبلہ رُخ ہو کر دونوں ہاتھ خدا کی بارہ گا ہ میں اُٹھائے اور دعاء کی :خدایا میں انسان ہوں، اگر تیرے بندے کو مجھ سے تکلیف پہنچے تو مجھے آخرت میں سزا نہ دینا، خوفِ آخرت اور خشیتِ الٰہی سے آپ پر اکثر رِقّت طاری رہتی ، اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب آپﷺ کے سامنے یہ آیت پڑھی:

 فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید و جئنا بک علی ھٰؤ لا ء شھیدا

تو بے اختیار چشم مبارک سے آنسو جاری ہوگئے۔

نماز میں بھی رِقت طاری رہتی، اور آنسو جاری ہوجاتے۔

عبداللہ بن شخیرؓ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بار خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوا، دیکھا تو آپﷺ نماز میں مشغول ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور قلبِ مبارک سے ہانڈی کے اُبلنے کی طرح آواز آرہی ہے۔

ایک بار آپﷺ ایک جنازہ میں شریک تھے، قبر کھودی جارہی تھی ، آپﷺ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، یہ منظر دیکھ کر آپ پر اس قدر رِقت طاری ہوئی کہ آنسؤوں سے زمین تر ہوگئی۔ پھر فرمایا: بھائیو اس دن کے لئے سامان کر رکھو۔

ایک دفعہ کسی غزوہ سے تشریف لارہے تھے ، راہ میں ایک پڑائو ملا، کچھ لوگ بیٹھے تھے، آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم کون ہو؟ بولے ہم مسلمان ہیں۔ ایک عورت بیٹھی چولھا سلگارہی تھی، پاس ہی اس کا لڑکا تھا، آگ خوب روشن ہوگئی، اور بھڑک گئی، تو وہ بچہ کو لے کر آپﷺ کی خدمت میں آئی، اور بولی، آپ رسول اللہﷺ ہیں؟ ارشاد ہوا: ہاں! بیشک ! پھر اس نے کہاکیا ایک ماں اپنے بچہ پر جس قدر مہربان ہے کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان نہیں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا بے شک، اس نے کہا تو ماں اپنے بچہ کو آگ میں نہیں ڈالتی ،آپ پر گریہ طاری ہوگیا، پھر سر مبارک اٹھا کر فرمایا خدا اس بندہ کو عذاب دے گا جو سرکش اور متمرد ہے، خدا سے سرکشی کرتا ہے اور اس کو ایک نہیں کہتا۔

ابن ابی ہالہ کی ایک طویل حدیث میں آپﷺ کے بارے میں کہا گیا ہےکہ حضور اکرمﷺ ( آخرت) کے غم میں متواتر مشغول رہتے، (ذات و صفاتِ باری تعالیٰ یااُمت کی بہبود کے لئے) ہر وقت سوچ میں رہتے ، ان امور کی وجہ سے کسی وقت بھی آپﷺ کو بے فکری اور راحت نہیں ہوتی تھی۔

حضرت صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ:

صدیق اکبر حضرت ابو بکر صدیقؓ جو جماعتِ صحابہ ؓ میں سب سے زیادہ اَسرارِ شریعت کے محرم اور روحِ اِسلامی کے دانائے راز تھے ان پر خوفِ آخرت اور خشیتِ الٰہی کا اتنا غلبہ تھا کہ نماز کی حالت میں چوبِ خشک نظر آتے تھے۔

صدیق اکبرؓ کے نواسے عبداللہ بن الزبیرؓ نماز میں اس طرح کھڑے رہتے تھے کہ ایک خشک لکڑی معلوم ہوتے تھے ، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے یہ نماز کہاں سے سیکھی، کہا حضرت ابوبکرؓ سے ۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سرسبز درخت دیکھتے تو فرماتے کاش میں درخت ہوتا کہ آخرت کے خطروں سے محفوظ رہتا۔ چڑیوں کو چہچہاتے دیکھتے تو فرماتے’’پرندو! تم خوش نصیب ہو،کہ دنیا میں چرتے، چہکتے اور درختوں کے سایہ میں بیٹھتے ہو، اور قیامت کے محاسبہ کا کوئی خطرہ نہیں، کاش ابو بکر تمہاری طرح ہوتا۔

حضرت ابو بکر الصدیقؓ نے کفارِ مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبش کی ہجرت کا اِرادہ کیا، برک الغماد، جو مکہ معظمہ سے یمن کی سمت پانچ دن کی راہ ہے وہاں تک پہنچے تھے کہ ابن الدغنہ سے ملاقات ہوگئی، جو قبیلۂ قارہ کا رئیس تھا، اس نے پوچھا کہاں؟ حضرت ابو بکرؓ نے کہا میری قوم مجھ رہنے نہیں دیتی، چاہتا ہوں کہ کہیں الگ جا کر خدا کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ تم جیسا شخص مکہ سے نکل جائے، میں تم کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ اس کے ساتھ واپس آئے ابن الدغنہ مکہ پہنچ کر تمام سردارانِ قریش سے ملا اور کہا کہ ایسے شخص کو نکالتے ہو جو مہمان نواز ہے، مفلسوں کا مددگار ہے، رشتہ داروں کوپالتا ہے، مصیبتوں میں کام آتا ہے۔قریش نے کہا لیکن شرط یہ ہے کہ ابو بکر نمازوں میں چپکے چپکے جو چاہیں پڑھیں ،آواز سے قرآن پڑھتے ہیں تو ہماری عورتوں اور بچوں پر اَثر پڑتا ہے۔

حضرت ابو بکرؓ نے چند روز یہ پابندی اختیار کی ،لیکن آخر انہوں نے گھر کے پاس ایک مسجد بنا لی اور اس میں خضوع و خشوع کے ساتھ بآواز قرآن پڑھتے تھے چونکہ آپ نہایت رقیق القلب تھے، قرآن پڑھتے تو بے اختیار روتے، عورتیں اور بچے ان کو دیکھنے سے اور متاثر ہوتے۔ 

قریش نے ابن الدغنہ سے شکایت کی۔اس نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ اب میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے خدا کی حفاظت کافی ہے، میں تمہارے جوار سے اِستعفاء دیتا ہوں۔

ایک دفعہ حضرت ابوبکر ؓ نے پانی مانگا، خادم شہد ملا ہوا پانی لے کرحاضر ہوا، آپؓ نے منہ سے ابھی قریب بھی نہیں کیا تھا، رونے لگے، اور اتنے روئے کہ پاس بیٹھنے والوں کو بھی رُلادیا، جب رونا کم ہوا تو پھر گلاس منہ سے لگایا ، پھر رونے لگے، اور اس قدر روئے کہ لوگ سمجھے جان جانِ آفریں کے سپردکردیں گے، دیر تک روتے رہے۔ اِفاقہ ہوا تو لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا، آپ نے فرمایا:

’’میں ایک دن رسول اللہﷺ کے ساتھ چلا جارہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ کسی چیز کو اپنے سے دور کررہے ہیں، حالانکہ اس وقت بظاہر کوئی چیز سامنے نظر نہیں آرہی تھی، میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ آپ کس چیز کو دور کر رہے ہیں بظاہر تو کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔

آپﷺ نے ارشاد فرمایا :”یہ دنیا آراستہ و پیراستہ ہو کر میرے سامنے آئی ہے اس کو اپنے سے دور کر رہا ہوں ۔“

پھر آپﷺ نے فرمایا:’’دنیا میری پاس سے یہ کہتی ہو ئی چلی گئی کہ آپﷺ تو مجھے سے محفوظ رہے، لیکن آپﷺ کے بعد آنے والے مجھے سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا میں اس بات سے روتا ہوں کہ کہیں دنیا میرے پاس تو نہیں آگئی۔

حضرت صدیق اکبرؓ کے خطبات دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی طرف میلان سے پُر ہوتے تھے۔ ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا : کہاں ہیں وہ خوبصورت چہرہ والے جن کواپنی جوانی و شباب پر ناز تھا؟کہاں ہیں وہ عظیم بادشاہ، جنہوں نے شہر بسا ئے اور ان کو ناقابل تسخیر دیواروں سے محفوظ کیا؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو میدان جنگ میں دادِ شجاعت دیتے تھے! آج زمانہ نے ان کو پیس کر رَکھ دیا ہے اور پستی کے اندھیروں میں ڈال دیا ہے۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ:

فاروق اعظم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں حافظ ذہبیؒ نے کہا ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہﷺ کے وزیر تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی بدولت اسلام کو قوت و شوکت عطا فرمائی، شہروں اور ملکوں کو ان کے ذریعہ فتح کیا، وہ صدق کا پیکر تھے، ان کی زبان پر حق جاری کیاگیا اور انہیں فراست عطا کی گئی، جن کے حق میں رسول اللہﷺ کا اِرشادِ گرامی ہے:اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر( رضی اللہ عنہ) ہوتے، یہی ہیں جن سے شیطان نے راہِ فراراختیار کی، اور ایمان و اسلام نے بلندی پائی اور اذان کا اعلان ہوا۔

حضرت فاروق اعظمؓ کے رگ و پے میں خوفِ آخرت اور خشیتِ الٰہی جاری و ساری تھی، اس کے مواخذہ کے خوف سے لرزہ بر اندام رہتے تھے، کہ اگر آسمان سے ندا آئے کہ ایک آدمی کے سوا تمام دنیا جنتی ہے تب بھی مواخذہ کا خوف دل سے زائل نہیں ہوگا، کہ شاید وہ ایک بدقسمت انسان میں ہی ہوں۔

ایک مرتبہ راہ سے تِنکا اُٹھا کر فرمایا: کاش! میں بھی خس و خاشاک ہوتا،کاش! میں پیدا ہی نہیں ہوتا،کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی۔

ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا:کیوں ابو موسیٰ اس پر راضی ہو کہ ہم لوگ اسلام اور ہجرت اور رسول اللہﷺ کی وفات کے طفیل میں برابر سرابر چھوٹ جائیں، نہ عذاب ملے نہ ثواب  ابو موسیؓنے کہا، میں تو اس پر راضی نہیں ہوں۔ ہم لوگوں نے نیکیاں کی ہیں،اس کے صلہ میں امید رکھتے ہیں۔ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے میں تو صرف اس قدر چاہتا ہوں کہ بے مواخذ چھوٹ جائوں۔

نماز میں عموماً ایسی سورتیں پڑہتے جن میں قیامت کی ہولناکی اور خدا کی عظمت و جلال کا ذکر ہوتا، انہیں پڑھ کر زارزار روتے تھے۔

ایک مرتبہ جمعہ کے خطبہ میں اذا الشمس کورت پڑھی جب علمت نفس ما احضرت پر پہنچے تو اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔

عبداللہ بن عیسیٰؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے چہرہ پر کثرتِ گریہ و بکاء سے دو لکیریں پڑگئی تھیں۔ تلاوتِ قرآن کے وقت اس قدر روتے تھے کہ ہچکی بندھ جاتی تھی اور گر پڑتے تھے، اور بیمار ہوجاتے تھے حتیٰ کہ لوگ عیادت کرنے آتے تھے۔

آپ کے صاحبزادہ حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ! میں تین صف پیچھے تھا ،لیکن آپکے رونے کی آواز مجھے آرہی تھی۔

آخرت کی جواب دہی کا اس قدر خوف غالب تھا کہ فرمایاکرتے؛

’’اگر فرات کے کنارے کوئی بکری بلاوجہ بیکار مرجائے، تو مجھے ڈر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں مجھے سے آخرت میں سوال کرے گا۔

فاروق اعظم حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ، نہ صرف خود آخرت اور حساب سے لرزاں رہتے بلکہ دوسروں کو بھی بار بار اسکی نصیحت فرماتے اور لوگوں کو آمادہ کرتے کہ وہ اس دن کے آنے سے پہلے محاسبہ نفس کریں اور اپنی اصلاح کریں۔

ثابت بن حجاج کہتے ہیں کہ فاروق اعظم اکثر فرماتے :

لوگو! اعمال کے تولے جانے سے پہلے خود اپنے اعمال کو تول لو، اور حساب ہونے سے قبول خود اپنی جانوں کا محاسبہ کرلو، اور اس بڑی پیشی کے دن کے لئے اپنے آپ کو اعمال حسنہ سے آراستہ کرلو( حلیہ الادلیاء)

خوفِ آخرت کا اس قدر غلبہ تھا کہ ایک مرتبہ فرمانے لگے:

کاش میں اپنے گھر والوں کا مینڈھا ہوتا وہ مجھے جس قدر موٹا تازہ کر سکتے موٹا تازہ کرتے پھر جب میں خوب فربہ ہوجاتا تو ان کے کچھ دوست و احباب ملاقات کے لئے آتے اور وہ انکی ضیافت کے لئے مجھے ذبح کرکے میرے کچھ حصے سے بُھنا ہوا گوشت بناتے اور کچھ سے شوربابنا کر مجھے کھا جاتے، کاش میں انسان نہیں ہوتا۔( ایضاً عن الضحاک)

آپ کے جلیل القدر صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں:

وفات سے قبل آپ کا سر میرے زانو پر تھا، مجھ سے فرمایا میر اسر زمین پر رکھ دو، میں نے عرض کیا کہ سرزمین پر رہے یا میرے زانوپر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، آپؓ نے فرمایا نہیں زمین پر رکھ دو۔ پھر فرمایا۔ اگر میرے رب نے مجھے پر رحم نہیں فرمایا تو مجھ پر ہلاکت ہے، تباہی ہے۔( حلیہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

حضرت فاروق اعظم جب زخمی ہوئے، اور زیست کی امید نہ رہی، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

امیر المومنین! خوشخبری ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے شہر آباد کرائے، نفاق ختم کیا،مال و دولت کی فراوانی نصیب کی ، فرمایا کہ حکومت اور امارات کی وجہ سے تعریف کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا حکومت کی وجہ سے بھی اور دوسری صفات کی وجہ سے بھی، آپ نے فرمایا کہ حکومت کے بارے میں میں چاہتا ہوں کہ اس سے اس طرح نکل جائوں جس طرح کہ داخل ہوا تھا ،نہ تو مجھے اجر ملے اور نہ سزا( ایضاً)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہایت رَقیق القلب تھے، آپ کا دل ہمیشہ خشیتِ الٰہی اور خوفِ آخرت سے معمور رہتا۔ جب کسی قبر کے پاس سے گزرتے تو اتنی رِقت طاری ہوتی کہ روتے روتے داڑھی آنسؤوں سے ترہوجاتی، کسی نے کہا کہ آپ کے سامنے جنت اور دوزخ کا تذکرہ ہوتا ہے اور آپ نہیں روتے، قبر کو دیکھ کر رونے لگتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا:

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قبر آخرت کے منازل میں سے پہلی منزل ہے اس سے کسی کو نجات ہوگئی تو بعد کی منزلیں سب آسانی سے گذر جائیں گی، اور اگر اس سے نجات نہ ہو سکی تو اس کے بعد کی منزلیں سب کٹھن ہی کٹھن ہیں، اور رسول اللہﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے قبر سے زیادہ مہیب منظر کسی چیز کا نہیں دیکھا ( ترمذی)

آخرت کے مواخذہ کا اتنا خوف غالب تھا کہ فرماتے:

اگر مجھ کو یہ علم ہو کہ مجھے جنت ملے گی یا دوزخ تو میں اس کا فیصلہ ہونے کے مقابلہ میں خاک ہوجانا پسند کروں گا۔ (کنزالعمال)

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ:

ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں ضرار بن حمزہ الکنانی کی زبانی آپ کے جو اوصاف نقل کئے ہیں ان کو ہم یہاں درج کرتے ہیں۔

یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت مقدسہ پر ایک جامع تبصرہ ہے، خوفِ آخرت کی جھلک بھی ناظرین کو اس میں ملے گی۔

واقعہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ ضرار صدائی الکنانی جو حضرت علیؓ کے ہم نشین اور رفیق تھے، امیر معاویہ ؓ کے پاس آئے، امیر معاویہؓ نے کہا کہ مجھے علیؓ کے اَوصاف سنائو، ضرار نے پہلے تو معذرت کرنا چاہی، لیکن معذرت قبول نہیں ہوئی، آخر امیرمعاویہؓ کے اِصرارِ شدید پر کہا:

وہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے، فیصلہ کن بات کہتے تھے، عادلانہ فیصلہ کرتے تھے، ان کی ہرسمت سے علم کے چشمے پھوٹتے تھے اور حکمت کا سیل رواں بہتا تھا، دُنیا اور اس کی دل فریبیوں سے وَحشت کرتے تھے، رات کی تاریکی اور اس کی وحشت سے اُنس رکھتے تھے، عبرت لینے والے اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے، چھوٹا لباس اور موٹا جھوٹا کھا نا پسند کرتے تھے، ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے ۔جب ہم کچھ پوچھتے تھے تو اس کا جواب دیتے تھے، باوجود یکہ وہ ہم کو اپنے قریب رکھتے تھے اور خود ہمارے قریب رہتے تھے لیکن ہم ہیبت سے ان سے گفتگو نہ کر سکتے تھے۔ وہ دینداروں کی تعظیم کرتے تھے ، غریبوں کو مقرب بناتے تھے ،ان کے سامنے طاقتور مال میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات نے اپنے پردے ڈالے ہوئے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دَبائے خوفِ آخرت سے مارگزیدہ کی طرح بے قرار اور غم رَسیدہ کی طرح اشکبار کہہ رہے ہیں اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ لگاوٹ کررہی ہے، میر ی مشتاق ہے ، افسوس افسوس میں نے تجھے تین طلاقین دیں، تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے، پھر فرماتے ،آخرت کا سفر طویل ہے، زادِ سفر قلیل ہے ،راستہ وحشت زد ہ ہے، یا ربنا ،یا ربنا۔

ضرار بن حمزہ الکنانی فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ حضرت معاویہؓ کی داڑھی آنسوئوں سے تَر ہوگئی اور وہ اپنی آستین سے آنسو پونچھنے لگے، حاضرین پر بھی گریہ وبکا کا غلبہ ہوا ( حلیہ ص ۸۵ ج۱)

حضرت علیؓ نہ صرف خود خوفِ آخرت سے لرزاں ترساں رہتے بلکہ دوسروں کو بھی اس پر آمادہ فرماتے رہتے، مہاجر بن عمیر فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا:

مجھے سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ خواہش نفسانی کا اِتباع اور طویل طویل آرزووں کو جنم دینا ہے، خواہش نفسانی حق سے بہت دور لیجاتی ہے اور طویل طویل آرزوئیں اور امیدیں آخرت سے غافل کردیتی ہیں، آگاہ رہو کہ دنیا نے واپسی کے لئے اپنا رُخ پھیر لیا ہے۔ آخرت سامنے سے آرہی ہے۔دنیا کے بھی فرزند ہیں اور آخرت کے بھی۔ تم آخرت کے فرزند بنو ،نہ کہ دنیا کے، کیونکہ آج عمل ہے ، حساب نہیں ہے اور کل صرف حساب ہوگا، عمل نہیں ہوگا۔(ایضاً)

ابو اراکہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے صبح کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد بیٹھے رہے یہاں تک کہ آفتاب ایک نیزہ بلند ہوگیا، چہرہ پر رنج و ملال کے نشان نمایاں تھے، پھر فرمانے لگے:

آج مجھے صحابہ رسول کے مشابہ لوگ نظر نہیں آتے، صحابہ رات بھر اللہ کی کتاب کی تلاوت کیا کرتے تھے اور اپنی پیشیانیوں کو اللہ کے آگے رکھے رہتے تھے ، صبح کے وقت میلے کچلیے ،رات بھر کی عبات سے تھکے ہوئے نظر آتے تھے۔صحابہ کی شان یہ تھی کہ جب اللہ کا ذکر انکے سامنے کیا جاتا تھا تو اس طرح پھیل جاتے تھے جس طرح کہ باد باراں کے دن درخت پھیل جاتے ہیں، پھر انکی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ جاتی تھی یہاں تک کہ کپڑے تَر ہوجاتے تھے۔اور آج تم آخرت سے غافل ہو۔( ایضاً)

امام غزالی نے احیاء میں مذکورہ واقعہ میں اضافہ کیا ہے:

اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی نے ہنستا ہوا نہیں دیکھا، یہاں تک کہ وَفات ہوگئی( احیاء العلوم )

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ :

جلیل القدر صحابی ہیں، عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں۔ ان کے بارے میں روایت ہے:

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ روزہ سے تھے مغرب کے بعد کھانا ان کے سامنے چنا گیا، کھانا دیکھتے ہی رونے لگے، پھر فرمایا حمزہؓ شہیدہوئے ہمارے پاس اس وقت اتنا نہیں تھا کہ ہم ان کو کفن دے سکیں، حمزہؓمجھ سے بہت بہتر تھے، مصعب بن عمیر شہیدہوئے اور ان کو بھی پورا کفن نہیں دیا جا سکا، ایک چادر تھی جس سے سر چھپاتے تھے تو پائوں کھل جاتے تھے۔ پائوں چھپاتے تو سرکھل جاتا تھا۔آخر رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ سر ڈھانپ دو اور پائوں پر اذخر( ایک گھانس ہے) ڈال دو۔ غرض ہم ایسے غریب تھے اور آج ہم کو بہت کچھ دیدیا گیاہے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم کو دنیا میں ہی ہماری نیکیوں کا بدلہ دیدیا گیا ہو( اور آخرت میں کچھ نہ ملے!) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف روتے رہے اور کھانا نہیں کھایا(حلیہ)

عبداللہ بن رواحۃ انصاریؓ کے بارے میں امام زہری اپنے مشائخ سے نقل کرتے ہیں:

رَسولِ اکرمﷺ نے آپ کو جب موتہ جانے کا حکم دیاتو رخصت کے وقت رونے لگے، آپ کو روتا دیکھ کر گھر والے بھی رونے لگے، پھر کہا:

میں موت سے ڈر کر نہیں روتا اور نہ اس لئے روتا ہوں کہ تم لوگوں سے جدا ہو رہا ہوں،میرے ذہن میں اس وقت آیت کریمہ آئی:

وَ اِن مِّنْکُم اِلَّا وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَقْضِیًّا( مریم،۱۶)

پس مجھے یقین ہوگیا کہ میں بھی جہنم پر گذروں گا، اب مجھے نہیں معلوم کہ نجات پاتا ہوں یانہیں! ( حلیہ)

ان ہی حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی بہادری و شجاعت کا واقعہ بھی سننے کے لائق ہے:

عروۃ بن الزبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن رواحہ جب موتہ کے لئے مدینہ سے نکلے تو ذوق و شوق کے عالَم میں اَشعار پڑھ رہے تھے، جس کا مفہوم یہ تھا:

میں تو اپنے رب سے رحمت و مغفرت کا طلبگار ہوں، اور اس بات کا کہ مجھے اللہ کی راہ میں تلوار کی ایسی ضرب لگے جو جھاگ مارتا ہوا خون بہادے یا ایسا نیزہ لگے جو آنتوں اور جگر کے پار ہوجائے یہاں تک کہ لوگ جب میری نعش پر گذریں تو کہہ دیں:رشد و ہدایت سے ہمکنار غازی!!

غرض حضرت عبداللہ او ران کے ساتھی چلتے چلتے سرزمین شام پر پہنچے گئے یہاں آکر ان کو پتہ چلا کہ بادشاہ روم ہرقل نے دولاکھ فوج جمع کرلی ہے اور وہ فوج کثیر لیکر مقام بلقاء میں مقیم ہوگیاہے، حضرات صحابہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو متفکر ہوئے اور چاہا کہ اس کی اطلاح رسو ل اللہﷺ کو دیں۔

حضرت عبداللہ بن رواحہؓکوئی فکر نہ تھی بلکہ ایک دن سب کو جمع کرکے تقریر کی:

تم توراہِ حق میں شہید ہونے کے لئے نکلے ہو اس لئے اس سے ناگواری کیوں؟

ہم طاقت ، قوت، کثرت تعداد کے بل بوتے پر دشمن سے جنگ نہیں کرتے ہم تو اس دین کی طاقت پر جنگ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو سرفراز فرمایا ہے لہٰذا آگے بڑھو دوچیزوں میں سے ایک چیز تو ملے گی،غلبہ یا شہادت۔

عبداللہ کی اس تقریر کے بعد لوگوں کے دل جذبہ شہادت سے معمور ہوگئے اور وہ عظیم طاقت سے ٹکر لینے کے لئے آگے بڑھ گئے ( ایضاً)

عمران بن حصین ؓ بار بار فرماتے:

کاش میںراکھ کا ڈھیر ہوتا جس کو ہوائیں اُڑادیتیں۔

حضرت زین العابدینؒ جب وضو کرتے تو چہرہ مبارک زرد ہوجاتا اور خوف کے آثار چہرے سے ظاہر ہونے لگتے۔ ایک دن کسی نے پوچھا، کیا بات ہے کہ آپ وضو کرتے وقت اتنے (مضطرب) بے چین کیوں ہوجاتے ہیں۔ فرمایا:

تم نہیں جانتے کہ میں کس ہستی کے سامنے کھڑا ہونے والا ہوں( احیاءالعلوم)

موسیٰ بن مسعود جلیل القدر محدث فقیہ حضرت سفیان ثوری کی مجلس کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ہم جب سفیان کے پاس بیٹھتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آگ ہماری چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے کیونکہ ہم سفیان کو سخت خوفزدہ اور آخرت کے ڈر سے کانپتا ہوا دیکھتے تھے(ایضاً)

مسوربن مخرمہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قرآن کریم کی کسی آیت کو سننے کی تاب نہیں رکھتے تھے ،شدت خوف کی بنا پر اگر کوئی آیت پڑھی جاتی تو چیخ مار کر بے ہوش ہوجاتے اور کئی دن تک ہوش نہیں آتا ہے۔

ایک مرتبہ قبیلہ خشعم کا ایک قاری آیا اور اس نے یہ آیت پڑھی۔

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلٰی الرَّحْمٰنِ وَفْداًوَ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وِرْدًا(مریم پارہ نمبر۱۶)

کہنے لگے میں مجرم ہوں، میں متقی نہیں ہوں، قاری سے کہا دوبارہ پڑھو، قاری نے دوبارہ آیت پڑھی ،چیخ ماری اور اللہ سے جاملے۔

٭…٭…٭