Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عظیم میزبان … محترم مہمان

 

عظیم میزبان … محترم مہمان

Madinah Madinah

مکہ مکرمہ کی وادی میں اسلام کی صدا بلند ہوکے ابھی بہت تھوڑا ہی عرصہ ہی گزرا ہے۔رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے یہ حکم بارگاہِ الٰہی سے آچکا ہے ۔

وانذر عشیرتک الاقربین (سورئہ الشعراء:۲۱۴)

(اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کردیں)

اسلام کی دعوت کے اس مشکل ترین دور میں جہاں ایک طرف دشمن مخالفت پر کمربستہ ہیں اور ظلم و ستم کی ہر شکل اختیار کر کے ہدایت کے اس پودے کو بری طرح مسل دینا چاہتے ہیں ‘ وہیں دوسری طرف خوش بخت اور سعادت مند لوگ کشاں کشاں شمعِ ہدایت کے گرد جمع ہو رہے ہیں اور ایمان والوں کے حلقے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہر آنے جانے والے کے سامنے اسلام کا پیغام رکھتے ہیں اور اُسے پوری حکمت اور بصیرت سے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ۔

اسی دور میں ہمیں اُن پانچ مقدس مہمانوں کا سراغ ملتا ہے‘ جو مختلف اوقات میں کاشانۂ نبوت میں حاضر ہوئے ، پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے دعوتِ توحید سنی اور اسلام کی دولت لے کر اس در سے رخصت ہوئے ۔

ان مہمانوں میں سے ایک سیدنا حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ان کا تعلق قبیلہ ’’دوس‘‘ سے ہے‘ اس لیے ’’الدوسی‘‘کہلاتے ہیں ۔ اپنے قبیلہ کے سردار ہیں اور عرب کے شرفاء میں سے ان کا شمار ہوتا ہے ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسیلمہ کذاب کے خلاف ہونے والی جنگ یمامہ میں انہوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

سیدنا طفیل ؓ خود اپنی داستان سناتے ہیں:

جب یہ مکہ مکرمہ پہنچے تو قریش کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے:

’’ اے طفیل ! ہمیں ڈر ہے کہ آپ اس شخص ( یعنی رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتوں میں آجائیں گے، اس لیے آپ ان سے نہ تو کوئی بات کریں اور نہ ان کی کوئی بات سنیں‘‘ ۔

سیدنا طفیل ؓ کہتے ہیں کہ قریش کے لوگوں نے یہ بات مجھے اتنی زیادہ مرتبہ کہی کہ میں نے بھی سوچ لیا کہ میں ان صاحب( یعنی رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم) کی کوئی بات نہیں سنوں گا ۔

پھر میں مسجد ِ حرام پہنچا تو میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز میں کھڑے ہیں ۔ تب میں نے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم! میں خود سمجھ دار اور شاعر آدمی ہوں‘ کسی بات کی اچھائی یا برائی مجھ سے چھپ نہیں سکتی ‘ اس میں بھلا حرج ہی کیا ہے کہ میں ذرا ان صاحب کی بات تو سن لوں کہ یہ کیا کہتے ہیں ۔

فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں ہی ٹھہرا رہا ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کی طرف چلے تو میں بھی آپ کے پیچھے ہو گیا ‘ جب آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو میں بھی گھر میں چلا گیا اور میں نے یوں عرض کیا :

’’ اے محمد (ﷺ) ! آپ کی قوم نے تو مجھے بہت کچھ بتایا تھا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی بات سنوا کر ہی چھوڑا اور میں نے بہت ہی اچھی باتیں سنیں‘ تو اب مجھے تفصیل سے اپنی دعوت کے بارے میں بتائیں۔

سیدطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ نے میرے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی‘ مجھے قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایا ۔ اللہ کی قسم! میں نے اس سے اچھی باتیں کبھی نہیں سنی تھیں اور نہ ہی اس سے زیادہ انصاف پر مبنی معاملہ سنا تھا ۔ میں نے اسلام قبول کر لیا اور حق بات کی گواہی دی ۔ (سیرت ابن ہشام :۱؍۳۸۲)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورئہ اخلاص ، سورت الفلق اور سورت الناس پڑھ کر سنائی تھیں‘‘۔ (سیرت ابن ہشام :۲؍۴۱۷)

اسی دور میں‘ مکہ مکرمہ کی وادی میں رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر مہمان بننے اور اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کرنے والی دوسری شخصیت ہیں‘ سیدنا حضرت عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ ۔

سیدنا عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ ’’ السابقون الاولون‘‘ میں سے ہیں‘ غزوئہ بدر میں شرکت کی سعادت انہیں حاصل ہے اور ۶۰ھ میں شام کے شہر حمص میں ان کی وفات ہوئی ۔

یہ اپنا واقعہ یوں بیان فرماتے تھے:

میں مکہ مکرمہ آیا … اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔

میں نے پوچھا : آپ کیا کہتے ہیں؟

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کا نبی ہوں ۔

میں نے پوچھا : اللہ کا نبی کون ہوتا ہے ۔

رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جسے اللہ تعالیٰ بھیجتے ہیں ۔

میں نے پوچھا : کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ‘ ایسا ہی ہے ۔

میں نے پوچھا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا ہے؟

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ تنہا اُسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ‘ بتوں کو توڑ دیا جائے اور رشتہ داریوں کا خیال رکھا جائے۔

میں نے کہا : میں بھی آپ کی پیروی کرنا چاہتا ہوں ۔ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ آپ ( کھلم کھلا) میری پیروی کر سکو ، اس لیے فی الحال اپنے گھر والوں کے پاس واپس جائو ۔ جب تمہیں میرے غالب آنے کی اطلاع مل جائے تو میرے پاس آجانا ۔

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آگیا اور میں مسلمان ہو چکا تھا ۔ (صحیح مسلم ۸۳۲،مسند احمد ۴؍۱۱۲)

شہر مکہ میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر مبارک میں حاضر ہونے والے تیسرے سعادت مند شخص ہیں، سیدنا حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۔ یہ مدینہ منورہ ہجرت کرنے والے صحابہ میں سے نمایاں شخصیت ہیں اور ہجرت کے دوسرے ہی سال آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ‘ اس طرح آپ پہلے مہاجر صحابی ہیںجنہوں نے مدینہ منورہ میں وفات پائی اور بقیع شریف میں دفن ہوئے ۔

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ سیدنا عثمان بن مظعونؓ کا وہاں سے گزر ہوا ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ ہمارے پاس نہیں بیٹھتے؟

انہوں نے عرض کیا :کیوں نہیں ۔

پھر تھوڑی دیر بعد رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی آپ کے بیٹھے بیٹھے میرے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ میرے پاس آیا تھا ۔

سیدنا عثمان بن مظعونؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اُس نے آپ کو کیا کہا؟

جواب میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :

ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربیٰ

وینھیٰ عن الفحشاء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون(النحل ۔۹۰)

(بے شک اللہ ‘ انصاف کا ‘ احسان کا ‘ اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی ‘ برائی اور ظلم سے روکتا ہے ۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کر لو)

سیدنا عثمان بن مظعون  ؓفرماتے ہیں کہ بس یہ آیت سنتے ہی ایمان میرے دل میں بیٹھ گیا اور مجھے حضرت محمد ﷺ سے محبت ہو گئی ۔ (الأدب المفرد ۸۹۳، مسند احمد ،۱؍۳۱۸)

مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کے اس زمانے میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آنے والے مقدس مہمانوں میں سے چوتھا نام ہے، سیدنا حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ ۔ ابتدائی زمانے کے مسلمان اور بدری صحابی اور ۳۸ھ میں مدینہ منورہ میں ان کی وفات ہوئی ۔

پانچویں مہمان ہیں ‘ سیدنا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ۔ یہ بھی ابتدائی دور کے صحابہ میں سے ہیں اور غزوئہ بدر میں بھی شریک تھے ۔ انہی کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی پہلی شہیدہ خاتون ہیں ۔ خود ۳۷ھ میں‘ صفین میں شہادت پائی ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چرچا عام ہوا تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ،رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچے ، دیکھا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بھی وہیں کھڑے ہیں ۔

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا : صہیب ! کہاں کے ارادے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا : میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر جا کر آپ کی بات اور آپ کی دعوت سننا چاہتا ہوں۔

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی تو یہی چاہتا ہوں ۔

اس طرح یہ دونوں کا شانۂ نبوت میں داخل ہوئے ۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھایا اور ان کے سامنے اسلام کی خوبیاں پیش فرمائیں ۔ ان دونوں کو قرآن مجید کا کچھ حصہ بھی سنایا ۔

اسلام ان دونوں حضرات کے دل میں گھر کر گیا اور اُسی وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی ۔

حالات چونکہ ساز گار نہیں تھے ‘ ڈر تھا کہ اگر ابھی گھر سے باہر نکلتے ہیں تو کوئی نقصان پہنچا دے گا ‘ اس لیے جب رات اچھی طرح چھا گئی تو یہ حضرات تشریف لے گئے ۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ القرطبی ،۱۰؍۱۰۹)

یہ ہیں عظیم میزبان،ہمارے آقا حضرت محمد عربی ﷺکے پانچ قابل احترام مہمانان گرامی ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین 

یقیناً ہمارے لیے ان سب ہستیوں کے طرزِ عمل میں بہت کچھ سیکھنے کیلئے ہے ۔ ایک میزبان کا اپنے مہمان کے ظاہری اکرام کے ساتھ اس کی ہدایت کی فکر کرنا ، قرآن مجید سمجھنے والوں کو اس پاک کلام کے ذریعے دعوت دینا، اسلام کے بنیادی اور ابتدائی احکام کو عام فہم اور آسان انداز میں پیش کرنا، اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے ہوئے ظاہری تدابیر اور احتیاط اختیار کرنا،جب حق بات سمجھ آجائے تو اسے قبول کرنے میں تاخیر نہ کرنا … وغیرہ

اللہ کریم ہم سب کی طرف سے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ اور ان کے اصحاب و ازواج و اولاد کو بہترین جزائے خیر عطاء فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor