Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اخلاق حسنہ کی اہمیت و عظمت (1)

 

اخلاق حسنہ کی اہمیت و عظمت (1)

Madinah Madinah

اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے؟ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ پر واضح ہے کہ اخلاق اور فلسفۂ اخلاق کا گہرا تعلق خود انسان کے تصورِ زندگی کے ساتھ ہے۔ زندگی کا مادی تصور ایک مختلف فلسفۂ اخلاق اور جداگانہ نظامِ اخلاق تجویز کرتا ہے جبکہ زندگی کا روحانی تصور اپنے ایک مخصوص فلسفۂ اخلاق کے تحت ایک بالکل مختلف نظام کی تشکیل کو لازم کرتا ہے۔

انسان کے اخلاق اسلام کے نقطۂ نظر سے:

اسلام کے نزدیک اس کائنات اور انسان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے کی ہے اور اس تخلیق کا مقصد اس امر میں انسان کی آزمائش ہے کہ وہ اس عارضی مہلتِ حیات میں حسنِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے یا بدعملی کا۔ حسنِ عمل کا صلہ موت کے بعد ایک دوسری اور ابدی زندگی کی ابدی نعمتیں ہیں اور بدعملی کی سزا ایک ہمیشہ رہنے والی حیاتِ عذاب ہے۔ اسلام کے عطا کردہ اس تصوّرِ حیات کی رُو سے انسان کا اصل اخلاقی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیرت و کردار کا کون سا ایسا اسلوب اختیار کرے جو اس کے مقصدِ زندگی کی تکمیل میں ممد و معاون ہو سکے اور کردار و عمل کے وہ کون سے پہلو ہیں جو اس مقصد کی تکمیل میں مانع ہوتے ہیں اور ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو انسان دراصل اپنے پورے کارخانۂ حیات کے ذریعے سے اپنی ایک شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کا ہر اندازِ فکر اور ہر طریق عمل دراصل ایک اخلاقی سامانِ تعمیر ہے۔ جس سے وہ اپنی شخصیت کی عمارت تیار کرتا ہے۔ اس کی اس شخصیت کے حسن و قبح کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی تعمیر میں مسالہ حسنِ عمل کا استعمال ہوا ہے یا بد عملی کا۔ اس کی بنیاد صالح افکار اور پاکیزہ اعمال پر قائم ہوئی ہے یا فاسد افکار اور برے اعمال پر رکھی گئی ہے۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ حیاتِ اخروی میں کسی انسان کو کیا مقام حاصل ہونے والا ہے تو اس کی اس شخصیت کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی ہے۔ یہ شخصیت بول کر کہے گی کہ آخرت میں اس کی جائے اقامت کہاں ہونی چاہئے۔ آیا اس کو کوئی پاکیزہ اور شاندار مسکن میسر آنا چاہئے یا کوئی مقامِ بد اس کا ٹھکانہ بننا چاہئے۔ قرآن پاک کی بعض آیات اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قیامت کے روز ہر شخص اس شخصیت کے ساتھ اُٹھے گا جس کے ساتھ وہ اس دنیا سے رخصت ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس شخصیت سے مراد کسی شخص کا وہ دنیاوی مقام و مرتبہ یا کم مائیگی و بے حیثیتی نہیں ہے جو اس مادی دنیا میں اسے میسر آئی، بلکہ اس سے مراد وہ اخلاقی حیثیت ہے جس پر قائم رہ کر اس نے دنیا میں زندگی گزاری اور اپنی اسی حیثیت کے ساتھ اس کا دفترِ عمل تمام ہوا۔ اس لئے ہم میں سے ہر شخص کو خوب اچھی طرح یہ سوچ کر اندازہ کر لینا چاہئے کہ ہم اس دنیا میں اپنے افکار و اعمال کے مسالے سے اپنی شخصیت کی کس قسم کی عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ہم اخلاقِ فاضلہ کا فہم و شعور حاصل کریں اور اپنی شخصیت میں ان کو اجاگر کرنے کی پیہم سعی و جہد کرتے رہیں اور اسی طرح اخلاق سیئہ سے آگاہ ہو کر ان سے ہر ممکن اجتناب کریں۔

دین اور اخلاق

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیاکہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے اور اسی کی تعلیم و تربیت در حقیقت دین حقیقی کا مقصود ہے، یعنی انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے آگاہ کر کے اس کے تقاضوں سے روشناس کرانا اور ان کی تکمیل کے قابل بنانا۔ چنانچہ ہمارے نزدیک حقیقی اخلاق وہی ہیں جن کی تعلیم و ہدایت ہمیں دین کے واسطے سے حاصل ہوئی ہے۔ ہمیں زندگی کا وہی سلیقہ اور قرینہ مطلوب ہے جو خدا نے اپنے رسول ﷺکے ذریعے سے ہمیں سکھایا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘ (متفق علیہ)

حضورﷺکے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ:

’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘

ان فرامین کی روشنی میں اب ہم میں سے ہرایک کو صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حضورﷺنے ہمیں کن اخلاقِ حسنہ کی تعلیم فرمائی ہے اور کن برے اخلاق سے آگاہ کر کے ان سے اجتناب کی تاکید کی ہے تاکہ انسان کی اخلاقی اصلاح و تہذیب کے ربانی اصول و معیار ہمارے سامنے واضح ہو کر آسکیں۔

حسنِ خلق کیا ہے؟

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:

 ’’نیکی اخلاق و کردار کی اچھائی کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں خلش پیدا کرے اور تو اس بات کو ناپسند کرے کہ لوگ اس سے آگاہ ہوں۔‘‘(مسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے عرض کیا گیا: وہ کیا چیز ہے جو کثرت سے لوگوں کے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گی؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: خدا خوفی اور حسن خلق۔ پھر عرض کیا گیا: وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو کثرت سے جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گی؟ فرمایا: منہ اور شرمگاہ کی عدمِ حفاظت۔ (ترمذی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی نے حضور ﷺکا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ:

 ’’مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہیں۔‘‘ (ترمذی)

مندرجہ بالا ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاق کی پاکیزگی اور کردار کی اچھائی دراصل ایمان کی پختگی اور خدا خوفی کا ثمرہ ہے اور دراصل دونوں ایک دوسرے کو مستلزم ہیں۔ ایمان کے بغیر اخلاق کی پاکیزگی اور کردار کی اچھائی کے بغیر خدا ترسی و خدا خوفی کا تصور بے معنی ہے۔ اسی حسنِ خلق کی بدولت مومن کو اطمینانِ قلب کی عظیم نعمت حاصل ہوتی ہے اور اس کا یہی اطمینانِ قلب اس کو سیرت و کردار کی وہ عظمت عطا ءکرتا ہے کہ اس کے بعد نفس کی کوئی ترغیب ، شیطان کی کوئی تحریک، دنیا کی کوئی تحریص اور اقتدارِ باطل کی کوئی تخویف اس کو راہِ راست سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

ایک مومن جہاںمصارفِ زندگی میں کردار کی عظمت و صلابت کا مظاہرہ کرتا ہے ،وہیںوہ اہل ایمان کے درمیان محبت و رافت کا ایک پیکر ہوتا ہے۔ اس کی گفتگو، اس کی نشست و برخاست، اس کی چال ڈھال اور اس کا باہمی میل جول ایک خاص قسم کے حسن و لطافت اور نفاست و ملائمت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

’’وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔‘‘ (الفتح۔ ۹۲)

مندرجہ بالا توضیحات اس امر کے اثبات کے لئے کافی ہیں کہ ہر قسم کی نیکی اور اخلاقی عظمت دراصل حسنِ خلق ہی کی تعریف میں آتی ہے۔

حضورﷺکے تعلیم کردہ اخلاقِ فاضلہ

1) خندہ پیشانی سے ملنا اور سلام سے گفتگو کا آغاز کرنا:

اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں یہ چیز ایک اصولی اہمیت رکھتی ہے کہ نیکی کا کوئی کام حقیر نہیں ہے، خواہ بظاہر وہ کیسا ہی معمولی کیوں نہ ہو اور بدی کا کوئی کام معمولی نہیں ہے، خواہ بظاہروہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے:

 ’’کسی نیکی کے کام کو حقیر مت سمجھو، خواہ وہ یہ ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے بھائی کو ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ملو۔‘‘ (مسلم)

اسی طرح سلام سے آغازِ ملاقات و گفتگو کا حکم دیا گیا اور فرمایا گیا کہ:

 ’’اپنے درمیان سلام کو عام کرو۔‘‘ (مسلم)

مراد یہ ہے کہ اہلِ ایمان جب بھی آپس میں ملیں باہمی سلامتی اور ایک دوسرے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کی دعاء کرتے ہوئے ملیں۔

یہ خوش اخلاقی حسنِ معاشرت کا نقطۂ آغاز ہے۔ بہت سے تعلقات اس وجہ سے کشیدہ یا ختم ہو جاتے ہیں کہ افراد کے اندر خوش خلقی کا جوہر کم ہوتا ہے یا اس کا مظاہرہ کرنے میں بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ چونکہ اہلِ ایمان ایک ایسی جماعت ہیں جس کی باہمی تنظیم و استحکام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اس لئے عام ملاقاتوں اور روز مرہ کی بے تکلف گفتگو کو بھی ایک خاص سلیقے اور شائستگی کے قالب میں ڈھال دینا ضروری سمجھا گیا اور جہاں خوشگوار تعلقات کی استواری کے لئے بعض بڑی بڑی ہدایات دی گئیں وہاں اس بظاہر چھوٹی سی بات کی تعلیم کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا کہ اہلِ ایمان کا رسمی میل جول بھی کس کیفیت اور کس شان کا حامل ہونا چاہئے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor