Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بندھن

 

بندھن

Madinah Madinah

آج کل پاکستان میں چونکہ شادیوں کا موسم ہے اور ملکی تاریخ کی سب سے مہنگی شادی کا تذکرہ بھی زباں زد عام ہے جس پر کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے اخراجات کئے گئے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ اس شادی پر کی گئی خرافات کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں کچھ لوگ بڑی حسرت کی نگاہ سے دیکھ اور سن رہے ہیں کہ کاش ہماری شادیاں بھی اس طور طریقے کی ہو سکتی اور کچھ لوگ اسے پاکستان کی روشن خیالی اور ترقی کی ضمانت بھی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ترقی معکوس اور ہمارا خاندانی زوال ہے۔جہاں آج ہم زندگی کے ہر شعبے میں زوال کا شکار ہوئے، وہیں عیش پرستی بھی ہمارے اندر گھر کرتی گئی۔ ہم نے اپنے ہر عمل کو دکھاوا بنا لیا ہے۔ اسلام جس نے ذات، برادری، حسب و نسب،اعلیٰ و ادنیٰ کے فرق کو ختم کرکے دنیا کو ایک ایسا طرزِ حیات دیا تھا، جس نے معاشرے میں نا انصافی کو ختم کر کے مساوات کو فروغ دیا تھا۔ مساوات کا جو سبق اسلام نے دنیاکو دیا تھا، وہ بے مثل تھا۔ جس کا عملی نمونہ جب مسلمانوں میں عام ہوا تو ساری دنیا نے اسلام کے طرز حیات کو تسلیم کیا۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔

 شادی بیاہ کی سادگی بھی دنیا کے لیے مثال تھی۔لیکن ہمارے یہاں مسلم معاشرے کو لا مذہبیت، فیشن پرستی، ریاکاری، فضول خرچی، عیش و عشرت نے دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر بالکل کھوکھلا کر دیا ہے۔ اب ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ہمارے اعمال نے ہماری شناخت، ماضی کے برعکس، بے ایمان، غاصب اوربدزبان کے طور پر کرادی ہے۔ شادی بیاہ کا معاملہ تو اس قدر غلط راہ پر چل پڑا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ پھر سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ ہم غلط کو بھی صحیح سمجھ رہے ہیں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں اُسے اچھا جانتے ہیں۔ رشتے ناطے سے منگنی تک اسلام میں ابتدا سے ہی عام تھا کہ،لڑکے والے، لڑکی کے والدین کو شادی کی نیت سے پیغام بھجوا تے تھے۔ آپسی گفتگو اور مشورے سے رشتے ناطے، طے ہو جاتے تھے۔آج کل شادی کا یہ پہلا مرحلہ ہی بڑا خطرناک ہو چکا ہے۔ایک تو لڑکی کا ہر طرح سے امتحان لیا جاتا ہے۔ دوسرے ماں باپ کی دولت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔ رنگ، قد، خوبصورتی، تعلیم، عمر، نوکری جیسے پیمانوں پر لڑکی کو پرکھا جاتا ہے۔ ایک ایک لڑکے والے، ایک انداز ے کے مطابق کم از کم 10-12 لڑکیوں کو تو ضرور فیل کرتے ہیں۔ اس دیکھنے دکھانے میں مہمان نوازی اور آؤ بھگت پر آنے والا صرفہ بھی خاصا ہوتا ہے۔ ان سب سے باربار گذرنے کے بعد جب کوئی لڑکی پسند آجاتی ہے تو پھر آگے کا معاملہ، منگنی اور گود بھرائی تک پہنچتا ہے۔ یہ گود بھرائی اور منگنی، صرف منگنی نہیں ہوتی بلکہ 'منی شادی کے جیسے ہوتی ہے۔ لڑکی والوں کے کم از کم دو چار سو افراد لڑکے والوں کے سو ڈیڑھ سو افراد کی دعوت، دعوت بھی کوئی معمولی دعوت نہیں۔ دسیوں طرح کے کھانے، پھرفضول رسمیں۔ منگنی کی رسم کے وقت موجود رشتہ داروں کو بھینٹ کے طور پر فی کس ہزار، پانچ سو یا حیثیت کے مطابق پیسے دیے جاتے ہیں۔لڑکے اس کے والدین، قریبی عزیزواقارب کی خدمت میں پیسوں کے علاوہ زیور،گھڑی، کپڑے جیسے تحفے تحائف بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس منی شادی پر بھی کم سے کم جار پانچ لاکھ روپے اور زیادہ کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ دس بیس لاکھ بھی کم ہیں۔ اس پر بھی اب کثرت سے رشتے ٹوٹنے کا عمل بھی زیادہ ہونے لگا ہے۔ کاش ہم شادی کے وقت اسلام کی بات کا خیال رکھتے ہوئے تقویٰ کو بنیاد بنا کر آپس میں شادیاں کرتے تو ہمارا معاشرہ، نئی نئی سماجی برائیوں سے پاک ہوتا۔

 رسم و رواج منگنی سے لے کر شادی اور اس کے بعد تک بے شمار رسم و رواج ایسے ہیں جو غیر ضروری اور غیر اسلامی ہیں،  ان کو نہ صرف ترک کرنا اب لازم ہے بلکہ ان کے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔لیکن افسوس کہ یہ رسومات ہمارے دامن سے یوں لپٹے ہیں گویا چولی دامن کا ساتھ ہو۔ گود بھرائی، منہدی، ہلدی، لال خط، بھات، جونار، منڈھا، سہرا، دسیاری جیسی اتنی ساری فضول رسمیں ہیں کہ ایک غریب آدمی کے لیے پہ درپے مصیبت ہی مصیبت ہے۔ ان میں سے ہر رسم پر اچھا خاصا خرچ ہوتا ہے۔دراصل ان میں سے زیادہ تر رسمیں غیر مسلم سماج سے ہمارے یہاں بھی در آئی ہیں۔ جہیز بھی ایک لعنت کی شکل میں ہمارے معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے۔اس جہیز کی وجہ سے کئی بار شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ باراتیں لوٹ لی جاتی ہیں۔ شادی کے بعد دُلہن کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے یاپھر بے حد پریشان کیا جاتا ہے۔ جہیز کے نام پر کیا کیا نہیں ہو رہا ہے۔ امراء کی شادیاں تو خیر کروڑوں میں ہو رہی ہیں لیکن اوسط اوردرمیانے درجے کی شادیاں بھی لاکھوں میں ہو رہی ہیں۔ ماں باپ بیٹی کی خوش حال ازدواجی زندگی کے لیے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور بعض اوقات بھاری بھرکم قرض لے کر بھی جہیز کا سامان دیتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اتنا سارا جہیز دینے کے بعدبھی ماں باپ کو اس بات کا اطمینان نہیں ہوتا یا اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ ان کی لختِ جگر کی زندگی پر سکون رہے گی۔ اس معاملے میں ہمارا معاشرہ ایک عجیب قسم کی ذہنیت کا شکارہو گیا ہے۔ سماج کی سوچ بدل گئی ہے۔ یہ سب سے خطرناک ہے۔ اب تو انتہائی مہنگے بینکویٹ، ویلے(Valet)کار پارکنگ، ڈیزائنرز کے تیار کردہ مہنگے عروسی لباس، خواتین کے عجیب و غریب فیشنز اور کندھوں پر رسماً دوپٹے بھی غائب ہونا ’’اسٹیٹس سمبل‘‘ بن چکا ہے۔اسی طرح نکاح بھی دوچار افراد کے ساتھ پہلے ہی گھر یا مسجد میں کردیا جاتا ہے، تاکہ شادی کے دھوم دھڑکوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ تیز میوزک اور بےہودہ گانوں کے شور میں فوٹو گرافرز کے آگے سولہ سنگھار کیے نوعُمر بچّیاں پوز دیتے ہوئے تصویریں کھنچواتی ہیں۔ اسٹیج پر دولھا کے آنے کا انداز الگ، تو دلہن کا الگ۔ مدھم جلتی بُجھتی روشنیوں کے ساتھ جدید کیمروں میں نت نئے انداز سے تصاویر محفوظ کرنے کے لیے بیک گراونڈز تبدیل کرنا بھی ضروری ٹھہرا۔ کبھی پھولوں کی برسات، تو کبھی سفید دھویں کے درمیان ہاتھ تھامنا۔ ایک لمحے کو تو یوں گماں ہوتاہے کہ جیسے کسی فلم کی شوٹنگ ہورہی ہے اور اس ’’فیملی فلم‘‘ کا ڈراپ سین اُس وقت ہوتا ہے، جب بیرے کھانے کی قابوں سے ڈھکن اُٹھاتے ہیں۔اِک لمحے کو تو سوچیں کہ شادی بیاہ کی یہ تقاریب ہمارے معاشرے میں کیا رنگ اختیار کرتی جارہی ہیں؟ فضول خرچی، نمودونمایش، حیا اور اخلاقی حدود کی پامالی میں ہم کس قدر آگے بڑھ چکے ہیں۔

کورونا کے وبائی دنوں میں اس حوالے سے کچھ سکون دیکھنے میںآیا، گذشتہ ڈیڑھ، دو ماہ سے کورونا کے سبب جو جسمانی دوری کا معاملہ درپیش ہوا تو  اُس نے ہماری بہت سی برائیوں، خرافات اور فضول خرچیوں پر بریک لگا دیا ہے اور ان دنوں میں جو شادیاں ہوئی اُن میں صرف دو چار افراد ہی جا کر نکاح کرکے دلہن کو لے آتےتھے۔  نہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں ، نہ شادی ہال کے خرچے، نہ درجنوں قسم کے کھانے نہ مہندی اور بارات کے لچھن ۔جہیز سے لے کر دیگر فضول رسمیں بھی پسِ پشت رہ گئی ہیں۔لیکن شادیاں کا سلسلہ چلتا رہا۔ کسی نے اعتراض بھی  نہ کیا اور میاں بیوی بھی خوش۔والدین بھی پرمسرت کہ خرچ اور اس طرح کی دیگر خرافات اور ذلتوں سے حفاظت رہی۔ کاش یہ نظام لاک ڈاؤن کے بعد بھی اسی طرح جاری رہتا مگر پھر سے وہی صورت حال دوبارہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔

سادگی ، حیا  اور پردے داری کے اصولوں کی پاس داری کو ملحوظِ کار رکھتے ہوئے نکاح کا اعلان، عزیزو اقارب کا مبارک باد کے لیے جمع ہونا، خوشی کے اظہار کے لیے بچّیوں اور خواتین کا اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مختلف رسومات انجام دینا، دلہن کو سجانا سنوارنا، اور ایسا ولیمہ، جو مالی طور پر زیربار نہ کرے، جس میں امیرو غریب سب کی شرکت ممکن ہوسکے، بلاشبہ اسلام کی تعلیمات ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ خوشی وشادمانی کے اس خُوب صُورت بندھن کا حُسن برقرار رکھنے کے لیے خرچ میں میانہ روی اور اعتدال کی راہ اپنائی جائے، اپنی اقدار و روایات کا پاس رکھا جائے، تاکہ یہ مقدس بندھن ہماری آئندہ نسلوں کی بقا کاضامن بن سکے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor