Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغفرت اور نجات وبخشش کا ایک نسخہ

 

مغفرت اور نجات وبخشش کا ایک نسخہ

Madinah Madinah

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

قیامت کے روز قرآن، قرآن پڑھنے والے کو اس وقت ملے گا جب اس کی قبر پھٹے گی (اور وہ قبر سے باہر نکلے گا) ایسے شخص کی شکل میں جس کا رنگ کمزوری اور خوف کی وجہ سے تبدیل ہوچکا ہو، اور کہے گا:

 کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟

تو وہ شخص کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا۔

 پس قرآن کہے گا:

 میں تمہارا دوست قرآن ہوں۔ وہ دوست جس نے دوپہر کے وقت شدید گرمی کے دنوں میں اپنے چشموں سے سیراب کیا اور تیری راتوں کو جگائے رکھا اور بے شک ہر تاجر اپنے کاروبار کے پیچھے بھاگتا ہے اور بے شک تو بھی آج اپنے اس کاروبار کے پیچھے بھاگے گا (جو تجھے نفع دے)۔

 پس اس شخص کو اس کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ کی زندگی (یعنی پروانۂ جنت) تھما دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج سجایا جائے گا اور اس کے والدین کو دو قیمتی لباس پہنائے جائیں گے جن کی قیمت پوری دنیا سے بھی نہیں لگائی جاسکتی۔

پس وہ دونوں کہیں گے: ہمیں کس وجہ سے یہ قیمتی جوڑے پہنائے گئے؟

تو ان سے کہا جائے گا: تمہارے بیٹے کے (دنیا میں) قرآن سیکھنے کی وجہ سے۔

 پھر اس صاحب قرآن کو کہا جائے گا کہ جنت کے کمروں اور سیڑھیوں پر اس قرآن کو پڑھتا جا۔

 پس وہ اس وقت تک ان (سیڑھیوں) پر چڑھتا رہے گا جب تک وہ قرآن کو پڑھتا رہے گا خواہ اس کا پڑھنا جلدی کے ساتھ ہو یا ٹھہر ٹھہر کر‘‘ (درۃ الناصحین)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک دن حضورﷺنے فرمایا:

’’کیامیں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن میری امت میں سب سے افضل کون ہوگا ؟‘‘

تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ!فرمائیے!

توآپ ﷺنے فرمایا:

’’ سب سے افضل وہ لوگ ہوں گے جوقرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جبرائیل ؑ کوبلا کر فرمائیںگے کہ میدان محشر میں یہ اعلان کردوکہ جوشخص قرآن کریم کی تلاوت کرتا تھا وہ کھڑا ہو جائے!

 وہ دو یا تین دفعہ اعلان کرے گا۔ تو رحمان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں کی صفیں کھڑی ہو جائیں گی اور ان میں سے کسی کو بھی یارائے گفتگونہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ کے نبی داؤدؑ کھڑے ہو جائیں گے۔ تواللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:

’’ اے لوگو! قرآن کریم پڑھو! اپنی آوازوں کو بلند کرو!‘‘

ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی کلام سے وہ کچھ پڑھے گا جواللہ نے اُسے الہام کیاہوگا۔ تو جو بھی قرآن کی تلاوت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے ہرایک کے درجات کو ان کی خوبصورت آواز، حسن لحن، غور وفکر اور تدبر کی وجہ سے بلندفرمائے گا۔

 پھراللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا:

’’ کیا تمہیں معلوم ہے کہ دنیا میں تمہارے ساتھ کس نے زیادہ احسان کیا ہے؟‘‘

 وہ عرض کریں گے: اے ہمارے پروردگار! ہم انہیں خوب جانتے ہیں تواللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا :

’’جاؤ! میدان محشر میں تلاش کرو اور وہ آدمی جسے تم جانتے ہوکہ اس نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اسے اپنے ساتھ جنت میں داخل کردو!‘‘ (درۃ الناصحین)

حافظ قرآن کے والدین کے مقام کی فضیلت کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

’’حافظ قرآن کے والدین کے سر پر ایسا تاج رکھا جائے گا کہ اُس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی‘‘ (سنن ابی داود)

حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند اپنے والد محترم حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ اور قرآن مجید سے متعلق ایک نہایت بصیرت افروز اور سبق آموز واقعہ اکثر بیان فرمایا کرتے تھے۔

’’میرے والد ماجد نے وفات سے تقریباً پندرہ بیس دن قبل مجھے دارالعلوم دیوبند کے دارالمشورہ میں خلوت میں طلب فرمایا۔ میں حسب الحکم حاضر ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی غیر معمولی طور پر آبدیدہ ہوگئے حتی کہ وفورِگریہ کی وجہ سے چند منٹ تک بات بھی نہ کر سکے۔ مجھے یہ پریشانی ہو ئی کہ کہیں مجھ سے تو کوئی ناگواری پیش نہیں آئی۔

میں نے اس کا ذکر کیا تو فرمایا:

’’ نہیں بلکہ مجھے یہ کہنا ہے کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور بہت تھوڑا وقفہ باقی رہ گیا ہے۔ مجھے اس وقت آپ کو یہ واقعہ سنانا ہے کہ جب میں قرآن کا حافظ ہو چکا تو حضرت والدماجد (حضرت محمد قاسم نانوتویؒ) بانی دارالعلوم دیوبند بے حد مسرور تھے۔ختم قرآن کی خوشی میں شہر کے عمائدین اور اعزہ واحباب کے ایک بڑے مجمع کی لمبی چوڑی دعوت کی، تقریب سے فارغ ہوکر مجھے خلوت میں اسی طرح طلب کرکے فرمایا:

’’میاں احمد! خدا کاشکر ہے کہ تم حافظ ہوگئے۔ وقت آئے گا تم عالم بھی ہو گے۔ تمھاری عزت بھی ہو گی۔ ملک میں تمہاری شہرت بھی ہو گی اور تمہیں دولت بھی میسرآئے گی لیکن یہ سب چیزیں تمہارے لئے ہوں گی۔قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے۔ مجھے فراموش نہ کرنا‘‘

پھر میرے والد صاحب نے فرمایا کہ وہ وقت ہے اور آج کا دن ہے، میرا یہ دوامی عمل ہے کہ میں ہمیشہ دوپارے یومیہ حضرت قبلہ والد صاحب کوایصال ثواب کی نیت سے پڑھتاہوں، جو الحمد للہ آج تک ناغہ نہیں ہوئے‘‘

یہ واقعہ سنا کر مجھ سے فرمایا کہ طیب! الحمدللہ تم حافظ وعالم ہو چکے ہو، وقت آئے گا تمہاری عزت بھی ہو گی، شہرت بھی ہو گی اور حق تعالیٰ تمہیں دولت بھی بہت کچھ عطا فرمائے گا لیکن یہ سب کچھ تمہارے لئے ہو گا۔

یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے۔

بقیہ:مغفرت اور نجات وبخشش کا ایک نسخہ

چنانچہ حضرت قبلہ والد صاحب کی وفات کے بعد آنے والے مہینے کی پہلی ہی تاریخ سے میں نے حضرت کی نصیحت بلکہ وصیت کے مطابق مغرب کے بعد اوّابین میں ایک پارہ یومیہ پڑھنے اور حضرت والد مرحوم کو ایصال ثواب کرنے کا معمول بنا لیا ہے جو الحمدللہ آج تک جاری ہے‘‘

حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ نے اپنے والد محترم اور اپنے دادا جان کے جس طرز عمل اور قرآن مجید سے والہانہ محبت وشغف اور تعلق وشوق کو بیان کیا ہے اس میں ہمارے اور آپ سب کے لئے عبرت اور نصیحت کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں۔

ہم سب بھی طے کریں اور تہیہ کریں کہ ہم بھی اپنی اولاد کو اسی جذبہ سے حافظ قرآن بنائیں گے اور خلوت میں بلا کر ان سے کہیں گے کہ بیٹا! یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے، مجھے فراموش مت کرنا! اور ہم میں سے جوحافظ قرآن ہیں وہ خاص طور پر اور جو حافظ قرآن نہیں ہیں وہ بھی روزانہ اپنے والدین کے نام قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ایصال ثواب کیلئے ضرور تلاوت کریں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام لوگوں کو اسی جذبہ کے ساتھ اپنی اولاد کو حفظ قرآن مجید کرانے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ان کے حفظ قرآن مجید کی دولت کو ہم لوگوں کی مغفرت اور نجات وبخشش کا ذریعہ بنائے۔( آمین یا رب العالمین)

 

 

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ  وَ الْأَعْمَالِ  وَ الْأَهْوَاءِ

اے اللہ! میں اَخلاق، اَعمال اور خواہشات کی بُرائیوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ (جامع الترمذی)

اَللّٰهُمَّ إنِّي أسْألُكَ الْيَقِيْنَ وَ الْعَفْوَ وَ  الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ

اے اللہ! میں آپ سے یقین، معافی اور دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں(جامع الترمذی)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor