Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مدینہ منورہ میں پیارے آقا ﷺ کے مبارک گھر

 

مدینہ منورہ میں پیارے آقا ﷺ کے مبارک گھر

Madinah Madinah

دنیا کا ضابطہ ہے کہ جس شخص کو جس سے محبت ہوتی ہے‘ اس کی ہر حرکت و سکون ‘ ہر قول و فعل اور اس کے متعلق ہر چیز محبوب ہوتی ہے ، پھر عرب شاعری میں تو یہ چیز بہت نمایاں ہے کہ اکثر و بیشتر شاعر اپنے دردِہجر اور فراق کی شدت کو بیان کرنے کیلئے پہلے اپنے محبوب کے قبیلے کے کھنڈرات کا ذکر کرتے ہیں

اس کائنات میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کے بعد سرورِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر محبوب کون ہو گا  اہل ایمان نے ہر دور میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ معیار قائم کیے ہیں کہ وہ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں:

ہم نے ہر دور میں تقدیسِ رسالت کیلئے

وقت کی تیز ہوائوں سے بغاوت کی ہے

توڑ کر سلسلہ رسمِ سیاست کا فسوں

فقط اِک نامِ محمد(ﷺ) سے محبت کی ہے

دنیا میں بہت سے مذاہب بھی ہیں اور ان کے ماننے والے بھی لیکن کسی مذہب کے پیرو کار بھی اپنے پیشوا اور راہنما کے بنیادی حالات بھی اتنی تفصیل اور اتنے اعتماد سے نہیں بتا سکتے ‘ جتنی وضاحت کے ساتھ امت مسلمہ اپنے آقا و مولیٰ سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تمام تفصیلی اور جزئی واقعات بھی بتا سکتی ہے۔

سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک گھر ‘ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے بیٹھے ، چلے پھرے ، کھایا پیا ، گفتگو فرمائی اور تہجد کی نماز ادا فرمائی ۔ یہی وہ پاکیزہ جگہیں ہیں جہاں بار ہا وحیٔ اِلٰہی نازل ہوئی اور یہی وہ درسگاہیں ہیں جہاں اُمہات المومنین رضی اللہ عنہن اجمعین نے دینِ اسلام کی گھریلو زندگی کے بارے میں تعلیمات ‘ خود معلمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھیں اور پھر باقی پوری اُمت ان مسائل میں انہی کی دست نگر اور محتاج قرار پائی ۔

مدینہ منورہ میں رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی ترتیب سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مسجدِ نبوی شریف کا قبلہ جنوب کی طرف ہے‘ اس طرح اگر آپ مسجد نبوی شریف میں قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں گے تو آپ کے سامنے جنوب‘ پیچھے شمال ‘ دائیں مغرب اور بائیں مشرق کی سمت ہو گی ۔

رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم آج جہاں آرام فرما ہیں‘ وہاں تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا گھر مبارک تھا ۔ رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر مبارک‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر مبارک کے ساتھ ‘اس سے شمال یعنی قبلہ کی مخالف سمت میں تھا ۔ ان دونوں گھروں کے دروازے مسجد نبوی شریف میں کھلتے تھے اور اب یہ دونوں گنبد ِ خضراء کے نیچے آگئے ہیں ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے مشرق کی طرف ‘ جس جانب جنت البقیع شریف ہے‘ بالکل متصل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری زوجہ سیدہ سودَہ رضی اللہ عنہا کا گھر مبارک تھا ۔ مسجدِ نبوی شریف کی تعمیر سے فارغ ہوتے ہی پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں گھر ‘ ایک ہی وقت میں اور ایک ہی طرز پر تعمیر کروائے تھے ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر مبارک سے جنوب یعنی قبلے کی سمت ‘ صرف ایک گز کے فاصلے پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا گھر مبارک تھا ۔ دونوں گھروں کے درمیان صرف ایک تنگ گلی تھی‘ جس میں ایک وقت میں صرف ایک انسان ہی گزر سکتا تھا ۔ امت کی دونوں پاکیزہ مائیں اپنے اپنے گھر میں بیٹھے روشندان کے ذریعے گفتگو بھی کر لیتی تھیں ۔ درمیان کی تنگ گلی وہ مقدس جگہ ہے جہاں آج قبر اطہر کی کھڑکی لگی ہوئی ہے ۔

گزشتہ تقریباً ساڑھے چودہ سو برس سے اَربوں کلمہ گو مسلمان اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے سامنے کھڑے تر آنکھوں‘ گداز لہجوں‘ لرزتے قدموں کے ساتھ بصد اَدب و اِحترام بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ صلاۃ و سلام پیش کرتے چلے آئے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگوں کے علم میں یہ بات ہو گی کہ ٹھیک یہی جگہ ہماری پاکیزہ ماں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی ۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور امہات المومنین میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے چار گھروں کے علاوہ صرف ایک اور گھر کا صحیح محل و قوع متعین ہو سکا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس گھر مبارک میں سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا چند ماہ قیام پذیر رہیں اور جب انہوں نے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کی تو یہی گھر سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ بنا ۔ اُمہات المومنین میں سے ان کا انتقال سب سے آخر میں ہوا ‘ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا اس گھر میں تقریباً چھپن سال رہائش پذیر رہیں ۔

علامہ زُرقانی  ؒنے ’’شرح المواہب اللدنیۃ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے:

’’سیرت نگار کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرات (گھر ) کچھ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر اور قبلہ کے درمیان تھے اور کچھ مسجد کی مشرقی (بائیں) جانب تھے ۔ مسجد کی مغربی( دائیں) جانب کوئی گھر نہیں بنایا گیا ۔ یہ گھر مسجد سے باہر تھے اور مغربی سمت کے علاوہ مسجد کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے ۔ ان گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے‘‘۔ (شرح المواہب ۲؍۱۸۵)

سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مبارک‘ معطر اور منور گھر کس قسم کے بنے ہوئے تھے‘ ان میں ضروریاتِ زندگی کو کیسے حسن و خوبی کے ساتھ مہیا کیا گیا تھا اور ایک ایسے دور میں جب دنیا کے بادشاہ بڑے بڑے محلات تعمیر کر کے اپنے ذوقِ خود نمائی کی تسکین کرتے تھے، دونوں جہانوں کے سردار ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنتہائی سادہ طرز رہائش کو کیوں اختیار فرمایا اور اپنی ازواج مطہرات یعنی امت مسلمہ کی پاکیزہ مائوں کو اس بارے میں کیا سبق دیا ۔

ان سب سوالات کے جوابات ۔ان شاء اللہ تعالیٰ ،اگلی مجلس میں تفصیل سے قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے ۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ و صحبہ اجمعین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor