Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ڈرنا ہے

 

ڈرنا ہے

Madinah Madinah

لڑنا نہیں ،ڈرنا ہے کیونکہ ہم عاجز بندے ہیں…

لیکن ڈر کر گھروں میں نہیں دَبکنا، مسجد سے دور نہیں ہونا، اپنے دینی امور میںکمی واقع نہیں ہونے دینی۔ دینی خدمات کے تسلسل میں تعطل نہیں آنے دینا، بس اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی ہے اور جس قدر احتیاط شریعت کے دائرے میں رِہ کر ہو سکتی ہے اسے بروئے کار لانا ہے۔

اِنسان عاجز ہے۔ خصوصاً اسبابِ موت کے سامنے تو مکمل عاجز، دنیا کے سارے خزانے کسی شخص کی دسترس میں ہوں اور وہ ان سب کو صرف اور صرف اپنی حفاظت پر خرچ کر ڈالے۔ بیرونی خطرات سے بچاؤ کے لئے مسلح اور ہر طرح کے اسباب سے لیس لشکر تیار کر لے اور انہیں حفاظت پر متعین کرلے اور اندرونی خطرات سے بچنے کے لئے ہر طرح کے طبی ماہرین اور آلات ہمہ وقت اس کے حضور مستعد ہوں کیا وہ موت سے بچ سکتا ہے؟

سچ فرمایا الصادق المصدوق الامین حضرت محمد ﷺ نے کہ بنی آدم کو پیدا کیا گیا اور اس کے ساتھ ۹۹ اسباب موت کے پیدا کر دئیے گئے ۔ اگر ان سب سے بھی بچ جائے تب بھی ( آخری سبب) بڑھاپا تو بہرحال لے جائے گا۔

اس لئے اگر بنی آدم یہ طے کر لے اور اس نعرے کو اپنا شعار بنا لے کہ اسے ان سب سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے تو اس لڑائی کا حتمی اور قطعی نتیجہ یہی ہے کہ اس میں شکست بنی آدم کی ہی ہو گی۔ پھر ایسے غیر دانشمندانہ نعرے کو اپنایا ہی کیوں جائے ؟ انسان کو جس جنگ کا نتیجہ معلوم نہ ہو تو ہمیشہ شکست کے پہلو کو سامنے رکھ کر اس جنگ سے گریزاں ہوتا ہے اور اس سے بچنے کی ہر کوشش کرنا ہے اگرچہ اس بات کا امکان بہرحال موجود ہوتا ہے کہ اسے فتح بھی نصیب ہو سکتی ہے لیکن جہاں شکست یقینی ہے وہاں اس دیدہ دلیری کا کیا محل اور کیا مطلب؟

اس لئے وہی کرنا مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں محبوب طرز عمل ہے۔ ڈرنا ہے ، پناہ مانگنی ہے اور تیاری رکھنی ہے۔

موت اگر تیاری کی حالت میں آ جائے تو نہ کوئی مصیبت ہے نہ آفت۔ یہ ایک یقینی اور شدنی امر ہے بس اس حال میں واقع ہو گیا تو اچھا ہے۔ مبارک ہے اور سود مند ۔ پھر یہ راحت ہے اور نجات۔ پھر اس کا نتیجہ خیر ہے اور عافیت۔ اور اگر خدانخواستہ اس کا وقوع غفلت ، کراہیت اور تیاری سے خالی حالت میںہو گیا تو اس سے بڑھ کر نہ کوئی آفت و مصیبت ہے نہ نقمت و ذلت۔ اس لئے مومن کو حکم ہے کہ وہ ہر حال میں ڈرتا رہے۔ پناہ مانگتا رہے اور تیاری میں مشغول رہے۔ خصوصاً جب اس کے اسباب ظاہر اور عام ہو جائیں۔

کیا یہ عجیب طرز عمل نہیں اور حیران کن کہ جس چیز سے لڑنے کا دعوی ہے اور دعوت اس کے سامنے کرنے کو کیا کہا جا رہا ہے؟ یہی نا کہ آپ گھر سے مت نکلئے ۔ ہر وقت منہ چھپا کر رکھئے۔ کسی سے ملئے مت، مسجد سے دور ہو جائیے۔ تعلیم و تعلم کے سلسلے بند کر دیجئے۔ حرمین شریفین جو زمین پر امن سلامتی ،عافیت اور حفاظت کے سب سے مضبوط قلعے اور حصار ہیں ان سے بھی دوری اختیار کر لیجئے۔ دنیوی معاملات بھی سمیٹ لیجئے اور دینی امور بھی۔ اور اس طرز عمل کو نام دیا جا رہا ہے لڑائی کا۔ یا سبحان اللہ! اور جو اصل کرنے کا کام اس موقع پر سکھایا گیا اس کی طرف بلانے والے کتنے ہیں؟

ہمیں تو یہ سکھایا اور بتایا گیاہے کہ ہم ایسے مواقع پر عافیت ،زیادہ مانگیں جو ڈر کر مانگی جاتی ہے ۔

ہم تعوذ‘‘ کو اپنائیں یعنی کثرت کے ساتھ پناہ مانگیں جو خوف کی وجہ سے کیا جانے والا عمل ہے۔

ہم تیاری کریں جو آگے کے مراحل سے خوف کے ساتھ ہی بہتر ہو سکتی ہے۔

ہم نصیحت اور عبرت حاصل کریں ، ہم اپنے معاملات درست کریں۔ حقوق اللہ کی ادائیگی کی فکر کریں۔ حقوق العباد کے بوجھ اُتاریں۔ اپنے ترکے اورمیراث کی فکر کریں کہ وہ وبال نہ بنے،یہ سب ظاہر ہے کسی خوف کی بنیاد پر ہی ہو سکتے ہیں۔ ہم استغفار کی کثرت کریں یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم اپنے گناہوں اور وبال سے خوفزدہ ہونگے، لیکن اس خوف اور ڈر کی شان یہ ہے کہ یہ انسان کو بہادر بنا دیتا ہے۔ بے خوف اور نڈر کر دیتا ہے۔ پھر وہ انسان جو اس خوف سے مالا مال ہو کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا۔ وہ دلیری اور بہادری کے ساتھ راہِ خدا میں بڑھتا ہے۔ دل کی مضبوطی کے ساتھ بڑے بڑے فیصلے کرتا ہے۔

اونچے اونچے کام سرانجام دیتا ہے، اپنے خالق و مالک کی خوشنودی کے لئے خطرات سے بھڑتا ہے اور خدشات سے نبردآزما ہوتا ہے ،یاد رکھئے! ہر ایمانی بہادری اور شجاعت کی بنیاد اور اصل یہی خوف ہے۔

اس کے برعکس دعوت یہ چلائی جارہی ہے کہ انسان اس اصل خوف اور ایمانی ڈر سے آزاد ہوجائیں۔ وہ خالق و مالک کے مقابلے پر اُتر آئیں، وہ اس کی قضاء و قدر کے منکر بن جائیں۔ وہ اپنی مادی طاقت کو حرف آخر سمجھیں اور اس کے زور پر نتائج حاصل کرنے کی فکر و کوشش کریں۔ وہ دنیا میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بے خوف ہو کر ہر ناجائز سبب اور ذریعہ اختیارکریں۔غورکیجیے! اول تو اس بے خوفی نے ہر انسان کو کس قدر بزدل اور عاجز بنادیا ہے اس کا مشاہدہ روزمرہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں پھیلے ہر ظلم، ہر ناانصافی، ہر ناجائز کام اور ہر استحصال کی بنا یہی بے خوفی ہے اور اس کی دعوت ہے۔

کورونا کی وباء سے اموات ہو رہی ہیں ،میڈیا کے بقول اس کا دائرہ پھیل رہا ہے اور تباہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے زمین پر جوجس قدر زیادہ طاقت اور اسباب کا دعویدار ہے وہ اس قدر اس کی لپیٹ میں ہے جس کے پاس حفاظت کا جس قدر سامان ہے وہ اسی قدر اس کے سامنے بے بس ہے اور جو جس قدر محتاط ہے اسی قدر مبتلا ہے، اب اس صورتحال کے مقابل ایک دعوت یہ ہے کہ عجز کا اعتراف کرلیاجائے، سپر ڈال دی جائے مقابلے کا دعویٰ ترک کردیا جائے اور عافیت کی دعاء ،تعوذ کی کثرت کے ساتھ اپنی تمام تر توجہ آخرت کی تیاری کی طرف مبذول کرلی جائے، اپنے معاملات کو جلد از جلد درست کرنے کی فکر کی جائے ،خود کو حاضری اور پیشی کے قابل بنایا جائے اور ان اعمال کی کثرت کی جائے جو آگے کی آسانیاں اور راحتیں مہیا کرنے کا سبب بنیں، یہ طرزعمل ہمیں دلیر اور بہادر بنادے گا اور ہمیں اللہ سے جو ڑ دے گا۔

یا خدانخواستہ ہم لڑائی کا دعوی لے کر میدان میں اُتریں اور پھر خوف عام کریں، بزدلی پھیلائیں، بے دِلی پیدا کریں، تعلقات کاٹیں اور مخلوق اور خالق کے درمیان انقطاع پیدا کریں؟

آپ کو کیا مناسب لگتا ہے؟

اور ہاں اگر اس مرض کی دوا تلاش کرنے کو لڑائی کا نام دیا گیا ہے تو جناب! دوائی کی تلاش بھی ’’خوف‘‘ ہی کا شاخسانہ ہے۔ آپ لڑنہیں سکتے، ڈرتے ہیں اس لئے بچائو کا سبب ڈھونڈتے ہیں ، سو یہ کام ضرور کیجئے لیکن درست نام دے کر غلط نظریہ پھیلا کر نہیں۔

 

 

دودعائیں:

رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارے نور کو مکمل فرما دیجیے اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ بے شک آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔ (سورۃ التحریم)

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ  وَ الْجُنُونِ وَ الْجُذَامِ  وَ مِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ

اے اللہ! برص سے، جنون سے، جذام سے اور ہر بُری بیماری سے، میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ (سنن أَبی داؤود۔ باب فی الاستعاذۃ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor