Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

مال لگاؤ…مال بڑھاؤ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 646 - Mudassir Jamal Taunsavi - Maal Lagao Maal Barhao

مال لگاؤ…مال بڑھاؤ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 646)

دنیا میں کون نہیں جو مال بڑھانا نہ چاہتا ہو؟ مال سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضروریات کو جوڑ دیا ہے، اور ہر انسان اپنے لیے بہتر سے بہتر ضروریات اور سہولیات کا خواہش مند ہوتا ہے، اور انہی خواہشات کی تحصیل اور تکمیل کے لیے اسے مال چاہیے ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ضروریات کا تعلق دو جگہوں سے ہے:

دنیا سے

آخرت سے

اللہ تعالیٰ بندے کو جو مال عطاء کرتے ہیں، وہ اس کی دنیاوی ضروریات کے لیے بھی ہوتا ہے اور آخرت کی ضروریات کے لیے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے یہ یہاں جو کچھ بھی ملتا ہے وہ دراصل آخرت کے لیے ہی ملتا ہے اسی لیے تو کہا جاتا ہے:’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے‘‘۔ یہاں جو کچھ بویا جائے گا آخرت میں اسی کی کٹائی ہوگی اوراسی کا پھل ملے گا۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مال خرچ کی طرف بلایا ہے اور ساتھ ہی ایک تنبیہ بھی کردی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’ہا ںتم لوگ ایسے ہو کہ تم کو اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے پھر تم میں سے کچھ ایسے ہیںکہ وہ بخل کرتے ہیں اور جو شخص بھی بخل کرتا ہے تو وہ خود اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور اﷲ توبے نیاز ہے (یعنی کسی کا محتاج نہیں)اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم (بخل کر کے اس کے حکم سے )رو گردانی کرو گے تو اﷲ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوموں کو پیدا فرمادے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۔‘‘ (سورہ محمد:۳۸)

کتنی خوش قسمتی کی بات ہے ، اور وہ کام کتنا سعادت والا ہوگا جس کی طرف اللہ تعالیٰ بلا رہے ہیں !!اس کام پر جو لبیک کہے گا وہ شاد کام رہے گا اور جو روگردانی کرے گا اس کے لیے سزا بھی سخت ہے۔ پہلے نبی کریمﷺ ایک فرمان مبارک کی روشنی میں اس سعادت والے کام کا اجر دیکھ لیجیے:

 حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں مال بھجوادے اور خود گھر میں بیٹھا رہے تو ہر درہم پر سات سو درہم خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے اور جو شخص خود اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں جہاد کے لئے نکل کر کچھ خرچ کرے، اسے ہر درہم پر سات لاکھ درہم خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے ، پھر حضور اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی : واﷲ یضاعف لمن یشآئ۔[اﷲ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے ] ۔(ابن ماجہ، بیہقی فی الشعب )

اور پھر نبی کریمﷺ کے ہی فرمان کی روشنی میں اس کام سے روگردانی کرنے والوں کی سزا بھی سن لیجیے:

 حضرت ابو امامہ ذ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جس نے خود بھی جہاد نہیں کیا اور نہ کسی مجاہد کو سامان جہاد فراہم کیا اور نہ کسی مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی تو اﷲ( تعالیٰ) اُسے قیامت سے پہلے کسی سخت مصیبت میں مبتلا فرمادیں گے ۔ (ابودائود ،ترمذی، ابن ماجہ )

اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندے اُس کی رضاکے لیے اس کی راہ میں جہاد کے لیے اپنا مال بخوشی خرچ کرتے ہیں۔ حضرت امیر محترم مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:

’’جہاد میں اپنے اوپر اور اپنی سواری پر اور دوسرے مجاہدین پر مال خرچ کرنا، یا اس مال سے اسلحہ اور جہادی ضرورت کا دوسرا سامان خریدنا، یا مجاہدین اور ان کے پیچھے ان کے گھر والوں کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا، بلند ترین عبادات اور عظیم ترین صدقات میں سے ہے اور یہ عمل اﷲتعالیٰ کے قرب کا بہت ہی بڑا ذریعہ ہے۔ اسی لئے شیطان جتنی کوشش اور محنت جہاد میں خرچ کرنے سے روکنے میں لگاتا ہے اور کسی جگہ خرچ کرنے سے روکنے کے لئے نہیں لگاتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ [جہاد میں ] خرچ کرنے کی بدولت ایک مومن کو کتنا بڑا اجر ، کتنا عظیم ثواب اور کیسے درجات نصیب ہوتے ہیں اور وہ کتنی سخت وعیدوں اور عذاب سے بچ جاتا ہے ۔ ایک طرف شیطان اس کوشش میں لگا رہتاہے کہ کوئی بھی مسلمان جہاد میں مال خرچ نہ کرے، دوسری طرف انسان کا طبعی بخل ، اور خرچ نہ کرنے کی عادت اور جہاد میں خرچ کرنے کے عظیم فضائل سے ناواقفیت بھی اس کی مدد کرتی ہے ۔ خصوصاً اس دور میں جبکہ جہاد کے نشانات مٹتے جارہے ہیں اور لوگ جہاد کو بھولتے جارہے ہیں ،ہمارے شہروں [دمشق] وغیرہ میں تو اب جہادرہا ہی نہیں، جبکہ دوسرے شہروں میں حقیقی جہاد بہت کم پایا جاتا ہے، چناچہ آج ملعون دشمن کے مقابلے میں جہاد کے لئے اﷲ کی تائید کے بغیر کچھ مال نکالنا ممکن ہی نہیں رہا ،کیونکہ شیطان انسانوں کو فقر وفاقے سے ڈراتا ہے اور بے حیائی میں لگاتاہے ،جبکہ اﷲ تعالیٰ کا سچا فرمان ہے: وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْئِ فَھُوَ یُخْلِفُہُ وَھُوَخَیْرُالرَّزِقِیْنَ۔ [تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو وہ ضرور بدلہ دیتا ہے اور وہ سب سے بہترین روزی دینے والا ہے ](سورۃ سبا۔ ۳۹)

بعض اوقات ایک انسان جہاد میں نکلنے کے بارے میں شیطان پر غلبہ پا لیتا ہے اور اس کی باتوں میں نہیں آتا،لیکن یہی انسان جہاد میں مال خرچ کرنے کے بارے میں شیطان کی باتوں میں آجاتا ہے ، کیونکہ شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے اگر توکہ خود بھی جہاد میں چلاگیا اور سارا مال بھی لے گیا تو پھر اگر تو واپس آگیا توتو لوگوں کا محتاج بن کر پھرتا رہے گا۔ جہادکے دوران تو زخمی اور بیمار بھی ہو سکتا ہے ، اس لئے خود اگر جانا چاہتا ہے تو چلا جا، لیکن اپنا مال پیچھے چھوڑ جا ۔شیطان کا یہ وسوسہ اسی آدمی کے دل پر زیادہ اثر کرتا ہے جس کے دل میںواپس آنے کا چور چھپا ہوا ہوتا ہے اور وہ غیر محسوس طریقے سے دنیاکی محبت اور شہادت کے خوف میںمبتلا ہوتا ہے ،کیونکہ اگر وہ شہادت پانے کا پکا عزم کرکے نکلتا تو واپسی کا خیال ہی اس کے دل میں نہ آتا۔ ہمارے اسلاف شہادت کے شوق میں اور اﷲتعالیٰ سے ملاقات کی محبت میںجہاد کے وقت اپنی تلواروں کے نیام توڑ ڈالتے تھے، کیونکہ ان کے دل میں واپس آنے اور زندہ رہنے کا خیال تک نہیں ہوتا تھا ،اس لیے وہ لوگ شہادت کی عظمت اور لذت سے واقف تھے ۔

اسلاف ہی میں سے کسی کا واقعہ ہے کہ ایک بار میدان جہاد میں جب لشکر آمنے سامنے آگئے تو شیطان نے انہیں وسوسے ڈالنے شروع کئے ۔ پہلے ان کے دل میں بیوی کی یاد، اس کا حسن وجمال ،اس سے قرب کے لمحات اور اس سے جدائی کے غم کو جگایا، پھر عیش وآرام والی زندگی اورمال واسباب یاد دلائے ، قریب تھا کہ ان کے دل میں بزدلی اور دنیا کی محبت پیدا ہو جاتی اور میدان جنگ سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کر لیتے ، اﷲ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی ، انہوں نے اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا: اے نفس! اگر آج میں میدان جنگ سے پیچھے ہٹا تو میری بیوی پر طلاق ہے اور میرے غلام اور باندیا ں آزاد اورمیرا تمام مال فقیروں اور مسکینوں کے لئے صدقہ ہے ۔اے نفس! کیا تو آج میدان جنگ سے بھاگ کر ایسی زندگی گزارنے کے لئے تیار ہے جس میں نہ بیوی ہو گی نہ مال واسباب ؟ ان کے نفس نے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر میں پیچھے ہٹنے کو پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر چل آگے بڑھ ۔ بعض مرتبہ شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر توجہاد میں مال بھی ساتھ لے گیا اور تو مارا گیا تو تیری اولاداور گھر والے دوسروں کے محتاج بن کر رہ جائیں گے ،اس لئے اپنا مال پیچھے والوں کے لئے چھوڑ جائو ان کے لئے اتنا صدمہ کافی ہے کہ تم جارہے ہو، اب انہیں مال سے تو محروم نہ کرو ۔ یہ وسوسہ ان لوگوں کے دل پر زیادہ اثر کرتا ہے جو اﷲ تعالیٰ پر مکمل یقین اور اعتماد نہیں رکھتے اور انہیں اس بات کا بھروسہ نہیں ہوتا ،کہ بندوں کی روزی کی ذمہ داری خود اﷲ تعالیٰ نے لی ہوئی ہے ،ورنہ جو شخص اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ اصل رزاق اﷲ تعالیٰ ہے میں تو اپنے اہل و عیال تک روزی پہنچانے کا ایک واسطہ ہوں، اس پر شیطان کا وسوسہ اثر انداز نہیں ہوتا ۔

حضرت حاتم اصمس کا واقعہ ہے کہ انہوں نے سفر سے پہلے اپنی بیوی سے پوچھا کہ تمہارے لئے اور تمہارے بچوں کے لئے کتنا خرچہ کافی ہو گا؟ تاکہ میں سفر سے پہلے اس کا انتظام کردوں ۔ ان کی بیوی نے کہا :اے حاتم! میں نے تمہیں کبھی بھی اپنا روزی دینے والا رزاق نہیں سمجھا ،میں تو تمہیں روزی کھانے والا سمجھتی ہوں، تمہیں جہاں جانا ہے خوشی سے چلے جائو اور ہماری پرواہ نہ کرو ،ہمارا رزاق تو ہمیشہ موجود رہنے والا ہے۔‘‘(فضائل جہاد)

جہاد کی یہی اہمیت وضرورت اور مال خرچ کا عظیم اجر و ثواب ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس معاملے میں تنگ دلی کے بجائے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ چنانچہ علامہ قرطبیس نے تاریخ قرطبی میں لکھا ہے کہ ذوالریاستین بن سہلس نے جہاد میں دس لاکھ دینار خرچ فرمائے اور فرمایا: اگر میرے پاس اس سے کئی گنا زیادہ ہوتے تو وہ بھی خرچ کر دیتا ۔

ہمارے بھی زندگی کے چند دن ہیں اور کچھ پتہ نہیں کہ کب موت کاپیغام آجائے اور ہمارے پاس مال بھی عارضی ہے کہ کچھ پتہ نہیں کب مال کسی جگہ لگ جائے یا ہم سے کسی بھی سبب سے دور ہوجائے یا ہم مال سے دور ہوجائیں۔ اس وقت کو ، اس زندگی کو اور اس میں ملنے والے مال کو قیمتی بنالیں، اپنا مال مال بڑھانے چاہتے ہیں تو آج جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لگادیں، اس رب کریم کا وعدہ ہے کہ وہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔

الرحمت کے کارکنان شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ کے عنوان سے اس مہم کی دعوت لے کر چل رہے ہیں۔ وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو بھی موقع غنیمت جان کر ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیجیے اور وہ نہ آ پائیں تو آپ خود ہمت کرلیں اور اس نیکی کو حاصل کرلیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online