Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

پیغامِ بدر (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 647 - Mudassir Jamal Taunsavi - Paigham e Badar

پیغامِ بدر

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 647)

غزوہ بدرمسلمانوں کے لیے حجت اور نشانی بھی ہے اور عظیم محسن بھی۔

اُس رات اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ نے فرمایا تھا:

’’اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر کوئی بھی تیری عبادت کرنے والا باقی نہ رہے گا‘‘

اور پھر وہ جماعت آگے بڑھی، پوری شان اور جذبات سے آگے بڑھی، فرشتے بھی ان کی عظمت کو دیکھ کر ان کے ہم رکاب ہوگئے اور رب تعالیٰ کی رحمت بھی ان کے ساتھ ایسی شامل ہوئی کہ گویا یک جان دو قالب ہوئے۔ مشرکین کو قتل یہ جماعت کررہی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے کہا ہم نے انہیں قتل کیا ہے، ان مشرکین پر مٹھی نبی کریمﷺ نے پھینکی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہم نے پھینکی تھی۔

اور پھر وہ جماعت اِمتحان میں پوری اتری اور اب قیامت تک جو بھی رب کا نام لیو اور عبادت گزار باقی ہے وہ سب ان اصحاب بدر کا دَین ہے، اور اَصحاب بدر کا یہ جہادی پیغام قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

مشرکین ہند کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک نے اس زمانے کے مشرکین کو بھی غزوہ بدر یاددلادیا ہے اور یہ قربانی ہے ان مجاہدین کی جو اصحاب بدر کے نقش قدم پر چل نکلے ہیں اور اس سال تو ان مجاہدین نے وادی میں غزوہ بدر کی یاد میں خوب البدر آپریشن کے نظارے دکھائے ہیں۔

مجاہدین نے مقبوضہ کشمیر میں یکم جون سے لے کر چار جون تک ’’غزوہ بدر‘‘ کی یاد میں ’’البدر آپریشن‘‘ مشن کے تحت پوری وادی میںانڈین فورسز کے خلاف دو درجن کے قریب جہادی کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کی تفصیل تاریخی حساب سے درج ذیل ہے:

یکم جون کے دن ہونے  والی کارروائیاں:

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مجاہدینِ جیش محمدﷺ کا رمضان آپریشن جاری ، جس کے تحت مجاہدین جیش محمد نے رمضان آپریشن کا تسلسل برقرار رکھا ہوا ہے۔ آج صبح بتاریخ یکم جون جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقہ عید گاہ کراسنک پلوامہ ٹاؤن میں CRPF183کی گاڑی کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا، جس میں موجود اہلکار شدید زخمی ہوئے اور ان کی حالت تشویشناک بتلائی گئی۔ اسی سلسلے میں مجاہدین جیش محمد نے مزید کاراوئی کرتے ہوئے سرینگر میں گرنیڈ حملہ کر دیا۔ بتایاگیا کہ سرینگر کے علاقہ ہری سنگھ سٹریٹ میں دہشتگرد بھارتی فورسز کے بنکر پر گرنیڈ حملہ کیا گیا جس سے متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور بعد ازاں قابض فورسز نے سارے علاقے کی گھیرا بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا مگر کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آیا۔ 

اسی دن کی تیسری کارروائی میں مجاہدین جیش محمد نے ضلع اسلام آباد (مقبوضہ کشمیر)کے علاقہ کھنہ بل میں CRPF اور پولیس کے ایک مشترکہ ناکہ پر گرنیڈ حملہ کیا. اس حملہ میںCRPF کے 4اورپولیس کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوگئے، جنہیں MMABمیموریل ہاسپٹل اننت ناگ میں علاج کے لیے لے جایا گیا ہے، اور دوCRPF اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

اس موقع پر دشمن نے مجاہدین کی یلغار سے بچنے کے لیے ہائی الرٹ جاری کیا ہوا تھا،اس کے باوجود مجاہدین نے دشمن کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا، اور رمضان آپریشن کے تحت کی جانے والی آج کے دن کی یہ ایک اور کاروائی ہوئی جس میں مجاہدین نے ترال ٹاؤن کے علاقہ ناؤدل میں وقع  CRPF  180 بٹالین کے کیمپ پرگرنیڈ حملہ کیااور پھر وہاں سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ تمام کارروائیاںایک دن کی ہے۔ پھر اگلے دن یعنی دو جون کو بھی مجاہدین جیش محمدﷺ نے البدر آپریشن کے تحت بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے بھارت سرکار اور بھارتی فوج کوحیران و پریشان کر ڈالا ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین جیش محمد کا رمضان آپریشن جاری۔ مجاہدین جیش محمد نے رمضان آپریشن کے تحت سترہ رمضان بمطابق دو جون کے دن کو ’’یوم بدر‘‘ کی یاد مناتے ہوئے یوم بدر کے طور پر منایا۔ مجاہدین جیش محمد کا خوف نہ صرف انڈین آرمی کے اعصاب پر سوار تھا بلکہ ہندوستانی حکومت بھی مجاہدین کی کاروئیوں سے نہایت درجہ خوف زدہ تھی۔ اسی لیے پہلے سے ہی پوری وادی میں ہائی الرٹ جاری کر دیاگیا تھا،جس کے تحت موبائیل و انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی تھی۔ تمام قسم کی ٹرانسپورٹ بھی بند رہی یہاں تک کہ ریل بھی نہیں چلائی گئی۔ اس کے علاوہ سرینگر شہر میں گزشتہ روزCRPF کی گاڑی کے نیچے روند کر شہید کیے جانے والے جوان کی میت کو لے کر پورا دن فورسز اور عوام کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔

ایسی صورت حال میں کسی کاروائی کو انجام دینا مشکل ہی نہیں بلکہ بظاہر ناممکن ہوتا ہے مگر جیش محمد کے جانبازوں نے اس انہونی کو بھی ہونی کر دِکھایا اور ایک نہیں بلکہ کئی کارروائیاں سرانجام دیدی۔ انہوں نے اپنی اس روش کو برقرار رکھتے ہوئے یوم بدر کے موقع پر بدر کی یاد تازہ کر دی۔ دشمن اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کو بروکار لاکر بھی مجاہدین کو کارروائیوں سے نہ روک سکے۔ پوری وادی کی سڑکیں ویران تھیں دوکانیں اور بازار بند تھے، سڑکوں پر صرف آرمی کی بکتر بند گاڑیاں گشت کر رہی تھیں ،جنہیں بغیر وارنگ کسی کو بھی گولی مارنے کا اختیار تھا۔  ایسے حالات میں خالی ہاتھ نکلنا بھی ناممکن تھا،چہ جائے کہ اتنی بڑی بڑی کاروئیاں کی جائیں۔ اتنی مشکلات کے باوجود ایسی کاروئیاں کرنے پر مجاہدین جیش محمد کو کشمیری قیادت نے بھرپور خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کیا۔

سترہ رمضان البدر آپریشن کارروائیوں کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ:

پہلی کاروئی :علاقہ فتح کدل سرینگر CRPF 82بٹالین پر گرنیڈ حملہ ۔

دوسری کاروائی :نزد بڈشاہ پل لال چوک سرینگر CRPFکی گاڑی پر گرنیڈ حملہ۔

تیسری کاروائی :ہری سنگھ ہائی سٹریٹ سرینگر پولیس کنٹرول روم پر گرنیڈ حملہ۔

چوتھی کاروئی :مومنہ آباد بٹ مالو سرینگر CRPFپرگرنیڈ حملہ.

ان کاروائیوں میں ایک گاڑی تباہ اور درجن سے زائد فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کے مرنے کی بھی اطلاع ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہ ہوسکی ہے۔

مقبوضہ وادی میں البدر آپریشن کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے مجاہدین جیش محمدﷺ تیسرے دن بھی یہ آپریشن جاری رکھا اورضلع پلوامہ کے علاقہ ترال کے گاؤں مندورہ میں واقع 42RRکے  کیمپ پر شیلنگ کی جس سے 1اہلکار ہلاک اورمتعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔

یہ کارروائیاں صرف یہیں پر ختم نہیںہوئیں بلکہ چوتھے دن بھی البدر آپریشن کے تحت کارروائی کی گئی۔ تفصیل کے مطابق مجاہدین جیش محمد نے نتھی پورہ سوپور میں پولیس کی گاڑی تباہ کر دی ۔ مجاہدین جیش محمد نے سوپورکپواڑہ روڈ پر واقع علاقہ نتھی پورہ میں مائن نصب کر رکھا تھا ۔

جب پولیس کی گاڑی وہاں سے گزری تو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اسے بلاسٹ کر دیا۔ زوردار دھماکہ دور دور تک سنا گیا۔ گاڑی تباہ ہو گئی ۔ گاڑی میں سوار متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا امکان ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے کوئی ایسی خبر تاحال موصول نہیں ہوسکی۔

یہ دو درجن بھر تمام کارروائیاں اس بات کا زندہ ثبوت ہیں، کہ مشرکین نے اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لیے جتنے بھی ہتھکنڈے کیے ہیں، وہ سب بے کار جارہے ہیں، اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر جس قدر بھی ظلم و ستم کیاگیا ہے ، اس کے باوجود کشمیری عوام بھارت کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کی تمام تر ہمدردیاں اسلام اور مجاہدین اسلام کے ساتھ ہیں۔

یہ صورت حال کشمیر کی تحریک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کے لیے جس قدر حوصلہ افزاء ہے ، وہیں یہ صورت حال اس تحریک سے بدگمانیاں رکھنے والوں اور اس تحریک کے خاتمے کے خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک زبردست طمانچہ اور مقام عبرت بھی ہے۔ کاش کہ کوئی سبق لے!!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online