Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

دو باتیں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 648 - Mudassir Jamal Taunsavi - Do Batein

دو باتیں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 648)

پیارے دوست شمس الدین!

تم نے پوچھا ہے کہ میں پہلے جہاد کی تیاری کروں یا دیگر نیک اعمال پر توجہ دوں؟

یہ سوال صرف تمہارا نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے دل میں اس قسم کی بات آتی رہتی ہے، تو سنو!

پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاد اور دیگر نیک اعمال میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس طرح کہ رات اور دن میں تضاد ہوتا ہے، کہ اگر رات ہوگی تو اس وقت وہاں دن نہیں ہوگا اور جہاں دن ہوگا تو اس وقت وہاں رات نہیں ہوگی، چنانچہ یہاں بھی ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اگر تم جہاد کا کام کروگے تو دیگر نیک اعمال نہیں کرسکوگے یا دیگر نیک اعمال کروگے تو جہاد کا کام نہیں کرسکو گے۔

اس لیے اگر ایسا سوچتے ہو کہ ان دونوں کاموں میں سے کوئی ایک کام ہوسکتا ہے اور دوسرا نہیں ہو سکتا تو یہ تمہاری بھول اور غلط فہمی ہے، اسے اپنے ذہن سے نکال دو۔

اب دوسری بات سنو!

 اگر کسی آدمی کو کسی پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کا شوق دِلا دیاجائے اور وہ اس کے لیے آمادہ ہوجائے تو کیا پھر اُسے چوٹی سے نیچے نیچے کے مراحل تک پہنچانے کے لیے اور ان کی اہمیت جتانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑے گی؟ ظاہر ہے کہ نہیں کیوں کہ جب کسی نے چوٹی تک پہنچنا ہے تو اسے ضرور نیچے کے تمام راستوں اور رُکنے کی جگہوں سے ہو کر آنا پڑے گا تبھی وہ چوٹی تک پہنچے گا اور اگر کسی کو چوٹی کی بجائے فقط نیچے نیچے کی کسی جگہ تک پہنچنے کی تیاری کرائی جائے اور پھر اسے چوٹی تک پہنچنے کا کہاجائے تو کیا اُسے پریشانی اور دِقت نہیں ہوگی؟بلکہ خطرہ تو یہ ہے کہ ایسا آدمی اس موقع پر بالکل ہی انکار کردے۔

ایسے ہی سمجھ لیجئے کہ جہاد فی سبیل اللہ اسلام کی چوٹی ہے، لوگوں کو اس چوٹی تک پہنچنے کا شوق دِلائیے، اس بلندی کو سر کرنے کا حوصلہ دیجیے، پھر دیکھئے کہ چوٹی تک پہنچنے کا عزم رکھنے والوں میں جو جومخلص ہوں گے وہ کس طرح ہر بلندی و پستی کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں گے، کیوں کہ ان کا ہدف سب سے بلند ترین چوٹی تک پہنچنا ہے اور وہ اس تک پہنچنے کے لیے ہر مشکل کو پھلانگ جائیں گے۔

یہ وہ حقیقت ہے کہ جس کے سبب نبی کریمﷺفرما رہے ہیں کہ ’’میں جہاد کے برابر کوئی عمل نہیں پاتا‘‘۔

قرآن کریم بھی اس کا اشارہ دیتا ہے:

’’اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور ڈرتے رہنا کا مقصد فقط یہ نہیں کہ اس سے دور بھاگو جس طرح کہ انسان کسی شیر وغیرہ کو دیکھ کر اس سے ڈر جاتے ہیں اور پھر اس سے دور بھاگنے کی جگہ تلاش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈرنا مطلوب نہیں ہے جس میں اس سے دوری ہو، بلکہ حکم یہ ہے کہ اس کا قرب تلاش کرو اورقرب کو پانے کے لیے اُس کی راہ میں جہاد کرو، تب قوی امید ہے کہ کامیابی تمہیں نصیب ہوجائے گی‘‘ (خلاصہ آیت سورۃ المائدہ)

اس لیے جہاد کا راستہ بڑا عظیم راستہ ہے، اور اس راستے پر چلنے والے سچے مجاہدکے لیے اللہ تعالیٰ ہر نیکی کے راستے ایسے آسان اور صاف فرماتے ہیں کہ وہ بڑی بڑی نیکیوں کے بڑے بڑے خزانے لوٹ لیتا ہے اور کیا یہ بات کم ہے کہ وہ جو نیکیاں کرنے کی خواہش رکھنے کے باوجود جہادی مصروفیت کی وجہ سے کر نہیں سکتا تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے ان نیکیوں کا اجر لکھ دیتے ہیں کیوں کہ جہاد کی وجہ سے مسلمانوں کو جو تحفظ اور دفاع نصیب ہوتا ہے اور اسی دفاع اور تحفظ کی وجہ سے مسلمان جس قدر بھی عبادات بھی کررہے ہوتے ہیں تو مجاہد اور مرابط ان کے اجر میں شریک رہتا ہے۔

اب خود اندازہ کر لو کہ یہ کتنی بڑی سعادت ہے اور اس سعادت کے حصول کے لیے انسان کو کس قدر کوشش کرنی چاہئے اور جب یہ سعادت حاصل ہوجائے

 تو پھر اس نسبت اور سعادت کو سنبھالنے کی بھی پوری کوشش کرنی چاہئے کیوں کہ شیطان کی اولین کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک مسلمان اس سعادت تک پہنچ ہی نہ سکے اور اگر کوئی پہنچ جائے تو پھر اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ سعادت اس کے پاس باقی نہ رہے پھر کبھی تو وہ اس سے ظاہری طور پ محروم کردیتا ہے اور کبھی باطنی طور پر کہ اخلاص چھین لیتاہے اور بندے کو اپنے اخلاص چھن جانے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

اب تم سمجھے ہوگے کہ جہاد کو صبر کا اعلیٰ درجہ کیوں کہا گیا ہے؟ یہاں ابتداء سے لے کر انتہاء تک مسلسل صبر آزما مرحلوں کا سامنا رہتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ کبھی کبھار پیش آنے والے صدموں اور تکلیفوں پر صبر کرنا بھی مشکل ہوتا ہے مگر جہاں مسلسل صبر آزما مراحل ہوں وہاں کا صبر کیوں نہ اعلیٰ و برتر ہوگا!!

اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے قدموں کو اپنے حق والے سیدھے راستے پر جمائے رکھے۔ آمین

٭…٭…٭

’’دین کی راہ میں جو قیمتی بن کر آتا ہے وہ بے قیمت ہوتا ہے اور جو بے قیمت بن کر آتا ہے وہ قیمتی بنا دیا جاتا ہے‘‘

من تواضع للّٰہ رفعہ اللّٰہ

جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے خود کو پست کر لیا تو اللہ تعالیٰ اُسے بلند فرمادیتے ہیں

یہ اٹل حقیقت ہے جو قرآن کریم کے ارشادات سے بھی واضح ہے اور اس درج بالافرمان نبوی سے بھی عیاں ہے۔

دین ان لوگوں کو قبول نہیں کرتا جو اپنی صلاحیت و کمال کے بل بوتے دین پر احسان رکھتے ہوں، جویہ سمجھتے ہوں کہ ہمارے کام کی وجہ سے دین نے ترقی کی، ہماری وجہ سے دین مضبوط ہوا، بلکہ دین ان کو قیمتی بناتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دین بھیجنے والے رب کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین کے کام کے لیے چن لیا، ہمارا دین پر کوئی احسان نہیں بلکہ دین کے اِحسانات ہم پر حاوی ہیں۔ بقول شاعر:

منت منہ کہ خدمت سلطاں می کنی

منت شناس او کہ بخدمت برداشتت

یہ احسان مت جِتلاؤ کہ تم بادشاہ کی خدمت کرتے ہو، بلکہ بادشاہ کااحسان مانو کہ اس نے تمہیں اپنی خدمت کا موقع فراہم کیا ہے۔

اسی لیے ایک شاعر نے ایک عاشق مہجور سے کہا کہ اگر محبوب کے ہاں پہنچنا چاہتے ہو تو خود کو اس کے سامنے بے قیمت بنا دو تاکہ وہ تمہیں خرید کرلے اور اس طرح تم اسے پاس پہنچ جاؤ، ورنہ اگر تم نے خود کو قیمتی بنائے رکھا تو عین ممکن ہے کہ وہ تمہاری بجائے کسی اور کو خرید لے۔

دین کے کام اور خصوصا جہاد کے کام سے وابستہ ہوجانے کے بعد اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے ورنہ خطرہ ہے کہ انسان کمزور پڑجائے اور شیطان و نفس اس پر حاوی ہوجائیں، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ وابستگی اختیار کی جائے تو پھر اسے توڑ تک نبھایاجائے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء بھی لامحدود ہے اور نعمتیں بھی، اور جب تک ہم اس دنیا میں ہے یہ آزمائش ساتھ لگی ہوئی ہے، اور حسن خاتمہ تک ہمیں اس آزمائش تک ہی رہنا ہے ، یہ سوچ تو بالکل ہی ختم کردیں کہ موت سے پہلے پہلے یہ آزمائش ختم ہوگی ، اور موت پر بھی تکلیف ختم نہیں ہوتی بلکہ آزمائش اور تکالیف کی انتہاء ہوگی’’حسن خاتمہ‘‘ پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں اپنے فضل سے حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online