Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

حفاظت کیجیے (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 649 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hifazat Kijiye

حفاظت کیجیے

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 649)

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں زندگی میں ایک بار پھر مکمل رمضان نصیب فرمایا۔ یقینا ہر مسلمان نے اس مہینے میں اپنی ہمت اور استعداد اور توفیق کے بقدر اس میں نیک اعمال کیے ہوں گے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی کی ہوگی۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرنے سے ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور نیکیوں کے بعد اگر ان پر شکر کیاجائے تو اس سے دوفائدے ہوتے ہیں:

مزید نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔

گزشتہ نیکیوں کی حفاظت رہتی ہے۔

اپنے نیک اعمال کی حفاظت کے لیے اہل علم نے چند چیزوں کو ملحوظ رکھنے کا ذکر کیا ہے، جو درج ذیل ہیں:

اخلاصِ نیت:

’’تمام نیک اعمال کی قبولیت اور حفاظت کی دارومدار اخلاص نیت پر ہے۔اس سے اعمال میں وزن وقدر پیدا ہوتی ہے۔ بعض سلف علماء کا قول ہے:’’بسا اوقات ایک چھوٹی سا عمل (درست) نیت کی وجہ سے عظیم بن جاتا ہے اور ایک بڑا عمل (خراب)نیت کی وجہ سے بے قیمت بن سکتا ہے‘‘  صرف وہی عمل اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول اور باقی رہ جاتا ہے جس میں رضائے الہی مقصود ہو۔ اگر نیت خراب ہوجائے،ریاکاری اور نمودونمائش مقصود بن جائے تو اچھے اور نیک اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ربَّانی ہے، اس شخص کی طرح جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے ، نہ آخرت پر۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کامینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اورصاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں ، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریا کو شرک اصغر کہا ہے۔ ریاکاری اورشہرت اعمال کی بربادی کا ایک اہم سبب ہے۔

طلبِ آخرت:

اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنی نیک اعمال کا مطلوب یوم آخرت کو بنائے اور دنیا میں اس کے بدلے کیلئے جلدی نہ کریں۔ کیونکہ دنیا کی زندگی اور اسکی مشکلات بہت ہی مختصر اور عارضی ہے جبکہ آخرت اور اس کی سختیاں مستقل و ابدی ہیں۔ اسلئے آخرت کی سختیوں سے نجات کی نیت سے نیک عمل کرنا چاہیے ۔دنیاوی غرض عمل کوباطل اور ضائع کرتاہے۔ فرمان الہٰی ہے:

ترجمہ: ’’جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔(وہاں معلوم ہو جائے گا کہ)جو کچھ انھوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیا میٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے۔‘‘

نیک عمل پر ہمیشگی اور گناہ سے بچنا

ایک نیک عمل کو جب شروع کیاجائے تو پھر اس کو جاری رکھنا چاہیے خواہ تھوڑا کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کو محبوب عمل، ہمیشہ ہونے والاعمل ہے۔ اس سے عمل کی حفاظت ہوتی ہے اور برائیاں مٹ جاتی ہیں۔ اگر نیک عمل کرکے چھوڑدیا جائے اور گناہ شروع کیاجائے تو اس سے وہ نیک عمل ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ظلم، لوگوں کا حق مارنا اور حرام خوری قیامت کی دن نیک اعمال سے محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آپﷺ نے ایک آدمی کا ذکر کیا ہے جو اپنے ساتھ نیک اعمال (فرائض ونوافل) کا ایک بڑا حصہ لے آیا ہوگا، لیکن اس کے ساتھ اس نے لوگوں کے حقوق بھی مارے ہوں گے۔ پس اس کی تمام نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں  گی جن کا حق اس نے مارا ہو۔ اور وہ خالی ہاتھ رہ کر جہنم  میں ڈال دیاجائیگا۔

نیک عمل پر غرور نہ کرنا بلکہ اس کی قبولیت کیلئے دعا واستغفار کرنا

انسان ہر نیک کام اللہ تعالی کی توفیق سے کرتا ہے اور شیطان اس کے عمل کو خراب کرنے کی ہر طرح کوشش کرتا ہے۔ جس میں ایک طریقہ  نیک عمل پر فخروغرور کرنا ہے۔ اپنی نیکی کو حقیر سمجھنا چاہیے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں اگر کسی وقت اپنے اعمال پر خودپسندی کا اندیشہ ہونے لگے تو ان تین چیزوں پر سوچو۔ اللہ وہ ہستی جس کی رضا پانے کی تم کو طلب ہے۔ وہ نعمتِ خلد(جنت) جو تمہاری مانگ ہے اور وہ سزا جس سے بچنے کیلیے تم یہ عمل کر رہے ہو۔جو ان تین چیزوں میں غور کرے، وہ اپنیعمل کو ناچیز جاننیلگیگا۔ اس لئے نیک عمل کے بعد اس کی قبولیت کیلئے دعا کرنا ضروری ہے۔ سیدنا ابراھیم اور اسماعیل علیہم السلام نے جب اللہ کی عبادت اور توحید کا مرکز کعبہ مشرفہ کو بنایا تو اس کے بعد بارگاہ الہی میں دعاکرنے لگے ،رَبَّنا تَقَبّل مِنّا  اے ہمارے رب یہ محنت ہم سے قبول فرما۔(سورہ بقرہ)۔ تکمیل حج کے بعد اللہ کا حکم ہے، وَاستَغفِرُو اللّٰہ نماز کے بعد بھی استغفار کا حکم دیاگیا ہے۔ اپنی نیکیوں پر فخروغرور کرنا مومن کا شیوا نہیں۔‘‘

یہ بات بالکل واضح ہے کہ کسی چیز کو بنانے میں عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ ٹوٹنے یا ضائع ہونے میں لمحے۔ٹھیک اسی طرح نیکی کمانے میں محنت و مشقت ہے جبکہ اسے ضائع کرنے میں آسانی حقیقت یہ ہے کہ اپنے دامن نیکیوں سے بھر لیتے ہیں لیکن اپنے دامن میں موجود ان سوراخوں سے لاعلم ہیں جن سے ہماری نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ رب ذوالجلال کے سامنے حاضری کے وقت ہم باالکل خالی کھڑے ہوں، اب بھی موقع ہے۔

جب تک زندگی باقی ہے، اور سانس چل رہی ہے تو مہلت باقی ہے اور وقت کو غنیمت بنایاجاسکتا ہے،اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اعمال کی نگرانی کریں اور اپنے چاک دامنوں کو رفو کریں تاکہ نیکیاں ضائع نہ ہوں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online