Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

مدارس کی بہاریں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 650 - Mudassir Jamal Taunsavi - Madaris ki Baharein

مدارس کی بہاریں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 650)

ہمارے ہاں دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ماہِ رمضان کے بعد شوال کے مہینے سے ہوتا ہے، اور دس شوال سے لے کر تقریبا پچیس شوال تک عموما مدارس میں داخلے جاری رہتے ہیں اور اسی وجہ سے اس وقت ملک بھر کے دینی مدارس میں قدیم وجدید طلبہ کی جوق در جوق آمد سے رونقیں بحال ہوچکی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سخت گرمیوں کے اس موسم میں بہار شروع ہوچکی ہے۔

والدین شوق سے اپنے بچوں کو لارہے ہیں، ہر عمر کے بچوں میں سے کوئی مسکراتا تو کوئی نئے ماحول اور گھر والوں سے جدائی کے غم میں آنکھوں میں آنسو لیے، مدارس میں چہل پہل کر رہے ہیں، دینی مکتبوں پر دین کتب کی خریداری کا ایک سماں بندھا ہوا ہے، اساتذہ کرام اپنے اپنے اسباق کی روشنی میں ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ تعلیم و تربیت کے منصوبے بنارہے ہیں، مدارس کی انتظامیہ طلبہ اور اساتذہ وغیرہ کی ضروریات پوری کرنے لیے اپنی تگ و دو اور غور وفکر کا عمل شروع کرچکے ہیں، اور یوں محسوس ہورہا ہے جیسا کوئی ٹرین ایک جگہ ساکت و جامد ہوجانے کے بعد وِسل بجا چکی ہو جس کی وجہ سے پورے پلیٹ فارم پر ایک ہلچل سی مچ گئی ہے اور نئی زندگی کی روح پھونک گئی ہے۔ امت اسلامیہ پر دینی مدارس کے بہت سے احسانات ہیں، چنانچہ بعض اہل علم نے اس موضوع کو سمیٹتے ہوئے بہت خوب تحریر کیا ہے :

’’امتِ اسلامیہ پر مدارس کا احسانِ عظیم

جس طرح ایک انسان اپنی زندگی کی بقا کے لیے خوراک اور پوشاک کو ضروری خیال کرتا ہے، اسی طرح ایک حقیقی مسلمان اپنی اسلامی شناخت، تہذیبی خصوصیات اور معاشرتی امتیازات سے وابستگی اور اپنے ملی وجود کی حفاظت کو اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت دیتا ہے، وہ کسی دام پر اپنے ملی تشخص او راپنے امتیازات وشعائر سے دستبردارنہیں ہوسکتا؛ چونکہ خوراک سے پیٹ اور پوشاک سے جسم کی حفاظت توہوسکتی ہے؛ لیکن ایک حقیقی مسلمان کے پاس اس کے پیٹ او رجسم کے ان تقاضوں اور ان مادی ضرورتوں کے علاوہ بھی ایک اہم چیز اور بھی ہے، وہ ہے اس کاد ین اور ایمان۔

مسلمان بھوکا تو رہ سکتا ہے؛ لیکن وہ اپنی تہذیبی خصوصیات سے دستبردار نہیں ہوسکتا، اگروہ اس دین میں رہے گا تو اپنی ان تمام خصوصیات کے ساتھ ،آج پوری دنیامیں مسلمانوں کو بحیثیت ایک ملت کے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آج ہمارا دشمن ہمارے ملی وجود اور تہذیبی خصوصیات کو چن چن کر ختم کرنے پر تلا ہوا ہے، اگر آج اسلام اپنی تمام خصوصیات وامتیازات کے ساتھ نظر آرہا ہے، تو وہ انھیں مدارسِ عربیہ کے زیر احسان، شہر شہر ، گلی گلی، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی جو مساجد آباد نظر آرہی ہیں، مختلف تحریکوں کی شکل میں مسلمانوں کی اخلاقی واعتمادی اور معاشی اصلاح کا جو جال ہرسمت بچھا ہوا ہے، یا کسی بھی جگہ دین کا شعلہ یا اس کی تھوڑی سی رمق اور چنگاری سلگتی ہوئی نظر آرہی ہے وہ انھیں مدارس کا فیضِ اثر ہے، اگر ان مدارس کا وجود نہ ہوتا تو آج ہم موجود ہوتے؛ لیکن بحیثیت مسلم نہیں؛بلکہ ان حیوان نما انسان کے ان تمام درندہ صفت خصوصیات کے ساتھ۔

ہندوستان میں عوامی نذرانے پر چلنے والے موجودہ شکل کے مدارس کی ابتدائی تحریک کا جائزہ لیجیے کہ کن اسباب ومحرکات کے تحت اس نظام کے حامل مدارس کا آغاز ہوا؟ دراصل اس وقت بھی یہی صورت حال تھی کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے زمامِ اقتدار چھن چکا تھا، انگریزی قوم یہاں کے ہر سیاہ وسفید کی مالک ہوچکی تھی، اگر انھیں مستقبل میں اپنے اور اپنے اس آمرانہ حکمرانی کے بیچ کو ئی چیز سب سے بڑی رکاوٹ اور حائل نظر آرہی تھی تو وہ یہاں کی غیور، باحمیت اور زندہ دل مسلمانوں کی تھی، چونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ مسلمانوں کو ان کی موجودہ خست وذلت سے نکال کر انھیں رفعت وبلندی کے اوجِ ثریا پر کوئی چیز پہونچاسکتی ہے تو وہ ہے، ان کا ایمان وایقان اور ان کی دینی حمیت۔

 انہو ں نے اس کے لیے حکومت کے ماتحت چلنے والے تمام تعلیمی اداروں کے نصاب ونظام میں حذف واضافہ شروع کردیا، اس نصابِ تعلیم کی تبدیلی اور ترمیم کا راست اثر مسلمانوں کے ایمان وعقیدہ پر ہورہا تھا، وہ اپنی تہذیبی خصوصیات سے دستبردار ہوکر بحیثیت قومِ مسلم کے اپنا وجود کھورہے تھے، اس وقت بھی مدارس ومکاتب کی اسی تحریک ہی کے ذریعہ اسلام کا بچاوء ممکن ہوسکا۔

مدارس کی اہمیت وضرورت اور مسلم معاشرے پر ان کے احسانِ عظیم کا تذکرہ کرتے ہوئے، علامہ سید سلیمان ندویؒرقمطراز ہیں:ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ عربی مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے، کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہوگی اس سے بڑھ کر ہوگی، یہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کی طرح کل بھی عہدوں اور ملازمتوں کے پھیر اور اربابِ اقتدار کی چاپلوسی میں لگے ہوں گے اور یہی دیوانے آج کی طرح کل بھی ہوشیار رہیں گے؛اس لیے یہ مدارس جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، ان کا سنبھالنا، اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فریضہ ہے، اگر ان عربی مدرسوں کا کوئی دوسراہ فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں، اور ان سے فائدہ اٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اور اونچا ہوتا ہے اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اونچی ہوتی ہے، اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے، غور کی نظر اس نکتہ کو پوری طرح کھول دے گی۔

حکیم الامت حضرت مولاناتھانویؒان مدارس کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں: اس وقت مدارسِ علوم دینیہ کا وجود مسلمانوں کے لیے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں، دنیا میں اگر اسلام کے بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں۔( حقوق العلم)

حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒیوں فرماتے ہیں:یہی کہفی مدارس تھے(علماء اور طلباء کے نسبت مولانا کی خصوصی اصطلاح) جنہوں نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خواہ ان کی تعداد جتنی بھی کم ہے، اعتقادی واخلاقی گندگیوں سے پاک رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ (الفرقان، افاداتِ گیلانی نمبر بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ )

یہ مدارس معاشرے کو کیا دے رہے ہیں؟

یہ ایسی واضح اور روشن حقیقت ہے کہ جس کا معاشرے کے حقیقی احوال سے ناواقفیت یا ایسا شخص ہی منکر ہوسکتا ہے جس نے جان بوجھ کر ان احوال سے آگہی کے باوجود اس سے آنکھیں موند لینے کی ٹھان لی ہو کہ دین کا بقاء وتحفظ، اسلامی اقدار وروایات کی پاس وحرمت، مسلمانوں کی اپنی شریعت کے ساتھ سچی وابستگی وعقیدت اور پورے معاشرے کے اصلاح ودرستگی کا اگر کوئی کام انجام دے رہے ہیں تو یہی مدارس ہیں۔

جو کسی نہ کسی طریقے سے اصلاحِ امت اوربھلائی کے فروغ کے سارے کاز کو اپنے ناتواں کندہوں پر اٹھا ئے ہوئے ہیں، اور یہ مسلم معاشرے کی اسلام کے ساتھ حقیقی ربط وضبط کی برقراری کے لیے تمام ضروریات کی تکمیل(جن میں مساجد کے لیے عملی صلاحیت کے حامل مقررین ، اسلامی تعلیمات کی تدریس کے لیے مدرسین واساتذہ کی فراہمی، امتِ مسلمہ کے مختلف مسائل اور اس کے اسلامی حل کے لیے دارالافتاء کے قیام اور اس کے لیے باصلاحیت صاحبِ بصیرت اور دوررس نگاہ مفتیان عظام کے نظم اور امت کے اصلاح کے کاز کو تصنیف وتالیف، دعوت وتبلیغ، وعظ وارشاد اور خانقاہی نظام کے ذریعے انقلاب برپا کرنے والے شامل ہیں)میں پوری تندہی کے ساتھ بغیر کسی شور وشغب اور پروپیگنڈے کے مصروفِ عمل ہیں۔

معاشرے کی دینی ضروریات کی تکمیل میں مدارس کی حیثیت اس کسان کی سی ہے جو زمین کے ہموار کرنے، فصل کے اگانے، کٹائی سے لے کر اس غلہ اور اناج کے مارکٹ پہونچنے تک اپنی ساری توانائی اور قوت اس کے پیچھے صرف کرتا ہے، جو غلہ تمام انسانوں کی آسودگی اور بھوک مٹانے کا سبب بنتا ہے، دین کے تمام شعبوں کو زندہ، بیدار اور متحرک رکھنے میں مدارس کی یہی مثال ہے۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online