Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

تیراکی…سیکھواور سِکھاؤ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 651 - Mudassir Jamal Taunsavi - Tairaaki Seekho Sikhao

تیراکی…سیکھواور سِکھاؤ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 651)

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے:

’’دارالعلوم دیوبند کی قدیم عمارت نودرہ کے عقب میں ایک عظیم الشان دارالحدیث تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی ، اس کے لیے بڑی گہری بنیادیں نودرہ کی عمارت سے متصل کھودی گئیں، اتفاقِ وقت سے بڑی تیز بارش ہوئی اور کافی دیر تک رہی ، یہ زمین کچھ نشیب میں تھی ، بارش کے پانی سے ساری بنیادیں لبریز ہو گئیں، دارالعلوم کی قدیم عمارت کو خطرہ لاحق ہو گیا، فائز بریگیڈ انجنوں کا زمانہ نہیں تھا اور ہوتا بھی تو ایک قصبہ میں کہاں؟

حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کو اس صورت حال کی اطلاع ملی تو اپنے گھر میں جتنی بالٹیاں اور ایسے برتن تھے، جن سے پانی نکالا جاسکے، سب جمع کرکے حضرت کے مکان پر جو طالب علم اور دوسرے مریدین جمع رہتے تھے، ان کو ساتھ لے کر ان پانی سے بھری گہری بنیادوں پر پہنچے اور بدست خود بالٹی سے پانی نکال کر باہر پھینکنا شروع کیا، شیخ الہند رحمہ اللہ کے اس معاملہ کی خبر پورے دارالعلوم میں بجلی کی طرح پھیل گئی، پھر کیا پوچھنا، ہر مدرس اور ہر طالب علم اور ہر آنے جانے والا اپنے اپنے برتن لے کر اس جگہ پہنچ گیا اور بنیادوں کا پانی نکالنا شروع کیا، احقر بھی اپنی قوت وحیثیت کے مطابق اس میں شریک تھا، میں نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں یہ سارا پانی بنیادوں سے نکل کر کیچڑ رہ گیا تو اس کو بھی بالٹیوں سے صاف کیا گیا۔ اس کے بعد ایک قریبی تالاب پر تشریف لے گئے اور طلبہ سے کہا کہ اس میں غسل کریں گے ، حضرت رحمہ اللہ اول عمر سے سپاہیانہ زندگی رکھتے تھے، پانی میں تیراکی کی بڑی مشق تھی، حضرت کے ساتھ طلبہ بھی جو تیرنا جانتے تھے وہ درمیان میں پہنچ گئے، مجھ جیسے آدمی جو تیرنے والے نہ تھے کنارے پر کھڑے ہو کر نہانے لگے ، یہ واقعہ تو خود احقر نے دیکھا او ر سیروشکار میں طلبہ کے ساتھ بے تکلف دوڑنا بھاگنا، تالابوں میں تیرنا یہ عام معمول زندگی تھا، جس کے بہت سے واقعات دوستوں اور بزرگوں سے سنے ہیں۔ ‘‘(چند عظیم شخصیات۔ بقلم مفتی محمد شفیع صاحبؒ)

معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند جس طرح وقت کے بلند پایہ مفسر اور محدث اور پیر و مرشد تھے وہیں ان کے یہ اوصاف بھی تھے:

اول عمر سے سپاہیانہ طرز زندگی

پانی میں تیراکی کی بڑی مشق

بے تکلف بھاگنا دوڑنا

تالابوں میں تیرنا

ایسا ہی مضمون حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی سوانح میں بھی اہتمام کے ساتھ درج کیا جاتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے بہت سے اَکابر جہادی ورزش میں عموماً اور تیراکی میں خصوصاً مہارت حاصل کیا کرتے تھے۔

اس وقت دنیا میں ورزش کی جتنی بھی شکلیں ان میں سب سے بہتر صورت تیراکی ہے اور اس پر تقریبا تمام اطباء کا بھی اتفاق ہے کہ تیراکی سے زیادہ مفید ورزش کوئی نہیں ہے۔ حتی کہ آپ حیران ہوں گے اس وقت کئی ممالک میں بچوں کی ایک معین عمر تک اُن کے لیے تیراکی کا سیکھنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

تیراکی کا تعلق آپ کی اپنی ذات سے بھی ہے اور آپ کے بچوں سے بھی۔

یہ ایک دینی ذمہ داری کا عنوان بھی ہے اور حقوق العباد کا حصہ بھی۔

نبی کریمﷺ کایہ فرمان قابل غور ہے:

’’اللہ تعالیٰ کے ہاں طاقت وَر مومن زیادہ بہتر اور محبوب ہے کمزور مومن سے، اگرچہ بھلائی دونوں میں ہی موجود ہے۔ (اے بندہ مومن)تو اپنے لیے نفع مند چیزوں کا شوقین بن ، اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور سست مت بن!‘‘ (صحیح مسلم)

اس حدیث مبارک سے چار باتیں صاف صاف معلوم ہورہی ہیں:

(۱)اللہ تعالیٰ کے ہاں محبت پانے کے لیے جس طرح عبادات ضروری ہیں، اسی طرح عبادات کی اچھی ادائیگی کے لیے اپنی جسمانی قوت و طاقت بڑھانا بھی ضروری ہے۔

(۲)بندہ مومن کو اپنے نفع کی چیزوں کا حریص اور شوقین رہنا چاہئے۔ خواہ وہ نفع براہ راست آخرت کا ہو یا ظاہری طور پر تو دنیا کا ہو مگر آخرت کے لیے بھی وہ نفع مند ہو۔ براہ راست آخرت کا نفع جس طرح کہ نماز پڑھنا، ذکر کرنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا، وغیرہ عبادات اور ایسا نفع جو ظاہراً تو دنیا کا ہو مگر حقیقت میں آخرت کا ہوجس طرح کہ تیر اندازی سیکھناجس کے سبب انسان اپنے جانی دشمن سے بچاو کرسکتا ہے مگر اس میں آخرت کا بھی نفع ہے کہ اس کی بدولت جہاد میں شرکت کی ہمت اور حوصلہ پیدا ہوگا اورجہاد کے میدان میں جب تیر اندازی کرے گا تو اس کی وجہ سے آخرت میں اُس ثواب کا مستحق ہوجائے گا جو اللہ کے نبیﷺ نے اس پر بیان فرمایا ہے ۔ بعینہ یہی مثال تیراکی کی ہے، جس میں بظاہر تو دنیا کا نفع ہے کہ اس سے صحت اچھی ہوتی ہے، بیماریاں دور ہوتی ہیں، جسم تندرست و توانا ہوتا ہے مگر اس سے آخرت کے فوائد بھی جڑے ہوئے ہیں، جب جسم توانا ہوگا توعبادات میںچستی بھی ہوگی اور بکثرت عبادات پر قادر بھی ہوگا، ذہنی دباؤ کم ہوگا تو ذکر کی لذت اور ذکر میں یکسوئی کی دولت ہاتھ آئے گی اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ اکثر اولیائے کرام نے اپنے ڈیرے اس جگہ لگائے جہاں قریب میں کوئی نہر یا دریا ہوتا ہو۔

الغرض اپنے نفع کی چیزوں کا حریص اور شوقین ہونا یہ کوئی بُری بات نہیں ہے بلکہ نبی کریمﷺ نے اس کا باقاعدہ حکم دیا ہے اور تیراکی کا نفع مندہونا ایک مسلّم حقیقت ہے تو لازم ہواکہ ایک بندہ مومن کو تیراکی کا بھی حریص اور شوقین ہونا چاہئے۔

(۳)اپنے نفع مند چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیاکرو۔ اب اسی تیراکی کے عمل کو ہی دیکھ لیجئے کہیں تو یہ عمل مفت میں سیکھاجاسکتا ہے جب کہ بہت سے مقامات پرایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے مال بھی خرچ کرنا پڑے۔ خصوصاً اس دور میں جب کہ شہری آبادیوں میں براہ راست نہروں اوردریاوں سے پانی حاصل کرنے کے بجائے موٹر پمپ، سرکاری ٹیوب ویل، سرکاری پانی کے ٹینک وغیرہ سے پانی کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں جس کے سبب شہری آبادی کے لاکھوں لوگ نہر اور دریا کے کنارے پر کھڑے ہوکر اسے تفریح کی نظر سے دیکھنا کافی سمجھتے ہیں اور کوئی شہروں کے آس پاس یا ایسے دریا موجود نہیں ہیں اور اگر موجود ہیں تو دورہونے کے سبب وہاں پہنچنا مشکل اور اگر وہاں پہنچ بھی جائیں تو سیکھانے کے لیے کوئی میسر نہیں ہوتا۔

ان حالات میں یہ تیراکی مفت سیکھنے کی کوئی صورت نکل آنا کافی مشکل ہوچکا ہے۔ اب تو بظاہر کچھ نہ کچھ مال خرچ کرکے ہی یہ عمل سیکھا جا سکتا ہے تو بندہ مومن کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کام میں مال خرچ کرنا پڑے تو کر لے اگر وہ مخلص ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرمائیں گے اور اس کی ضروریات کا بندو بست فرمادیں گے۔

پھر بسا اوقات مالی مشکلات تو نہیں ہوتیں مگر دل میں موجود خوف اور ڈر اس عمل کے قریب جانے سے روکتا ہے تواس کا علاج بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر آگے بڑھنا چاہئے، جو کام اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر شروع کیا جائے تو اس میں ناکامی نہیں ہوتی۔ اس لیے مسلمان بھائیو! اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے آگے بڑھو، اس کی مدد کے ہوتے ہوئے تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، وہی ہمارا حامی و ناصر ہے، اور اس کی حمایت ونصرت ہمارے لیے کافی ہے۔

(۴)اور تم سست اور کم ہمت مت بنو۔ یہ اس حدیث میں بیان کیا گیا آخری حکم ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک مومن جب کسی بھی عمل کے فضائل اور فوائد سنتا ہے تو اس وقت فوراً اس کے دل میں اس عمل کے لیے ایک جذبہ اور ولولہ سا پیدا ہوجاتا ہے مگر فوری طور پر کوئی عملی قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے پھر سستی چھاجاتی ہے اورکم ہمتی آڑے آ جاتی ہے۔ اس لیے نبی کریمﷺ نے حکم دیاکہ :’’تم سست اور کم ہمت مت بنو‘‘۔ مسلمان کو چست اور باہمت اور حوصلہ مند ہونا چاہئے۔

آج کتنے ہی مسلمان ایسے ہیں جو خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی نہر اور دریا کے قریب بھی نہیں جانے دیتے اور اگر سیر و تفریح کے لیے چلے جائیں تو کناروں سے بھی دور دور رکھتے ہیں۔ یہ سب کم ہمتی کی وجہ سے ہے، جو مسلمان کی شان کے لائق نہیں ہے۔

اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو کم از کم یہ ہدایات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذہن میں بٹھا لیں:’’تم اپنے نفع کی چیز کے حریص بنو، پھر اسے حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور مردانہ وار اس کے حصول میں لگ جاو، سست اور کم ہمت مت بنو۔ ‘‘

٭…٭…٭

تیراکی کے چند اہم ترین فوائد درج ذیل ہیں:

یہ بہترین ورزش ہے۔

اس سے پورا جسم متحرک ہوتا ہے اور دوران خون میں بہتری آتی ہے۔

سانس کی تکلیفیں دور ہوتی ہے۔

موٹاپا کم ہوتا ہے اور موٹاپے کی وجہ سے لاحق بیماریاں دور ہوتی ہیں۔

خود اعتمادی اور قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

جوڑوں کے اَمراض سے بچاؤاور نجات کے لیے بہترین ہے۔

انسانی پٹھے اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں۔

ٹینشن اور غم دور ہوتے ہیں۔ ذہنی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔

نظام ہضم درست ہوتا ہے ۔

سب سے اہم بات یہ کہ یہ ہمارے دین کے لیے معاون ہے۔ جہاد کی تیاری کا اہم ترین رکن ہے۔ جہادی تیاری کے تمام فضائل اس سے حاصل ہوتے ہیں۔ بچوں کوسکھانے سے یہ عمل ہمارے لیے بہترین صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ خود سیکھئے تاکہ آپ کی زندگی میں یہ عمل آپ کے نامہ اعمال میں درج ہو اور بچوں کوبھی سکھائیے تاکہ موت کے بعد بھی آپ کا یہ اجر جاری رہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online