Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

نفل قربانی…الرحمت کے نام (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 652 - Mudassir Jamal Taunsavi - Nafal Qurbani

نفل قربانی…الرحمت کے نام

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 652)

ماہ ذیقعدہ شروع ہوچکا ہے۔ ایک طرف حج پر جانے والے مسلمانوں نے تیاریاں پکڑ لی ہیں تو دوسری جانب ماہ ذی الحجہ میں قربانی کا عمل سے محبت رکھنے والوں نے بھی ابھی سے قربانی کے لیے اچھا جانور خریدنے یا اچھی جگہ اپنی قربانی کا جانور اور اس کا گوشت پہنچانے کے لیے غور وفکر شروع کر دیا ہے۔

قربانی بلاشبہ ان افضل ترین اعمال میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کو بے حدپسند ہیں۔ حضرت امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ نے بہت ہی پیاری بات فرمائی ہے کہ:

اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح ہونا بھی سعادت اور ذبح کرنا بھی

جو جانور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح ہوتے ہیں وہی حلال قرار پاتے ہیں اور اگر قربانی کے مخصوص ایام میں ذبح ہوں تو اس سے افضل عمل کوئی نہیں ہوتا اور جو یہ عمل کرتے ہیں وہ افضل لوگوں میں سے شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے جو جانور اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح ہوا وہ بھی سعادت مندہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا وہ بھی بڑی سعادت لے گیا۔

مسلمان ہمیشہ سے قربانی کے دلدادہ اور عاشق چلے آئے ہیں، اب بھی وہ غریب مسلمان نظر آجاتے ہیں جن پر قربانی واجب بھی نہیں ہوتی لیکن عشق ومحبت میں ڈوب کر وہ کسی نہ کسی طرح بہرحال قربانی کا بندوبست کرہی لیتے ہیں۔ اس لیے اگرچہ موجودہ حالات میں مہنگائی، غربت، کرپشن، لوٹ مار، ناروا احکامات کی بدولت قربانی کرنے میں بھی پریشانیوں کا سامنا ہے مگر ایمان کا امتحان تو ہوتا ہی مشکل کے وقت ہے، جب کسی کام کوکرنے میں نہ ملیں تو اس وقت اس کام کے کرنے والوں کو اجرت اورمزدوری بھی بڑی دی جاتی ہے۔ ایسا ہی سمجھ لیں کہ مشکل حالات میں دینی شعائر کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنا عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ اجروثواب اورعزیمت والا عمل ہے۔

رہی یہ بات کہ نفل قربانی کیا ہے؟

تو یاد رکھئے کہ واجب قربانی کے علاوہ جو قربانی بھی کی جائے وہ بنیادی طور پر نفل ہی ہوتی ہے ، حتی کہ یہ نفل قربانی وہ شخص بھی کرسکتا ہے جس پر قربانی واجب ہے اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ وہ ایک قربانی واجب اداء کرنے کی نیت سے کرے اور دوسری قربانی میں نفل کی نیت کرلے اور ظاہر ہے کہ اصحاب خیر کیلئے دو دو قربانیاں کرنا کیا مشکل ؟؟

خاص کر عصرحاضر میں جبکہ مسلمان مختلف مصائب کاشکار ہیں اور قربانی کے عمل سے ان کی متعدد بھلائیاں نصیب ہوسکتی ہیں تو نہایت مناسب ہوگا کہ اس عمل کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کو، انہوں نے ایک اہم اسلامی عمل قربانی کو بے حد فائدہ مند بنانے کے لیے ایسا مبارک سلسلہ شروع فرمایا جس کے اثرات سے مسلمانوں کے کئی طبقات بھرپور نفع اٹھارہے ہیں اور اہل خیر اس کے دوررس اثرات کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

وقف قربانی: کی حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی واجب قربانی کے علاوہ نبی کریمﷺ،حضرات اہل بیت کرام، حضرات صحابہ کرام یا اپنے بڑوں، رشتہ داروں وغیرہ کے ایصال ثواب کے لئے نفل قربانی کرتے ہیں تووہ یہی نفل قربانیاں الرحمت کو جمع کرا دیں  تاکہ یہ قربانیاں مستند علماء کرام کی زیرنگرانی بہت سے ان افراد تک پہنچادی جائیں جوکچھ خاص نسبت بھی رکھتے ہوں اوران میں قربانی کی استطاعت بھی نہ ہو۔ مثلاً محاذوں اورجہادی مراکز میں موجود جانباز، شہداء کرام کے پس ماندگان، اسیران وغازیان کے گھرانے، دینی مدارس، آفت زدہ مسلمان وغیرہ

الرحمت آپ سے جو نفل قربانیاں اس سال جمع کررہا ہے تو یہ بھی جان لیجئے کہ ان قربانیوں کے مصارف کون سے ہیں؟ اور ان کی قدر وقیمت کیا ہے؟ اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟ اس پر قدرے مفصل روشنی ڈالتے ہیں تاکہ اس الرحمت قربانی مہم کی اہمیت واضح ہو سکے۔

میدانِ عمل اورجہادی مراکز:

اس حقیقت سے کون سا مسلمان ناواقف ہے کہ جہاد اسلام کا ایک اہم ترین فرض ہے، جو قیامت تک باقی رہنا ہے، نہ اب اسے کوئی مسنوخ کرسکتا ہے اور نہ ہی اس میں تاویلات کرکے اسے ناقابل عمل قراردے سکتا ہے۔ جہاد میں جان اورمال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے، اس جہاد سے اسلام کی ترویج اور نشر واشاعت وابستہ ہے اوراسی جہاد سے مسلمانوں کا تحفظ اوردفاع بھی وابستہ ہے۔ قرآن مجید نے بڑی وضاحت سے یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ اگر امت مسلمہ جہاد میں مالی قربانی پیش نہیں کرے گی تو وہ ہلاک ہو جائے گی ، اس کے برعکس اگر امت مسلمہ جہاد میں مال خرچ کرے گی تو یہ خود اپنی امت پر بھی احسان ہوگا بلکہ پوری انسانیت پر احسان ہوگا، کیوں کہ جہاد کی برکت سے امت مسلمہ کو تحفظ ملے گااور دوسرے انسانوں تک اسلام کی روشن کرنیں پہنچیں گیںاور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں احسان ہی ہیں بلکہ بڑے درجے کا احسان ہیں اور ایسے محسنین کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا انعام ملتا ہے۔اب اس راہ میں مال خرچ کرنے کی مختلف صورتیں ممکن ہیں، انہی میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنی نفل قربانی ان مجاہدین تک پہنچا دی جائے یا ان افراد تک پہنچادی جائے جو محاذ کے علاوہ دیگر جہادی مراکز میں موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے الرحمت قربانی مہم آپ کے لیے اسی صورت کو ممکن بناتی ہے اور آپ کی قربانیوں کو ان جانبازوں تک پہنچاتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے جہادی میدانوں میں ڈٹے ہوئے ہوتے ہیں، آپ کی بھیجی ہوئی قربانی ان کے لیے کس قدر خوشی اور نفع کا باعث بنتی ہوگی؟ اس کا آپ خود ہی اندازہ لگالیں اور پھر سوچ لیں یہ مہم کس قدر قیمتی ہے جو جانبین کو ایسا فائدہ پہنچا رہی ہے؟

شہداء کرام کے پس ماندگان:

شہید کا امت پر یہ احسان ہوتا ہے کہ وہ اس امت اورامت کے دین کی خاطر اپنی جان قربان کرتا ہے، وہ اپنے گھربار اوربیوی بچوں سے دوری برداشت کرتا ہے، وہ اپنے کاروبار وتجارت سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے، مشکل ترین حالات کا سامنا کرتا ہے، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، وہ دشمن کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیتا ہے۔ ایسے محسنین کے پس ماندگان کی دیکھ بھال یقینا ہماری ذمہ داری ہے، خوشی کے مواقع پر انہیں خوشی فراہم کرنا کس قدر اونچا کام ہے اورغم کے مواقع پر ان کے غم کو ہلکا کرنا کتنی بڑی نیکی ہے؟ اب آپ دیکھیں کہ الرحمت کی قربانی مہم کی طرف سے جب آپ کی جمع کرائی ہوئی قربانی اُن تک پہنچے گی تو یہ تینوں ذمہ داریاں اس کے ضمن میں اداء ہوجائیں گی: اگر وہ قربانی کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے تو اس کا جو غم ہوگا وہ دور ہوجائے گا، قربانی کی خوشی میں وہ بھی شریک ہوجائیں گے اور اس طرح انہیں عدم توجہ کی شکایت بھی نہ رہے گی اور یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ مسلمان ان کی دیکھ بھال کررہے ہیں اوروہ ان سے غافل نہیں ہیں اورنہ ہی انہیں بھلاچکے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی خوشی کا کیا ٹھکانہ ہوگا؟ اوران کے دلوں سے کیسی مخلصانہ دعائیں آپ کو پہنچیں گی؟

اسیران وغازیان ورضاء کار:

اسیر وہی جو دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں قید ہوگئے۔ آج ان میں سے کچھ انڈیا کے مشرکین کی قید میں ہیں، کچھ صلیبی افواج کے زندانوں میں اور کچھ اپنوں کی جیلوں میں ناحق بند ہیں۔ ان کو لگی بیڑیاں کسی چوری اورڈاکے کے جرم میں نہیں بلکہ صرف یہی جرم کہ وہ ان دشمنانِ دین کے سامنے سرنگوں کیوں نہ ہوئے؟ انہوں نے ان دشمنانِ اسلام سے ٹکر کیوں لی؟ اگرچہ یہ جرم نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے اوراسی لیے یہ اسیران اس قید وبند کو ایک اعزاز سے کم نہیں سمجھتے۔ لیکن کیا ان اسیران کے گھرانوں کی دیکھ بھال اوران کے ساتھ تعاون ہمیں نہیں کرنا چاہئے؟ کیا ہم انہیں بھلا دیں؟ ہرگز نہیں! انہیں یاد رکھا جاتا ہے اور الحمد للہ! الرحمت کی طرف سے عیدِ قربان کے موقع پر قربانی بھی انہیں پہنچائی جاتی ہے جس سے اس کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم اپنے اسیران سے بے وفائی کرنے والے نہیں۔

غازی وہ ہوتے ہیں جنہوں نے جہادی میدانوں میں دادِ شجاعت دی اور رضاء کار وہ ہوتے ہیں جو ان دینی خدمات کے لیے اپنا وقت اوراپنی صلاحیتیں خرچ کرتے ہیں۔ ان میں سے بھی بہت سے افراد بذات خود قربانی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے یا ان خدمات میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس قدر کمائی بھی نہیں کرسکتے کہ اس کی آمدن سے ان پر قربانی واجب ہوجائے ، ایسے میں الرحمت انہیں بھی قربانی کی خوشیوں میں شریک بناتی ہے اور الرحمت کے پاس جمع ہونے والی قربانیوں میں انہیں حصہ دیاجاتا ہے جس سے عید کے دنوں میں ان کے گھرانوں میں بھی خوشی کا ایک سماں ہوتا ہے اوریہ لوگ بخوشی اور اطمینان سے اپنی دینی خدمات میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔

دینی مدارس:

ہمارے ملک میں جتنے بھی دینی مدارس ہیں، اْن میں سے شاید ہی کوئی ایسا مدرسہ ہوجو قربانی کے موقع پر کسی نہ کسی مہم میں مصروف نہ رہتا ہو۔ کہیں اجتماعی قربانی اگر وہ نہ ہو تو چرمِ قربانی مہم تو ضرور ہی چلائی جاتی ہے۔ الرحمت بھی اس سلسلے میں دینی مدارس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی ہے۔ بہت سے دینی مدارس الرحمت کے زیرانتظام قائم ہیں، چنانچہ ان دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ تک قربانیاں اوران کا گوشت پہنچایاجات ہے۔ اس حقیقت کو کون نہیں جانتا کہ دینی مدارس بے لوث انداز میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، دنیاوی تعلیمی اداروں کی طرح مال بٹورناان کا شیوہ نہیں ہے، اسی لیے دینی مدارس کے تمام اخراجات اللہ تعالی کے بھروسے اور مسلمانوں کے کئے ہوئے تعاون سے مکمل ہوتے ہیں۔ اس طرح قربانی کے موقع پر ان کے ساتھ تعاون کرنا ان کے ڈھیر سارے اخراجات کا بوجھ اتار دیتا ہے جس سے یہ تعاون کرنے والا ان کی دینی خدمات کے اجر میں شریک ہوجاتاہے جو بڑی ہی غنیمت ہے۔

اب سنئے!ایسے لوگ جو ایک طرف جہاد سے وابستہ ہوں اور دوسری جانب خدمتِ خلق ان کا شیوہ ہو تو کیا ایسوں کو اللہ تعالیٰ ضائع فرمادیں گے؟ کیا ایسے لوگوں کو دشمنانِ اسلام مٹانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں!یہ سعادت اور کامیابی کے راستے ہیں جس پر چلنا اور ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ممکن ہوتا ہے اور جسے اللہ تعالی کی توفیق اور معیت مل جائے تو بھلا کون اس کی کامیابی والی منزل کھوٹی کرسکتا ہے؟تو آئیے آپ بھی اس کار خیر میں ان کے شریک کار بن جائیے اس بار کی نفل قربانی کو وقف قربانی بنا دیجئے۔ الرحمت کی طرف سے اعلان ہوچکا ہے۔

حصے کی قربانی کی قیمت 8000 روپے … اوسط بکرے کی قیمت 12000روپے…اور اعلیٰ بکرے کی قیمت 16000روپے ہے۔ آپ جس قدر جلد اپنی نفل قربانی جمع کرائیںتو یہ قربانی اسی قدر اہم سے اہم مقام تک پہنچے گی۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online