Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ضروریات جہاد ۔۱ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 448 - Mudassir Jamal Taunsavi - zarooriat-e-jihad-1

ضروریات جہاد ۔۱

(پہلی ضرورت : اخلاص نیت )

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 448)

اسلام سراپا رحمت و برکت اور کامیابی کا ضامن دین ہے۔ اس دین کو اللہ تعالی نے محمد ﷺ کی آمد پر کامل فرمایا اور ایسی خصوصیات سے ممتاز فرمایا جو اب اور کسی بھی دین و مذہب میں نہیں پائی جاتیں۔ اسلام کی انہی خصوصیات میں سے ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ جس طرح اس میں بعض بظاہر چھوٹے نیک اعمال پر کثیر اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اسی طرح جن اعمال میں مشقت اور تکلیف زیادہ ہوتی ہے ان پر اجر و ثواب بھی اسی اعتبار سے بہت بڑھا کر دینے کا وعدہ کیا ہے  تاکہ کوئی بھی مسلمان کسی بظاہر چھوٹے عمل کو کم اہمت سمجھ کر چھوڑے نہ اور دوسری جانب مشقت والے اعمال میں جب تھکن محسوس کرے تو اس کے عظیم اجر و ثواب کو دیکھ کر اس کی ہمت پست نہ ہو بلکہ وہ اس عظیم اجر کی امید میں خوش دلی کے ساتھ اس مشقت والے عمل میں لگا رہے۔

جہاد فی سبیل اللہ ایسے ہی مشقت والے اعمال میں سے ہے جس پر اللہ تعالی نے بہت ہی زیادہ اجر و ثواب کا اعلان کیا ہے حتی کہ اسے ایمان کا معیار بھی قرار دیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ عمل جس طرح اہم فرض اور بہت ہی اجر و ثواب کا باعث ہے اسی کے ساتھ بہت ہی احتیاط کا بھی تقاضا کرتا ہے تاکہ کہیں کوئی ایسا گناہ سرزد نہ ہو جائے تو اس کے عظیم اجر کو ختم کر دے۔

آج الحمد للہ جہاد کی عمومی اور پرزور قرآنی دعوت کی برکت سے امت کے نوجوان جہاد کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو اس موقع پر مناسب ہے کہ انہیں ابتدائی ضروریات جہاد سے بھی آگاہ کیا جائے بلکہ ان کو راسخ کیا جائے۔

جہاد کی طرف آنے والے مسلمان کے لیے جو سب سے پہلی ضرورت ہے وہ تصحیح نیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم خود بھی اور ان نوجوانوں کو بھی اخلاص نیت کی طرف توجہ دلائیں کیوں کہ نیت ہر نیک عمل کا آغاز ہے اگر اس عمل کا آغاز نیک نیت سے ہے تو اس عمل میں بھی خیر و برکت ہو گی اور اگر اس کا آغاز فاسد نیت سے ہے تو اس نیک عمل میں بھی فساد آجاتا ہے۔درست اجر کے بغیر جہاد کا اجر حاصل نہیں ہوتا۔اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے چند آیات اور احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:

اَلاَلِلّٰہِ الّذِیْنُ الْخَالِصُ۔(الزمر۔۳)(پارہ نمبر(۲۳)

ترجمہ:دیکھو خالص عبادت اﷲ تعالیٰ ہی کیلئے (زیبا) ہے ۔

وَمَآ اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوْااﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔(بینہ۔۵)

ترجمہ:اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کریں۔

  حضرت عمر بن خطابؓؓبیان فرماتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی کچھ ملتاہے، جس کی اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اپنی نیت کے اعتبار سے اﷲ(تعالیٰ) اور اس کے رسول کی طرف سے ہوگی، تو وہ اجر اور قبولیت کے اعتبار سے بھی] اﷲ (تعالیٰ) اور اس کے رسول کے لئے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی، جس کی اس نے نیت کی۔ (بخاری،مسلم )

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کے اکثر شہداء بستر والے ہوں گے اور  میدان جنگ میںبہت سے قتل ہونے والوں کی نیت کو اﷲ (تعالیٰ) خوب جانتا ہے۔ (مسند احمد مرسلا ً )

 حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپسی پرمدینہ منورہ کے قریب پہنچے، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جتنا بھی (جہادمیں ) چلے ہو اور تم نے جتنی وادیاں عبور کی ہیں، مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو(اس سب کے اجر میں) تمہارے ساتھ تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! کیا مدینہ منورہ میں رہنے کے باوجود( وہ اجر میں شریک تھے)؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مدینہ میں رہنے کے باوجود (وہ اجر میں شریک ہیں ،کیونکہ) انہیں عذر نے روک لیا تھا۔ (یعنی وہ جہاد میں نکلنے کی سچی نیت رکھتے تھے ،مگر عذر کی وجہ سے نہیں نکل سکے )۔ (بخاری )

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عذر کی وجہ سے پیچھے رہ جانے والے کو مجاہد جیسا اجر ملتاہے۔ ایک قول یہ ہے کہ بالکل مجاہد کے برابر اجر ملتا ہے۔ جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ اسے مجاہد کا اجر ملتاہے ،لیکن بڑھا چڑھا کر نہیں، جبکہ مجاہد کو اس کا اجر بڑھا چڑھاکر ملتاہے۔(تفسیر قرطبی مختصراً)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ  سے روایت ہے کہ ایک اعرابی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا :اے اﷲ کے رسول !ایک آدمی مال غنیمت کے لئے لڑتاہے اور ایک آدمی لوگوں میں اپنا تذکرہ چھوڑنے کے لئے لڑتاہے اور ایک آدمی اپنی حیثیت دکھانے کے لئے لڑتاہے ، ان میں سے اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو اﷲ (تعالیٰ) کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے لڑتاہے ،وہی اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں ہے۔(بخاری،مسلم)

ایک اور روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا، جو بہادری کی وجہ سے، یا غیرت کی وجہ سے، یا ریاکاری کے لئے لڑتاہے کہ ان میں سے اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں کون ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس لئے لڑے تاکہ اﷲ (تعالیٰ) کا کلمہ بلند ہوجائے، بس وہی اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں ہے۔ (مسلم شریف)

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضور اکرم ﷺ سے جہاد کے بارے میں پوچھا اور کہنے لگا: ایک شخص اپنا غصہ نکالنے کیلئے لڑتا ہے اور ایک شخص(قومی) غیرت کی وجہ سے لڑتاہے۔ آپ  ﷺ نے اس کی طرف سر مبارک اٹھایا کیونکہ وہ کھڑا ہوا تھا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس لئے لڑے تاکہ اﷲ(تعالیٰ) کا کلمہ بلند ہوجائے ،بس وہی اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں ہے۔ (مسلم شریف)

حضرت عبداﷲ بن عمروؓکے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا :اے اﷲ کے رسول! مجھے جہاد اور قتال کے بارے میں بتائیے؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اے عبداﷲ بن عمرو! اگر تم نے ڈٹ کر اﷲ(تعالیٰ) کی رضا کی نیت سے جہاد کیا، تو اﷲ (تعالیٰ) تمہیں اسی حال میں اٹھائے گا اور اگر تم نے ریاکاری اور مال بڑھانے کے لئے جہاد کیا ،تو اﷲ (تعالیٰ) تمہیں اسی حال میں اٹھائے گا۔ اے عبداﷲ بن عمرو!تم نے جس حال(یعنی نیت) پر قتال کیا یا مارے گئے اﷲ (تعالیٰ) تمہیں اسی حالت پر اٹھائے گا۔ (ابودائود ، بیہقی،المستدرک)

 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا :اے اﷲ کے رسول !ایک شخص جہاد فی سبیل اﷲ کا ارادہ کرتا ہے اور وہ دنیا کا کچھ مال بھی چاہتاہے (یعنی اس کی نیت جہاد کی بھی ہے اور مال کی بھی)۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ لوگوں پر یہ بات بھاری گزری اور انہوں نے اس(سوال کرنے والے) شخص سے کہا:جائو!دوبارہ حضور اکرم ﷺ سے پوچھو، شایدتم انہیں اپنی بات (صحیح طرح سے) سمجھا نہیں سکے۔ اس شخص نے (حاضر خدمت ہوکر) عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! ایک شخص جہاد فی سبیل اﷲ کا ارادہ کرتاہے اور وہ دنیا کا کچھ مال بھی چاہتاہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے لوگوں نے اس شخص سے کہا:تم رسول اﷲ سے پھر پوچھو۔ اس نے تیسری بار پوچھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ (ابودائود، ابن حبان ، المستدرک)

حضرت ابوامامہ ذ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور اس نے پوچھا :(یارسول اﷲ! ) آپ کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں، جو جہاد میں اجر کی بھی نیت رکھتاہے اور اس بات کی بھی کہ لوگوں میں اس کا کچھ تذکرہ کیا جائے، ایسے شخص کو کیا اجر ملے گا ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسے شخص کیلئے کچھ(بھی اجر) نہیں۔اس شخص نے یہی سوال تین بار دہرایا اور ہر بار رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کے لئے کچھ ( بھی اجر) نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اﷲ (تعالیٰ) صرف ایسے خالص عمل کو قبول فرماتاہے جو محض اس کی رضاجوئی کیلئے کیا جائے۔( ابو دائود،نسائی)

حضرت ابودردا ئؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضرہوا اور اس نے عرض کیا :ایک شخص (جہادمیں)اجربھی چاہتاہے اور تعریف بھی(یعنی اس کی نیت یہ ہے کہ اﷲ (تعالیٰ) سے اجر ملے اور لوگ میرے جہادا ور میری بہادری کی تعریف کریں) ۔ حضور اکرم  ﷺنے ارشاد فرمایا: اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے، اگر چہ وہ اپنی تلوار سے اتنا لڑے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔(کتاب السنن لسعید بن منصور)

عمر بن عبیداﷲؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے عرض کیا: میں جہاد میں اﷲ(تعالیٰ) کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہوں اوراسی نیت سے نکلتا ہوں، لیکن جب لڑائی کا وقت ہو تا ہے تومیں چاہتا ہوں کہ میری جنگ اور میری بہادری دیکھی جائے۔ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ  نے فرمایا: پھر تو تم ریا کارآدمی ہو۔(کتاب السنن لسعیدی بن منصور)

حضرت مرہؒ سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ  کے سامنے کچھ ایسے افراد کا تذکرہ کیا، جو اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں مارئے گئے تھے ، اس پر حضرت عبداﷲ بن مسعود ذ نے فرمایا: ایسا نہیں ہے جیساکہ تم دیکھتے اور سمجھتے ہو،(بلکہ)جب لشکر آپس میں ٹکراتے ہیں تو فرشتے اترتے ہیں اور ہر شخص کا مقام(اور مرتبہ) لکھا جاتاہے کہ فلاں دنیا کیلئے مارا گیا، فلاں حکومت (اور عہدہ) کے پانے کیلئے ماراگیا،فلاں لوگوں میں اپنا تذکرہ چھوڑنے کے لیے مارا گیا اور فلاں اللہ (تعالیٰ)کی رضا کے لیے مارا گیا، پس جو شخص اﷲ(تعالیٰ) کی رضا کے لئے شہید ہوا، اسی کے لئے جنت ہے۔ (کتاب الجہاد لابن مبارکؒ)

ابوعبیدہ بن عبداﷲؓ بیان فرماتے ہیںکہ میرے والد(حضرت عبداﷲ بن مسعود) نے ارشاد فرمایا:تم لوگ یہ گواہیاں دینے سے پرہیز کرو کہ فلاں فلاں شہید ہوئے ہیں یعنی ہر کسی کو شہید کا لقب نہ دیا کرو)، کیونکہ بعض لوگ قومی غیرت میں لڑتے ہیں، بعض لوگ بہادری کی وجہ سے لڑتے ہیں،(یعنی ان کی طبعی بہادری انہیں لڑنے پر مجبور کرتی ہے)، (یہ سارے لوگ جب مارے جاتے ہیں، تو ان میں سے کوئی بھی شہید نہیں ہوتا)، لیکن میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتاتاہوں جن( کی شہادت) پر تم گواہی دے سکتے ہو،ایک بار حضوراکرم ﷺ نے ایک سریہ بھیجا[اس لشکر کو روانہ ہوئے)زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ حضور اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ،آپ نے اﷲ (تعالیٰ) کی حمدوثناء کے بعد ارشاد فرمایا: تمہارے بھائیوں کا مشرکوں کے ساتھ مقابلہ ہوا ہے اور وہ سارے شہید ہوچکے ہیں اور انہوں نے کہا ہے :اے ہمارے رب! ہماری قوم کو یہ خبر پہنچادیجئے کہ ہم راضی ہوچکے ہیں اور ہمارا رب ہم سے راضی ہوچکاہے اور میں (یعنی حضور اکرم ﷺ) ان کا پیغام تمہیں پہنچانے والا ہوں کہ بے شک وہ راضی ہوگئے اور ان کا رب ان سے راضی ہوگیا۔( المستدرک)

ہم نے پڑھ لیا کہ عبادات کے قبول ہونے اور اﷲ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اخلاص نیت شرط ہے، پھر وہ عبادت جس میں ریاکاری اور نفاق شامل ہو ضائع ہوجاتی ہے، فرق اتنا ہے کہ دوسری عبادات میں اگر ایک بار ریاکاری ہوگئی ،توا گلی بار انسان مکمل اخلاص کے ساتھ اس عمل کوسرانجام دے کر پچھلی غلطی کی تلافی بھی کرسکتاہے، لیکن جہاد میں اگر ریاکاری اور نفاق شامل ہوگیا اور انسان کی جان چلی گئی، تو اب تلافی کاموقع بھی نہیں ملے گا۔ (فضائل جہاد ص 433)

اس لئے جہاد میں خصوصی طور پر نیت کودرست اور خالص رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر خدانخواستہ اس میں کوئی نقصان ہوگیا تو پھر وہ نقصان ہمیشہ کا عذاب اور وبال بن جائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor