Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

فداک ابی وامی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 653 - Mudassir Jamal Taunsavi - Fidaka Abi wa Umi

فداک ابی وامی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 653)

کچھ دن پہلے ہالینڈ کی ایک اسلام دشمن سیاسی جماعت ’’فریڈم پارٹی ‘‘ کے سربراہ ملعون ’’گیرٹ ولڈرز‘‘ نے ایک بار پھر خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقابلہ بھی ہالینڈ حکومت کے تعاون سے ہالینڈ کی ڈچ پارلیمنٹ کی عمارت میں منعقد کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس میں شہریوں سے آئن لائن گستاخانہ خاکے جمع کروانے کی درخواست کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ یہ مقابلہ براہ راست سوشل میڈیا پر بھی دکھایا جائے گا۔

حالیہ انتخابات کے نتیجے میں بیس سیٹوں کے ساتھ پارٹی فار فریڈم اب ہالینڈ کی دوسری بڑی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی مقبولیت میں اضافے کا اہم ترین سبب اس کے سربراہ کا اسلام دشمن اور شاتم رسول ہونا ہے۔یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ گیرٹ ولڈرز نے اس لعین حرکت کا ارتکاب کیا ہو۔اس کا نعرہ ہے کہ میں مسلمانوں سے نہیں اسلام سے نفرت کرتا ہوں۔ایک بار اس نے مسلمانوں کو تنبیہہ کی کہ اگر وہ نیدرلینڈز میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ آدھا قران نعوذ باللہ تلف کردیں۔اس نے بارہا نبی پاکﷺ اور قران کی شان اقدس میں بدترین گستاخیاں کیں۔فلم فتنہ تو دنیا بھر میں مسلمانوںکی دل آزاری کا سبب بنی اور اسی کی وجہ سے اس پہ فلم کی نمائش کے سلسلے میں برطانیہ میں داخلے پہ پابندی بھی لگی جو بعد میں اٹھا لی گئی۔اسی فلم کی وجہ سے آسٹریلوی عالم فیض محمد نے اس کے قتل کا فتوی جاری کیا اور القاعدہ نے اپنے مبینہ رسالے انسپائر میگزین میں اپنی جاری کی گئی ہٹ لسٹ میں اس کا نام بھی شامل کردیا۔اس لسٹ میں پہلے ہی ملعون سلمان رشدی اور فلیمنگ روز کا نام شامل تھا جو ڈنمارک کے بدنام زمانہ اخبار جیلانڈز پوسٹن کا ایڈیٹر تھا جس نے گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے۔اسی فہرست میں بعد ازاں فرانسیسی اخبار شارلے ہیبدو کے صحافی اسٹیفن کارب کا نام بھی شامل ہوگیا جو شارلے ہیبدو پہ حملے میں مارا گیا۔گیرٹ ولڈرز چونکہ مارا نہیں گیا اس لئے اس نے ڈچ پارلیمنٹ میںگستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کردیا جبکہ ڈچ پارلیمنٹ کی اسپیکر خدیجہ عارب ایک مراکشی مسلمان ہیں۔وہ اس ملعون جسارت پہ دلگیر ہیں اور انہوں نے غالباً اس سے برات کا اعلان کردیا ہے۔ اس پہ گیرٹ ولڈرز نے انہیں طعنہ دیا کہ اس عورت کے دل میں اپنے نبی ﷺکی محبت اپنے ملک سے زیادہ ہے۔ اس ملعون او ر اس جیسے دوسرے شاتمان رسول کو اچھی طرح علم ہے کہ ہر مسلمان کے لئے اس کے نبی ﷺکی محبت ہر شے سے بڑھ کر ہے اور اسی لئے وہ ایسی ناپاک جسارتیں کرتے رہتے اور حسب توفیق جہنم رسید ہوتے رہتے ہیں۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہالینڈ میں مراکشی مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے جو مختلف مواقع پہ ہجرت کر کے نیدرلینڈ میں مقیم ہوگئی۔ گیرٹ ولڈرز جو اپنی پارٹی بنانے سے پہلے نیدرلینڈز کے چوتھے بڑے شہر اوریخت کا مئیر بھی تھا، کی انتخابی مہم اسلام اور ان ہی مراکشی مسلمانوں کی دل آزاری پہ مشتمل ہوتی ہے۔ وہ یورپ میں بالعموم اور نیدرلینڈز میں بالخصوص مسلمانوں کی ہجرت اور معاشرت کے خلاف ہے۔

’’ گیرٹ ولڈر‘‘ بھی انشاء اللہ جلد یا بدیر اپنے انجام بد کو ضرور پہنچے گا۔ لیکن ہم مسلمانوں کے لئے یہ ایک ندامت، احساس شرمندگی اور انتہائی تکلیف کا سبب ضرور ہے۔کیونکہ درندوں کی ایک اور مکروہ کوشش جاری ہے۔ انسانیت سے عاری مجرموں کا ایک اور غلیظ حملہ تیار ہے۔ بدبودار اور کمینہ فطرت انسانوں کا ایک شیطانی ٹولہ کائنات کی سب سے مقدس ہستی پر حملہ آور ہونے کو ہے۔ لیکن ان شاء اللہ ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو گی۔یہ لوگ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ کیا چیز تکلیف دیتی ہے۔

پیارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم… ہم آپ ﷺ کے امتی ہونے کے دعو یدار…آپﷺ  سے محبت کے گن گانے والے …آپ ﷺ سے حوض کوثر پر جام پینے کے لئے تڑپنے والے اور آپکی شفاعت کے فقیر…  آج اس قدر بے کس و مجبور کس طرح ہوگئے کہ جوغلیظ انسان  جب چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرے، ہجو بکے،اور ہم چپ سادھے دم بخود ایک بار پھر سب کچھ برداشت کرتے چلے جائیں؟

شاید یہ ہم سب کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ ہم گناہوں میں لتھڑے ہوئے، اپنی اپنی دنیا میں مگن، اور ساری زندگی رب کی نافرمانیوں میں گزارنے والے … کفار یہ سب دیکھتے رہے اور یکے بعد دیگرے غلیظ حرکتیں کرتے رہے۔ اور ہم چپ چاپ برداشت کرتے رہے، کسی کو اتنی فکر کہاں؟ لیکن اس بار وہ ہر حد پار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں سے ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ، آج کے مسلمان بہت بدل گئے۔ یہ کچھ دن سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھا کر کھڑے ہوں گے اور پھر بھیگی بلی کی طرح خاموش ہو جائیں گے۔

ہمارے ایسے پیارے نبی جو یا رب امتی یا رب امتی فرماتے دنیا سے پردہ فرما گئے۔ آج اسی امت کے سامنے چند بھیڑیوں نے امت مسلمہ کو کمزور جانتے ہوئے غلیظ حرکت کر نے کی سوچی۔ جو اپنی امت کو موت کی تکلیف سے بچانے کے لئے عزرائیل سے آخری وقت میں فرماتے ہیں۔ ’’ اے عزرائیل! کیا آج مجھے موت کی تکلیف دے گا؟ عزرائیل نے جواب دیا نہیں اے اللہ کے رسول… آپ کو تکلیف نہیں دوں گا ہاں آپ کی امت کو موت کے وقت تکلیف ضرور دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عزرائیل! میری امت  کے تمام لوگوں کو موت کے وقت جتنی تکلیف دینی ہو وہ سب تکلیف  آج مجھے دے دے لیکن میری امت کو موت کی تکلیف مت دینا ‘‘ فداک ابی وامی، فداک ابی وامی۔ صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم

سلام ہوایسے عظیم مسلمانوں پر، ان جانبازوں پر جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر امریکہ کو یہ بتا دیا کہ ’’تم کچھ بھول رہے ہو ‘‘ ہر زمانے میں مسلمانوں کی ایک جماعت ایسی رہتی ہے جو رب کے ہر حکم کے آگے سر جھکاتی ہے، جو اپنے مذہب دین اسلام کی خاطر کٹ مرنے کو ہر دم تیار رہتی ہے۔جو اپنے نبی ﷺ کی گستاخی قطعاً برداشت کرنے کو تیار نہیں۔اور ان شاء اللہ ’’گیرٹ ولڈر‘‘ سے بھی انتقام ضرور لیا جائے گا۔ امت کے نوجوان اس کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ امت میں یہ جذبہ شروع سے ہی چلا آ رہا ہے۔یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایمان کا یہ عالم تھا کہ گستاخ رسول کا زندہ رہنا ان کو گوارا نہیں تھا۔ جب انہیں معلوم ہوتا کہ فلاں شخص گستاخ رسول ہے تو اس کو قتل کرنے کے لئے جھپٹ پڑتے۔

خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دریافت کیا

تو آپ نے فرمایا ….. ’’ما بقاء الامۃ بعد شتم نبیّہا ؟‘‘

اس امت کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے کہ جس کے نبی کی توہین کر دی جا ئے۔

آج امت کے جس طبقہ کو اس معاملے میں جتنا تڑپنا اور کفار کے درپے ہو جانا چاہیے تھا وہ سب سے زیادہ غافل ہے۔جی ہاں! آج کا مسلم نوجوان لبوں پر مہر سکوت لگا کر خاموش بیٹھا ہے۔آج پیارے نبی کریم ﷺ سے الفت و محبت کا رشتہ کمزور پڑچکا ہے۔ آج دلوں میں عشق مصطفی ﷺ کا جذبہ مدہم پڑچکا ہے۔  غیرت فاروقیت مدت ہوئی کہیں چھوٹ گئی۔ بہت کچھ کھو دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہود وہنود کی گستاخیاں سامنے ہیں پھر بھی غصہ نہیں آتا، جذبات نہیں بھڑکتے۔ لیکن شاید نہیں! غصہ آتا ہے، جذبات بھی بھڑکتے ہیں۔ لیکن کب! جب کوئی ہماری ماں کو گالی دیتا ہے، جب کوئی ہمارے باپ کی توہین کرتا ہے۔ تب ہم منہ سے کف نکالتے، غصے سے باؤلے ہو کر اپنا آپ کھو بیٹھتے ہیں۔

اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ  محلات جنہیں تم پسند کرتے ہواگر یہ تمہیں اللہ سے… اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ ( التوبہ )

محبت رسولﷺ کا دم بھرنے والو! آؤ دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں جب روز قیامت جمع ہوں گے‘ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔

 ماں باپ‘ دوست یار کوئی کام نہیں آئے گا۔ اس وقت ایک ہی تو ذات اقدس ہوگی، جو عاصیوں کی امیدگاہ ہوگی۔ اسی آقا مدنیﷺ کی خدمت اقدس میں سب کو حاضری دینی ہوگی۔اگر پیارے نبیﷺنے استفسار فرمالیا کہ تمہارے سامنے کبھی ڈراموں کے ذریعے اور کبھی فلمیں بنا کر میری شان اقدس میں گستاخیاں کی گئیں‘ تم نے کیا کیا؟ توہین آمیز خاکے اور تعصب خیز لٹریچر شائع کئے گئے‘ تم نے کیا کیا؟ کیا ہمارے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں؟ یاد رکھو! اگر خدانخواستہ شافع محشر روٹھ گئے تو کیا کریں گے؟سوچو! غور کرو! پھر کس کے دروازے پر شفاعت کی بھیک لینے جائوگے؟ کون اللہ عزوجل کے قہروغضب سے بچانے والا ہوگا ؟ اے مسلمانو! آج محبت رسولﷺ ہم سے تقاضا کررہی ہے کہ اپنی لہکتی ہوئیں جوانیاں تحفظ ناموس رسالت کے لئے وقف کردیں۔اے نوجوانو! خالد بن ولید‘ صلاح الدین ایوبی اور غازی علم الدین شہید کے جذبات لے کر اٹھو اور ان گستاخوں کا سراغ لگا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائو تاکہ حشر کے میدان میں شافع محشرﷺ کے سامنے سرخرو ہوسکو۔ وہ ہمیں دیکھ کر منہ مبارک نہ پھیر لیں کچھ ایسا کر جاؤ، کہ جان جائے تو جائے مگر نبی کی عزت پر کوئی حرف برداشت نہ ہو۔

صلی اللہ علیہ وسلم،صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم

مسلمانو آؤ ! اب تک جو غفلت ہوئی اس پر رب سے معافی مانگیں، امت محمدیہ  ہونے کی حیثیت سے اپنے نبی ﷺ کے تقدس کی حفاظت کی قسم کھا کر گستاخوں کو واصل جہنم کرنے کا پختہ عزم پیدا کریں۔تاکہ  ملعون ’’گیری ولڈر ‘‘قرآن مقدس کا دشمن، ہمارے نبی کا دشمن، رب کے خلاف اعلان جنگ کرنے والا زمین کی خاک چاٹتا نظر آئے۔ اس کے چیتھڑے کتے نوچ نوچ کر کھائیں وہ مردار اور بدبودار انسان نما درندہ، خنزیر سے بدتر کیفر کردار کو پہنچے۔

ربا !! ہمیں معاف فرما دیجیے، آج ہم کمزور اور لاچار ہو گئے۔  اپنی نبی ﷺ  کے ناموس کی حفاظت نہ کر پائے۔ آج ملعون درندوں کو اتنی ہمت ہو گئی کہ وہ آپ کے محبوب پر حملہ آور ہوگئے، ہمیں معاف فرما دیجیے ، ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ ہے، ہم نے بھلا دیا آپ کے نبی ﷺ کی تعلیمات کو، ہم رسوا ہو گئے، ہم ذلیل ہو گئے ، ہم برباد ہو گئے، ربا ہمیںمعاف فرما دیجیے، ربا ہمیں معاف فرما دیجیے،ربا ہمیں معاف فرما دیجیے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online