Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

غزہ کی ناکہ بندی … (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 654 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ghaza ki naaka bandi

غزہ کی ناکہ بندی …

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 654)

غزہ فلسطین کا ایک علاقہ ہے جس کی سرحد مصر سے ملتی ہے۔ اس علاقہ کو اسرائیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس کی تجارت اور خارجی معاملات بھی آزاد نہیں۔ اس علاقے میں اسرائیل نے 38 سال قبضہ کرنے کے بعد چھوڑا تو اس کے بعد ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا جیسا کہ 2008ء -2009ء میں اسرائیل کے غزہ پر حملے میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں، اسرائیل نے فلسطینیوں پر چوہوں اور خرگوشوں کی طرح کثیف غیرعامل دھاتی دھماکا خیز مواد کا تجربہ کیا تھا اور حملہ کے پہلے ہی دن 500 فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور جنگ کے 12 دن بعد یہ تعداد 1000سے بھی بڑھ گئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک تو مزید یہ تعداد کئی ہزارتک پہنچ چکی ہے۔

غزہ کی یہ ناکہ بندی ایک طویل مدت سے جاری ہے اور متعدد بار اس ناکہ بندی کو توڑنے کی جزوی کوششیں کرنے والے اور غزہ تک امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے پُرامن قافلوں کو لوٹ لینے اور ان کے افراد کو گرفتار کرنے سے بھی اسرائیل نے گریز نہیں کیا ہے۔

چنانچہ حال میں ہی ایک بار پھر اسرائیل نے نہایت ڈھٹائی سے ایسے ہی امداری قافلوں کو لوٹ لیا ہے اور عالمی انسانیت اس انسانیت سوز ظلم و ستم پر بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے سرگرم بین الاقوامی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے آنے والے امدادی بحری قافلے کے گرفتار بیشتر کارکنوں کو اسرائیلی حکام نے رہا کردیا ہے مگر بیس رضاکار اب بھی بدستور پابند سلاسل ہیں۔عالمی انسداد ناکہ بندی کمیٹی کے چیئرمین زاہر بیراوی نے بتایا کہ عالمی فلوٹیلا اتحاد کے وکیل سمیت کئی دوسرے رضا کار Givon Prison جیل میں قید ہیں۔انہوں نے بتایا کہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے آنے والے امدادی قافلے میں کئی دوسرے ممالک کے رضاکار شامل ہیں۔

اس موقع اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی خاطر آنے والے امدادی بحری جہازوں کو روکنا اسرائیل کی بحری قذاقی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی سے چند میل دور سمندر میں امدادی جہازوں کو روکنا اور ان کے امدادی سامان کی لوٹ مار صہیونی ریاست کی کھلی ریاستی دہشت گردی اور بد معاشی ہے۔نیز انہوں نے امدادی جہازوں کے ساتھ آنے والے امدادی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی کارکنوں کا غزہ کی  پٹی کی ناکہ بندی کے خاتمے کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔

اسی سیاق میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری اور اسرائیل کو غزہ کے حوالے سے جرات مندانہ پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی انتقامی کارروائیاں ناقابل قبول اور غیرآئینی ہیں۔انہوں نے فلسطینی قوم کے خلاف اسرائیلی ریاست کے جرائم پر صہیونی دشمن کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے موقع پر جاری ہوا ہے جب کہ صہیونی بحریہ نے غزہ کی پٹی کے لیے آنے والے امدادی بحری جہاز قبضے میں لینے کے بعد انہیں اشدود بندرگاہ منتقل کردیا گیا تھا اور ان کا سامان لوٹ لیا تھا۔یہ امدادی جہازاتوار کی شام غزہ کے ساحل کے قریب پہنچے۔ امدادی قافلہ وسط مئی میں ناروے، سویڈن اور دوسرے یورپی ملکوں کے کارکنوں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو کئی ممالک کی بندرگاہوں سے گذر کر غزہ کے ساحل پرپہنچا۔ امدادی سامان میں ادویات، خوراک، اسٹیشنری اور بچوں کا سامان شامل ہے۔

غزہ کی اس معاشی ناکہ بندی کے علاوہ فلسطینی نوجوانوں اور کسی بھی طرح آزادی اور امن کے لیے متحرک کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردینا اور وہاں ان پر مختلف طریقوں سے تشدد کرنا بھی اسرائیل کا عام وطیرہ بن چکاہے۔ جس کے چرچے خود اسرائیلی اہلکاروں کی طرف سے بھی سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ چنانچہ ’’اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ فوج کی زیرنگرانی فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے لیے چار نئے عقوبت خانے قائم کیے ہیں۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے  شاباک کی طرف سے بھی سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حراستی مراکز کے حالات بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ

 فلسطینی قیدیوں سے تفتیش کے لیے نئے تفتیشی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کی فلسطینی اور اسرائیلی تنظیموں اور عالمی ادارں نے شاباک کی طرف سے نئے ٹارچر سیلوں کے قیام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان نئے عقوبت خانوں کے قیام کا مقصد زیرحراست فلسطینیوں سے غیرانسانی سلوک میں اضافہ کرنا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق نئے تفتیشی مراکز سنہ 2025ء تک مکمل کیے جائیں گے۔‘‘

اس سے واضح ہے کہ دشمنان اسلام کس طرح اپنے مستقبل کے منصوبوں کو مستقل بنیادوں پر طئے کرتے ہیں اور اسے ایک مقصدا صلی سمجھ کر اس پر اپنی توانائیاں خرچ کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ عالم اسلام کے حکمران ابھی تک اپنے دین اور اپنے مسلمانوں کے ساتھ اس قدر مخلص بن کر سامنے نہیں آسکے، جس کا خمیازہ قوم مسلم اس قسم کے المیوں کی شکل میں بھگت رہی ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online