Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

قوموں کی ہلاکت کے اَسباب (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 655 - Mudassir Jamal Taunsavi - Qomon ki halakat k asbab

قوموں کی ہلاکت کے اَسباب

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 655)

’’جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں (تو یوں ہی بلاسبب ہلاک نہیں کرتے بلکہ اس کا سبب وہ لوگ خود ہوتے ہیں، اس طرح کہ ) ہم ان کے مالداراور کھاتے پیتے لوگوں کو (فرماں برداری کا) حکم دیتے ہیں(مگر ) وہ نافرمانی کرکے فاسق بن جاتے ہیں(جس کی وجہ سے) ان پر عذاب کا فیصلہ پکا ہوجاتا ہے، تو ہم انہیں پوری طرح برباد کرکے رکھ دیتے ہیں‘‘۔  (سورۃ بنی اسرائیل:۱۶)

اس آیت مبارکہ میں قوموں کی بربادی و ہلاکت کامرکزی سبب بتایا گیا ہے، جب کہ احادیث نبویہ میں ان اسباب کو الگ الگ صراحت کے ساتھ بھی نشان دھی کردی گئی ہے تاکہ جو قوم بھی ہلاکت کے بُرے اَنجام سے بچنا چاہے وہ اُن اسباب سے دور رہے اور صرف یہی نہیں بلکہ جس قوم کو اُن میں مبتلا دیکھے تو اگر اس قوم کی اصلاح کرنے پر قادر ہو یا اس کی امید ہو تو اصلاح کے لیے اپنی کوشش بروئے کار لائے اور اگر ایسا بھی نہ کرسکتا ہو تو دل میں ان چیزوں کو بُرا سمجھتے ہوئے اس قوم اُن حرکتوں سے خود کو دور کرلے تاکہ وہ اُن کا ساتھی شمار نہ ہو۔

ہلاکت کا پہلا سبب:

قوموں کی ہلاکت و بربادی کا پہلا سبب دنیاکی اندھی محبت اور اس میں مقابلہ بازی ہے۔

صحیح مسلم میں یہ روایت موجود ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’مجھے تم پر یہ خوف تو نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، ہاں لیکن مجھے تم پر دنیا کا خوف ضرورہے، کہ تم اُس میں مقابلہ بازی کروگے، اور (اسی مقابلہ بازی میں)باہم لڑائی جھکڑے اور قتل وقتال تک کیاکرو گے ، جس سے تم بھی ویسے ہی برباد ہوجاؤ گے جس طرح کہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ‘‘

اس حدیث مبارک سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیمات کی نظر میں دنیا کی کوئی بھی مقبول حیثیت نہیں ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو مال کو بھی عبادات کادرجہ دینے کے لیے زکوۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی وغیرہ جیسے احکام دے کر قیمتی بنانے کا سبق دیا گیا ہے مگر بہر حال اس دنیا کے کچھ پہلو ایسے ہیں جن کے سبب یہ مذموم بھی ہے اور جو بھی اس دنیا کے بارے میں ان غلط راستوں پر چلتا ہے تو وہ بھی اپنا انجام بربادی کو بناتا ہے۔

دیکھیں ایک صورت تو یہ ہے کہ انسان دنیا حلال طریقے سے کمائے، اپنی دینی اور دنیوی ضروریات کو سامنے رکھ کرکمائے، اس کی خاطر لوگوں سے ماراماری اور حق تلافی نہ کرے ، اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اِحسان سمجھ کر اسے دین یا دنیا جہاں بھی خرچ کرے اللہ تعالی کی رضا کے مطابق خرچ کرے تودنیا کمانے کا یہ طریقہ اور دنیا سے تعلق کی یہ نوعیت بہت ہی اچھی ہے اور قابل رشک ہے۔

اس کے برعکس دوسری صورت یہ ہے کہ انسان دینی اور دنیوی ضروریات سے قطع نظر بس مقابلہ بازی کے لیے دنیا کمانے میں جُتا ہوا ہے، اور اس کے لیے اسے ماراماری اور حقوق تلفیاں کرنا پڑتی ہیں تو وہ اس کے لیے بھی تیار رہتا ہے ، تو یہ طرز عمل ایسے آدمی کے لیے بُرااَنجام ہی لاتا ہے، اور اگر کوئی قوم پوری کی پوری ہی دنیا کی مقابلہ بازی میں اسی راہ پر سرپٹ دوڑ پڑے اور اپنے ساتھ نہ چلنے والوں کو طعنے بھی مارتی رہے تو اس قوم کا انجام بھی تباہی وبربادی کی شکل میں ہی سامنے آتا ہے۔

ہاں یہ پکڑ فوراً آجائے ، ایسا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مہلت بھی دیتے رہتے ہیں، مگر جو لوگ مہلت سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ اس مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھائے ہوئے اس مہلت کو بھی دنیا کی مقابلہ بازی کے لیے خرچ کردیتے ہیں تو پھر جب ان پر ہلاکت وبربادی آتی ہے تو انہیں سوائے اپنے آپ کو ملامت کرنے کا اور کوئی عذرکا راستہ بچا ہوا نہیں ہوتا ہے۔

ہلاکت کا دوسرا سبب:

ظلم اور حرص بھی دو ایسے جرائم ہے جس سے پوری کی پوری قومیں اُجڑ جاتی ہیں اور برباد ہوجاتی ہیں۔

صحیح مسلم میں ہی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اِرشاد فرمایا:’’ تم لوگ ظلم کرنے سے بچو، کیوں کہ ظلم قیامت کے دن (ظالموں کے لیے)اندھیروں کی شکل میں ہوگا، اور تم لوگ حرص سے بھی بچوکیوں کہ حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاک کیا ہے،

 یہ حرص ہی تھی جس نے انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا اور ایک دوسرے کی عزتیںلوٹنے والا بنا دیا تھا۔‘‘

اس حدیث مبارک میں دو چیزوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے: ایک ظلم ، دوسری حرص۔ ظلم سے دشمنیاں پروان چڑھتی ہیں، قتل و قتال عام ہوتا ہے، نظام زندگی درھم برھم ہوتا ہے، بندوں کے حقوق غصب ہوتے ہیں، ظلم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمن و رحیم کی مقابلہ بازی ہے، اس لیے ظالم کے خلاف اللہ تعالیٰ کی غیرت اور غضب اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ عام طور سے اسے دنیا میں ہی نشانِ عبرت بنایا جاتا ہے۔

لوگوں کے حقوق دبانا، ناحق لوگوں پر جبر کرنا، لوگوں سے ان کی زندگیاں چھیننا، ان کا سکون لوٹنا، ان کی عزتیں برباد کرنا،یہ سب کچھ ظالم لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں تو قدرت بھی انہیں ضرور پکڑ میں لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کا نظام ایک احسن انداز سے ترتیب دیا ہے مگر ظالم لوگ اس میں فساد ڈالتے ہیں تو یقینا ان کا یہ جرم بڑی ہی بربادی وتباہی لانے کاسبب بنتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ سے گواہ ہے کہ ظالم کا ظلم اولاً مظلوموں کے لیے مصیبتوں کا سبب بنتا ہے اور پھر یہ ظلم خود ظالم کو تباہی و بربادی اور رُسوائی کی ذلتوں سے مبتلا کردیتا ہے، اور یوں یہ ظالم اپنے آپ کو بھی ہلاک کرتا ہے اور دوسروں کو برباد کرتا ہے۔

اسی طرح حرص: دنیا کا حرص، عزت کا حرص، لالچ کا حرص، دوسروں کو نیچا دکھانے کا حرص، دوسروں سے اپنی جھوٹی عزت کا بدلہ لینے کا حرص، طاقتور سے بدلہ نہ لے سکنے کی صورت میں اس کے کمزور متعلقین کو رُسوا کرنے کا حرص، اور نہ جانے حرص کی کتنی صورتیں ہیں، یہ سب کچھ انسانیت کی بربادی کا سبب ہے۔ یہی حرص مال کے لیے بڑھتا ہے تو کوئی انسان چور بن جاتا ہے، کوئی سود خور بن جاتا ہے، کوئی دھوکے باز بن جاتا ہے، کوئی خائن بن جاتا ہے، کوئی جوا باز اور سٹے باز بن جاتا ہے، اور جب کسی پر ناحق جھوٹی عزت کا بدلہ لینے کا حرص سوار ہوجاتا ہے تو وہ دوسروں کی عزتیں نیلام کرنا چاہتا ہے، جب کسی پر بادشاہت کی حرص سوار ہو جاتی ہے تو وہ اسے درندہ اور قاتل بنادیتی ہے اور اپنے سامنے سر اٹھانے والے ہر شخص کو ماردینے میں ہی اپنی کامیابی اور اپنا سکون دیکھتا ہے۔ الغرض حرص اور لالچ ہی وہ بیماری ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کی جان و مال کا لٹیرا بن جاتا ہے۔

اور اگر کسی قوم میں یہ حرص کی بیماری پھیل جائے تو پھر وہاں یا توقانون ہی بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر قانون کا ظاہری خوف ہو بھی تو قانون کی نظروں سے چھپ کر یا قانون کے دائرہ کار سے باہر نکل کر اپنی حرص کی آگ بجھانے کے لیے انسانوں کی جان و مال کو تباہ وبرباد کیاجاتا ہے اور جب کوئی قوم اس راہ پر چلتی ہے تو بدلے میں ایک نہ دن قدرت بھی انہیں تباہ وبرباد کرکے اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھادیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری پوری قوم کو اور ہمارے تمام طبقات کے اصحابِ اقتدار کو ان تینوں تباہ کرن جرائم سے بچنے ، ان جرائم کی راہ مسدود کرنے اور انہیں جرائن کے مرتکبین کے ہاتھ روکنے کی توفیق عطاء فرمائے، تاکہ ہم قومی تباہی و بربادی کے عمومی عذاب سے بچ سکیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online