Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

الرحمت قربانی مہم۱۴۳۹ھ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 657 - Mudassir Jamal Taunsavi - Qurbani Mohim 2018

الرحمت قربانی مہم۱۴۳۹ھ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 657)

ایثار ایک ایمانی صفت کا نام ہے، اپنی ضروریات کو محدود کرکے اور اپنی خواہشات کو دبا کر حاجت مندوں کے ساتھ ہمدردی اور انہیں سہولت فراہم کرنے کا نام ایثار ہے۔ یہ ایثار جس قوم میں پایا جاتا ہے اس قوم میں صبر و تحمل اور خیر خواہی و ہمدردی جیسی عمدہ صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اسی صفت ایثار کو راسخ کرنے اور اس کی عملی راہیں آسان کرنے کی ایک شکل قربانی کے عمل سے حاجت مندوں کے ساتھ ہمدردی نبھانا ہے، اور الرحمت قربانی مہم اس کی ایک قابل تقلید اور لائق تحسین کارکردگی گزشتہ کئی سالوں سے پیش کر رہا ہے، اور اللہ کرے کہ ان کا یہ سلسلہ تادیر قائم رہے اور مسلسل ترقی پذیر رہے۔

الرحمت ’’قربانی مہم‘‘ اپنی نوعیت کی وہ خاص اور مقبول ترین مہم ہے کہ اس میدان میں کوئی بھی اس کا ثانی نظر نہیں آرہا، قبولیت کا یہ عالم ہے کہ ہر سال اس مہم میں بخوبی ترقی اسے آگے ہی بڑھائے لئے جارہی ہے اور اس سال تو اس مہم نے ایسا رنگ جمایا کہ عقل دنگ ہی رہ گئی۔ حالات کی چیرہ دستیاں کچھ ایسی تھیں کہ لوگ انفرادی اور اپنی واجبی قربانی کرنے سے گریزاں گریزاں سے تھے لیکن الرحمت نے اس مہم میں حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے ،امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کو، انہوں نے ایک اہم اسلامی عمل  قربانی کو بے حد فائدہ مند بنانے کے لیے ایسا مبارک سلسلہ شروع فرمایا جس کے اثرات سے مسلمانوں کے کئی طبقات بھرپور نفع اٹھارہے ہیں اور اہل خیر اس کے دوررس اثرات کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

وہ کفریہ طاقتیں اوران کے حواری جو یہ سوچ رہے تھے اوراس کی منصوبہ بندیاں کررہے ہیں کہ مسلم معاشرہ علماء کرام، اسلامی شعائر اورمجاہدین سے کٹ جائے ، اس سال کی الرحمت قربانی مہم نے ان کے ان منصوبوں کی بے وقعتی کو طشت از بام کردیا۔

الرحمت قربانی مہم: بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے:

الرحمت وقف قربانی
الرحمت اجتماعی قربانی

وقف قربانی:کی حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی واجب قربانی کے علاوہ اپنے والدین، اعزہ واقارت، علماء و مشائخ، یا نبی کریم? کے ایصال ثواب کے لئے نفل قربانی کرتے ہیں تووہ یہی نفل قربانیاں ، الرحمت کو جمع کرادیں، تاکہ یہ ادارہ مستند علماء کرام کی زیرنگرانی بہت سے ان افراد تک پہنچادی جائیں جوکچھ خاص نسبت بھی رکھتے ہوں اوران میں قربانی کی استطاعت بھی نہ ہو۔ مثلا محاذوں اورجہادی مراکز میں موجود جانباز، شہداء کرام کے پس ماندگان، اسیران وغازیان اور رضاء کاروں کے گھرانے، دینی مدارس، آفت زدہ مسلمان وغیرہ۔چنانچہ اس پہلے مقصد کے لیے جو لوگ قربانی کی رقم جمع کراتے ہیں تو ان کی قربانیاں عموماًآگے دو صورتوں میں پہنچائی جاتی ہیں:

قربانی کے جانور یا ان کی رقم جس سے وہ خود جانور خرید لیں

قربانی کا گوشت

یعنی بہت سے جگہوں پر ایسا کیا جاتا ہے کہ مستحق افراد تک بعینہ قربانی کے جانور پہنچا دیئے جاتے ہیںیا انہیںوہ متعینہ رقم فراہم کردی جاتی ہے تاکہ وہ خود ہی جانور خرید لیں، جبکہ بعض مقامات پر جانور کی خریداری اورقربانی خود یہ ادارہ ہی کرتا ہے اوربعد میں اس کا مکمل گوشت مستحق افراد تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

ان قربانیوں کے مصارف کون سے ہیں؟ اور ان کی قدر وقیمت کیا ہے؟ اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟ اس پر قدرے مفصل روشنی ڈالتے ہیں تاکہ اس الرحمت قربانی مہم کی اہمیت واضح ہو سکے۔

محاذ اورجہادی مراکز: اس حقیقت سے کون سا مسلمان ناواقف ہے کہ جہاد اسلام کی ایک اہم ترین فرض ہے، جو قیامت تک باقی رہنا ہے، نہ اب اسے کوئی منسوخ کرسکتا ہے اور نہ ہی اس میں تاویلات کرکے اسے ناقابل عمل قراردے سکتا ہے۔ جہاد میں جان اورمال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔اب اس راہ میں مال خرچ کرنے کی مختلف صورتیں ممکن ہیں، انہی میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنی واجب یا نفل قربانی ان مجاہدین تک پہنچا دی جائے یا ان افراد تک پہنچادی جائے جو محاذ کے علاوہ دیگر جہادی مراکز میں موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے الرحمت قربانی مہم آپ کے لیے اسی صورت کو ممکن بناتی ہے اور آپ کی قربانیوں کو ان جانبازوں تک پہنچاتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے جہادی میدانوں میں ڈٹے ہوئے ہوتے ہیں، آپ کی بھیجی ہوئی قربانی ان کے لیے کس قدر خوشی اور نفع کا باعث بنتی ہوگی؟ اس کا آپ خود ہی اندازہ لگالیں اور پھر سوچ لیں یہ مہم کس قدر قیمتی ہے جو جانبین کو ایسا فائدہ پہنچا رہی ہے؟

شہداء کرام کے پس ماندگان:شہید کا امت پر یہ احسان ہوتا ہے کہ وہ اس امت اورامت کے دین کی خاطر اپنی جان قربان کرتا ہے، وہ اپنے گھربار اوربیوی بچوں سے دوری برداشت کرتا ہے، وہ اپنے کاروبار وتجارت سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے، مشکل ترین حالات کا سامنا کرتا ہے، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، وہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیتا ہے۔ ایسے محسنین کے پس ماندگان کی دیکھ بھال یقینا ہماری ذمہ داری ہے، خوشی کے مواقع پر انہیں خوشی فراہم کرنا کس قدر اونچا کام ہے اورغم کے مواقع پر ان کے غم کو ہلکا کرنا کتنی بڑی نیکی ہے؟ اب آپ دیکھیں کہ الرحمت کی قربانی مہم کی طرف سے جب آپ کی جمع کرائی ہوئی قربانی اْن تک پہنچے گی تو یہ تینوں ذمہ داریاں اس کے ضمن میں اداء ہوجائیں گی:اگر وہ قربانی کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے تو اس کا جو غم ہوگا وہ دور ہوجائے گا، قربانی کی خوشی میں وہ بھی شریک ہوجائیں گے اور اس طرح انہیں عدم توجہ کی شکایت بھی نہ رہے گی اور یہ بات کی علامت ہوگی کہ مسلمان ان کی دیکھ بھال کررہے ہیں اوروہ ان سے غافل نہیں ہیں اورنہ ہیں انہیں بھلاچکے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کی خوشی کا کیا ٹھکانہ ہوگا؟ اوران کے دلوں سے کیسی مخلصانہ دعائیں آپ کو پہنچیں گی؟

اسیران وغازیان ورضاء کار:اسیر وہی جو دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں قید ہوگئے ۔ آج ان میں سے کچھ انڈیا کے مشرکین کی قید میں ہیں اور کچھ صلیبی افواج کے زندانوں میں بند ہیں۔ ان کو لگی بیڑیاں کسی چوری اورڈالے کے جرم میں نہیں بلکہ صرف یہی جرم کہ وہ ان دشمنانِ دین کے سامنے سرنگوں کیوں نہ ہوئے؟ انہوں نے ان دشمنانِ اسلام سے ٹکر کیوں لی؟ اگرچہ یہ جرم نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے اوراسی لیے یہ اسیران اس قید وبند کو ایک اعزاز سے کم نہیں سمجھتے۔ لیکن کیا ان اسیران کے گھرانوں کی دیکھ بھال اوران کے ساتھ تعاون ہمیں نہیں کرنا چاہئے؟ کیا ہم انہیں بھلا دیں؟ ہرگز نہیں! انہیں یاد رکھا جاتا ہے اور الحمد للہ! الرحمت کی طرف سے یوں تو بہت سوں کو ہرماہ وظیفہ بھی پہنچایا جاتا ہے لیکن عیدِ قربان کے موقع پر قربانی بھی انہیں پہنچائی جاتی ہے جس سے اس کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم اپنے اسیران سے بے وفائی کرنے والے نہیں۔

دینی مدارس:ہمارے ملک میں جتنے بھی دینی مدارس ہیں، اْن میں سے شاید ہی کوئی ایسا مدرسہ ہوجو قربانی کے موقع پر کسی نہ کسی مہم میں مصروف نہ رہتا ہو۔ کہیں اجتماعی قربانی اگر وہ نہ ہو تو چرمِ قربانی مہم تو ضرور ہی چلائی جاتی ہے۔ الرحمت بھی اس سلسلے میں دینی مدارس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی ہے۔ بہت سے دینی مدارس الرحمت کے زیرانتظام قائم ہیں، چنانچہ ان دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ تک قربانیاں اوران کا گوشت پہنچایاجات ہے۔ اس حقیقت کو کون نہیں جانتا کہ دینی مدارس بے لوث انداز میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، دنیاوی تعلیمی اداروں کی طرح مال بٹورناان کا شیوہ نہیں ہے، اسی لیے دینی مدارس کے تمام اخراجات اللہ تعالی کے بھروسے اور مسلمانوں کے کئے ہوئے تعاون سے مکمل ہوتے ہیں۔ اس طرح قربانی کے موقع پر ان کے ساتھ تعاون کرنا ان کے ڈھیر سارے اخراجات کا بوجھ اتار دیتا ہے جس سے یہ تعاون کرنے والا ان کی دینی خدمات کے اجر میں شریک ہو جاتا ہے جو بڑی ہی غنیمت ہے۔

یہ سعادت اور کامیابی کے راستے ہیں جس پر چلنا اور ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ممکن ہوتا ہے اور جسے اللہ تعالی کی توفیق اور معیت مل جائے تو بھلا کون اس کی کامیابی والی منزل کھوٹی کرسکتا ہے؟

 

الحمد للہ!اس سال الرحمت کی قربانی مہم تمام تر نامساعد حالات کے باوجود عمدہ طریقے سے کامیاب ہوئی، اہل خیر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، کارکنان نے دن رات محنت کرکے قربانیاں جمع بھی کیں اور انہیں جماعت کے حسب ہدایت متعقلہ مقامات تک پہنچانے میں بھی کئی کسر نہیں چھوڑی۔ البتہ ایک بات کی یاددھانی ضروری ہے کہ اس سال قربانیوں کی مجموعی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے اور اس کی وجہ جماعت کا یہ نیا فیصلہ تھاکہ محبین سے صرف نفل قربانی لی جائے گی اورواجب قربانی نہیں لی جائے گی جبکہ گزشتہ سالوں میں نفل کے ساتھ واجب قربانی بھی لی جاتی تھی، چنانچہ اس حساب سے دیکھا جائے تو موجودہ تعداد بظاہر کم ہونے کے باوجود قابل رشک ہے کہ اتنے لوگوں نے واجب قربانی کے ساتھ ساتھ نفل قربانی کابھی اہتمام کیاجبکہ اجتماعی قربانیوں کی طرف تو رجحان اس قدر قابل رشک ہے جو آپ تعداد اور مالیت سے لگا ہی سکتے ہیں۔ اللہ تعالی سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

اس سال الرحمت قربانی مہم کی اجمالی کارگزاری درج ذیل ہے:

(۱)بہاولپوراجتماعی قربانی:

کل حصے:728

کل مالیت:65,52,000

(۲)کراچی صوبہ ابوعبیدہؓ اجتماعی قربانی:

کل حصے:2,275

کل مالیت:2,09,30,000

(۳)کراچی صوبہ علی المرتضیٰؓ اجتماعی قربانی:

کل حصے:679

کل مالیت: 67,90,000

(۴)شمالی پنجاب صوبہ عثمان غنیؓ اجتماعی قربانی:

کل حصے:588

کل مالیت:55,86,000

٭…٭…٭

کل نفل قربانیاں:

4,203

کل مالیت:

3,62,05,000

٭…٭…٭

کل اجتماعی و نفل قربانیاں:

8473

آٹھ ہزار چار سو تہترقربانیاں

کل مالیت:

7,60,63,000

سات کروڑ، ساٹھ لاکھ، تریسٹھ ہزار روپے ۔

اس سال نفل قربانیاں جمع کرنے میں درج ذیل دس اضلاع نے نمایاں حیثیت حاصل کی:

(۱)عبداللہ بن مسعودؓ(کراچی)275

(۲)لاہور272

(۳)عمرفاروقؓ(کراچی)181

(۴)عثمان غنی رضی اللہ عنہ(کراچی)189

(۵)بہاولپور197

(۶)ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ( کراچی)138

(۷)حسین رضی اللہ عنہ( کراچی)141

(۸)سیالکوٹ138

(۹)راولپنڈی123

(۱۰)ملا کنڈایجنسی134

صوبائی طور پر نفل قربانی جمع کرنے میں صوبوں کی ترتیب درج ذیل ہے:

حضرت عمرفاروقؓ(جنوبی پنجاب)870

حضرت ابو بکر ؓ( خیبر پختونخواہ)824

حضرت علیؓ(کراچی شرقی)790

حضرت عثمانؓ(شمالی پنجاب)750

حضرت ابو عبیدہ ؓ( کراچی غربی)580

حضرت  زبیرؓ( اندرون سندھ)120

حضرت طلحہ ؓ( آزاد کشمیر)69

 سید احمد شہیدؒ ( ہزارہ)60

حضرت عبدالرحمنؓ( بلوچستان)27

وفاق109

المرابطون4

الرحمت کے زیر اہتمام اجتماعی قربانیاں تو حصہ داروں کو ہی دی جاتی ہیں سوائے اس کے کوئی صاحب اپنا حصہ نہ لینا چاہیں بلکہ دیگر مسلمانوں میں یا غرباء میں تقسیم کرانا چاہیں تو ان کا حصہ حسب اقتضاء تقسیم کر دیا جاتا ہے جبکہ وقف قربانیاں میدان عمل میں مشغولِ کار دینی جانبازوں، دینی وجہادی مراکز، شہدائے اسلام کے پس ماندگان، اسیران اسلام اور ان کے پس ماندگان، دینی و جہادی کارکنان کے اہل و عیال، دینی مدارس، جماعتی مکاتب، شعبہ مساجد، مہاجرین، اور دیگر مستحقین غرباء و مساکین و حاجت مندوں لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ الرحمت قربانی مہم کو اپنی بارگاہ میںقبول فرمائے اور اس مہم میں کسی بھی قسم سے تعاون کرنے والے تمام اہل ایمان کو مغفرت او ررحمت نصیب فرمائے، اور اس سلسلہ خیر کو ہمیشہ باقی اور ترقی پذیر رکھے ۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online