Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

فیضانِ محبت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 658 - Mudassir Jamal Taunsavi - faizan e muhabbat

فیضانِ محبت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 658)

محبت ایک فطری جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے باطن میں رکھا ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنی رضا والی محبت نصیب فرمائے۔ آمین

اسی سے ملتا جلتا عربی زبان کا ایک اور لفظ ہے: حَبّ۔ جس کا معنیٰ ہے : دانہ

کسی بھی فصل کی افزائش کے لیے اس کا دانا اور بیج بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے وہ دانہ اور بیج زمین میں بو دیا جاتا ہے، پھر اسے پانی سے سیراب کیاجاتا ہے، نقصان دہ جڑی بوٹیوں سے اس کو بچایا جاتا ہے اور باہر سے کوئی چیز اس فصل کو اجاڑ نہ دے اس سے بھی کی حفاظت کی جاتی ہے۔ تب وہ بیج طاقتور و توانا ہو کرزمین کی چھاتی پر لہلہانے لگتا ہے، جس کا خوبصورت منظر اس کے مالک کو پسند آتا ہے۔

اسی طرح محبت کا معاملہ ہے، یہ اولا ایک بیج کی شکل میں کسی کے دِل میں اُترتا ہے، اور اگر انسان اس بیج کو مزید سیراب کرنا شروع کردے تویہ محبت دل میں مضبوط جگہ پکڑ لیتی ہے حتی کہ انسان کے تمام حواس پر چھا جاتی ہے اور پھر وہ انسان اس محبت کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

ایمان والوں کی شان یہ ہے کہ وہ ایسی مضبوط محبت اپنے رب تعالیٰ سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں:

’’ایمان والے اللہ تعالیٰ سے ہی سب سے زیادہ مضبوط محبت کرنے والے ہوتے ہیں‘‘ (سورہ البقرۃ)

چنانچہ پھر اُن کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ یوں پکار پکار کرکہتے ہیں:

میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پروردگارہے(القرآن)

اور پھر اس کے عمل کی شان یہ ہوتی ہے:

جس نے محبت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے کی، جس نے بغض بھی اللہ تعالیٰ کے لیے رکھا،جس نے کسی کو کچھ دیا تو اللہ تعالیٰ کے لیے دیا اور کسی سے کچھ روکا تو اللہ تعالیٰ کے لیے روکا، پس یہی وہ شخص ہے جس نے اپنا ایمان کامل کر لیا(الحدیث)

یہ کیفیات ان لوگوں کو کہاں نصیب جن کا جینا مرنا فانی دنیا کے لیے ہو، جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق تو دور کی بات اس ملاقات کا تصور بھی نہ کرتے ہوں۔

محبت رکھنے والا مومن تو وہ خوش نصیب ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوقین ہوتا ہے۔

حضرت عبادہ بن صا مت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند نہیں کرتاتو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ملنے کو پسند نہیں کرتے۔(جامع ترمذی )

کچھ خوش نصیب وہ ہوتے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی محبت کا فیض متوجہ ہوتا ہے، وہ فیض ان کے دل پر اُترتا ہے، وہ فیض ان کے باطن میں پوری طرح سرایت کرجاتا ہے، اس فیض سے ان کا قلب روشن ہوجاتا ہے، ان کا باطن معمور ہوجاتا ہے، وہ بظاہر اسی دنیا میں ہوتے ہیں مگر ان کا دل و دماغ آخرت میں، اور اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت کے پُرفیض باغ کی سیر و تفریح میں مشغول رہتا ہے۔

یہ وہ خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنی جان اللہ تعالیٰ کو بیچ چکے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی مہربانی اور رحمت کی آغوش میں ڈھانپ لیتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر مہربان اور رحمت کرنے والے ہی ہیں (سورہ البقرۃ)

یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کہ ان کی جان کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا، ورنہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنی جان شیطان کے حوالے کر چکے ہوتے ہیں، وہ شیطان کے آلہ کار بنے ہوئے ہوتے ہیں، وہ طاقت ور ہوتے ہیں مگر ان کی طاقت شیطان کو خوش کرنے میں استعمال ہورہی ہوتی ہے، وہ اثر ورسوخ والے ہوتے ہیں مگر ان کا اثر و رسوخ شیطان کی خوشی کے لیے کام کررہا ہوتا ہے، وہ پیسے والے ہوتے ہیں مگر ان کے پیسے سے اللہ تعالیٰ کے دین کے بجائے شیطانی کاموں کو ترویج مل رہی ہوتی ہے۔ افسوس ایسے لوگوں پر سوبار افسوس!

انسان ہو اور اس کا کسی سے مقابلہ نہ ہو؟ یہ ہو نہیں سکتا۔ انسان اس دنیا میں آزمائش کے لیے اور یہ آزمائش مقابلے پر ہی منحصر ہے۔

قرآن کریم نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا ہے:

’’وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں، پس تم لوگ شیطان کے دوستوں سے لڑتے رہو، ان کا مقابلہ کرتے رہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطان کی تدبیر بہر حال کمزور ہے‘‘(سورۃ النساء)

عربی زبان میں مقاتلہ کا لفظ باہمی لڑائی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اورلڑائی کے بغیر باہمی مقابلے کے لیے بھی۔ یہاں یہ دونوں معنیٰ مراد ہیں۔ ایمان والوں کی کافروں سے لڑائی بھی ہوتی ہے اور بغیر لڑائی کے بھی مقابلہ جاری رہتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ ایمان والے اللہ تعالی کی جماعت ہوتے ہیں اور کفر والے شیطان کے حمایتی ۔ ایمان والے یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس زمین پر اللہ تعالیٰ کی ہی مخلوق، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کی پجاری مت بنے اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے کامیابی کی راہ سے ہٹا کر جہنم کی راہ پر ڈال دوں ، اس کے لیے وہ کچھ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جو گمراہ نہیں ہوپاتے انہیں اُن گمراہ لوگوں کے ذریعے ستانے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح یہ مقابلہ بہر حال جاری ہوجاتا ہے کبھی یہ مقابلہ بغیر لڑائی کے جاری رہتا ہے اور بہت بار تو اس مقابلے میں نوبت لڑائی تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے ہی موقع کے لیے یہ قرآنی آیت اُتری ہے کہ اگر ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑائی کرنا پڑے تو انہیںسے گریز نہیں کرنا چاہئے کہ جب شیطان کے دوست اس شیطان کی خاطر لڑنے کے لیے

 تیار ہوچکے ہیں توشیطان کے دوستوں سے زیادہ رحمن کے بندوں کو اپنے رحمن مولاسے وفادِکھانی چاہیے۔

چنانچہ وہ سعادت مند جو اس سعادت کے لیے اپنی جان پیش کر دیتے ہیں ان کے لیے بارگاہ خداوندی سے اعلان ہوتا ہے:

’’بے شک اللہ تعالیٰ تو اُن لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی (مضبوط)دیوار کی طرح قتال کرتے ہیں‘‘ (سورہ الصف)

اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کا کیا مطلب ؟ جی ہاںلاالہ الا اللہ کی خاطر قتال کرنا، اللہ تعالیٰ کی توحید کی بالادستی کی خاطر قتال کرنا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے جب اللہ تعالیٰ کی توحید کے ماننے والوں سے الجھنے لگیں تو اس وقت ان مشرکین سے لڑنا، جب کفار و مشرکین اسلامی شعار: اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی، قرآن مقدس، نبی کریمﷺ کی ذات گرامی کے خلاف کھلم کھلا اور علانیہ دشمنی اور گستاخی پر اُترآئیں تو اس وقت ان سے قتال کرنا، یہ سب صورتیں ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ کا حصہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی محبت کا فیض پانا چاہتے ہو تو اس کے ساتھ یہ معاہدہ کر لو، اسے اپنی جان بیچ دو، اپنا تن من دھن اسی کے نام کردو، اخلاص کے ساتھ، محبت کے ساتھ،وفاداری کے ساتھ، بے لوث ہوکر، واہ واہ اور آہ آہ سے بے نیاز ہو کر ۔ تب یہ فیضان محبت نصیب ہوتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ اے اللہ! ہمیں بھی اپنا فیضان محبت نصیب فرما۔ آمین

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online