Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

سیدنا خُبیب ؓ کی یاد میں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 659 - Mudassir Jamal Taunsavi - Syedna Khubaib ki Yaad mein

سیدنا خُبیب ؓ کی یاد میں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 659)

جلیل القدر صحابیٔ رسول،نڈر اور دلیر مجاہد، عبادات کے دلدادہ، جرأت و شجاعت کے پیکر، بلند پایہ مثالی اور انوکھے عاشق رسول، شہادت کے شوقین، اللہ تعالیٰ کے سچے صاحبِ کرامات ولی، گویا تصوف اور جہاد کی جیتی جاگتی مثال، قربانی اور عزیمت کا لازوال کردار، جن کے تذکرے پر امید ہے رب تعالیٰ سے کہ وہ ہمیں رحمت سے نوازے گا، وہ ہیں: سیدنا خبیب بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ و ارضاہ( اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہوں اور انہیں اتنا نوازیں کہ وہ بھی خوش ہوجائیں)

سیدنا خبیبؓ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے۔ قبیلہ اوس سے ان کا تعلق تھا اور والد کا نام عدی ہے۔ نبی کریمﷺ نے ابھی مدینہ منورہ کی جانب ہجرت نہیں کی تھی کہ اس سے قبل ہی یہ اسلام کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔ 

یہ وہ خوش نصیب اور فداکار صحابی ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر سب سے پہلے سولی پر اپنی جان دی اور بزبانِ حال یہ کہتے رہے:

جان دی ، دی ہوئی اُسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق اداء نہ ہوا

جب نبی کریمﷺ مدینہ منورہ ہجرت فرما کر تشریف لے آئے تو حضرت سیدنا خبیب نے اسے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے خود کو نبی کریمﷺ کی خدمت اور فداکاری کے لیے گویا وقف کردیا۔

اسلامی تاریخ کا پہلا عظیم الشان معرکہ بدر کے میدان میں ہوا تو اس میں ایک جرأت مند اور دلیر مجاہد کی طرح شریک ہوئے، اور بعض مورخین کے بقول ابتدائے معرکہ میںہی جب آپ کچھ مشرکین کے حصار میں پھنس گئے تو اس زور سے ان پر حملہ آور ہوئے کہ مشرکین کے ایک سردار حارث بن عامر بن نوفل کو قتل کیا اور اس حصار کو بھی توڑ کر مسلمانوںکے ساتھ مل گئے۔

پھر غزوہ احد ہوا تو اس میں بھی سیدنا خبیب بن عدی شریک ہوئے۔ آپ کی طبیعت صوفیانہ مزاج کی تھی۔ عموماً رات بھر نماز میں مشغول رہتے ، دن کو روزہ رکھتے اور زیادہ تر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے۔

سنہ چار ہجری میںرسول کریمﷺ نے قرآن کریم کا علم رکھنے والے چند صحابہ کرام کو نجد کی جانب اہل نجد کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے روانہ کیا، سیدنا خبیب بھی اس قافلے میں شامل تھے۔

یہ قافلہ ابھی راستے میں ہی تھا کہ مشرکین نے اس قافلے کا گھیراؤ کر لیا اور اسی گھیراؤ میں سیدنا خبیبؓ کو گرفتار کرکے مشرکین مکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا۔

سیدنا خبیب کو حارث (جو بدر میں قتل ہوا تھا)کے ورثاء نے اپنا بدلہ اُتارنے کے لیے خرید لیا۔ عقبہ بن حارث نے انہیں خرید کر اپنے گھر میں ہی قید کر لیا، مزید سختی کے لیے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں بھی ڈال دیں۔

سیدنا خبیب کی زندگی کا یہ وہ زمانہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کی یادگار بن گیا ہے، اور اسی مختصر سی مدت کے متعدد واقعات نے آپ کی شخصی عظمت اور دینی وجاہت کا وہ اونچا معیار پیش کیا ہے کہ جس کی بدولت آپ جلیل القدر اور نہایت ہی بلند مرتبہ صحابہ کرام میں شمار کے جاتے ہیں اور ان کی زندگی کے یہ لمحات ایک مشعل راہ بن کر اب تک فدائیانِ اسلام کے لیے جگمگا رہے ہیں۔

اسی قید کے دوران ایک مرتبہ آپ نے اس گھر والوں سے اپنے زائد از ضرورت بال صاف کرنے کے لیے اُسترا مانگا جو انہوں نے دیدیا، پھر کچھ دیر بعد گھروالوں نے دیکھا کہ ان کا ایک چھوٹا بچا حضرت سیدنا خبیب کے پاس چلا گیا ہے اور وہ اُسترا سیدنا خبیب کے ہاتھ میں ہے تو وہ گھبراگئے اور انہوں نے سوچا کہ کہیں سیدنا خبیب اپنا بدلہ لینے کے لیے ہمارے بچے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

سیدنا خبیب بھی ان کے چہرے دیکھ کر معاملہ سمجھ گئے تو فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اپنا بدلہ اس بچے سے لوں گا؟ تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہمارا دین ہمیں اس کی بالکل بھی تعلیم اور اجازت نہیں دیتا۔ الغرض اس طرح انہوں نے اسلام کی عظمت بھی اسلام کے دشمنوں کے دل میں راسخ کردی اور اسی سے ان کی شرافت نفسی بھی عیاں ہوگئی۔

علماء نے لکھا کہ اس میں یہ بھی سبق ہے کہ ایک مسلمان کو ہمیشہ سنت نبویہ کا شوقین رہنا چاہئے۔ اب دیکھئے کہ حضرت سیدنا خبیبؓ اگرچہ قید کی حالت میں تھے مگر پھر بھی وہ فطری سنت (ضرورت سے زائد بال صاف کرنا) سے غافل نہ ہوئے اور اس دوران بھی انہوں نے اس سنت کو پورا کرنے کا اہتمام کیا۔

آج ہم لوگ آزادی اور آرام کی حالت میں بھی بہت سی سنتوں کو سنت سمجھ کر ہی چھوڑ دیتے ہیں ، حالانکہ سنت تو ہوتی ہی عمل کے لیے ، کیوں کہ سنت کا معنیٰ ہی یہ ہے کہ: وہ راستہ جس پر چلا جاتا ہو۔ معلوم ہوا کہ سنت ہے ہی اسی لیے کہ اس کو اختیار کیا جائے، نہ اس لیے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔

حضرت سیدنا خبیبؓ جب قید میں تھے تو ان کی نگرانی پر جسے مقرر کیا گیا تھا ، اسے آپ نے تین باتوں کی درخواست کی تھی:

(۱) مجھے آب شیریں پلانا

(۲) بتوں کے نام پر ذبح کی گئی چیز مجھے مت کھلانا

(۳) قتل سے پہلے مجھے اطلاع کردینا

سیدنا خبیبؓ کی کرامات:

سیدنا خبیب اللہ تعالیٰ کے صاحب کرامت ولی تھے۔یہ کرامت موت سے پہلے بھی ظاہر ہوئی اور موت کے بعد بھی۔ آپ کو جس مشرک نے قید کر رکھا تھا خود اس کی بیوی کا بیان ہے کہ میں نے کئی مرتبہ دیکھا کہ سیدناخبیب کے پاس انگوروں کا خوشہ ہوتا اور وہ اس سے انگور کھارہے ہوتے تھے ، حالانکہ اس وقت نہ تو مکہ مکرمہ میں انگوردستیاب ہوتے تھے اور نہ ہی ان کی بیڑیاں وغیرہ کھلی ہوتی تھیں، صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیاگیا رزق ہوتا تھاجو انہیں خزانۂ غیب سے ملتا تھا۔

جبکہ موت کے بعد جو کرامت ظاہر ہوئی اس کی وجہ سے ان کا لقب ’’بلیع الارض‘‘ پڑ گیا تھا۔ بلیع کامعنی نگلی ہوئی چیز اور الارض زمین کو کہتے ہیں۔ مطلب آپ وہ شخصیت ہیں جنہیں زمین نے نگل لیا تھا۔ اس لقب کا سبب جو واقعہ بنا تھا وہ مدارج النبوۃ میں کچھ اس طرح مذکور ہے: ’’حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا کہ مقام تنعیم میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش سولی پر لٹکی ہوئی ہے جو مسلمان ان کی لاش کو سولی سے اتار کر لائے گا میں اس کیلئے جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔یہ خوشخبری سن کر حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوا ر ہوکر راتوں کو سفر کرتے تھے۔ان دونوں حضرات نے لاش کو سولی سے اتاراچالیس دن گزرجانے کے باوجود لاش بالکل تروتازہ تھی اور زخمو ں سے تازہ خون ٹپک رہا تھاگھوڑے پر لاش کو رکھ کر مدینہ منورہ کا رخ کیا مگر ستر کافروں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا۔جب ان دونوں حضرات نے دیکھا کہ اب ہم گرفتار ہوجائیں گے تو ان دونوں نے مقدس لاش کو زمین پر رکھ دیا۔خداکی شان دیکھئے کہ ایک دم زمین پھٹ گئی اور مقدس لاش کو زمین نگل گئی اور پھر وہ زمین اس طرح برابر ہوگئی کہ پھٹنے کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا لقب ’’بلیع الارض‘‘ (جن کو زمین نگل گئی)ہے۔ پھر ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ اے کفار مکہ ہم تو دو شیر ہیں جو اپنے جنگل میں جارہے تھے۔اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو ہمارا راستہ روک کر دیکھ لو۔ورنہ اپنا راستہ لو۔جب کفار مکہ نے دیکھ لیا کہ ان دونوں حضرات کے پاس لاش نہیں ہے تو وہ لوگ مکہ واپس چلے گئے۔(مدارج النبوۃ : ج2ص141)

قتل سے پہلے نماز پڑھنا:

سیدنا خبیبؓ کو جب سولی دینے کا وقت آگیا تو انہیں اس کی اطلا ع کردی گئی ، انہوں نے اس وقت کچھ مہلت مانگی تاکہ دو رکعت نماز پڑھ سکیںاور اس موقع پر متعدد ایمان افروز اَشعار بھی کہے۔ سیدنا خبیب کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان ان کے دل میں راسخ ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا شوق ان کے رگ و پئے میں سمایاہوا تھا۔ وہ خوف اور بزدلی سے کوسوں دور تھے۔ جب انہیں سولی پر لٹکانے کے لیے لے جایا گیا تو یہ شعر پڑھتے ہوئے سولی کے نیچے پہنچے :

و لست ابالی حین اقتل مسلما

علی ای جنب کان للہ مصرعی

اگر میں مسلمان رہ کر مارا جاوں تو مجھے غم نہیں،کہ کس پہلو پر خدا کی راہ میں پچھاڑا جاتا ہوں

و ذلک فی ذات الالہ وان یشا

یبارک علی او شال شاو ممزع

جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی محبت میں ہو رہا ہے،اگر وہ چاہے تو ان کٹے ہوئے ٹکڑوں پر برکت نازل کرے گا۔

مولانا قاضی سلیمان صاحب منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے اشعار میں سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے مفہوم کو یوں ادا فرماتے ہیں:

جب نکلتی جان ہے اسلام پر

تب نہیں پرواہ مجھ کو جان کی

کیوں نہ دوں کامل خوشی سے اپنی جان

چاہیے مجھ کو رضا رحمان کی

آرزو پنہاں میرے سینہ میں تھی

اس دل مشتاق پر ارمان کی

آنکھ کر لیتی زیارت وقت نزع

داعی حق ہادی ایمان کی

اے خدا پہنچا میرا ان کو سلام

جان جن پر میں نے ہے قربان کی

طبری اور سیرت ابن ہشام جلد دوم اور رحمۃ للعالمین جلد اول میں ہے کہ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی کے تختہ پر چڑھایا گیا، تو ایک سخت دل نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے جگر کو چھیدا، اور پوچھا کہو اب تو تم بھی پسند کرتے ہو گے کہ محمدﷺ)پھنس جائے اور میں چھوٹ جاوں، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا، کہ خدا خوب جانتا ہے، کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا، کہ میری جان بچ جانے کے لیے نبی کریمﷺ کے پاوں میں کانٹا بھی چبھے، پھر ان سے کہا گیا، کہ تم اسلام چھوڑ دو، تمہیں آزاد کر دیا جائے گا، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کہ اللہ کی قسم! اگر تمام دنیا کی سلطنت بھی میرے سامنے پیش کر دو، تب بھی اسلام نہیں چھوڑ سکتا۔

سیدنا خبیبؓ کی یہ اداء اتنی پسند کی گئی کہ اہل اسلام میں یہ عمل ایک سنت کے طور پر جاری ہوگیا کہ جب کسی کو ناحق قتل کیاجانا ہو تو وہ دو رکعت نفل پڑھ لے۔

مشرکین کے لیے بددعاء کرنا:

جس وقت سیدنا خبیبؓ کو مشرکین سولی پر لے جانے لگے تو اس وقت انہوںنے اللہ تعالیٰ سے دو دعائیں کی:

ایک تو یہ ہے کہ اے اللہ! ہم نے آپ کے رسول کا پیغام ان تک پہنچا دیا ، اب یہ جو کچھ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں آپ اس کی اطلاع ہمارے نبیﷺ تک پہنچا دیجیے۔

دوسرا آپ نے ان مشرکین کے حق میں بددعاء کی اور اللہ تعالیٰ سے التجاء کی کہ: اے اللہ! انہیں چن چن کرہلاک کردیجیے، انہیں پوری طرح برباد کریجیے اور ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑئیے۔

اس سے معلوم ہواکہ جس مسلمان پر مشرکین کی طرف ظلم ہو تو وہ ان کے خلاف بددعاء کرسکتا ہے اوریہ ایساعمل ہے جوخودنبی کریمﷺ سے بھی ثابت ہے اور حضرات صحابہ کرام سے بھی۔

سیدنا خبیبؓ کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ اسلام کی خاطر ایک جانباز کی ایسی قربانی تھی کہ جس کی تفصیلات پڑھ کر کوئی بھی انسان اپنے آنسو نہیں روک سکتا۔ سیدنا حسان بن ثابت جیسے شاعر پر بھی اس واقعے نے خاص اثر ڈالا تو انہوں نے سیدنا خبیبؓ کے بارے میں متعدد اشعار کہے۔ ان میں سے ایک شعر آپ بھی ملاحظہ کیجیے:

فاذھب خبیب جزاک اللہ طیبۃ

و جنۃ الخلد عند الحور فی الرفق

اے خبیب! آپ روانہ ہو جائیے! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ کی جنت میں حوروں کی رفاقت اور پاکیزہ زندگی نصیب کرے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online