Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

وہ ایک سجدہ… (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 661 - Mudassir Jamal Taunsavi - Wo aik Sajda

وہ ایک سجدہ…

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 661)

بھارتی الیکشن نزدیک ہوں، پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار ہو یا کشمیر میں بھارت بُری طرح رُسوا ہو رہا ہو تو ’’پاک دشمن عادت‘‘ سے مجبور ہندومشرکین اور ان کے چیلے چانٹے ہائے ہائے اور اوئی اوئی کا شور مچانے نکل آتے ہیں۔

بھارت کا ماحول بھی عجیب ہے کہ جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی اور بال ٹھاکرے کے وارثین وشوا ہندو پریشد احمد آباد میں مسلم قتل عام کے سفاک قصاب مودی کو ہیرو بنانے کے لئے بھارتی عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کر کے پاکستان مخالف جذبات کومسلسل ہوا دیتے رہتے ہیں اور جب بھی خصوصاً انتخابات کا موقع آتا ہے تو پاکستان دشمنی کے کارڈ کو بھرپور طریقے بروائے کار لایا جاتا ہے اور عجیب تر بات یہ بھی ہے کہ وہ کارڈ فیل بھی نہیں ہوتا بلکہ ہر بار نہایت ہی مفید ثابت رہتا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں موجود بھارتی لابی جو امن و امان یا فلم و ڈرامے کے نام پر مختلف شکلیں اختیار کرتی رہتی ہے اوریہ راگ الاپتی ہے کہ بھارت میں بس چند شرپسند لوگ ہیں ورنہ وہاں کے سیاستدان اور ہندو عوام تو امن کے پیاسے ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ جب بھی وہاں کے سیاستدان پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیلتے ہیں تو وہاں کے عوام کیوں کر اس کارڈ پر ناچنے لگتے ہیں اور اس پاکستان دشمنی کا جھنڈا اُٹھانے والوں کو جتوا دیتے ہیں!!

یہ تو معاملہ ہے بھارتی ہندو مشرک عوام اور وہاں کے دہشت گردوں کا جس میں سیاستدان بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا بھی پاکستان دشمنی میں کسی سے پیچھے نہیں رہتا اور رہے بھی تو کیوں کر؟ جب بھارتی عوام سننا ہی یہی چاہتے ہیں تو پھر یہ سب انہیں یہی کچھ نہ سنائیں تو اور کیا سنائیں؟ کون نہیں جانتا کہ میڈیا ہمیشہ ریٹنگ کا محتاج رہتا ہے ، اب چونکہ پاکستان دشمنی کا راگ الاپنے سے بھارتی میڈیا کی ریٹنگ خوب بڑھتی ہے اس لیے بھارتی میڈیا اس طرح اپنے عوام کو بھی اچھی طرح بے وقوف بناتے ہیں اور خوب پیسہ بھی کماتے ہیں۔

یہ بھارتی میڈیا ہی ہے جو کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر کیے جانے والے وحشیانہ مظالم، پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں ، بلوچستان اور کراچی میں بھارتی مداخلت کے کھلے ثبوتوں پر چپ سادھ لیتا ہے مگر پاکستان پر بے ہنگم الزامات کی بوچھاڑ کرنے اور پاکستان کے اداروں پر زہر اگلنے میں سب سے آگے رہتا ہے، اور ایسے چیختا چنگھاڑتا ہے جیسے عین جنگی حالت ہو بلکہ بہت دفعہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس وقت یہ بھارتی میڈیا پاکستان دشمنی پر لال پیلا ہو رہا ہے تو شاید اس وقت بھی ان کے سروں پر جنگی جہاز پرواز کررہے ہوں!!

بھارتی افواج کشمیر میں خون کی کیسی ہی ہولی کھیلیں بھارتی میڈیا پر امن کا گیت گایا جاتا ہے مگر جونہی کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت یا بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بن کر بے سرو سامانی کی حالت میں بھارتی افواج کے مد مقابل ہوتے ہیں تو ان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں اور پھر ایسی رپورٹنگ منظر عام پر لاتے ہیں کہ جیسے کشمیری عوام نے کوئی بہت بڑا جرم کر دیا ہو ۔ چنانچہ حال ہی میں بھارتی آرمی چیف کی دھمکی کے بعد بھارتی میڈیا نے کشمیر کی یوں عکاسی کی ہے:

’’مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کشمیری نوجوانوں نے بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کی دھمکی کو پاؤں تلے روند دیا ،پوری مقبوضہ وادی میں پاکستانی پرچموں کی بہار آ گئی ،کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں کی گونج نے ہندوستانیوں کی نیندیں اڑا دیں۔‘‘

بھارتی نجی چینل این ڈی ٹی وی نے انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت کی جانب سے گذشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالوں کو دی جانے والی دھمکی کہ جس نے بھی جموں و کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرایا اسے دہشت گرد قرار دیا جائے گا پر اپنی خصوصی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ’’کشمیری نوجوانوں پر بھارتی فوجی سربراہ کی دھمکی کا کوئی اثر نہیں ہوا ،جمعہ کے روز مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ ہونے والے مظاہروں میں کشمیریوں نے نہ صرف پاکستانی پرچم لہرائے بلکہ کشمیر بنے گا پاکستان  کے فلک شگاف نعرے بھی لگاتے رہے ،احتجاج کرنے والے مظاہرین ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے بھارتی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کے شیل اور گولہ باری کے باوجود سنگباری بھی کرتے رہے۔‘‘

بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ انڈین فوجی سربراہ نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ مقامی کشمیری بھارتی فوج کی راہ میں جس طرح رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اس سے بڑی تعداد میں نوجوان ہلاک ہو رہے ہیں ،جبکہ کئی کشمیری مجاہدین کو فرار کرانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں ،اب اگر کسی کشمیری شہری نے مجاہدین کی مدد کی اور پاکستانی پرچم لہرایاتو فوج انہیں بھارت دشمن قرار دیتے ہوئے دہشت گرد قرار دیں گے اور ایسے کشمیریوں کے خلاف سخت ترین کارروائی جائے گی ۔بھارتی ٹی وی نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انڈین فوجی سربراہ کے سخت ترین انتباہ (دھمکی)کے باوجود جموں وادی میں کشمیری نوجوانوں نے نہ صرف جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہرائے بلکہ بھارت مخالف نعرے(کشمیر بنے گا پاکستان)بھی لگاتے رہے۔

بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مودی حکومت اور وزارت داخلہ کو رپورٹ بجھوائی ہے کہ آزادی پسند تنظیمیں سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاج اور مجاہدین بھارتی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں اور مارچ کے مہینے سے ایک بار پھر وادی میں پر تشدد کارروائیوں کا آغاز ہو سکتا ہے ،جس سے وادی میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی اپنے عروج پر جا سکتی ہے ۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت نے بھی کشمیریوں کے پر امن احتجاج کو کچلنے اور معصوم کشمیریوں کو شہید کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے کشمیری شہریوں کو ڈراتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام ایسی جگہوں پر جانے سے گریز کریں جہاں احتجاج ہو رہا ہو ،تاکہ وہاں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری سے لوگوں کو ہلاکتوں  سے بچایا جا سکے۔

بھارت سرکار کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب وہ نہتے کشمیریوں کی تحریک کو نہیں دبا سکی اور نہ ہی ان پر ان کی کسی دھمکی کا کچھ اثر ہوتا ہے تو وہ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کی پوزیشن میں کب ہوسکتی ہے؟

نیز پاکستان کے اصحاب اقتدار کو بھی کھلی آنکھوں سے اس حقیقت کا مشاہدہ کرنا چاہیئے اور بھارت کی منی سپرپاور کا جو جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اس سے باہر نکلیں اور بھارت کے سامنے جھکنے یا اس کی طرف اُس کی اوقات سے زیادہ قدم بڑھانے سے گریز کریں۔

اگرچہ یہ بیان بھارتی فوجی چیف نے دیا ہے کہ اب ضروت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے، مگر حق تو یہ ہے کہ یہ بیان پاکستان کی جانب سے جاری ہونا چاہیے تھا، کیوں کہ بھارت کشمیرمیں کئی دہائیوں سے اور گزشتہ دو تین دہائیوں سے کراچی اور بلوچستان میں جو زبان استعمال کررہا ہے اب اسے اسی زبان میں بھرپور جواب دینے کی پالیسی بنائی جائے ۔ یہ ایک اِقدام نہ صرف بھارتی کی بدمعاشیوں کو روک دے گا بلکہ پاکستان کی وحدت و سلامتی بھی اس سے بھرپور مضبوط ہوگی۔ ان شاء اللہ

علامہ اقبال مرحوم کا یہ شعر کتنی بڑی سچائی پر مبنی ہے اور ہمیں کتنی بڑی سچائی کا درس دے رہا ہے:

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

دیتا ہے تجھے ہزار سجدوں سے نیاز

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online