Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور قومی دھارا (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 662 - Mudassir Jamal Taunsavi - Deeni Madaris aur Qoumi

دینی مدارس اور قومی دھارا

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 662)

ہر وہ حکومت جو قوم کی فلاح و بہبود کے بڑے بڑے نعرے لے کر کھڑی ہوتی تو نہ معلوم کیوں اس کی مجہول النسب تبدیلی سب سے پہلے دینی مدارس کا رُخ کر لیتی ہے۔ پھر کچھ تو وہ ہیں جو خوش نما نعرے بھی دے جاتے ہیں:

ہم دینی مدارس کو قومی دھارے میں لائیں گے

ہم دینی مدارس کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں

ہم دینی مدارس کے نصاب و نظام کو بہتر بناناچاہتے ہیں

اور کچھ وہ ہوتے ہیں جو دینی مدارس کے خلاف دھمکی آمیز بیانات لے کر سامنے آتے ہیں:

ہم دینی مدارس کو اپنے کنٹرول میں کر لیں گے

ہم دینی مدارس کی امداد کے راستے روک دیں گے

ہم دہشت گردی کے اڈے دینی مدارس ختم کردیں گے

ہم مولویوں کا جینا مشکل کردیں گے

ہم مولویوں کو دریا بُرد کردیں گے

وغیرہ وغیرہ، جتنے منہ ، اُتنی باتیں

اب اِن دِنوں ایک بار پھر دینی مدارس کے بارے میں کئی بیانات دے کر مختلف نئی مباحث شروع کرادی گئی ہیں۔

ایک عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ دینی مدارس قومی دھارے میں شامل نہیں ہیں، مگر یہ ’’قومی دھارا‘‘ ہے کیا چیز؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں کرتا۔ آئیے ان سے چند سوالات کرتے ہیں:

دینی مدارس کے ساتھ تعاون کرنے والے کون لوگ ہیں؟ ظاہر ہے کہ عوام اور قوم ، جبھی تو مدارس کو یہ طعنہ دیاجاتا ہے کہ یہ قوم کے چندے پر پَلتے ہیں

دینی مدارس میں پڑھانے والے کون لوگ ہوتے ہیں؟ آیا وہ اسی ملک کے باشندے ہوتے ہیں یا زمین سے اُگنے والی کوئی انوکھی مخلوق؟

دینی مدارس میں پڑھنے والے کون ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اسی قوم کے بچے ہوتے ہیں، امریکہ یا برطانیہ سے قرض لیے ہوئے کوئی ڈالر وغیرہ تو نہیں ہوتے

دینی مدارس کی سالانہ تقریبات، اجتماعات، بلکہ ہر جمعہ کے خطبات میں کوئی خلائی مخلوق اُمڈآتی ہے یا اسی کے قوم کے اہل خیر و اہل دین؟؟

جب دینی مدارس کے چاروں اَرکان: معاونین، مہتممین، مدرسین اور طالبین سب کے سب اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو کیوں کر یہ باور کر لیا جائے کہ دینی مدارس قومی دھارے سے کٹے ہوئے ہیں؟؟

اچھا اگر تو مراد یہ ہے یہ لوگ قوم کے ساتھ مل جل کر نہیں رہتے تو بتائیے کہ آپ کے ایم پی ایز، ایم این ایز سوائے ووٹ مانگنے کے وقت کے کبھی آپ کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں؟ تو پھر انہیں بھی قومی دھارے سے باہر نکال کیجیے ورنہ اہل مدارس تو صبح و شام اسی قوم کے پاس حاضر ہوتے رہتے ہیں کبھی دینی دعوت کے لیے اور کبھی اپنی ضروریات کی خرید و فروخت کے لیے ۔ یہ دینی مدارس والے اپنے رہن سہن اور لباس و پوشاک اور تعمیرات کی ضروریات کے لیے اسی قوم کے پاس ہی صبح و شام آمد و رفت رکھتی ہے تو جناب والا! یہ کیوں کر قومی دھارے سے باہر ہوگئے؟؟

ہاں دینی مدارس میں مخلوط رنگارنگ بے حیائی کی مجالس نہیں ہوتیں

دینی مدارس میں قوم کے بچوں اور بچیوں کو ڈھول اور سارنگی کی تھاپ پر ناچنا اور تھرکنا نہیں سکھایا جاتا

دینی مدارس میں قوم کے نونہالوں کو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے بارے میں شک میں نہیں ڈالا جاتا

دینی مدارس میں قوم کے نانہالوں کو شراب نوشی اور منشیات کا رَسیا نہیں بنایاجاتا

دینی مدارس میں قوم کے بچوں اوربچیوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور بانہوں میں بانہیں ڈال کر بے حیائی والی آزادی کا ماحول نہیں دیا جاتا

دینی مدارس میں اساتذہ کو جوتوں اور ڈنڈوں سے نہیں پیٹا جاتا

اگر تو یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دینی مدارس میں انہی حرام زدگیوں کو رواج دینے کے نام قومی دھارا ہے تو پھر اس سے ہماری سوبار توبہ اور اس طرح ہم اگر قومی دھارے سے الگ شمار ہوتے ہیں تو یہی ہمارے لیے باعث فخر بھی ہے اور باعث شکر بھی۔

ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ دینی مدارس والے معاشرے کو کیا دیتے ہیں؟

یہی سوال ایک ڈاکٹرصاحب نے کیا تو بندہ نے ان سے پوچھا:

یہ جو آپ کے پاس گاڑی ہے یہ آپ نے خود ایجاد کی ہے؟ اس میں کوئی خرابی ہو جائے تو آپ خود ہی گھر میں مکینکل بن جاتے ہیں؟ اس کا ٹائر پنکچر ہوجائے تو آپ خود ہی پنکچر لگا لیتے ہیں؟ یہ اور اس طرح کچھ اور سوالات کیے سب کا جواب تھا : نہیں، نہیں، نہیں

پھر میں نے پوچھا: یہ جو آپ کی اعلی کلینک ہے ، یہ تو ہو نہ ہو آپ کے ہی ہنرمعماری کا کمال ہوگی ؟ تو بولے یہ بھی نہیں

عرض کیا تو پھر یہ جو عمدہ ترین صوفے رکھے ہیں اس میں تو آپ کی دستکاری ضرور شامل ہوگی ؟

اس طرح کچھ غصے ہو کر کہنے لگے کہ : مولوی صاحب ! آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ میں ایک ڈاکٹر ہوں ، میرا کام یہ ہے کہ مریض میرے پاس آتا ہے اور میں اس سے فیس لے کر اس کا علاج کرتا ہوں، مجھے ان دوسرے کاموں کا کیا پتہ؟ یہ کام تو دوسرے مختلف قسم کے لوگ ہی کرتے ہیں۔

عرض کیا:بس فی الحال یہی سمجھ لیجیے کہ جس طرح آپ اپنی زندگی کی سیکڑوں ہزاروں ضروریات میں دوسروں کے محتاج ہیں، پھر آپ جن کے محتاج ہیں وہ سبب کے سب کوئی اعلی تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں بلکہ ان میں سے ایک بڑی تعداد یا تو بہت کم پڑھے لکھوں کی ہے اور بعض تو شاید بالکل ہی ان پڑھ مگر انہوں نے جو کام کیا وہ ان کا ہی تھا ، آپ کے بس کا نہیں تھا۔ آپ تو بس ایک ہی کام کررہے ہیں اور وہ بھی فیس لے کر

تو پھر آپ دینی مدارس پر کیوں اتنے معترض رہتے ہیں۔ ان کا بھی ایک کام ہے، اور وہ ہے : دینی علوم کی تعلیم و تدریس، اور وہ بھی مفت میں۔ بس اس کام میں وہ منہمک ہیں اور ان کے دیگر کام دوسروں کے توسط سے ہورہے ہیں تو یہ بالکل آپ جیسا ہی معاملہ ہوا، اس پر اگر اعتراض کرنا ہے تو خود پر بھی اعتراض کیجیے!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online