Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

صہیونیت کیا ہے؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 663 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sihooniyat kia hay

صہیونیت کیا ہے؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 663)

صہیونیت کا تعارف جاننے سے پہلے چند اہم نکات ذہن نشین کر لیں:

(۱)اسرائیلی نسبت کی حقیقت: حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا، اور پھر ان کی جتنی بھی اَولاد ہے وہ ’’بنی اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’’اسرائیلی‘‘ نسبت ایک ’’خاندانی‘‘ نسبت ہے، یعنی جو بھی حضرت یعقوب علیہ السلام کی آل اور آل در آل میں سے ہوگا وہ خود کو ’’اسرائیلی‘‘ کہلا سکتا ہے، کیوں کہ وہ اس خاندان کا فرد ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ سرزمینِ فلسطین پر غاصبانہ طور پر قائم کی گئی ریاست بنام ’’اسرائیل‘‘ کی نیشنلٹی اور قومیت رکھنے والے ’’اسرائیلی‘‘ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد والے ’’اسرائیلی‘‘ میں بہت فرق ہے۔

(۲)یہودی: ویسے تو یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کی طرف نسبت ہے جس کا نام ’’یہوداہ‘‘ تھا، مگر آگے چل کر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت و رسالت ملی اور انہیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے تورات بھی عطاء کی گئی تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کامذہبی لقب یہودی بن گیا، اور پھر یہ لقب اُس وقت مزید ان کے لیے پکا ہوگیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت و رسالت دی اور قوم کی ہدایت کے لیے انجیل عطاء کی تو ان یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے سے انکار کردیا بلکہ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے اور انہوں نے اس اس کی پوری کوشش بھی کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قاتلانہ سازش سے بچا کر زندہ آسمانوں پر اٹھالیا، الغرض جب ان یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوماننے سے انکار کیا تو اس وقت سے بنی اسرائیل مذہبی طور پر دو بڑے خانوں میں تقسیم ہوگئے: ایک یہودی جو خود کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اُمتی اور اپنی کتاب تورات کو مانتے ہیں، جب کہ دوسرے عیسائی جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امتی اور اپنی کتاب انجیل کو مانتے ہیں۔

اس سے واضح ہوا کہ ’’یہودی‘‘ ایک مذہبی نسبت ہے، اگرچہ یہودیوںنے اس میں یہ شرط رکھ کر کہ جس کی والدہ یہودی ہوگی وہی یہودی ہوگا، اسے ایک ’’نسلی‘‘ نسبت بھی بنادیا ہے۔

صہیونی: یہ ایک سیاسی، قوم پرستانہ اور متشدد تنظیم و تحریک کی طرف نسبت ہے اور اس تحریک کو ’’صہیونیت‘‘ کہا جاتا ہے اور اسی کا کچھ تعارف پیش کرنا یہاں مقصود ہے۔ اوپر کی تفصیل سے یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ اسرائیلی، یہودی اور صہیونی یہ تینوں نسبتیں ایک ہی مفہوم نہیں رکھتیں، بلکہ الگ الگ مفہوم رکھتی ہیں، اگرچہ یہ ممکن ہے کہ بعض افراد میں یہ تینوں نسبتیں جمع ہوں۔ یعنی یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ اسرائیلی بھی ہوں، یعنی نسلاً حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں، یہودی بھی ہوں کہ تورات کو مانتے ہوں اور صہیونی بھی ہوں کہ اس سیاسی قوم پرستانہ متشدد تنظیم سے وابستہ ہوں۔

صہیونیت: ایک سیاسی، قوم پرستانہ اور متشدد تنظیم ہے، جس کی بنیاد 1896ء میں رکھی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تحریک کا بانی تھیوڈور ہرزل نامی شخص ہے جس نے اپنی ایک کتاب ’’دیریودنستات‘‘میں ایک خود مختار یہودی ریاست کا تصور دیا۔ انہوں نے یہ نام القدس میں موجود ’’صہیون پہاڑ‘‘ کی نسبت سے اختیار کیاکیوں کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے حبرون الخلیل سے بیت المقدس کی طرف نقل مکانی کی تو اسی پہاڑ پر اپنی رہائش گاہ تعمیر کی تھی۔ پھر جب یہودی تاریخ کے مختلف اَدوار میں غلام بنائے گئے اور جلاوطن کیے جاتے رہے تو ہر بار اسی صہیون کے نام کی طرف منسوب ہو کر ہی کوئی نہ کوئی تحریک چلاتے رہے۔

چنانچہ انیسویں صدی کے شروع میں بھی چند یہودیوں نے مل کر اس تحریک کی بنیاد رکھی اور اسے صہیون کی طرف ہی منسوب کیا۔ یہ لفظ یہودیوں میں اس قدر اہمیت رکھتاہے کہ جب اسرائیل میں ایریل شیرون کے مقابل سیاسی پاڑتی جو قدرے لبرل سمجھی جاتی تھی، اور کچھ مضبوط بھی نہیں تھی، نے اپنی پارٹی کے نام کے ساتھ صہیونیت کو جوڑا تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ پارٹی بھی مضبوط بن گئی ، جس سے اس تحریک کی بنیادوں اور یہودیوں کی عموماً اس تحریک سے وابستگی نمایاں ہوجاتی ہے۔

سرزمینِ فلسطین پر موجودہ غاصبانہ اسرائیلی ریاست کا قیام اسی صہیونی تحریک کا نتیجہ ہے اور اسی لیے بعض لوگ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اسرائیل کے قیام کے بعد یہ تحریک ختم ہوچکی ہے کیونکہ اس کا ہدف حاصل ہوچکا ہے، حالانکہ یہ بات محض غلط فہمی سے زیادہ کچھ نہیں، کیوں کہ اس تحریک کے بنیادی منشور کے مطابق بھی اسرائیل کا پورا قیام ابھی تک نہیں ہوسکا کیونکہ وہ تمام فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل کرکے وہاں پورا قبضہ جمانااوروہاں سے پوری دنیا پر حکومت کو کنٹرول کرنا اس تحریک کے مقاصد میں شامل ہے۔

عجیب تر بات یہ ہے کہ اس تحریک کا پہلا اجتماع روس میں سنہ 1882ء می ہوا اور اس وقت وہ لوگ ’’حب صہیون‘‘ کے نام سے جمع ہوئے، اور پھر انہوں نے اپنی تنظیم کا ایک طویل نام متعارف کرایا: ’’جمعیت مساعدۃ الصناع و المزارعین الیہود فی سوریا و فلسطین‘‘ یعنی فلسطین اور شام میں کھیتی باڑی اور دیگر کام کرنے والے یہودیوں کی مدد کرنا۔ اس جماعت کاسربراہ لیون بنسکر نام کایہودی تھا، اور اس جماعت نے اپنا یہ ہدف بنایا کہ یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کرنے پر ابھارا جائے اور اپنی مذہبی زبان ’’عبرانی‘‘ کو زندہ کیا جائے۔

اس تحریک کے بانی ہرتزل نے پہلا عالمی صہیونی اجتماع سنہ 1897ء میں منعقد کیا، اور بعد میں مختلف حالات سے گزرنے کے بعد یہ کہا کہ میں ببانگ دھل یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے یہودی ریاست کے قیام کی بنیاد ڈال دی ہے۔ اسی تحریک کے بعد یہودیوں کے بڑے بڑے لوگ اس ہدف کے لیے جمع ہوئے اور انہوں نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے خفیہ طور پر کئی منصوبے شروع کیے ، انہی منصوبوں میں ایک منصوبہ یہودی پروٹوکولز کا بھی ہے جس میں انہوں نے مقدس کتابوں میں جو تحریفات کی تھیں انہیں مزید کئی تحریفات کے ساتھ جمع کرکے اپنی قوم کے لیے ایک اہم دستاویز بنا کر مرتب کردیا۔

مولانا محمد وثیق ندوی نے اپنے ایک مضمون میں صہیونیوں کے عزائم کی کچھ وضاحت کی ہے جو قابل ملاحظہ ہے:

’’صہیونیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا کے تمام یہودی ایک نسل اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔دنیا پر حکمرانی صرف یہودیوں کا حق ہے ، اس مقصد کا حصول اس طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقوں پر سلطنت قائم کی جائے ۔ان کا عقیدہ ہے کہ یہودی اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں او رپوری نسل انسانیت انکی خادم ہے ۔صہیونیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا پر کنٹرول اور غلبہ حاصل کرنے کے لئے تشدد اوردہشت گردی اور ظلم روا ہے ۔

(صہیونیت آج اسی راستہ پر گامزن ہے ۔فلسطین اور لبنان میں وحشیانہ کاروائیاں اسی عقیدہ کے تحت جاری ہیں)صہیونی کا کہنا ہے کہ یہ زمانہ مال و زر اور دولت و ثروت کا زمانہ ہے لہذا پوری دنیا پر کنٹرول کے لئے سونے کے ذخائر پر قبضہ کرنا ضروری ہے او رسیاست میں اخلاقی قدروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ۔سیاست میں مکر و فریب، خیانت وجھوٹ کو اختیارکرنا چاہئے۔(چنانچہ عالمی سیاست میں یہودی اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں)

صہیونیت کا یہ عقیدہ ہے کہ مقصد کے حصول کے لئے رشوت اور غداری کو بلاجھجک اختیار کرنا چاہئے۔صہیونی دانشوروں کے پرو ٹوکول میں ذرائع ابلاغ کے بارے لکھا ہے ہم یہودی پوری دنیا پر کنٹرول پانے کے لئے سونے کا ذخائر پر قبضہ کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے دوسرا اہم درجہ رکھتا ہے ۔ ہم میڈیا کو اپنے کنٹرول میں رکھیں گے ۔

ہم اپنے دشمنوں کے قبضہ میں کوئی ایسا مؤثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دیںگے کہ وہ اپنی رائے کو مؤثر ڈھنگ سے ظاہر کرسکیں او رنہ ہی ہماری نگاہوں سے گذرے بغیر کوئی چیر سوسائٹی تک پہنچنے دیںگے ۔ ہم ایسا قانون بنائیں گے کہ کسی ناشر اور پریس والے کے لئے یہ ناممکن ہوجائے گا کہ وہ پیشگی اجازت لئے بغیر کوئی چیز چھاپ سکے۔ اس طرح ہم اپنے خلاف کسی بھی سازش ، معاندانہ کاروائی سے باخبر ہوجائیں گے۔

ہمارے قبضہ اور تصوف میں ایسی ایجنسیاں، اخبارات اور رسائل ہوںگے جو مختلف گروہوں اور جماعتوں کی حمایت کریںگے، خواہ یہ جماعتیں جمہوریت کی داعی ہوں یا انقلاب کی حامی، حتی کہ ہم ایسوں کی سر پرستی کریںگے جو انتشار و بے راہ روی، جنسی و اخلاقی انارکی کو بڑھاوادیںگے اور استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی بھی حمایت کریں گے۔ ہم جب اور جہاں چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کریںگے اور حسب مصلحت انہیں پرسکون بھی کرینگے ، ان کاموں کے لئے جھوٹی خبروں کو ایسے انداز و اسلوب میں پیش کریںگے کہ حکومتیں بھی اور اقوام بھی انکو ماننے پر مجبور ہوجائیں۔

ہمارے اخبارات و رسائل ہندوؤں کے معبود وشنو کی طرح ہوںگے ، جس کے سینکڑوں ہاتھ ہوتے ہیں، ہم ایسے ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں کی ہمت افزائی کریںگے جو بد کردار ہوں اور ان کا اخلاقی ریکارڈ اچھا نہ ہو اور یہی معاملہ سیاست دانوں اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ ہوگا، ان کو خوب تشہیر کے ذریعہ دنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کریںگے ، لیکن ہم جیسے ہی محسوس کرینگے کہ وہ ہمارے لئے غیر مفید، غیر ضروری ہیں تو ان کی شہرت کو داغدار کردیںگے۔

ہم تمام ذرائع ابلاغ کو یہودی خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعہ کنٹرول کریںگے۔ ہم دنیا کو جس رنگ کی تصویر دکھانا چاہیں گے، وہ پوری دنیا کو دیکھنا ہوگا۔جرائم کی خبروں کو ہم غیر معمولی اہمیت دیںگے ،تاکہ پڑھنے اور دیکھنے والوں کا ذہن اس طرف مائل ہو کہ وہ مجرم کے ساتھ ہمدردی کرے۔

صہیونیوں کا یہ بھی منشاء ہے کہ دنیا کی تمام طاقتوں کے درمیان عداوت و عناد کو پیدا کریں اور ان کے درمیان کشمکش او رجنگ بھڑکائیں، تاکہ آپس میں لڑکر ساری طاقتیں کمزور ہوجائیں اور حکومتیں بے بس ہوجائیں ، کمزور قوموں اور ملکوں کو آمادہ کریںگے کہ وہ ہمارے ساتھ ہوجائیں ۔ان کی ضروریات کو پورا کرکے ان کی ہمدردی حاصل کریںگے پھر ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریںگے۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online