Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

اِنڈیا : مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 664 - Mudassir Jamal Taunsavi - Musalmano k emaan per daaka

اِنڈیا : مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 664)

انڈیا میں اس وقت جن لوگوں کی حکومت ہے اور جو تنظیمیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں، اُن کی اسلام دشمنی اور مسلم کُش پالیسیاں بلکہ مسلم کُش کارروائیاں بھی شہرت عام تک پہنچی ہوئی ہیں، اور اب حکومت مل جانے کی وجہ سے ان کے حوصلے کافی اونچے ہوچکے ہیں، اور وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے ایسے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی کوشش کررہے ہیں جہاں وہ کمزور ہوں اور ان کے ہر جانب ہندو ہی رہتے ہوں۔ مختلف حیلوں بہانوں سے مسلم نوجوانوں پر تشدد کرنا، مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنا، گھر کی خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا ، اور پھراس سے بھی بڑھ کر ان پر جبر کرتے ہوئے ان کے مسلمانوں والے نام تبدیل کرکے ہندووں والے نام رکھے جاتے ہیں، اور مسلمانوں کی علامات ختم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایسے واقعات یوں تو انڈیا میں کئی جگہ سننے میں آئے ہیں مگر ابھی چند دن قبل دہلی جیسے دار الحکومت سے فقط ۶۶میل کے فاصلے پر واقع ایک گاوں کے مسلمانوں پر ایسا ظلم و ستم کیا گیا ہے اور انہیں ہندو بننے پر مجبور کیا گیا ہے مگر اس پر نہ تو عالمی امن کے ٹھیکیداروں اور مذہبی آزادی کے چیمپئن اقوام متحدہ وغیرہ نے کوئی حرکت کی ہے اور نہ ہی پاکستان میں موجود بھارتی گن گانوں والوں کے کانوں پر کوئی جوں رینگی ہے!!پاکستان میں بیٹھے ہوئے وہ لوگ جو کسی بھی ایک درست واقعے کو بھی غلط زاویہ دے کر اس ملک کی مذہبی شناخت کو داغدار بنانے کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں، وہ اب اس پر خاموشی سادھ چکے ہیں اور بھارت میں جاری جبری ارتدادی مہم کے سامنے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ 

حال میں ہی پیش آنے والے اس واقعے کی کچھ تفصیلات جو مہیا ہوئی ہیں، اس طرح ہیں کہ :’’ہریانہ کے روہتک ضلع کے ٹٹولی گاؤں میں ایک پنچایت نے مسلمانوں کے نماز پڑھنے،ٹوپی لگانے،داڑھی رکھنے اور اسلامی ناموں پر پابندی لگا دی ہے۔دارالحکومت دہلی سے محض 66کلومیٹر کی دوری پر موجود روہتک ضلع میں ٹٹولی نامی گاؤں ہے۔اس گاؤں کی کل آبادی قریب بیس ہزار ہے،یہاں قریب125خاندان مسلمانوں کے بھی آباد ہیں بقیہ سارے افراد ہندو سماج کے ہیں۔گذشتہ22 اگست2018ء کو یامین نامی شخص کی ڈھائی سال کی بھتیجی آنگن میں کھیل رہی تھی کہ ایک کھلی گھوم رہی بچھیا(چھوٹی گائے)نے اس ڈھائی سالہ بچی کو سینگ ماردیا۔بچی کی چیخ سن کر اس کا چچا یامین ڈورتا آیا اور گائے کو حملہ آور دیکھ بھگانے کے لئے اس کے سر پر ڈنڈا مارا۔کئی ڈنڈے لگنے کے بعد بچھیا وہاں سے بھاگ گئی اور بچی بچ گئی لیکن بعد میں وہ بچھیا مری ہوئی پائی گئی۔اسی کو لیکر پورے گا?ں میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یامین کو گھیر لیا گیا۔یامین نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس کا ارادہ ہرگز گائے مارنے کا نہیں تھا بلکہ اپنی بھتیجی کو بچانے کی خاطر گائے کو بھگانے کے لئے ڈنڈا مارا تھا۔حالانکہ یہ بھی تفتیش کا موضوع ہے کہ وہ بچھیا کیسے مری؟کیوں کہ محض ڈنڈا مارنے سے کوئی جانور نہیں مرتا۔

خیر!اس وقت تو یامین کی معافی پر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا لیکن کچھ ہی دیر کے بعد اشتعال انگیز نعرے بازی کرتے ہوئے کچھ غنڈوں نے یامین اور آس پاس کے مسلم گھروں پر حملہ بول دیا اور گھروں میں جم کر توڑپھوڑ مچائی۔غنیمت یہ رہی کہ ان کے ہاتھ گھر والے نہیں لگے ورنہ جانیں بھی جاسکتی تھیں۔اسی معاملے کو لے کر 19ستمبر کو گاؤں میں پنچایت ہوئی جہاں بچھیا کومارنے کے جرم میں پورے مسلم سماج پر درج ذیل پابندیاں لگائی گئیں:

یامین تاعمرگاؤں میں داخل نہیں ہوسکتا۔

کوئی مسلمان ٹوپی نہیں پہنے گا۔

کوئی بھی مسلمان آج کے بعد داڑھی نہیں رکھے گا۔

فیصلے کے بعد کسی بھی مسلمان بچے کا اسلامی نام نہیں رکھا جائے گا بلکہ ہندوانی نام ہوگا۔

مسلمان مسجد میں نماز نہیں پڑھیں گے،بس اپنے گھروں میں نماز پڑھیں گے۔

کسی بھی مذہبی کام کے لئے باہر سے کسی عالم دین کو نہیں بلایا جائے گا۔

قبرستان کی زمین پر پنچایت کا قبضہ ہوگا۔بعد میں پنچایت الگ سے زمین دے گی۔

بطور جرمانہ گوشالہ کو11ہزار روپے دینا ہوگا۔

پنچایت کے مطالبات کو گاؤں کے مسلمانوں نے تسلیم کرتے ہوئے بطور تاوان11ہزار روپے دے دئے اور ہندوؤں کی جملہ شرائط پر عمل پیرا ہونے کا یقین دلایا۔

اس بارے میں بی بی سی پر ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس کے چند اقتباس ملاحظہ کیجیے:

یامین اور کئی مسلم گھروں میں ہندوؤں نے جم کر توڑ پھوڑ کی ہے۔

ڈر کی وجہ سے 30سے زائد خاندان گاؤں چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

گاؤں کے رہنے والے سُریش کا کہنا ہے کہ کوئی اور جانور مرجاتا تو کوئی بات نہیں تھی لیکن گائے ہماری ماتا ہے۔

سُریش کے مطابق حادثے والے دن انہیں کئی ہندو تنظیموں ،گورَکشَکوں کے فون آئے تھے کہ مسلمانوں کے خلاف پنچایت کرو۔

سریش کے مطابق کچھ باہری شرپسندلوگ گاؤں میں پہنچ بھی گئے کہ ابھی اسی وقت مسلمانوں کا فیصلہ کرو۔

مسلمانوں کے گھروں میں توڑپھوڑ کیوں کی گئی؟اس کے جواب میں گاؤں کے ہندو بوڑھوں کا کہنا تھا کہ:

 ہمارے نوجوانوں کو غصہ ٓاگیا تھا اس لئے انہوں نے یامین کے ساتھ ہی دیگر مسلمانوں پر بھی اپنا غصہ نکالا،اب سب ٹھیک ہے۔

گاؤں میں رہنے ایک مسلم راج بیر کھوکھر(چونکئے مت! یہ مسلمان کا ہی نام ہے)نے بتایا کہ یامین نے جان بوجھ کر بچھیا کے ڈنڈا نہیں مارا تھا،بچی کو بچانے کے لئے مارا تھا لیکن شرپسندوں نے بات کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔

ہندوؤں کوبطور جرمانہ روپے دینے والے مسلمان ’’ جے ویر‘‘(یہ جناب بھی مسلمان ہیں،نام سے دھوکہ نہ کھائیں)کہتے ہیں کہ ہم توپہلے سے ہی گوشالہ اور مندروں کو دان دیتے رہتے ہیں۔گاؤں والوں سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔‘‘

یہ صورت حال بتا رہی ہے کہ انڈیا کے مسلمان کس طرح خوف کے سائے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ انڈیا کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کیا کرے اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ انڈیا کے اندر رہنے والے مسلمانوں کی دینی مشکلات کے بارے میں ممکنہ سطح پر بھارت کو متنبہ کرتا رہے، اور انڈیا کے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایمان کی طاقت کو بروئے کار لائیں، زندگی کی محبت کے بجائے موت سے محبت رکھیں، اسلام سے محبت رکھیں، اسلامی تعلیمات کا تعلم اور تعلیم عام کرنے میں بھرپور کوشاں ہوں۔ غیرت و حمیت کو اپنا زیور بنائیں۔ دین کا مضبوط علم اور دین کی مخلصانہ غیرت وحمیت وہاں کے حالات میں بہت بہتری لاسکتے ہیں اور اہل ایمان ان صفات کی بدولت وہاں جھکنے کے بجائے اپنا سکہ بٹھا سکتے ہیں، جیسا کہ مسلمانوں کی مجموعی تاریخ اسی کی شاہد ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online