Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

آر ایس ایس کے خفیہ راز (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 665 - Mudassir Jamal Taunsavi - RSS k Khufia Raaz

آر ایس ایس کے خفیہ راز

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 665)

بھارت میں اس وقت ’’بھارتیہ جنتاپارٹی‘‘ کی حکومت ہے اور اس کی نمائندگی نریندر مودی، جیسا وہ شخص کررہا ہے جو علانیہ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا اعتراف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

یہ سیاسی تنظیم ۱۹۸۰ء میں وجود میں لائی گئی، اور یہ تنظیم حقیقت میں قدیم ہندودہشت گردی و قوم پرست تنظیم ’’آر ایس ایس‘‘ کا سیاسی ڈھانچہ ہے۔ آر ایس ایس جس کا پورا نام ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘‘ ہے، ۱۹۲۵ء کو ناگپور میں اس کی بنیاد پڑی۔ یہ تنظیم بھارت کو فقط ’’ہندودیش‘‘ سمجھتی ہے اوریہاں سے باقی ہر قوم و ملت کو نکالا دینا چاہتی ہے، اور پھر صدیوں تک اس خطے میں مسلمانوں کی حکمرانی کی وجہ سے انہیں مسلمانوں سے خاص دشمنی اور نفرت ہے۔

ایک طویل عرصہ تک یہ تنظیم دیگر طریقوں سے اپنی منصوبہ بندی بھی کرتی رہی، اور دنگا فسادی کارروائیوں سے قتل و غارت بھی جاری رکھی۔ تا آنکہ پھر ۱۹۸۰ء میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی اور یوں یہ سیاسی جماعت ’’ آر ایس ایس‘‘ کا سیاسی وِنگ بن گئی۔

’’آر ایس آیس‘‘ تنظیم کس طرح اپنے مقاصد کو بروئے کار لاتی ہے؟ اس بارے میں ایک خفیہ سرکیولر ہے جو تنظیم کی طرف سے اپنے خاص ممبران کو دیا جاتا ہے،یہ خفیہ سرکیولر ایک سنگھ ڈاکٹر کی کتاب کے حوالے سے ایک انڈین صحافی نے ترجمہ کیا ہے، جو درج ذیل تیس نکات پر مشتمل ہے:

۱۔زیادہ سے زیادہ دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار جمع رکھیں۔

۲۔سرکاری افسران میں ہندوتوا کے تئیں بیداری لائی جائے۔

۳۔طبی عملے کے درمیان بھی ہندوتوا کے تئیں بیداری لائی جائے اور ان کو اس بات کا قائل کیا جائے کہ وہ دلتوں اور مسلمانوں کے نوزائیدہ بچوں کا درست علاج نہ کریں اور یہ بچے معذور پروان چڑھیں۔

۴۔نچلی ذات کے ہندووں میں "جے شری رام" کے نعرے کو پھیلایا جائے۔

۵۔ہندوتوا وادی سیکیولر پروگراموں کا بائیکاٹ کیا جائے۔

۶۔ڈرگ، نشہ، جوا اور لاٹری کی تجارتوں کا تعاون کیا جائے

۷۔سرکاری دفاتر میں ہندو تہواروں کو بڑے پیمانے پر منایاجائے۔

۸۔مسلم اور دلت لڑکیوں کو طوائف بنانے کی کوشش کی جائے۔

۹۔اساتذہ کی مدد سے "غیر سورن" بچوں کو ایسی غذائیں فراہم کی جائیں کہ ان کی جسمانی افزائش متاثر ہوجائے۔

۱۰۔ایس سی اور ایس ٹی کے بچوں میں ہندوازم کو مضبوط کرنے کے لیے ان کو ہندو مذہبی اسکولوں میں داخل کیا جائے۔

۱۱۔فسادات کے دوران مسلم اور دلت خواتین کی عصمت دری کی جائے اور "سورت" میں پیش کیے جانے والے طریقہ کار کو ملحوظ رکھا جائے۔

۱۲۔غیر ہندو عباد گاہوں کے قریب ہندو معبودوں کی تصاویر آویزاں کی جائیں اور ایسا لٹریچر عام کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ یہ اصلا ہندووں کی عبادت گاہیں ہیں۔ (اس تعلق سے ناگپور ہیڈ کوارٹر سے مواد حاصل کیا جاسکتا ہے)۔

۱۳۔اسلام اور بدھ ازم کے خلاف لٹریچر عام کیا جائے اور مہاراجہ اشوک کو ہندو ثابت کیا جائے۔

۱۴۔لائبریریوں سے اسلام، بدھ ازم اور دیگر مذاہب کے لٹریچر کو تدریجا ختم کردیا جائے۔

۱۵۔خالی جگہوں پر اونچی برادری کے ہندووں کو ہی ملازمت دی جائے۔

۱۶۔رامائن کے اسٹیکرز، کیلنڈرز اور پمفلٹ زیادہ سے زیادہ تقسیم کرائے جائیں۔

۱۷۔پسماندہ ذاتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سادھو سنتوں کی خدمات برابر لی جاتی رہیں۔

۱۸۔جینیوں، سکھوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کی تبدیلی مذہب کے پروگرام بڑ ے پیمانے پر منعقد ہوں۔ (پٹنہ ماڈل سامنے رہے)

۱۹۔منڈل کمیشن مخالف پروگرام زیادہ سے زیادہ منعقد کیے جائیں

۲۰۔مسلمانوں کی مختلف ذاتوں میں تفرقہ ڈالا جائے۔

۲۱۔سیاسی پالیسی کے لیے چانکیہ نیتی کو سامنے رکھا جائے۔

۲۲۔دلتوں میں دیوداسی کی روایت کو بڑھاوا دیا جائے، اس کے لیے ایسی تصاویر ان میں تقسیم کی جائیں جن میں بھگوانوں کو لڑکیوں کے ساتھ بوس وکنار کرتے ہوے دکھایا گیا ہو۔

۲۳۔میڈیا کو کنٹرول کیا جائے اور ایڈیٹرس کو برہمن واد کے تحفظ کے لیے آمادہ کیا جائے۔

۲۴۔ایس سی، ایس ٹی امیدوار جو برہمن واد کی حمایت کریں ان کی الیکش میں جیت کو یقینی بنایا جائے۔

۲۵۔مسلمانوں ہی میں سے ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو مسلم مخالف ذہنیت کے ساتھ لکھیں۔

۲۶۔سورن برادری کے تاجروں کا مکمل تعاون کیا جائے۔

۲۷۔غیر ہندووں کے کاموں پر نظر رکھی جائے اور ہیڈ کوارٹر کو مطلع کیا جاتا رہے۔

۲۸۔ہندو؍برہمن واد مخالف لوگوں کو قتل کرکے پہلے سے بتائے گئے طریقے کے مطابق ان کی لاش کو ٹھکانے لگادیا جائے۔

۲۹۔چاند کی چودہویں تاریخ کو رضاکاروں کی لازمی میٹنگ ہو۔

۳۰۔پیغامات کی ترسیل برابر جاری رہے۔

کٹرہندووں اور مسلم دشمنوں کی طرف سے ایسی چوکسی امت مسلمہ کے لیے عموماً اور پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے خصوصا سبق آموز ہے کہ کس طرح ہمیں ان کے مقابلے کے لیے تیاری کرنا ہوگی، اور اس ماحول میں جہاد کشمیر اس خطے کے مسلمانوں کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے، اس کا بھی ایک اندازہ بخوبی کیا جاسکتاہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online