Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

روشنی لیجیے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 666 - Mudassir Jamal Taunsavi - Roshni Lijiye

روشنی لیجیے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 666)

امام مالکؒ کے ایک شاگرد ہیں امام یحییٰ بن یحییٰ اللیثی جو کہ اندلس کے رہنے والے تھے۔

جب وہ مدینہ منورہ امام مالک کی خدمت میں حصول علم کے لیے پہنچے تو امام مالک نے انہیں علم کا شوق دِلانے اور اس راہ میں صبر و استقامت اختیار کرنے کے لیے ،پہلے دن ہی ایک عجیب واقعہ سنایا، کیوں کہ وہ جان گئے تھے کہ یہ نوجوان جب اتنی لمبی مسافت طئے کرکے علم حاصل کرنے آیا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور کام میں مشغول ہو کر اپنی اس محنت کو ضائع کر بیٹھے۔

پہلے تو امام مالک نے اس نوجوان سے نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرا نام یحییٰ ہے۔

پھر امام مالک نے فرمایا: دیکھو میں تمہیں ایک دلچسپ اور عجیب واقعہ سناتا ہوں جس سے تمہیں فائدہ ہوگا اور تمہاری علمی لگن میں اضافہ ہوگا۔

ہمارے یہاں مدینہ منورہمیں شام سے ایک نوجوان علم حاصل کرنے آیا تھا۔ وہ بہت ہی محنتی تھا۔ مگر جوانی میں ہی اس پر موت آگئی اور پھر اس کے جنازے پر میں نے وہ منظر دیکھا کہ اپنی زندگی میں کسی کے جنازے پر ویسا منظر نہیں دیکھا۔

اس نوجوان کے جنازے پر پورے مدینہ شہر کے اہل علم جمع ہوگئے تھے۔ اور جب امیر شہر نے یہ منظر دیکھا تو خود جنازہ پڑھانے کے بجائے اس نے اہل علم سے کہا کہ تم جسے چاہو جنازہ پڑھانے کے لیے آگے کردو۔

چنانچہ اس نوجوان کا جنازہ پڑھانے کے لیے امام ربیعہ کو آگے کیا گیا۔

جب جنازہ پڑھ لیا گیا تو اس کی نعش کو قبرمیں دفنانے کے لیے لے جایا گیا۔

جب جنازہ قبر کے پاس پہنچ گیا تو اس نوجوان کو قبر میں کسی مزدور یا عام آدمیوں نے نہیں اُتارا بلکہ اس وقت کے مدینہ منورہ کے کبار اہل علم مثلاًامام ربیعہ، زید بن اسلم، یحییٰ بن سعید ، ابن شہاب زہری، محمد بن المنذر، صفوان بن سلیم، اور ابو حازم جیسے اہل علم ان میں شامل تھے۔ جب نعش کو قبر میں رکھ دیا گیا تو دیگر علماء اینٹیں اُٹھا کر امام ربیعہ کو دیتے گئے اور امام ربیعہ ان اینٹوں سے ان کی قبر کو بند کرتے رہے۔

اس نوجوان کو دفن کیے گئے جب تیسرا دن تھاتو ہمارے اس شہر مدینہ کے ایک نیک آدمی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھاکہ وہ انتہائی خوبصورت ہے، سفید لباس اور سبز عمامہ پہنے ہوئے ایک گھوڑے پر سوار ہے اور آسمان سے نیچے زمین کی طرف اُتر رہا ہے۔ گویا وہ اس وقت میری ہی طرف آرہا ہے اورپھر مجھے اس نے سلام کیا۔

اس خواب دیکھنے والے نے اس سے پوچھا: آپ کویہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟

اس نوجوان نے کہا: میں نے علم کے جتنے اَبواب سیکھے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر باب کے بدلے میں جنت میں درجات عطاء فرمائے ، مگر چونکہ میں جوانی اور علم حاصل کرنے کے زمانے میںہی فوت ہوگیا تھا تو میرے یہ درجات اہل علم کے درجات تک نہیں پہنچتے تھے۔

تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: میرے نبیوں کے ورثاء کو مزید عطاء کرو۔ کیوں کہ میں نے یہ عہد کر رکھاہے جو بھی میری سنت، میرے انبیاء کی سنت کاعالم بن کر مرے گایا ان کا طلب بن کر مرے گا تو میں اس عالم اور طالب علم کو بھی درجے میں انہی کے ساتھ جمع کروں گا۔

چنانچہ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے مزید درجات عطاء کیے یہاں تک کہ میں علماء کے درجے تک پہنچ گیا۔ پس اب میرے اور نبی کریمﷺ کے درمیان فقط درجوں کا فاصلہ ہے۔ ایک درجے میں خود نبی کریمﷺ تشریف فرما ہیں اور ان کے ارد گرد دیگر تمام انبیاء تشریف فرما ہیں اور دوسرے درجے میں نبی کریمﷺ کے اور دیگر تمام انبیاء کرام کے اصحاب کرام تشریف فرما ہیں۔ اور ان کے بعد والے درجے میں تمام اہل علم اور طلبہ علم تشریف فرما ہیں۔ جب انہوںنے مجھے دیکھا تو مجھے بھی خوش آمدید کہا۔ اور پھر اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں میرے لیے بہت کچھ ہے۔

اس شخص نے پوچھا: تمہارے لیے مزید کیا ہے؟

اس نوجوان نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے ان انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ جمع فرمائیں گے جس طرح کہ میں نے انہیں ایک ہی حلقے میں بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔ اور پھر فرمائیں گے: اے علماء کی جماعت! یہ میری جنت ہے جسے میں نے تمہارے لیے کھول دیا ہے۔ اور یہ میری رضامندی ہے جو میں نے تم پر نچھاور کردی ہے اور اب میں کبھی بھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔ جنت میں جانے سے پہلے تم جو تمنا اور سفارش کرنا چاہتے ہو کرلو، تم میں جو مانگوگے تمہیں دوں گا، اور جس کی سفارش کروگے اس کے حق میں تمہاری سفارش قبول کروں گا، تاکہ میرے تمام بندے تمہارا اعزاز و اکرام، اور میرے ہاں تمہارامقام و مرتبہ دیکھ لیں۔

جب صبح ہوئی تو اس شخص نے اپنا یہ خواب لوگوں کو سنایا اور پورے مدینے میں اس خواب کے چرچے ہونے لگے اور اس کا اثر یہ ہوا کہ بہت سے لوگ جو ہمارے ساتھ حصول علم کے آغاز میں شریک تھے مگر پھر کسی اور کام میں مشغول ہوگئے تھے تو انہوں نے وہ کام چھوڑے اور دوبارہ پوری محنت سے حصول علم میں لگ گئے اور آج ان میں سے کئی ایسے ہیںجو اس شہر مدینہ کے نمایاں علماء میں شمار ہوتے ہیں۔

اس لیے اے یحییٰ! تم اللہ تعالیٰ پر ہی پورا بھروسہ رکھو اور حصول علم میں پوری محنت سے کام لو! (شرح صحیح البخاری لابن بطال المالکی)

اس واقعے میں ہمارے لیے بھی بڑی عبرت اور سبق ہے۔ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے جو بھی کس قدر بھی محنت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھے ، اس سے اسے بھی اچھائی نصیب ہوگی، اور دین سے بیزاری کے اس دور میں دینی علم کا شوق اور دینی علوم کے حاصل کرنے کی فکر ایک نعمت ہے۔

علم دین ایک روشنی ہے اورضروری ہے کہ یہ روشنی اہل علم سے ہی لی جائے اور تادم آخر اس کی طلب باقی رکھی جائے۔ یہ مومن کی پہچان ہے کہ وہ خیر کا علم حاصل کرنے سے کبھی بھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا ٹھکانہ جنت بن جاتا ہے۔(مفہومِ حدیث)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online