Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

اِجتماع فی سبیل اللہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 667 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ijtema fi Sabeelillah

اِجتماع فی سبیل اللہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 667)

جامع مسجد سبحان اللہ، بہاولپور جو اپنی طرز تعمیر اور محل وقوع کے اعتبار سے تو نمایاں مقام رکھتی ہی ہے مگر ان دو دنوں میں تو یہاں ایک الگ ہی بہارعطر فشاں رہی اور رونقوں سے جگمگاتی رہی۔

یہ دو دن ’’اجتماع فی سبیل اللہ‘‘ کی ایمان افروز بہاریں تھی۔ تین اور چار نومبر بروزہفتہ صبح نوبجے سے لے کر اتوار شام مغرب تک یہ روح پرور، ایمان افروز، ولولہ انگیز، ایمانی اور جہادی جذبات سے لبریز اجتماع جاری رہا، جس میں ملک بھرکے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر سے محبت رکھنے والے اہل ایمان اور اہل دِل اَفراد شریک تھے، اور بارہ ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھنے والی وسیع و عریض مسجد نے اگرچہ سب کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا تھا مگر پھر بھی واردین کی کثرت کے پیش نظر تنگ دامنی کا شکوہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے مزید وسعت اور قبولیت و آبادی نصیب فرمائے۔ آمین

یہ اجتماع امیر المجاہدین حضرت مولانا محمدمسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر منعقد ہواتھا، اور اس کا مقصد خالصتاً اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت اور دین کا پیغام تھا۔ اس اجتماع کا منشور، دستور، پیام، اور نصب العین تین اہم نکات تھے جو کہ جماعت کا بنیادی منشور بھی ہیں:

کلمہ طیبہ: یعنی ایمان کی بنیاد

اِقامتِ صلوۃ: یعنی ایمان کا سبب سے اہم تقاضا

جہاد : یعنی ایمان کی سب سے بلند چوٹی

یہ اجتماع کیا تھا؟ در حقیقت ایمانی کیفیات سے بھرپور ایک نورانی اور گویا کہ جنتی محفل تھی۔ ایمان کی دعوت، کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کا وِرد، اسم ذات لفظِ ’’اللہ‘‘ کا وِرد، اپنے گناہوں اور اپنی کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ سے ’’مغفرت کا سوال‘‘، نماز کی ترغیب، نماز کی عملی مشق، جہادی بیانات کو ولولہ انگیز روح پرور منفرد سلسلہ… الغرض ظلمت بھری دنیا میں نور کا ایک جزیرہ۔

’’المجاہد فی سبیل اللہ‘‘کتاب کی تقریب رونمائی ، جس میں مولانا محمد طلحہ رشید شہید کاجہادی فیض برسا اور خوب برسا، ان کی طرف منسوب دعوتِ جہاد پر مشتمل کتاب نے سب کو اپنی طرف کھینچا اورسب کو جہاد کا دیوانہ بنا دیا۔

اجتماع کے لیے جامع مسجد سبحان اللہ کا برآمدہ اور وسیع و عریض صحن خصوصاً آراستہ کیا گیا تھا، جس میں جہادی پرچموں کی بہار کے ساتھ ساتھ شہداء کے تذکرے اور حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کے فرمودات درج تھے۔

جامع مسجد سبحان اللہ کے پڑوس میں واقع کشادہ جگہ پر گاڑیوں کے لیے پارکنگ کی جگہ مقرر کی گئی تھی، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں گاڑیاں اس احاطے نے اس طرح اپنے دامن میں لے لیں کہ باہر روڈ پر ایک گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی، جس کی وجہ سے اتنا عظیم الشان اجتماع عامۃ المسلمین سے کسی کے لیے کسی قسم کی تکلیف کا سبب نہ بنا۔

مسجد کے قریب موجود ایک وسیع و عریض گراؤنڈ کوٹینٹ سے ڈھانپ کر کھانے کی جگہ کے لیے مختص کیا گیاتھا، اور الحمد للہ کہ انتظامیہ کی حسن ترتیب اور چاک و چوبند جذبہ خدمت سے معمور طلبہ و کارکنان کی انتھک محنت کی وجہ سے ہزاروں کے مجمع کے لیے خوش اسلوبی سے کھانا تیار ہوتا رہا اور خوش اسلوبی سے ہی سب مہمانوں کو بروقت کھانا کھلایا جاتا رہا۔

اجتماع کے اوقات کی ترتیب کار کچھ اس طرح تھی:

فجر کی نماز کے بعد آدھ گھنٹہ تلاوت

صبح ساڑھے سات تا ساڑھے آٹھ بجے تک ناشتہ

نوبجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک اجتماع کی پہلی نشست

بارہ بجے تا ایک بجے تک دوپہر کا کھانا

ڈیڑھ بجے ظہر کی نماز

پونے دو بجے سے عصر کی نماز تک دوسری نشست

مغرب کے بعد تیسری نشست

عشاء کے بعد مجلس ذکر اور چوتھی نشست

دوسرے دن بھی معمولات کی یہی ترتیب تھی، صرف اس فرق کہ ساتھ کہ دوسرے دن مغرب کی نماز کے وقت اجتماع خیر و خوبی کے ساتھ اختتام کو پہنچا اور مغرب کے بعد کھانا کھا کر سب شرکاء واپس اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں ہوگئے۔

اجتماع کی پہلی نشست میں نقیبِ محفل مجاہدِ اسلام مولانا مجاہد عباس صاحب تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت مولانا قاری راشد مسعود صاحب (لاہور)فاضل جامعۃ الصابر نے کی اور جامعۃ الصابر کے ہی فاضل مولانا محمد رمضان صاحب نے نظم سنا کر سامعین کے دلوں کو گرمایا۔

بعد ازاں دس منٹ پر مشتمل مجلس ذکر ہوئی، جس میں حضرت مولانا طلحہ السیف صاحب مدظلہ نے کلمہ طیبہ کا ذکر کرایا اور اس طرح اس اجتماع کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام کی برکتیں شامل ہوگئیں۔ الحمد للہ

بعد ازاں دارالبیان کے رکن رکین مفتی عبیدالرحمن صاحب (استاذ جامعۃ الصابر) نے حضرت امیر محترم حفظہ اللہ کے ایک مضمون بعنوان ’’کار آمد مسلمان‘‘ کی تعلیم کرائی۔

ان کے بعد مجاہدِ اسلام مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب اور مجاہدِ اسلام مولانا محمد خادم قاسمی صاحب کے کلمہ ، نماز اور جہاد کے موضوع پر مفصل بیانات ہوئے۔

مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب نے فرمایا : یہ اجتماع ہماری جماعت کو عالمی تحریک کی طرف لے جانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگاان شاء اللہ۔ ہمارے دین کی اساس بھی کلمہ طیبہ ہے اور الحمد للہ کہ ہماری جماعت کی اساسی دعوت کا پہلا نکتہ کلمہ طیبہ ہی ہے۔ جس طرح حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے اس کلمہ توحید کے لیے جان ومال لگا کر محنت کی، ہمیں بھی جان و مال لگا کر اس کلمہ کی محنت کرنی چاہیے۔ جب کلمہ پڑھ کر رب تعالیٰ کے معبو د ہونے کا اقرار کر لیا تو اب ضروری ہے کہ جبین نیاز صرف اسی کے سامنے جھکائی جائے، اسی لیے ایک بندہ مومن کے لیے ایمان کے بعد سب سے اہم چیز نماز بن جاتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے در پر جبینِ نیاز جھکانے والوں کے لیے دنیا و آخرت کی عزت مقدرفرمادی ہے۔ نماز میں غفلت اور ریاء کاری بہت خطرناک ہے، کیوں کہ یہ منافقت کی علامت اور تباہی و بربادی کی نشانی ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی محبوب جماعت بننا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں جہاد فی سبیل اللہ کو اختیار کرنا ہوگا۔ قرآن کریم نے صاف صاف بتادیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط بن کر قتال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے بندوں سے محبت فرماتا ہے۔

آج ریاست مدینہ کی بات بہت دھرائی جارہی ہے مگر یاد رکھا جائے کہ ایمان، نماز کا اہتمام اورمشرکین، یہود و نصاریٰ کے خلاف بھرپور جہادی غزوات و لشکروں کے بغیر ریاست مدینہ کا تصور بھی درست نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ ان کے بغیر ریاست مدینہ جیسی کوئی ریاست قائم ہوسکے۔

بعد ازاں مولانا محمد خادم قاسمی صاحب کے بیان سے قبل بھائی مختار الملک صاحب نے پشتو میں حضرت امیر محترم کی توصیف پر مشتمل نظم سنائی، جس سے خصوصاً ہمارے پختون بھائیوں نے خوب لطف لیااوران کے جذبات میں اِضافہ ہوا۔

مولانا محمد خادم قاسمی صاحب نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے میں ہمیں اس مبارک اجتماع میں شریک فرمایا۔ ہم یہ عزم کریں کہ کلمہ، نماز اور جہاد کی دعوت کو ہرہرفرد تک پہنچائیں گے۔ اس دعوت پر خود بھی قائم رہیں گے اور اپنی اولاد کو بھی اسی پر چلائیں گے۔ جہاد سے اسلام کو غلبہ ملتا ہے، قرآن کا نظام نافذ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے افغانستان کی سرزمین پر ہمیں اس حقیقت کا مشاہدہ بھی کرادیا ہے، اس لیے مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم محنت کے مکلف ہیں، نتائج کے نہیں۔

ظہر کی نماز کے بعد پھر پہلے دن کی دوسری نشست کاآغاز ہوا۔ یہ نشست مولانا محمد طلحہ رشید شہید کی سوانح و خدمات اور دعوت جہاد پر مشتمل کتاب بنام ’’المجاہد فی سبیل اللہ‘‘ کی تقریب اور جہادی بیانات پر مشتمل تھی۔

اس نشست میں جماعت کے تقریبا چودہ خطباء کرام نے پانچ پانچ منٹ کے وقت پر مشتمل ’’خالصتاً‘‘ جہاد فی سبیل اللہ کے موضوع پر اپنے اپنے انداز میں بھرپور اور ولولہ انگیز بیانات کیے اور حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کے بقول شاید کہ گزشتہ دو چار صدیوں میں بھی ایسے کسی جلسے کی مثال نہیں ملتی جس میں بیک وقت اتنی زیادہ تعداد پر مشتمل خطباء کی طرف سے صرف اور صرف خالصتاً جہاد فی سبیل اللہ کے موضوع پر بیانات کیے گئے ہوں۔ و الحمد للّٰہ علی ذلک

اس نشست کے نقیب محفل امیر محترم کے برادرِ صغیر مولانا محمد عمارصاحب مدظلہ تھے۔ بیانات شروع ہونے سے قبل مجلس ذکر قائم ہوئی ، اور مولانا محمد عمارصاحب نے ہی اسم ذات لفظ ’’اللہ‘‘ کا وِرد کرایا۔

بعد ازاں سے سب سے پہلے اس نشست کے گویا دُلہا مولانا محمد طلحہ رشید شہید کی دعوت جہاد پر مشتمل ایک ولولہ انگیز تقریر سنائی گئی، اور اس کے بعدجن حضرات کے بیانات ہوئے، اُن کے نام اور مختصر بیانات کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے۔

مفتی محمد عبیدالرحمن (شعبہ دارالبیان):اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو احکام دیے ان میں جہاد فی سبیل اللہ بھی شامل ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کی عزت اور سربلندی اور مومن اور منافق کو پرکھنے کے لیے دیاگیا ہے۔ اس میں جان قربان کرنا شہادت، اس میں زخم کھانا باعث ثواب اور اس میں بھوک پیاس برداشت کرنا بھی نیکی بن جاتا ہے۔ مجاہدین اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتے ہیں۔ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصرت نازل ہوتی ہے۔

مدثر جمال تونسوی:جہاد اسلام کا محکم ترین فرض ہے، جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی ہے، جہاد انسان کو زمین کی پستی سے اٹھاکر عزت کی سربلندی تک پہنچاد یتاہے، جہاد اسلام کی حقانیت اور سچائی کی مضبوط دلیل ہے، جہاد انبیاء اور اولیاء کا راستہ ہے، جہاد صبر کا اعلی ترین درجہ ہے، جہاد فتنہ کفر کے توڑ کا سبب ہے۔ زندگی گزارنے کا بہترین راستہ بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے اور موت پانے کی بہترین منزل بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہدین اسلام کا سلسلہ دارالعلوم دیوبند اور شاہ ولی اللہ دہلوی سے ہوتے ہوئے سرکارِ مدینہﷺ سے جاملتا ہے اور الحمد للہ مجاہدین کو اس اعزاز پر فخر ہے ۔

قاری عبد اللطیف صاحب(ملتان):مسلمانوں وعدہ کرو کہ تادمِ آخر جہاد سے وابستہ رہوگے۔یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین اور دنیا کی ایسی ایسی نعمتیں دی ہیں۔ قرآن و سنت میں کتنی جگہوں پر جہاد کی ترغیب اور فضیلت موجود ہے۔ یہ ہم سب مسلمانوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم مانناسب سے زیادہ ضروری ہے۔

مولانا محمد اسماعیل صاحب(بہاولپور):اس اجتماع کو رسمی اجتماع نہ سمجھا جائے۔یہ اجتماع اسلام کی ترقی کے لیے ہے۔اس میں اللہ کے ولی اور اللہ کے شیر جمع ہیں۔یہ اجتماع  جہاد سے نسبت رکھنے والا مبارک اجتماع ہے ان شاء اللہ۔ہم تکبر نہیں بلکہ اللہ کا شکر اداکرتے ہیں۔امیر محترم کا شکریہ کہ انہوں نے ہمیں جہاد والا بھولا سبق یاد دِلایا۔جہاد کی کامیابی کے لیے امیر کی اطاعت لازم ہے۔اگر ہمیں کشمیر اور دہلی  پہنچے کا حکم ملے گا تو الحمدللہ دنیا دیکھے گی کہ ہم کیسے پہنچتے ہیں۔شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

مفتی مسعود الیاس کشمیری صاحب: آج پوری دنیا کا کفر جہاد سے خوف زدہ ہوکر حواس باختہ ہوچکا ہے۔آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ دنیائے کفر کی طاقتیں کچل کر اُمرت ان اقاتل کا حکم زندہ کیا جائے گا۔ہمارے نبی ﷺ نے جہاد کے میدان میں زخم کھا کر ہمارے لیے جہاد کی دلیل بھی فراہم کردی ہے اور جہاد کا مقام بھی واضح کردیا ہے۔ ہم اپنے امیر کے سامنے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ہم آخر دم تک اس جہاد سے جڑے رہیں گے۔ ان شاء اللہ

مولانامحمد خادم قاسمی صاحب:اللہ تعالیٰ نے ہمای کامیابی کے لیے قرآن کریم نازل فرمایا اور اس قرآن میں جہاد کی بھرپور ترغیب دی۔اللہ تعالیٰ نے ہم سے ہماری جان و مال کو خرید لیا ہے۔ایک مومن راہ خدا میں اپنی جان قربان کرنا عظیم سعادت سمجھتا ہے۔ حضرات صحابہ کرام کا اسوہ  حسنہ اور ان کے جہادی ولولے ہمارے لیے ایک مثال ہیں۔ یہ اجتماع بھی ہمیں اپنی جانیں جہاد میں قربان کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

مولانا ابوجندل شفیق:اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ : اگر وہ اپنے بعض بندوں کے ذریعے سرکش اورفتنہ پرور لوگوں کو قلع قمع نہ کرادیا کرے تو زمین پر فتنہ پھیل جائے اور کوئی بھی عبادت گاہ سلامت اور آباد نہ رہے۔ لیکن یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں جہاد جیسا فریضہ عطاء کیا۔ شکست کفر کا مقدر ہے اور اسلام کی سربلندی ازل سے طے ہوچکی ہے۔اصحاب صفہ علم اور جہاد کا پیکر تھے۔ ہمارے مدارس اور اصحاب علم اصحاب صفہ کے وارث ہیں تو ہمیں بھی علم وجہاد کا راستہ اپنانا ہوگا۔

بھائی رشید احمد کامران والد محمد طلحہ رشید شہیدؒ:اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاد،دین،امیر محترم اور طلحہ شہید کی مبارک نسبتیں عطاء کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور پھر جہاد سے وابستگی کی بہترین نعمت نصیب فرمائی۔ہم اس نسبت کو پلے باندھ لیں اور اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ یہ نسبت تادم آخر ہمیں حاصل رہے۔جہاد اسلام کی روح ہے۔مسلمانوں کے مقبوضات اور مسلمانوں کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے جہاد فرض ہوچکا ہے۔ہم اس فرض کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔

مولانا مجاہد عباس صاحب: اس وقت کفر ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کی شکل بن کر’’ اقوام متحدہ‘‘ کی چھتری تلے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور اسلام کے نشان مٹانے کے درپئے ہے،اور افسوس اس بات کا ہے کہ اب مسلمان کافروں کے مقابلے میں میدان کی طرف کم ہی رخ کرتے ہیں،حالانکہ ہمارے مسلمان ہمیشہ کافروں کے مقابل ڈٹے رہے ہیں۔ہماری تعداد کم نہیں، وسائل بھی کم نہیں، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاد کا راستہ اپنایا جائے کیونکہ اللہ کے نبیﷺ فرماچکے:

بقیہ صفحہ ۵ پر

جب تم جہاد چھوڑ دوگے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کردیں گے۔ آج ذلت کی جتنی بھی شکلیں مسلمانوں پر مسلط ہیں اس کی وجہ سے جہاد سے دوری ہے۔مجاہدین کی عظیم جماعت جیش محمدﷺ ایک تاریخ ہے۔اس تاریخ میں زبانی دعوت بھی ہے اور خون بہانے کاپیغام بھی۔ یہ تاریخ غازی باباشہید سے لے کر افضل گوروشہید تک اور حمزہ شہید سے عثمان شہید تک جگمگارہی ہے۔

مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب:یہ اجتماع ہمیں حالات کے اِدراک کا احساس بھی دیتا ہے اور ان حالات سے کامیاب نکلنے کا راستہ بھی بتاتا ہے۔ہم محمد عربیﷺ کے غلام ہیں،ان سے وفاکرکے دِکھائیں اور کافروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیں۔مسلمانوں کی عزت وآبرو اور جان ومال کی حرمت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔مسلمانوں کی جان ومال کو بے قیمت نہیں بننے دیا جائے گا۔قرآن نے ہمیں ان چیزوں کے تحفظ کا حکم دیا ہے۔

مولانا محمد عمارصاحب:قرآن کریم نے ریاست مدینہ کا فارمولا صاف صاف بیان کردیا ہے۔عشق رسولﷺ کا معیار قرآن میں واضح لکھ دیا گیا ہے۔ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والوں کا کافروں کے سامنے کشکول لیجانا عار اور باعث شرم ہے۔ قرآن نے جہاد سے بچنے کے ایک ایک بہانے کو گنوا گنوا کر ٹھکرا دیا ہے۔ہم ہرحال میں جہاد سے جڑے رہیں گے تاکہ قیامت کے دن حوض کوثر پر اپنے نبیﷺ کے ہاں سرخرو ٹھرسکیں۔

مولانا مفتی محمد اصغر خان کشمیری:جہاد میں ڈٹ کر اور جم کر لڑنے والے اہل ایمان سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں۔مجاہدین کو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا عظیم الشان مقام ملتا ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو لاوارث اور ہاتھ بندھا ہوا نہیں چھوڑتا بلکہ صاف صاف کہتا ہے کہ تمہارا اپنے مال کے تحفظ کے لیے مرنا بھی شہادت ہے،اپنی جان کے تحفظ کے لیے مرنا بھی شہادت ہے اور عزت کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے مرنا بھی شہادت ہے۔ محض اللہ کی محبت کے لیے جہاد کرتے ہوئے مرنا شہادت کا سب سے بلند مرتبہ ہے۔محض اللہ کی محبت اور دیدار کے لیے جہاد پر نکلنے والا ہر رکاوٹ عبور کرلیتا ہے اور اللہ اس کی راہ کے تمام کانٹے ہٹادیتے ہیں۔اللہ کے عشق کی گرمی لے کر جہاد میں نکلنے والا کبھی نہیں پھسلتا۔

مولانا طلحہ السیف صاحب:جہاد وہ پارس ہے جو بھی اس سے جڑجائے یہ اسے عزت کی سربلندی تک پہنچادیتا ہے۔جہاد وہ پارس ہے جو ایمان کو خالص بنادیتا ہے۔جہاد ایک تیر اور لوہے سے جڑتا ہے تو وہ تیر اور لوہا قیمتی بن جاتے ہیں۔جہاد ایک مجاہد کو زمین کی پستی سے نکال کر اللہ کی بیعت کی بلندی عطاء کرتا ہے۔ایک گھوڑا جب جہاد سے نسبت پاتا ہے تو اس کا ہر ہرکھانا پینا مجاہد کی نیکی بن جاتا ہے۔مال جیسا مردود سامان بھی جب جہاد سے جڑتا ہے تو نبی کریمﷺ کا محبت بھرا فیض اور محبت بھرا ہاتھ ان کو نصیب ہوجاتا ہے۔دنیا میں اگر کوئی پارس ہے تو وہ جہاد ہے۔جو قیمتی بننا چاہتا ہے وہ جہاد سے جڑجائے۔

حضرت مفتی عبدالرؤف اصغرصاحب:اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں جہاد فی سبیل اللہ والی جماعت نصیب فرمائی اور ایسا امیر عطاء کیا جس نے ہمیں جہاد پر جمع کیا۔جہاد فی سبیل اللہ زمین پر چلنے والے بندے کو بلند شان والے رب سے جوڑ دیتا ہے۔رب سے ملاقات کا شوق ہے تو جہاد کرنا ہوگا۔یہی راستہ سرخروکرنے والا ہے۔بدر سے لے کر تبوک تک جہاد ہمیں جنت کا راستہ دِکھاتا ہے۔جہاد فی سبیل اللہ صحابہ کرام کی امتیازی شان تھی۔یہی عمل ان کا خصوصی شعارتھا۔کوئی بدری تھا تو کوئی احد والا، کوئی خندق والا تو کوئی حدیبیہ والا،کوئی فتح مکہ والا تو کوئی حنین اور تبوک والا ۔ یرموک میں حضرت عکرمہ اور دیگر مسلمانوں کی بیعت علی الموت کا واقعہ اورجہادمیںثابت قدمی کی عظیم تاریخی یادگارقیامت تک مسلمانوں کوجہاد کے راز سمجھاتی رہیں گی۔ہم سب اپنی جان جہاد میں قربان کرنے والے بنیں تاکہ ہمیں بھی رب تعالیٰ کے قرب کا اعلیٰ مقام نصیب ہو۔

انہی بیانات کے دوران ایک وقفے میں مولانا محمد طلحہ رشید شہید کا وصیت نامہ بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ بیانات کے اختتام پر شہید کے والد محترم بھائی رشید احمد کامران صاحب اور شہید کے دادا جی کے ہاتھوں کتاب کی رونمائی ہوئی اور انہوں نے اسٹیج پر موجود سب حضرات کو یہ کتاب ہدیتاً عنایت کی۔

اس اجتماع میں اس کتاب کے دس ہزار سے زائد نسخے فروخت ہوئے۔ الحمد للہ۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اس کتاب کا تمام نفع اور جماعت کے مکتبے میں شائع ہونے والی تمام کتابوں کا نفع جہادی اور جماعتی امور میں ہی صرف کیا جاتا ہے، کسی کا کوئی ذاتی نفع اس سے وابستہ نہیں ہوتا۔

اسی موقع پر وہ نظم بھی سنائی گئی جو مولانا محمد طلحہ رشید شہید کی یاد میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح یہ ایمان افروز عصر کی نماز کے وقت اختتام کو پہنچی۔ الحمد للہ

 

مغرب کے بعد تیسری نشست کا آغاز ہوا۔ اس نشست کے نقیب مولانا محمد فیصل صاحب تھے۔ اور اس نشست میں جہادِ کشمیر کے معروف رہنما حضرت مولانا مفتی محمد اصغر خان کشمیری صاحب کا جہاد کی اہمیت و ضرورت پر مفصل و مدلل بیان ہوا، جسے تمام سامعین نے بہت سراہا اور بہت ہی مفید قرار دیا۔

مفتی محمد اصغر خان کشمیری تین کالم:ان کا بیان اوپر بھی مذکور ہے دونوں کوتھوڑا تھوڑا ملا کر ایک خبر بنا لیں

انہوں نے فرمایا کہ: بدر کا معرکہ حق اور باطل کو پرکھنے کی لازوال کسوٹی اور معیار ہے۔ ہمیں اس دور میں کامیابی کے لیے سیرت النبیﷺ سے روشنی لینا ہوگی، کلمہ طیبہ کے اہم ترین تقاضے جہاد فی سبیل اللہ کو پورا کرناہوگا، ایمان کے اس اہم ترین تقاضے کو پسِ پشت ڈال کر ایمان کی محنت پوری طرح کارگر نہیں ہوسکتی۔ سیرت النبیﷺ سے پتہ چلتا ہے کہ جب جہاد فرض نہیں تھا تب بھی مسلمانوں کو عروج اور ظلم سے نجات نہ مل سکی تھی، تو اب جب کہ جہاد فرض ہے تو اسے ترک کر کے کس طرح عروج اور ظلم سے نجات مل سکتی ہے!!قرآن و سنت کی سینکڑوں نصوص جہاد و قتال کی اہمیت کو بتارہی ہیںاور واضح کررہی ہیں کہ فتنے کا خاتمہ اور توڑ جہاد فی سبیل اللہ میں ہے، اور آج امت اسی راہ پر آئے گی تو فتنے ٹوٹیں گے۔

اس موقع پرایک بزرگ پٹھان نے پُرجوش نعرہ بازی کے ذریعے سب شرکاء کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، اور سب ان کی اس ایمانی کیفیت کو دیکھ کر رشک کرنے لگے۔

عشاء کے بعد اس دن کی چوتھی نشست ہوئی۔ اس نشست میں اولاً شعبہ تعلیم و تربیہ کے مولانا مفتی عبیدالرحمن صاحب نے مجلسِ کرائی، مجلسِ ذکر کے بعد حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک ریکارڈڈ بیان سنوایاگیا، اور بیان سنتے وقت سب سامعین ہمہ تن گوش تھے اور اکثر مجمع رقت آمیزی کے سبب آنسو بہا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان آنسووں کی لاج رکھے اوراس اجتماع کو قبولیت اور نافعیت کا بلند مقام عطاء کرے۔ آمین

دوسرے دن یعنی اتوار کے دن صبح نوبجے اس اجتماع کی پہلی نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست میں نقیبِ محفل مولانا محمد خادم قاسمی صاحب تھے۔ نشست کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مولانا ابوجندل محمد حسان صاحب نے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی۔ تلاوت کے بعد جناب قاری محمد ضیاء اللہ صاحب نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

اس نشست میں شعبہ ہدایت کے ناظم مولانا محمد اشفاق احمد صاحب نے کارکنان کے لیے ہدایات اور کلمہ، نماز اور جہاد کے موضوع پر مفصل بیان فرمایا۔ ان کے بعد مولانا مجاہد عباس صاحب نے جماعت کے تمام اہم شعبہ جات اور ان کی کارکردگی کا مفصل تعارف کرایا۔ اس کے بعد راقم السطور مدثر جمال نے نماز پڑھنے کا طریقہ بتا کر مختصر وقت میں نماز کی عملی مشق کرائی۔ اور اس کے بعد مسجد کے سامنے والے گراؤنڈ میں تعلیم القرآن بالاکوٹ سے تشریف لائے ہوئے بچوں نے استاذ المجاہدین محمد یوسف ازہر غوری صاحب کی نگرانی میں ’’جہادی مظاہرہ‘‘ پیش کیا، جسے دیکھ کر تمام شرکاء کے دلوں میں جہاد کا عملی شوق تیز ہوا، اور بہت سوں نے جہادی تیاری کرنے کا پختہ عزم بھی کیا۔ الحمد للہ

ظہر کی نماز کے بعد اس اجتماع کی آخری نشست منعقد ہوئی۔ نقیبِ محفل مولانا محمد عمارصاحب تھے۔ مجلس کے آغاز میں مجلسِ اِستغفار ہوئی۔ مولانا محمد عمارصاحب نے اولا استغفار کی اہمیت پر کچھ گفتگو کی اور پھر سب شرکاء مجلس استغفار میں مشغول ہوئے، تاکہ استغفار کی برکت سے ہمارے پہلے کے سب گناہ بھی معاف ہوں اور اس اجتماع پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو۔

بھائی طلحہ تین کالم:ان کا بیان اوپر بھی مذکور ہے دونوں کوتھوڑا تھوڑا ملا کر ایک خبر بنا لیں

اس کے بعد جماعت کے معروف قائد مولانا طلحہ السیف صاحب مدظلہ نے مفصل بیان فرمایا۔ مولانا کا بیان ولولہ انگیز تو تھا ہی مگر نہایت ہی چشم کشا اور عبرت آموز بھی تھا، جس نے سب سامعین کو ایک بار جھنجھوڑ کر رکھا دیا اور کئی ایسے حقائق سے روشناس کرایا جو نہ صرف لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے بلکہ باطل کی طرف سے پوری پلاننگ کے ساتھ ان حقائق کو اوجھل کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کلمہ طیبہ پر جس طرح جنت کا وعدہ کیا گیا ہے تو یہ اس لیے کہ اس کلمے کی ایک قیمت ہے، اس کلمے کی ایک تاثیر ہے ۔ اگر وہ تاثیر نہ ہو تو ایسا کلمہ اپنا وزن کھودیتا ہے، اور اگر وہ تاثیر ہو تو یہ کلمہ اسی قدر توانا اورمفیدہوتا ہے۔

اس کلمے کی تاثیر یہ ہے کہ یہ اہل حق کے دلوں میں جاگزیں ہوجاتا ہے اس انداز سے کہ وہ اس پر اپنے جان و مال نچھاور کرنے کے لیے بے دریغ آمادہ ہوجاتے ہیں، اور اسی کلمہ طیبہ کی یہ تاثیر بھی ہے کہ اسے سن کر باطل کانپ جاتا ہے، لرز جاتا ہے، وہ بدحواس ہوجاتا ہے، وہ دشمنی پر اُترآتاہے، وہ مرنے مارنے کی تیاری کرنے لگتا ہے۔

نبی کریمﷺ کی زندگی میں اس کلمہ طیبہ کی دعوت کی پہلی صدا کو دیکھئے کہ آپﷺ نے صرف اتنا کہا:’’ اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہو جاؤ گے!‘‘اس کے ساتھ یہ نہیں کہا تھا کہ: ’’آج سے تم میرے دشمن ہو!‘‘، مگر جب باطل نے یہ آواز سنی تو وہ آگ بگولا ہوگیا، وہ گالیوں پر اُتر آیا، وہ دشمنی پر اُتر آیا۔ نبی کریمﷺ کی یہ دعوت قیامت تک کے لیے ایک کسوٹی اور مثال اور حجت ہے کہ جب اس کلمے کو پڑھنے سے وقت کا ابوجہل اور ابو لہب جو کہ ہمارے زمانے میں مودی، ٹرمپ اور دیگر ائمۃ الکفر کی شکل میں موجود ہیں، انہیں تکلیف نہ ہوتی ہو، وہ دشمنی پر نہ اُترتے ہوں، وہ اس کلمے سے خوف محسوس نہ کرتے ہوتو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کلمے کو پڑھنے والے ایسے لوگ اس کی تاثیر سے خالی ہیں، اور ہاں! وہ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جن کے کلمہ طیبہ سے کفر کے یہ سردار کانپتے ہیں، بدحواس ہوتے ہیں، چیختے چلاتے ہیں، اور جنگ پر اُترتے ہیں۔ یہ حقیقت محض نکتہ آفرینی نہیں بلکہ سورۃ الممتحنہ میں اہل ایمان کے سامنے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اسی اسوہ حسنہ کو پیش کرکے مثال اور حجت بنایا گیا ہے۔ سورۃ الممتحنہ کی آیت نمبر چار میں مذکور یہ مضمون دیکھیے:

ترجمہ: ’’بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ہم نے تمہارا اِنکار کر دیا اور ہمارے او رتمہارے درمیان دشمنی اور بیَر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہو گیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ‘‘

ان کے بیان کے بعد حسَّانِ جیشِ محمدﷺ، مولانا ابوجندل محمد حسان صاحب نے ’’ترانۂ کشمیر‘‘ سنا کر سب شرکاء کے دلوں کو گرمایا اور جذبات کو خوب مہمیز دی۔

چار کالم:ان کا بیان اوپر بھی مذکور ہے دونوں کوتھوڑا تھوڑا ملا کر ایک خبر بنا لیں

ترانۂ کشمیر کے بعد معروف جہادی قائد مفتی عبدالروف اصغر صاحب کے تفصیلی رقت آمیز اور جذبات سے بھرپور بیان نے تمام سامعین کے دِلوں کو خوب گرمایا، بیان کے آغاز میں درج ذیل اَشعار کی صورت میں انہوں نے اپنے پورے پیغام کو گویا سمیٹ دیا تھا:

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے

خاک ہو جاؤ گے، اَفسانوں میں ڈھل جاؤ گے

اپنی مٹی پہ تو چلنے کا سلیقہ سیکھو

سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو

بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے

انہوںنے اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کیا کہ اُس نے ہمیں ایسی ’’جماعت‘‘ اور ایسے ’’امیر‘‘دیے جنہوں نے ہمارا کلمہ طیبہ مضبوط کرایا، نماز کی حقیقت سمجھائی، اور جہاد اور شہدائِ اسلام کی نسبت سے جوڑا۔

یہ کلمہ طیبہ توحید کی حقیقت اور بنیاد ہے، یہ ہر باطل معبود کی نفی کرکے حقیقی اور سچے معبود کو دِل میں اُتار دیتا ہے، ہر باطل معبود کا خوف دِل سے نکال کر بس حقیقی معبود ربِّ کائنات کا خوف دل میں بٹھا دیتاہے، ہر باطل معبود سے اُمید کے سارے سلسلے توڑ کر ایک حقیقی معبود کو اپنا ماوی و ملجا قرار دے دیتا ہے،یہی کلمہ ہمیں ہر باطل کو پاش پاش کرنے کا درس دیتا ہے، اور عرش تافرش پھیلی ہوئی سب نعمتیں، اسی کلمے کا سبق یاد کراتی ہیں، اور ہم رب تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں یہ عظیم کلمہ عطاء کردیا۔

پھر اس کلمے کا دوسرا جزوہے ’’محمد رسول اللہ‘‘، وہ محمد کہ جن کا نسب سے پاکیزہ، جن کے اخلاق سب سے اعلیٰ، جن کا مقام سب سے بالا، جن کی پیروی کرنا باعث سعادت، جن پر ایمان لانا کامیابی کی ضمانت، جن پر جان نچھاور کرنا دارین میں عزت وسرفرازی۔ ہاں ایمان والو! ان صحابہ سے محبت نبوی کا سبق لوجنہوںنے نبی کریمﷺ کے قدموں میں اپنی جانیں نچھاور کیں، اور ان صحابہ سے درس غیرت لو! جنہوںنے گستاخانِ رسول کو عبرت ناک سزادی اور نبی کریمﷺ سے کامیابی کی سند اور خوش خبری حاصل کی، آج بھی جو لوگ گستاخیٔ رسول جیسا گھناؤنا جرم کرتے ہیں وہ بھی سن لیں اور جو ان کی پشت پناہی اور انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں وہ بھی سن لیں کہ وہ کبھی بھی اس جرم کی سزا سے بچ نہیں پائیں گے، نہ رب کی زمین اپنے اوپر انہیں امن کی جگہ دے گی اور نہ رب کی زمین اپنے اندر انہیں امن سے رہنے دے گی۔

اے اہل ایمان! اپنے دِلوں میں حضورﷺ کی محبت اور عقیدت کے دیپ جلاؤ، حضورﷺ کی ناموس کے تحفظ کا پختہ عزم کرو، پیارے آقامدنیﷺ کے قدموں میں جان نچھاور کرنے کا عہد کرو، ان کے نام پر مرنے کا عہد کرو، حضورﷺ اپنی امت کو اپنی جہادی تلوار دے کر گئے تھے، یہ عزم کرو کہ اس تلوار کو کبھی کند نہیں ہونے دوگے، اوریہ تمنا رکھو کہ حضورﷺ کے نام پر اس اندا زسے جان قربان کرو کہ جب ہمارے جسم میں لت پت ہو رہا ہو تو اُدھر رب کائنات روضہ اقدس پر ہمارا سلام پہنچا دے۔

اے اہل ایمان! کلمہ طیبہ کا سب سے اہم ثبوت نماز ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج چوری کو گناہ سمجھا جاتا ہے، زناکاری کو گناہ سمجھا جاتا ہے، حتی کہ سڑکوں پر بنے سگنل کو توڑنا جرم سمجھا جاتا ہے، ہیلمنٹ نہ پہننا جرم سمجھاجاتا ہے مگر نماز چھوڑنے کو گناہ نہیں سمجھاجاتا، اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا منادی دن میں پانچ مرتبہ ہمیں اس کی بارگاہ میںحاضر ہونے کے لیے پکارتا ہے، اور ہم لوگ لبیک کہنے میں سستی کرتے ہیں۔ اس لیے آج سے اس گناہ پر سچی توبہ کریں، آئندہ نماز کا بے حد اہتمام کریں، نماز چھوڑ کر حضورﷺ کی مبارک آنکھوں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ نماز معراجِ نبوی کا تحفہ ہے، اس کی قدر کریں، اپنے بچوں کو نماز کا عادی بنائیں،ان کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ ان کا سب سے اہم کام نماز ہے۔

اے اہل ایمان! جب نماز میں دل لگتا ہے تو پھر یہ دل اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے بے چین ہوتا ہے، پھر یہ دل اپنی جان و مال کو اللہ تعالیٰ کے نام پر قربان کرنے کے لیے تڑپتا ہے، اور اسی لیے پھر ایک سچا مومن اپنی جان و مال جہاد کے میدان میں لے آتا ہے تاکہ اس کا رب اسے خرید لے ، اس کا رب اس سے راضی ہوجائے۔

اورہاں! وہ لوگ جو نماز اور جہاد سے روکتے ہیں، ان سے دور کرتے ہیں وہ بڑے ہی ظالم ہیں، اور ظالم کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ اس لیے آپ عہد کریں کہ آپ نماز اور جہاد سے اپناتعلق مضبوط بنائیں گے تاکہ ہمارا شمار ظالموں میں نہ ہو۔

الغرض حضرت مفتی صاحب کے بیان کا ہر جملہ اہم تھا اور اسی لیے سب لوگ ہمہ تن گوش بنے محوسماعت رہے۔

اس کے بعد حضرت امیرالمجاہدین مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کا اس اجتماع کے لیے ریکارڈ کیا گیا خصوصی مفصل بیان سنوایا گیا۔ حضرت امیر محترم کے بیان کے دوران ہی نماز عصر کا وقت ہوا، تو بیان روک کر نماز عصر اداء کی گئی اور نماز کے فورا بعد دوبارہ بیان کی سماعت شروع ہوئی اور مغرب کے قریب حضرت کا ہدایات اور مولانا سمیع الحق شہید کے سانحہ پر تعزیت پر مشتمل بیان ختم ہوا۔ آخر میں حضرت مفتی عبدالرؤف اصغر صاحب کی رقت آمیز دعاء ہوئی اور اسی دعاء کے اختتام کے ساتھ یہ پُرنور، ایمان پَرور ، جہادی بہاروں سے مزین یہ اجتماع اختتام پذیر ہوااور سب شرکاء مغرب کی نماز اداء کرنے کے بعد کھانے کھاتے اور ایک دوسرے کو پیار و محبت سے الوداع کہتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں ہوگئے۔

اس اجتماع کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر اداء کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اجتماع کو ، اس میں آنے والوں کو اور خدمات سرانجام دینے والوں اور خصوصاً حضرت امیر محترم کو جزائے خیر عطاء فرمائے، اور اللہ کرے کہ یہ بہاریں ہمیشہ اسی طرح پھول برساتی رہیں، اور اہل ایمان اس سے خوشہ چینی کرتے رہیں۔ مولانا طلحہ السیف صاحب نے اس موقع پر حضرت امیر محترم کومخاطب بناکر خوب کہا ہے:

اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تُست

اے بادِ صبا! یہ سب مہربانیاں آپ کی ہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online