Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ذکرِ مصطفیﷺ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 668 - Mudassir Jamal Taunsavi - Zikr e Mustafa

ذکرِ مصطفیﷺ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 668)

خوش بختی اور سعادت مندی کے کیا کہنے اُس شخص کے لیے جسے ’’رحمۃ للعالمینﷺ‘‘ پر ایمان لانے کی توفیق میسر ہوئی۔

وہ جنہیں رب تعالیٰ نے ’’سراپا رحمت‘‘ بنایا اور ان پر اپنا اِحسان بتاتے ہوئے اور انہیں اور پوری انسانیت کو ان کی عظمتِ شان کی نشان دہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:

’’اللہ نے ہی آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے، اور اسی نے آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے جسے آپ جانتے نہیں تھے اور آپ پر تو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے‘‘(سورۃ النساء:۱۱۳)

سچ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبیﷺ کو بے شمار خصائص اور فضائل عطاء فرمائے ہیں۔ آپ کا ذکر باعث رحمت ہے اور آپ کے فضائل و خصائص کے ذکر سے رحمت بھی نازل ہوگی اور آپ کے بارے میں ہماری معرفت میں مزید اضافہ ہوگااورمعرفت میں اضافے سے محبت میں اضافہ ہوگا، اور محبت کے اضافے سے حضورﷺ کے ساتھ نسبت اور تعلق میں اضافہ ہوگا اوریہ محبت اور نسبت و تعلق قیامت کے دن حضورﷺ کی شفاعت کا سبب بنیں گے۔ ان شاء اللہ

اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبیﷺ کو سب کا سردار بنایا، آپ نے ’’انا سید ولد آدم و لافخر‘‘ فرما کر اس سے ہمیں روشناس کرایا اور اس میں یہ اشارہ بھی پنہاں ہے کہ آپ دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سب سے افضل سے بھی ہیں۔ سید وہی تو ہوتا ہے جو بلندپایہ صفات اور عمدہ اخلاق میں سب سے فائق ہو اور جو دنیا میں بلند پایہ صفات اور عمدہ اخلاق میں سب سے فائق ہوگاتو لامحالہ آخرت میں بھی اس کا مقام ومرتبہ اور اعزاز و اکرام سب سے زائد ہوگا۔

اِمامِ نعت گوئی علامہ بوصیری رحمہ اللہ تعالیٰ یاد آئے۔ فرماتے ہیں:

محمد سید الکونین و الثقلین

والفریقین میں عرب و من عجم

فاق النبیین فی خلق و فی خلق

و لم یدانوہ فی علم ولا کرم

محمدﷺ تو دنیاو آخرت میں کیا جن و انس اور کیا عرب و عجم سب کے ہی سردار ہیں۔ وہ اپنی سیرت میں بھی اور اپنی صورت میں بھی سب انبیائے کرام علیہم السلام سے فائق ہیں اور ان کے علم و کرم میں بھی اُن میں سے کوئی اُن کے ہم پلہ نہیں ہے۔

قیامت کے دن حمد کا جھنڈا حضور اکرمﷺ کے ہاتھ میں ہوگا، اور حضرت آدم سمیت دیگر تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور اُن کی اُمتیں آپﷺ کے جھنڈے تلے ہی ہوں گی۔ قصیدہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:

محمد تاج رسل اللّٰہ قاطبۃ

محمد صادق الاقوال و الکلم

محمد ذکرہ روح لانفسنا

محمد شکرہ فرض علی الامم

محمدﷺ بالیقین تمام رسولوں کے سر کا تاج ہیں، اور آپ کے تمام اَقوال اور کلمات سچ ہی سچ ہیں۔ محمدﷺ کی یاد ہمارے دلوں کا قرار ہے اور آپ کا شکراداء کرنا تو تمام اُمتوں پر فرض ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہوں کی معافی کا پروانہ عطاء فرمادیا ہے۔ قیامت کا دن دیکھئے کہ جب محشر کی سختی سے تمام امتیں دیگر نبیوں کے پاس سفارش کے لیے جائیں گی تو وہ حضرات باوجود مقرب اور معصوم ہونے کے اپنی اُن خطاوں کو یاد کریں گے جو ان سے دنیا میں صادر ہوئیں، مگر جب ہمارے نبیﷺ کے پاس سفارش کے لیے پہنچیں گے تو آپ فرمائیں گے: انا لہا! ہاں یہ کام میں ہی کرسکتاہوں۔ پھر قیامت کے دن سب سے پہلے سفارش کرنے کا اعزاز بھی آپ کو ملے گا، اور سب سے پہلے سفارش قبول ہونے کا مقام و مرتبہ بھی آپ کا ہی حصہ ہے۔ صاحبِ قصیدہ محمدیہ کیا خوب فرماتے ہیں:

محمد یوم بعث الناس شافعنا

محمد نورہ الہادی من الظلم

محمدﷺ ہی اُس دن ہمارے سفارشی ہوں گے جب لوگوں کو قیامت کے دن اُٹھایا جائے گا اور محمدﷺ کا لایا ہوا نور ہی لوگوں کو اَندھیروں سے نکال کر راہِ ہدایت دِکھانے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ایک خاص دعاء کی قبولیت کا اختیار دیا اور صرف یہ ہمارے نبیﷺ ہی ہیں جنہوںنے وہ دعاء اپنی امت کے لیے محفوظ فرمالی اور فرمایا کہ میں یہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کے لیے کروں گا۔

محمد زینۃ الدنیا و بہجتہا

محمد کاشف الغمات و الظلم

محمدﷺ ہی تو ہماری کُل کائنات کی زینت اور رونق ہیں اور آپ ہی اَندھیروں اور پریشانیوں کے بند راستوں کو کھولنے والے ہیں۔

ہر نبی کو دیا گیا معجزہ انہی کے ساتھ اس دنیا سے ختم ہوگا، مگر ہمارے نبیﷺ کی نبوت و رسالت کا فیضان بھی قیامت تک باقی ہے اور آپ کا معجزہ قرآن بھی قیامت تک باقی ہے ، اور آپ کی امت کے اولیاء کی کرامات بھی قیامت تک باقی رہیں گی، کیونکہ امتی کی کرامات در حقیقت اس کے نبی کی صداقت کی بھی نشانی ہوتی ہے اور اس طرح وہ بالواسطہ طور پر نبی کا معجزہ قرار پاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ہر دور میں اس نے اپنے جس منتخب بندے کو نبی اور رسول بنا کر بھیجا تو ان کی تصدیق و تائید کے لیے انہیں معجزات بھی عطاء فرمائے۔ اسی سنت کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے سرورکونین حضرت محمدﷺ کو اپنا آخری نبی اور آخری رسول بنا کر بھیجا تو انہیں نہ صرف یہ کہ معجزات عطاء کیے بلکہ انہیں ’’خاتم النبیین‘‘، ’’رحمۃ للعالمین‘‘ اور ’’سیدولد آدم‘‘ ہونے کی وجہ سے ان معجزات میں بھی امتیازی شان عطاء فرمائی۔

سراج الملۃ والدین امام ابوالثناء محمد بن ابوبکر اَرموی شافعیؒ اپنی کتاب ’’لُبابُ الاربعین فی اُصول الدین‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’و اعلم انہ علیہ السلام لہ معجزات کثیرۃ سوی القرآن، افرد العلماء لہا کتبا ‘‘ (ص۲۹۲)

جان لو کہ نبی کریمﷺ کے لیے قرآن کریم کے علاوہ بھی بہت زیادہ معجزات ہیں، جس پر علمائے کرام نے مستقل کتابیں تحریرکی ہیں۔

پھر ان معجزات کے بارے میں ایک اہم ضابطہ بتاتے ہیں جس سے وہ تمام معجزات چند بنیادی اَقسام میں سمٹ جاتے ہیں اور اس طرح ان معجزات کو سمجھنااوران کی تہہ تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

و الضابط فیہا انہا: اما حسیۃ او عقلیۃ، والحسیۃ:اما فی ذاتہ او صفاتہ اوفی خارج عنہ(ص۲۹۲)

تمام معجزات کے لیے جامع ضابطہ یہ ہے کہ وہ معجزہ یا تو حسی ہوگا یا عقلی، پھر اگر وہ حسی ہے تو یا آپ کی ذات میں اس کا ظہور ہوگا،یا صفات میں، یا آپ کی ذات سے باہر۔

اس ضابطے سے معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ کے معجزات کی بنیادی طور پر چار درج ذیل اقسام ہیں:

(۱)معجزات عقلیہ

(۲)معجزات حسیہ جو آپ کی ذات مبارک میں ظاہر ہوئے

(۳)معجزات حسیہ جو آپ کی صفات مبارکہ میں ظاہر ہوئے

(۴)معجزات حسیہ جو آپ کی ذات مبارک سے باہر ظاہرہوئے

پھر انہوں نے ان تمام اَقسام کو چند مثالوںسے واضح کیا ہے اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے سیرۃ المصطفیٰﷺکی تیسری جلد میں اس پر بہت ہی عمدہ اور جامع و مفصل گفتگو کی ہے۔

باقی تمام اَنبیاء کرام علیہم السلام خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیے گئے، جبکہ ہمارے نبی حضرت محمدﷺ تمام اِنسانوں کی طرف بلکہ جنات کی طرف بھی نبی بنا کر مبعوث کیے گئے اور اس سے بھی بڑھ کریہ کہ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ بنا کر بھیجے گئے۔

آخر میں اس مختصر مضمون کو حضرت علامہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک قصیدے کے درج ذیل اشعار پر ختم کرتا ہوں:

نبی الوریٰ، سید الانبیاء

نجی الالہ، جلیل فخیم

فیارب صل و سلم علیہ

متی فاح طیب و وافی نسیم

و ان عافنی و اعفنی من اثام

الہی بجاہ النبی الکریم

حضرت محمدﷺ تمام مخلوق کے نبی اور تمام انبیاء کے بھی سردار ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں مناجات کا شرف بخشا اور وہ بڑے ہی جلیل الشان اور بلند مقام والے ہیں۔

پس اے میرے رب! جب تک خوشبو مہکتی اور بادِ نسیم چلتی رہے تب تک ان پر آپ کی طرف سے خاص رحمتیں نازل ہوتی رہیں اور اس کریم نبیﷺ کے مقام محبت کے طفیل مجھ سے درگزر فرمادیجیے اور میرے گناہوں کو معاف فرمادیجیے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor