Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

موجودہ حکومت کا امتحان (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 669 - Mudassir Jamal Taunsavi - Maujooda Hakoomat ka Imtehan

موجودہ حکومت کا امتحان

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 669)

ایک طرف امریکہ کی شکست اور ذلت و رُسوائی کا یہ حال ہے کہ وہ فقط اتنی بات کو ہی اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے کہ اگر افغان طالبان اُن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہوجائیں، حالانکہ امریکہ شیطان کی طرح دانت پیستا ہوا انہی افغان طالبان کو ختم کرنے کے لیے آیا تھا، اور دوسری جانب اس وقت پاکستان پر مسلط ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا جو حرام فیصلہ کیا تھا، جو بہر حال امریکہ کے ہی مفاد میں تھا مگر اس دن سے لے کر آج تک امریکہ نے ایک دن بھی پاکستان کو عزت کا مرتبہ نہیں دیا، اور اب جب کہ وہ اپنے اصل فریق سے رو رو کر اور گھٹنوں کے بل گر کر مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے تو عین ان لمحات میں بھی وہ پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز لب و لہجے والی گفتگو ہی کررہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ ایک ٹکا برابر بھی احسان یاد رکھنے والا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا کام فقط اپنے مفادات کو تحفظ دینا اور دوسرے ممالک کو دھونس اور دھمکیاں دے کر اپنے مفادات کی تکمیل یا تحفظ کے لیے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دینا ہے۔

یہ بات پاکستانی حکومت کے لیے اب بالکل واضح ہوجانی چاہئے کہ وہ آخر کب تک امریکی حرام جنگ میں اپنا جانی و مالی نقصان بھی کراتے رہیں گے اور ان کے ہاتھوں بار بار ذلت بھی اُٹھاتے رہیں گے؟؟ کیا ایک خوددار ، آزاد اور مختار ملک کو اس طرح کا رویہ اپنائے رکھنا زیب دیتا ہے؟

جی ہاں قارئین کرام ! ابھی چند دن قبل امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔اُس نے مزید یہ بھی کہاکہ:پاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لادن) فوجی اکیڈمی کے قریب رہتے ہیں۔ اور ہم انھیں 1.3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کر دی تھی کیوں کہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی اس طرح تذلیل کی ہوبلکہ اسی سال کے آغاز پر بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ : امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بیوقوفی کی، جس کے جواب میں انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا۔

صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ :یہ پاکستانی ہمارے رہنماؤں کو بیوقوف سمجھتے رہے ہیں۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کر رہے ہیں۔اب ایسا نہیں چلے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے چند روز بعد امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روک رہی ہے تاکہ پاکستانی حکومت کو بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا امداد کی فراہمی کا سلسلہ منجمد رہے گا۔

اسی کے ساتھ اس کو بھی ملائیے کہ گذشتہ برس امریکی صدر کی جانب سے وضع کردہ امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بھی کہا گیا تھا کہ ہم پاکستان پر اس کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں تیزی لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لیے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی۔امریکہ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان کے اندر سے کام کرنے والے شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے امریکہ کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔اس پالیسی کے سامنے آنے کے بعد امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے دورہ افغانستان کے موقعے پر پاکستان سے ایک بار پھر کہا تھا کہ وہ افغانستان کی حکومت کے خلاف لڑنے والے گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرے۔

ان سب باتوں کے بعد اب ادھر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے پاکستان کبھی بھی نائن الیون میں ملوث نہیں رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان نے 75,000 افراد کی قربانی دی اور 123 ارب ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کیا جبکہ اس بارے میں امریکی امداد صرف 20 ارب ڈالر کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے تباہ ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس جنگ نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔انھوں نے کہ پاکستان آج بھی امریکی افواج کو اپنے زمینی اور فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے امریکی صدر سے پوچھا ہے کہ کیا وہ اپنے کسی دوسرے اتحادی ملک کا نام بتا سکتے ہیں جس نے شدت پسندی کی جنگ میں اتنی قربانیاں دی ہوں۔

اس سے قبل پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کا تازہ بیان ان پاکستانی رہنماؤں کے لیے سبق ہونا چاہیے جو نائن الیون حملوں کے بعد سے امریکہ کو خوش رکھنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ شیریں مزاری نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے بیان کے جواب میں دیا جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے لیے کچھ نہیں کرتا اسی لیے انھوں نے پاکستان کی امداد روکی ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور سٹریٹیجک سٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کی سابق سربراہ شیریں مزاری نے ٹویٹ میں کہا ٹرمپ کے پاکستان پر طنز اور یہ دعوے کہ پاکستان امریکہ کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا ان پاکستانی رہنماؤں کے لیے ایک سبق ہونے چاہئیں جو امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے کوشاں تھے۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کچھ اقدامات کا حوالہ بھی دیا اور کہا جیسے کہ غیرقانونی منتقلیاں، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی ہلاکتیں، ریمنڈ ڈیوس اور دیگر آپریٹوز کی رہائی، ڈرونز سے غیر قانونی ہلاکتیں وغیرہ وغیرہ۔انھوں نے مزید کہا فہرست بہت لمبی ہے اور ایک بار پھر تاریخ نے ثابت کر دیا کہ خوش کرنے کی پالیسی کام نہیں کرتی۔

موجودہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ان دوبیانات کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہورہا ہے کہ پاکستان نے اس امریکی جنگ میں شمولیت اختیار کرکے بیس ارب ڈالر کی امریکی امداد کو مستثنی کرنے کے بعد ایک سو ایک رب ڈالر کامالی خسارہ برداشت کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس خسارے کو برداشت کیوں کیا گیا؟ اس خسارے کے ذمہ داروں کا کوئی تعین ہوگا یا نہیں؟ نیز ان کا کوئی حساب ہوگا یا نہیں؟ نیز یہ بھی کہ عمران خان کے بیان کے مطابق پاکستان اب بھی اس جنگ میں اسی حرام فیصلے پر کاربند رہتے ہوئے امریکہ کا ساتھ دے رہا تو کیا یہ خسارہ مزید بڑھ نہیں رہا؟ اور اگر بڑھ رہا ہے اور ظاہر ہے کہ بڑھ رہا ہے تو کیا اس حالت میں ملکی معیشت کو بہتر کیا جاسکتا ہے؟ جس برتن میں بڑے بڑے سوراخ ہوچکے ہوں اس میں کتنا ہی پانی کیوں نہ ڈالا جائے تو وہ کبھی بھی بھر نہیں سکتا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے حکمرانوںنے پاکستان کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے، ایک طرف دیگر ممالک سے معیشت کی مضبوطی کے لیے قرضے لیے جارہے ہیں اور اسے اپنی بڑی کامیابی باور کیا جارہاہے اور دوسری جانب امریکی جنگ میں شمولیت کیو جہ سے روز بروز خسارہ بڑھ رہا اور جتنی امداد لی جاتی ہے اس سے بڑھ کر خسارہ دوگنا ہوجاتا ہے۔

نیز وفاقی وزیر شیریں مزاری نے جس طرح اس صورت حال کا ذمہ دار سابقہ حکمرانوں کو قرار دیا ہے تو اب یہ ذمہ داری ان کی حکومت پر بھی آپڑی ہے اور ابھی تک موجودہ حکومت نے اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اور اگر یہ حکومت بھی اس امریکی جنگ سے باہر نہیں نکلتی تو اس حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ سابقہ حکومتوں کی مذمت کرے، بلکہ یہ حکومت بھی اس پورے ملکی خسارے میں سابقہ حکومتوں کی طرح برابر کی شریک ہوگی اور یہ چیز پوری قوم کے ہر ہرفرد کے حق میں ایک خیانت ہے اور دھوکہ دھی ہے۔ قوم نے حکمرانوں کا چناؤ امریکی جنگ میں اس کا ساتھ دینے کے لیے نہیں کیا بلکہ پوری قوم اس جنگ سے شدید جھلسنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اس سے نکلنے کامطالبہ رکھتی ہے ۔ اگر یہ حکومت اس آزمائش میں کامیابی کی طرف لے جانے والے فیصلے (نہ کہ محض زبانی بیانات) کرتی ہے تو یہ اس ملک کے ساتھ انصاف ہوگا، اوراس سے ملکی امن و امان بھی بحال ہوگا اور ملکی معیشت میں بھی بہتری آئے گی، بصورت دیگر اس ملک کے تمام تر خسارے کے لیے سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی پوری طرح ذمہ دار ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا جواب بھی دینا ہوگا۔  

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online