Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

دو خبریں…دو چہرے (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 670 - Mudassir Jamal Taunsavi - Do KHabrein Do Chehre

دو خبریں…دو چہرے

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 670)

آج کی نام نہاد ترقی یافتہ دنیا میں تعلیم کو اس وقت کی سب سے بڑی ترقی شمار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس وقت کی دنیا میں جو تعلیمی سطح ہے وہ تاریخ میں کبھی بھی نہیںرہی مگر حقیقت اس کے برعکس یہ بھی ہے کہ اس وقت تعلیم ایک ایسے کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے جو لوگوں کی زندگی کو اول سے آخر تک نچوڑ رہی ہے اور دنیا میں ہلاکتوں کا ایک بڑا سبب عصرحاضر کی تعلیم اورتعلیمی سسٹم ہے۔ جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں خود کشی کرنے والوں کی بڑی تعداد وہی ہے جو عصرحاضر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھتے جاتے ہیں اور اب تو حد یہ ہوچکی ہے کہ تعلیم کے دوران ہی اس تعلیم کے حصول میں مصروف بچے خود کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

چنانچہ جاپان سے آمدہ یہ خبر ملاحظہ کیجیے: ’’جاپان کی وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے ملک میں بچوں میں خودکشیوں کی شرح تیس برسوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ ان کے مطابق 2016 اور 2017 کے مالی سال کے دوران سکول جانے والے تقریباً 250 بچوں نے خودکشی کی۔ یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے اور 1986 کے بعد سب سے زیادہ۔ان بچوں نے خاندانی مسائل، مستقبل کی فکر اور سکول میں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی تھی۔ تاہم متعلقہ سکولوں کے مطابق ان میں سے 140 بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان لینے سے پہلے کوئی نوٹ نہیں چھوڑا اس لیے ان کی خودکشی کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔خبودکشی کرنے والے زیادہ تر بچے ہائی سکول میں تھے۔ جاپان میں عموماً بچے اٹھارہ سال کی عمر تک سکول جاتے ہیں۔جاپانی کیبنٹ آفس کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان میں یکم ستمبر کو سکول کے سال کے آغاز کے وقت سب سے زیادہ خودکشیاں ہوتی ہیں۔جاپان میں 2017 میں 21000 ہزار لوگوں نے خودکشی کی جو کہ 2003 کی 34500 خودکشیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔جاپان کے وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ جاپان میں طالب علموں کی خودکشی کی شرح زیادہ ہے جو کہ فکر کی بات ہے اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ ‘‘

یہ صورت حال دردمند اہل اسلام کے لیے بڑی عبرت آموز ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم میں اس قدر نہ دھنسائیں کہ وہ اس آگ کا ایندھن بن جائیں۔ دینی تعلیم کے ادارے اب بھی اور ہر وقت آپ کے بچوں کے لیے بانہیں پھیلائے ہوئے ہیں، آپ اپنے بچوں کو آخرت کی تیاری والے علم سے ہرگز محروم نہ رکھیں۔

٭…٭…٭

کہا جاتا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے ہیں، ان پر کوئی دنیاوی تنگی آجائے تو وہ اسے بڑے اچھے طریقے سے ہنڈل کر لیتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کی منفی تصویر بہت کم سامنے آتی ہے، ورنہ ان مغربی معاشروں میں اخلاقی قدریں بہت گر چکی ہیں۔ اس بارے میں برطانیہ سے آمدہ یہ رپورٹ ذرا ملاحظہ کیجیے:

’’برطانوی حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کو دی جانے والی مالی امداد کے نظام میں اصلاحات کی وجہ سے کئی خواتین جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔برطانیہ کی موجودہ کنزرویٹو حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں رائج فلاحی نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے یونیورسل کریڈٹ نامی نظام متعارف کروایا تھا۔انگلینڈ میں پانچ خیراتی اداروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک میں ایسی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یونیورسل کریڈٹ کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔

رکن پارلیمنٹ فرینک فیلڈ نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلائی۔لیورپول کے علاقے سے تعلق رکھنے والی جولی نے بتایا کہ ا س نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ زندگی میں کبھی جسم فروشی پر مجبور ہوں گی۔جولی نے، جو اُن کا اصلی نام نہیں ہے، ریڈیو فور کو بتایا کہ یونیورسل کریڈٹ کی ادائیگی میں آٹھ ہفتوں کی تاخیر نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا۔'میں اتنی مجبور تھی کہ جب مجھے سیکس کے عوض 30 پاونڈ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اسے قبول کر لیا۔'جولی نے کہا:'میں یہ تسلیم کرتے ہوئے انتہائی شرمندہ ہوں کہ میں رقم کے لیے ایک شخص کے ساتھ سوئی۔'جولی کہتی ہیں کہ وہ اتنی مجبور تھیں کہ وہ خوراک کے لیے مفت خوراک کے مراکز فوڈ بینکوں سے مدد لینے پر مجبور تھی۔ 'میں نے زندگی کبھی اس صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا۔ میں بہت بری طرح پھنسی ہوئی تھی'۔

'ٹومارو ویمن ورل' نامی خیراتی ادارے سے تعلق رکھنے والی اینگلا مرفی نے کہا کہ جولی اکیلی ایسی عورت نہیں ہے جو یونیورسل کریڈٹ کی وجہ سے جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہے۔

' یہ بہت عام کہانی ہے۔ امداد کی فراہمی میں تعطل انتہا کا ہے۔ آپ کیسے گذارہ کر سکتے ہیں۔‘‘

حالانکہ مسلم معاشرے کی خواتین بسا اوقات جوانی میں ہی بیوہ ہوجاتی ہیں اور پھر بھی وہ تمام عمر بڑے صبر و استقامت کے ساتھ عفت کے ساتھ نہ صرف اپنی زندگی بسر کرتی ہیں، ب بلکہ اپنی دین و ایمان کو بھی محفوظ رکھتی ہیں، اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بچوں کی بھی پرورش کرتی ہیں۔ اسلام نے صبر و استقامت کا جو درس دیا ہے اوراس صبر و استقامت پر آخرت کی جو نعمتیں اور ان کی یقین دھانی کرائی ہے تو یہ چیز ایک مسلمان کو اس طرح کی گندی راہوں پر جانے سے روکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگ اپنے دین اور اپنے اسلام کی قدر کریں اور دنیا پرستی میں ڈوبی ہوئی ان مغربی اقوام کو اپنا آئیڈیل ہرگز نہ بنائیں!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online