Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

بابری مسجد :مختصر تاریخی جائزہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 672 - Mudassir Jamal Taunsavi - Babari masjid

بابری مسجد :مختصر تاریخی جائزہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 672)

’’اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوسکتاہے، جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کا نام لینے(یعنی اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرنے) سے روکے، اور انہیں اُجاڑنے کی کوشش کرے، ان پر تو یہ لازم تھا کہ اگر وہ ان مساجد میں داخل ہوتے تو ڈرتے ہوئے داخل ہوتے، (اب) ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘۔ (البقرۃ:۱۱۴)

یہ ایک قرآنی پیغام ہے اس لیے ہر مومن کو اس پر ایمان رکھنا لازم ہے۔

اس قرآنی پیغام کو آفاقی اور ابدی ماننا بھی لازم ہے اور ایمان کا حصہ ہے۔

اس قرآنی پیغام کو سمجھنا اور اس کی اشاعت کرنا بھی ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔

یہ قرآنی پیغام کئی نکات پر مشتمل ہے، جن میں سے دو پیغام اہم ہیں:

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو ویران کریں، انہیں توحید کی بجائے شرک کا اڈہ بنائیں جس طرح کہ مشرکینِ مکہ نے کعبہ شریف کو توحید کی بجائے شرک کا اڈہ بنایا ہوا تھا، تو ایسے لوگوں کو ظالم سمجھاجائے۔ چونکہ یہ سب سے بڑے ظالم ہیں اس لیے ان کی طرف جھکاؤ اختیار کرنے سے خصوصی اِجتناب کیا جائے، یعنی انہیں تو بہر صورت دوست نہ بنایا جائے اور اگر کسی نے ایسا کیا توو ہ  بھی سن لے کہ اسے بھی ان کی نحوست کی آگ لپٹ جائے گی۔ چنانچہ بارہویں پارے میں یہ ہدایت موجود ہے کہ:’’ اور تم ظالموں کی طرف مت جھکو، ورنہ تمہیں بھی جہنم کی آگ لپٹ جائے گی‘‘(سورۃ ہود:۱۱۳)

جو لوگ ایسا ظلم کریں، تو انہیں جہاد کی قوت سے خوف زدہ کیا جائے تاکہ اگر وہ کبھی امن و امان لے کر اور دینی تعلیم سیکھنے یا کوئی سفارتی پیغام لے کر مسجد میں داخل ہوں تو بے باک ہوکر نہیں بلکہ محتاط اور خوف زدہ ہو کرداخل ہوں۔

جو لوگ ایسا ظلم کرتے ہوں تو انہیں دُنیا میں ہی رسوائی ہوگی اور اس کے لیے مسلمانوں کو جہاد کرنا ہوگا، گویا یہ بات خبر کے انداز میں بیان کرکے حکم دیا جارہا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد کرکے انہیں ذلت اور رُسوائی پہنچاؤ تاکہ انہیں اپنے کیے ہوئے قبیح ترین اور سب سے بڑے ظلم والے جرم کی شناعت و قباحت کا احساس ہو اور پھر شاید یا تو وہ اس جرم سے توبہ کرکے ایمان لے آئیں یا کم از کم آئندہ ایسے جرم سے باز رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق عطاء فرمائے کہ دُنیا بھر جہاں جہاں بھی کفار اور مشرکین کی طرف سے توحید کی صداؤں سے گونجتی مساجد کو ویران اور شرک و کفر کا ڈیرہ بنایاجارہا ہے ، وہ ان مجرموں کے خلاف بھرپور جہاد کریں، اورانہیں ان جرائم کی پاداش میں ذلت ناک رسوائی سے دوچار کریں۔

دسمبر کا مہینہ جہاں اور کوئی یادیں اپنے ساتھ لاتا ہے وہیں اسی مہینے کی 6تاریخ مسلمانوں کو وہ بڑا سانحہ بھی یاددِلاتی ہے جب اسی تاریخ کو 1992ء میں مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخی مسجد ’’بابری مسجد‘‘ کو پورے انڈیا سے اکٹھے ہونے والے مشرکوں نے چند گھنٹوں میں شہید کردیا اور پوری دنیا ان مشرکوں کے اس ظلم و جارحیت کا منہ دیکھتی رہ گئی، اور اسی سے دنیا میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کے باوجود ان کی مجموعی قدر و قیمت اور طاقت و قوت کی بے قدری بھی سامنے آئی۔

کہا جاتا ہے کہ بابری مسجد میں جب ہندؤوں نے راتوں رات خفیہ طور پر اپنی مورتیاں رکھ دی تھیں تو مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا:’’ میرے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ مستقبل میں مسلمانوں کو ایک ملت کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا یا نہیں، اگر اس کا جواب اثبات میں ملتا ہے تو بابری مسجد سے بت ہٹادئیے جائیں گے،اور اگر آئندہ چل کر اس کی نفی ہوتی ہے تو انتظار کیجئے دوسری مسجدوں میں بھی اس طرح کے حادثات پیش آسکتے ہیں۔‘‘

پھر بعد میں ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں اور ان کی مساجد و مدارس کے ساتھ جو کچھ ہوا، اور مزید کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ سب اس کی گواہ ہیں کہ مولانا آزاد کی دوربین نگاہوںنے ایک واقعے سے جس حقیقت کا اِدراک کرلیاتھا، وہ ایک سچی حقیقت بھی تھی اورتلخ بھی۔

اور اسی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس آگ کو بھڑکانے والے اصل انگریز ہیں اور ہندو اس سے شہہ پانے والے گیڈر ہیں، جو طاقت ور کو دیکھ کر رام رام کرتے ہیں اور کمزور کو دیکھ کر بغل سے چھری نکال لیتے ہیں۔

بابری مسجد کا سانحہ ایک عام سانحہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک تاریخی سانحہ تھا، جس نے دو قوموں کی زندگی اور موت کا رُخ متعین کردیا۔

یہ سچ ہے کہ بابری مسجد کا سانحہ نہ تو پہلا سانحہ تھا اور نہ ہی آخری مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سانحہ دو قوموں کی آزمائش کا سانحہ تھا،کہ اگر مسلم قوم اپنے دینی وجود کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے اس اپنی عظیم بابری مسجد کو بچانے کے لیے ہمہ تن تیار رہناہوگا، اور اس مسجد کی گراکر فتح کی خوشی منانے والے گائے کے پجاری مشرکین کو اس جرم کی سزا دینے کا عزم رکھنا ہوگا۔

آئیے ا ب ذیل میں انتہائی اختصار کے ساتھ یہ جانتے ہیں کہ بابری مسجد کی تعمیر سے لے کر آج تک تاریخ در تاریخ کب کب کیا کیا ہوا؟

1528ء… ایودھیا میں میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر کرائی۔

1949ء… خفیہ طور سے بابری مسجد میں رام کی مورتی رکھ دی گئیں۔

1959ء…نرموہی اکھاڑے کی طرف سے متنازعہ مقام کے تعلق سے ٹرانسفر کی عرضی داخل کی۔ بعد ازیں 1961 میں یوپی سنی سنٹرل بورڈ نے بھی بابری مسجد پر قبضہ کی عرضی داخل کی۔

1986ء…متنازعہ مقام کو ہندو عقیدت مندگان کے لئے کھول دیا گیا۔ اسی سال بابری مسجد ایکشن کمیٹی تشکیل ہوئی۔

1990ء… لال کرشن اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا کا آغاز کیا۔

1991ء… رتھ یاترا کی لہر سے بی جے پی اترپردیش کے اقتدار میں آ گئی۔ اسی سال بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لئے ملک بھر سے اینٹیں بھیجی گئیں۔

6 دسمبر 1992ء…ایودھیا پہنچ کر ہزاروں کار سیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد جگہ جگہ مسلم کُش فسادات کے واقعات رونما ہوئے۔ پولس نے لاٹھی چار ج کیا اور فائرنگ میں کئی لوگوں کی اموات ہو ئیں، اور ہندووں نے اپنی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہاں ایک عارضی رام مندر بھی بنادیا۔

16دسمبر 1992ء…بابری مسجد انہدام کے لئے ذمہ دار صورت حال کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن تشکیل دی گئی۔

1994ء…الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ میں بابری مسجد انہدام کے تعلق سے مقدمہ کا آغاز ہوا۔

4 مئی 2001ء… خصوصی جج ایس کے شکلا نے بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت 13 رہنماوں کو سازش کے الزام سے بری کر دیا۔

5 مارچ 2003ء…الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کرنے کا حکم دیا تاکہ مندر یا مسجد کے حوالے سے ثبوت مل سکیں۔

22اگست 2003ء…محکمہ آثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسجد کے نیچے 10 ویں صدی کے مندر کے باقیات کا اشارہ ملتا ہے۔ اس رپورٹ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے چیلنج کیا۔

ستمبر 2003ء…عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسجد انہدام کے لئے اکسانے والے 7 ہندو رہنماو ں کو پیشی پر بلایا جائے۔

30ستمبر 2010ء… الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس کے تحت متنازعہ زمین کو تین حصو ں میں تقسیم کر تے ہوئے ایک حصہ رام مندر، دوسرا سنی وقف بورڈ اور تیسرا نرموہی اکھاڑے کو دے دیا۔

9 مئی 2011ء… سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔

19اپریل 2017ء… سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی رہنماوں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے کا حکم سنایا۔( اور حیران کن یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب کہ پورے انڈیا میں بی جے پی کی طاقت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، اب یہ حکم کسی طرح کا لولی پاپ تھا یا کچھ اور …یہ سمجھنا کچھ زیادہ دشوار نہیں)

دسمبر 2018ء…بال ٹھاکرے کے جانشین ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں پورے انڈیا سے متعصب ہندوجمع ہو کر ایودھیا میں اکٹھے ہوئے اور اب وہ یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی وفاداریوں کے مطابق بابری مسجد کی جگہ باقاعدہ مندر تعمیر کرے اور مودی حکومت اسی مشن کو پورا کرنے کے لیے ایک بار پھر زمامِ اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے قوم سے ووٹ مانگ رہی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online