Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

لہو آواز دیتا ہے (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 673 - Mudassir Jamal Taunsavi - Lahu Awaz Deta Hay

لہو آواز دیتا ہے

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 673)

اللہ تعالیٰ سے اچھے اَنجام کا سوال ہے۔

کس موضوع پر لکھوں؟ اور کسے چھوڑوں؟ دونوں باتیں بہت مشکل ہیں۔

مگر پلوامہ کا غم سب پر بھاری پڑ رہا ہے ،اور افسوس کہ ہمارے پاس نہ اسے سوچنے کا وقت ہے اور نہ ہی ہماری آنکھوں سے کوئی آنسو ٹپکنے کو تیار ہیں، کیوں کہ ’’تبدیلی‘‘ مارکہ نعروں کی بھرمار میں ہمیں کئی مسائل میں ایسا الجھا دیا گیا ہے کہ ان سے ہٹ کر کوئی کچھ سوچنے اور بات کرنے کو تیار نہیں، اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ مسائل بھی ایسے ہیں جو ہمیں مزید الجھانے اور اپنی منزل سے دورکرنے کے لیے کھڑے کیے گئے ہیں۔

کتنی دردناک خبر ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں اُمت مسلمہ کے نونہالوں کا خون پانی کی طرح بہادیاگیا ہے، مائیں رو رہی ہیں، بچے بلک رہے ہیں، ایک پوری مسلم نسل کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنا کر اندھا بنایا جارہا ہے، گھرآگ سے جل رہے ہیں، راستے دھوئیں سے بھرے ہوئے ہیں، نوجوانوں پر ڈنڈے اور گولیاںبرسائی جارہی ہیں۔ ہر گھر میں سوگ ہے، کئی گھر مکینوں سے خالی ہورہے ہیں،پورا کشمیر ایک ایسا قیدخانہ بنا دیا گیا ہے جہاں بھوکے بھارتی درندے کھلے چھوڑ دیے گئے ہیں، جو انسانوں کو نوچ رہے ہیں، اور عالمی ادارے لمبی تان کر سوئے ہیں۔

ان حالات میں حریت رہنماوں نے سرینگر میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر کی جانب عوامی مارچ کی اپیل کی اور اپنے بیان میں جو کچھ کہا وہ ان کی آخری امید بھی ہے اور اس بات کی نشان دھی بھی کہ اب بھارتی مظالم اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا: ’’بھارت روزانہ نہتے عوام کو تہہ تیغ کررہا ہے، لہٰذا ہم چاہتے ہیں بھارتی فوج ایک ساتھ ہم سب کو مار دے، اسی لیے فوجی چھاؤنی کی طرف مارچ اب ناگزیر ہے‘‘۔

حریت قیادت کی طرف سے اس اپیل اور اس نازل صورت حال کی دیگرتفصیلات وغیرہ پر مشتمل یہ خبر بھی ملاحظہ کیجیے: ’’حریت کانفرنس کی اپیل پر پیر کو ہزاروں کشمیریوں نے کرفیو اور رکاوٹیں اپنے پاوں تلے روندتے ہوئے سرینگر میں بادامی باغ میں واقع بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹرز کی جانب مارچ کیا۔ مارچ کی کال دینے والے حریت قائد میر واعظ عمر فاروق نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ بھارت روز روز کشمیریوں کو مارنے کے بجائے ایک بار ہی سب کو مار ڈالے۔ مارچ کی قیادت کرنے والے میر واعظ عمر فاروق و محمد یاسین ملک کو بھارتی فوج نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

حریت قائدین کی گرفتاری کے باوجود کشمیریوں نے مارچ جاری رکھا اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں بادامی باغ میں واقع بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹرز پہنچے اور بھارتی جارحیت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ مارچ میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور مزید اضافی نفری بلا کر وادی بھر میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا۔ بیشتر اضلاع میں انٹر نیٹ و موبائل فون سروس بند رکھی گئی۔ بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں نہتے نوجوانوں کی شہادتوں پر وادی بھر میں تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی۔ تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر، تعلیمی و کاروباری ادارے بند رہے۔ تعلیمی اداروں میں جاری امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی رکن اسمبلی انجینئر رشید نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، تاہم انہیں گرفتار کر کے جیل کوٹھی باغ میں قید کردیا گیا۔

 مقبوضہ کشمیر میں پونچھ سے تعلق رکھنے والے11ویں کے طالبعلم سید فیضان بخاری نے پلوامہ میں کشمیریوں کے قتل عام کے بعد اعلیٰ تعلیمی کارکردگی پر بھارتی فوج کی جانب سے ملنے والا ایوارڈ واپس کر دیا ہے۔ فیضان بخاری کا کہنا ہے کہ میں ایسا ایوارڈ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا ہے، جسے دینے والوں کے ہاتھ ہمارے بھائیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ بھارت نواز پی ڈی پی نے سول سیکریٹریٹ، جبکہ سول سوسائٹی کے ارکان نے جنرل بس اسٹینڈ پر بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی شہادت کیخلاف احتجاج کیا۔

 ادھر اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی اور انسانی حقوق کے مستقل آزاد کمیشن نے مشترکہ بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے تنازع کے دائمی منصفانہ حل کے سلسلے میں کردار و قتل عام کیخلاف شفاف تحقیقات کرانے، بھارتی حکومت سے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ او آئی سی نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارت استصواب رائے کے مطالبے کو دبانے کیلئے منظم طریقے سے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے پرامن کشمیریوں پر طاقت کا استعمال انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، جینے کا حق اور پر امن احتجاج کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

معروف بزرگ حریت پسند رہنما سیدعلی گیلانی کا یہ بیان بھی دیکھئے جو بند آنکھوں کے کھولنے کے لیے کافی ہے: ’’کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین سید علی گیلانی سرنو پلوامہ میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوںکشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے،اور سینکڑوں افراد کو زخمی کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تاریخ کی کتابوں میں چنگیز اور ہلاکو کے ظلم کے بارے میں پڑھا تھا، مگر یہاں پر بھارتی فوج نے اپنی وحشت اور بربریت سے تاریخ کے تمام ظالموں اور جابروں کو مات دی ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ پلوامہ میں جو کچھ بھی ہوا یہ کھلی درندگی ہے اور جن وردی پوش اہلکار وںنے یہ کارنامہ انجام دیا وہ کسی بھی صورت میں انسان کہلانے کے لائق نہیں ۔ بھارت اپنے آپ کو بڑی ملٹری طاقت کا ملک ہونے کا دعویٰ تو کرتا مگر اس طاقتور ملک کے فورسز جموں کشمیر میں نہتے انسانوں پر تمام جنگی ہتھیاروں کا استعمال کرکے ظلم وجبر اور سفاکیت کی نئی داستان رقم کررہا ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ یہاں کے عوام خاص طور نوجوان پچھلے 71سال سے اپنا پیدائشی اور بنیادی حق کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا بھارت کی حکومت نے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر وعدہ کیا ہے، مگر بھارت اپنے طاقت کے نشے میں چور ہوکر اپنے وعدے سے مکر گیا اور اب طاقت کی بنیاد پر جموں کشمیر کی عوامی آواز کو آہنی ہاتھوں اور مکروفریب سے دبانا چاہتا ہے۔ آزادی پسند راہنما نے انسانیت اور جمہویت  کے دعوے داروں سے سوال کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں پر جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال کا کیا جواز ہے؟ پیلٹ گن کے استعمال کے ساتھ ساتھ دوسرے مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا کیا جواز ہے؟ انہوں نے واضح کردیا کہ دنیا کے کس قانون نے اس کی اجازت دی ہے کہ نہتے لوگوں پر آہنی ہتھیاروں کا استعمال کیا جانا چاہیے؟ حریت چیرمین نے کہا کہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کی حدود میں بھی جگہ جگہ احتجاج، دھرنے اور مظاہرے ہوتے ہیں، لیکن وہاں طاقت اور گولیوں کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ کشمیر میں چونکہ مسلمان اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں اس لیے ان پر ہر قسم کا ظلم، ہر قسم کا ہتھیار اور ہر قسم کی قدغن جائز بھی ہے اور اُن کے قومی مفاد میں بھی ہے۔‘‘

کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ان مظالم کے بعد دنیا کے لیے خاموش رہنے اور ان کی مدد نہ کرنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟آخر کوئی تو ہو جو ان مظلوموں کی مدد کے لیے خود کو پیش کرے؟ کوئی تو ہو جو ان کے درد کو محسوس کرے؟

آہ! کوئی تو ہو جوان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے آگے بڑھے، آخر کب تک وادی میں ان مظلوم اہل ایمان کا خون اسی طرح بہایا جاتا رہے گا؟

ہم تو اُس نبی کے امتی کہلاتے ہیں کہ جہاں ایک مسلم خاتون کے ساتھ یہودیوں کی چھیڑ چھاڑ کرنے کی وجہ سے اس پورے یہودی قبیلے کو مدینے سے جلاوطن کردیا جاتا ہے، اور ن کے خلاف نبی کریمﷺ اپنی قیادت میں لشکر کشی فرماتے ہیں۔ یہ ہوتی ہے ’’ریاستِ مدینہ‘‘ اور ایسے ہوتے ہیں ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے حکمران!!

اس شدت غم میں بار بار یہ اَشعار یاد آرہے ہیں:

اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

خدا بھی اہل ہمت کو پر پرواز دیتا ہے

اٹھو کشمیر کے سرو و سمن آواز دیتے ہیں

تمہیں افغان کے کوہ و دمن آواز دیتے ہیں

لہو میں تیرتے گھر و صحن آواز دیتے ہیں

فلسطینیوں کے لاشے بے کفن آواز دیتے ہیں

اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

وہ دیکھو وادیِ کشمیر میں گلزار جلتے ہیں

تڑپتے ہیں کہیں گُل پیرہن گھر بار جلتے ہیں

ارم آباد کے وہ زعفرانِ زار جلتے ہیں

وہ اپنی جنتِ ارضی کے سب آثار جلتے ہیں

جِدھر اُٹھی نظر خونی الاؤ جلتے دیکھے ہیں

کہاں چشم فلک نے ایسے گھاؤ جلتے دیکھے ہیں

اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

بگوشے گوش سے نالے سنو معصوم بچوں کے

ڈرے سہمے ہوئے چہرے کہیں مغموم بچوں کے

جھپٹ کر ماؤں سے چھیدے گئے حلقوم بچوں کے

اٹھا کر ماؤں نے پھر بھی لیے منہ چوم بچوں کے

مرتب ہو رہی ہے جہدِ اسلامی کی تحریریں

لہو دے کر بدلتی ہیں سدا قوموں کی تقدیریں

اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online