Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مصائب اور چند ہدایات (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 674 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masaib aur Chand Wajuhat

مصائب اور چند ہدایات

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 674)

متعدد جماعتی اَحباب نے اَحباب ملاقات کے وقت اپنے جن مسائل کا ذکر کیا اُن میں جادو، ٹونے اور غلط تعویذات و دم پھونک کے مسائل سرفہرست ہوتے ہیں۔ چنانچہ پھر اُن کی تسلی کے لیے اپنے اکابر کے اِفادات میں پڑھی ہوئی بعض باتیں جواُن کے مناسبِ حال معلوم ہوتی ہیں، انہیں بتادیتا ہوں۔

اس میں شک نہیں کہ شیاطین قدیم زمانے سے ان چیزوں کے ذریعے انسان کے ایمان اور جان کو نقصان پہنچانے کے درپئے رہتے ہیں۔

سورۃ بقرہ میں حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کے زمانے کے تذکرے میں اہل کتاب کی یہ عادت بتائی گئی ہے کہ وہ یہی جادو سیکھتے ہیں جو ان کے لیے نفع کا باعث تو نہیں ہوتا البتہ نقصان کا سبب ضرور ہوتا ہے اور نقصان بھی سب سے پہلے خود ان جادو کرنے اور کرانے والوں کا ہوتا ہے مگر انہیں شعور نہیں ہوتا کیوں کہ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کو مول لے رہے ہوتے ہیں اور رہا وہ شخص جس کے خلاف جادو کیا جاتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں وہ آزمائش لکھی ہوتبھی اس پر اِس کا اثر ہوتا ہے ورنہ بہر حال وہ اس شر سے محفوظ رہتا ہے۔

ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں اپنے جان و مال کے بارے میں یا اپنی بیوی بچے اوردیگر اعزہ و اَقارب کی جان ومال کے بارے میں اس پریشان کن صورت حال کا سامنا ہوتو اُسے ظاہری و باطنی مناسب علاج کرانے کے ساتھ ہر لمحہ درج ذیل چند ہدایات کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے تاکہ ایمان اور عقیدہ سلامت رہے۔

(۱)ایک مسلمان کو ہر قدم پر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہر اچھی یا بُری جو بھی تقدیر ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہے اور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر تقدیر پر دل سے راضی رہے، نہ تو دِل سے اس پر ناراض ہو اور نہ ہی زبان سے اس پر شکوہ کرے، بلکہ کیسی ہی مصیبت کیوں نہ ہو اس کی زبان پر ’’الحمد للّٰہ علی کل حال واعوذ باللّٰہ من حال اہل النار‘‘ جاری ہونا چاہئے۔

(۲)کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر، اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اللہ تعالیٰ کی اجازت و حکم سے ہوتا ہے۔ اُس کی اجازت اور مشیت کے بغیر تو کوئی پتہ بھی نہیں ہل سکتا تو پھر کوئی کسی پر جادو وغیرہ کے ذریعے کوئی مصیبت کیسے ڈال سکتا ہے؟

اس لیے جو بھی مصیبت آئے اس کے بارے میں یہ سمجھنا چاہیے کہ میرے اللہ کی مشیت سے یہ ہوا ہے، ورنہ میرے مخالفین تو سراپا عاجز و مسکین اور کمزور و ذلیل ہی ہیں۔

(۳)اللہ تعالیٰ نے کائنا ت کا نظام چونکہ اَسباب کے ساتھ جوڑا ہے اور آزمائش کے لیے اچھائی کے اَسباب بھی مہیا کیے ہیں اور برائی کے۔ اب کچھ خوش نصیب تو وہ ہوتے ہیں جو اچھائی کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ وہ ہوتے ہیں جو شیطان اور نفس کے دھوکے میں پڑ کر برائی کی راہ پرچل نکلتے ہیں۔

انسان پر کیسی ہی مصیبت کیوں نہ وہ بہر حال وہ یہ دیکھتا رہے کہ کہیں وہ اس کی وجہ سے بُرائی اور اللہ تعالیٰ سے دوری والی راہ کی طرف تو نہیں جارہا ؟ اگر نہ جا رہا تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرے اور اگر جارہا ہو تو فوراً واپس پلٹے اور توبہ کرے۔

(۴)ہم بندے ہی ہیں، خدا نہیں ہیں۔ سب کچھ ہماری مرضی اور چاہتے کے مطابق ہو یہ کوئی ضروری نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم مصیبت دور کرنے کے لیے کوئی ظاہری یا باطنی ڈھیر ساری تدبیریں کریں اور وہ مصیبت لازماً دور ہی ہوجائے بلکہ اصل یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ جس حالت پر رکھے وہ اس حالت پر راضی رہے اور یہ سوچے کہ ہو سکتا ہے اس میں میرے لیے ایسی خیر ہو جو مجھے ابھی سمجھ میں نہ آرہی ہو۔

مثلاً ایک آدمی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کے بلند ترین درجات مقدر فرمائے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی مقدر فرمایا ہے کہ وہ اسے مختلف سخت آزمائشوں سے گزارے گا، اور ان آزمائشوں پر صبر کی وجہ سے اُس کے بہت سے درجات بلند ہوجائیں گے کہ اگر وہ تندرست ہوتا تو شاید اعمال کے ذریعے اُن درجات تک نہ پہنچ پاتا۔ اسی طرح جب وہ ان مصائب میں زیادہ اخلاص اور دل کے درد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور اس کے نام کے مختلف وظیفے پڑھتا ہے تو اس کی وجہ سے بھی اس کے مزید بہت سے درجات بلند ہو رہے ہوتے ہیں ، حالانکہ اگر وہ تندرست رہتا تو شاید اتنے اخلاص اور درد دل اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاک نام اور پاک یاد میں اتنا مشغول نہ ہوپاتا۔

اب ظاہر ہوگیا کہ وہ آزمائش اور مصیبت کس قدر اس بندے کے لیے خیر کا سبب ہے ، اگر وہ اسے سمجھ لے۔

(۵)جب بھی کوئی مصیبت یا تکلیف شروع ہو تو شروع سے ہی (شرعی اور جائز تدابیر کے ساتھ ساتھ)صبر کا دامن بھی تھام لینا چاہئے کہ اصل صبر شروع کا صبر ہی ہوتا ہے ورنہ لاعلاج ہونے کے بعد یا علاج سے تھک جانے کے بعد صبر کرنا حقیقی صبر نہیں ہوتا۔

(۶)آخری بات یہ کہ مصائب اورتکالیف سے بچاؤ کے لیے جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کے پاک نام اور پاک یاد والے وظائف کیے جائیں اُن میں اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا ہی اولین اور اہم ترین مقصد ہے ، یہ حاصل ہوگیا تو سمجھو کہ یہ دُکھ درد اور مصائب و تکالیف ایک وقت میں ایسے ختم ہوں گے کہ پھر کبھی ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ تمام مصیبت زدہ اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں عافیت کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor