Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغربی اَقوام کا مکروہ چہرہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 675 - Mudassir Jamal Taunsavi - Maghrabi aqwam ka makrooh chehra

مغربی اَقوام کا مکروہ چہرہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 675)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:’’ اور ہم نے انسانوں کو عزت و تکریم عطاء کی ہے‘‘

اسلام اور قرآن کا یہ آفاقی پیغام ہے اور حقیقی و سچا اعلان ہے۔ انسانیت کو جو حقوق اور مقام اسلام اور قرآن نے دیا ہے وہ کسی اور کے بس میں ہی نہیں اور نہ ہی ہوسکتا ہے کیوں کہ انسان کا خالق اللہ ہے اور اب اللہ تعالیٰ کا آخری اور سچا دین اسلام ہے اور آخری اور سچی ترین کتاب قرآن ہے۔ اس لیے اب اسی کی تعلیمات ہی حقیقی سچائی پر مشتمل ہیں۔

مغربی اقوام جو انسانیت کے حقوق کا راگ الاپتی ہیں اس میں اگر کوئی اچھی بات ہے تو وہ انہوں نے اسلام اور قرآن سے لی ہے اور باقی ان کے جو کرتوت ہیں وہ ان کے اپنے اسی مزاج کے مطابق ہیں جو کافر اور بددین و ملحدین قوموں کا شیوہ رہے ہیں۔

چنانچہ اب بھی انسانیت کی جس قدر تذلیل یہ مغربی اقوام کر رہی ہیں شاید ہی کوئی اور قوم ہو۔ حالیہ دنوں میں امریکی ریاست میکسیکو میں اغواکاری اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں جو کچھ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ حیران کن بھی ہیں اور دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی بھی جو انہیں ترقی اور تہذیب کامعیار سمجھے بیٹھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بارے میں جو حکومتی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے کے مطابق میکسکو میں 2006 سے اب تک تقریباً 37000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی کی گمشدگی کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں اور ان کے لواحقین یہ جاننے کو بیتاب ہیں کہ ان کے پیاروں کے ساتھ کیا ہوا؟

پیسے والے لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔ نوجوان مردوں کو کبھی کبھی زبردستی مجرمانہ گینگز میں شامل کیا جاتا ہے یا مخالف گینگ انھیں مار دیتا ہے جبکہ نوجوان لڑکیوں کو انسانی سمگلنگ کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔زیادہ تر کیسز میں فیملی کو پتا ہی نہیں چلتا کہ ان کے متعلقین کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟

یہ تو ایک ریاست کا حال ہے ۔

دوسری طرف برطانیہ جیسی مملکت بھی اس گھناونے جرم کے مجرموں سے بھری ہوئی ہے۔

چند سال قبل کی ایک رپورت میں بتایا گیا تھا کہ :برطانیہ میں حکومتی اندازوں کے مطابق ملک میں انسانی سمگلنگ کے نتیجے میں لائے جانے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔بین الشعبہ جات وزاتی گروپ کے مطابق ایک سال میں نو سو چھیالیس ایسے افراد کے بارے میں پتہ چلا تھا۔اس وقت برطانیہ میں ہر برس سمگل کیے جانے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری اعدادوشمار میسر نہیں تاہم گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران ان واقعات کی نشاندہی کے لیے قائم سرکاری ادارے کو ایک ہزار کے قریب افراد کا پتہ چلا جن میں سے سات سو بارہ بالغ اور دو سو چونتیس نابالغ تھے۔2010 میں جن واقعات کو رپورٹ کیا گیا ان میں سے پانچ سو چوبیس افراد بالغ اور ایک سو چھیاسی نابالغ تھے۔خیال کیا جاتا ہے کہ ہر برس ایسے اس تعداد میں اضافے کی وجہ انسانی سمگلنگ کا شکار افراد کی نشاندہی کا عمل بہتر ہونا ہے۔رپورٹ میں اعضاء کی غیرقانونی خریدو فروخت کے لیے بھی انسانی سمگلنگ کا ذکر ہے جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ لائے گئے بچوں سے بھیک منگوانے کے علاوہ انہیں جرائم کی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔بچوں کو استحصال سے بچانے کے برطانوی مرکز کے اندازوں کے مطابق ہر برس برطانیہ میں تین سو بچے انسانی سمگلروں کا نشانہ بنتے ہیں۔وزلندن میٹروپولیٹن پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر کیون ہائی لینڈ کا کہنا ہے کہ سمگل کیے جانے والے کچھ افراد تو بسوں یا کنٹینرز میں چھپا کر لائے گئے لیکن زیادہ تر قانونی طریقے سے سمگلروں کی ہمراہی میں ملک میں داخل ہوئے۔ان میں سے اکثریت ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھتی ہوئی برطانیہ آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو سرحد پر روکنا ناممکنات میں سے ہے کیونکہ ان میں بیشتر کو اس وقت تک اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔کیون ہائی لینڈ کے مطابق سمگل کیے جانے والے زیادہ تر افراد کو ہوٹلوں یا تفریحی صنعت میں نوکری یا بطور ترجمان کام کرنے کا لالچ دیا جاتا ہے اور جب وہ یہاں آ جاتے ہیں تو انہیں ڈرا دھمکا کر رکھا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اس مذموم کاروبار میں بانوے گروہ ملوث ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر برطانیہ سمگل کیے جانے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق نائجیریا سے ہے جبکہ یورپی ممالک میں رومانیہ اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔

اسی کے ساتھ آپ یہ برطانیہ سے متعلقہ یہ رپورت بھی دیکھ لیں کہ کس طرح وہاں کے شہری اس گھناونے منصوبے کو دوسرے ملکوں تک پھیلائے ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ بی بی سی پر بھی نشر ہوئی ہے ۔’’ معلومات کے مطابق تقریباً 100 برطانوی شہریوں کو گذشتہ برس فرانس میں تارکین وطن کو کیلے کے راستے برطانیہ سمگل کرنے کے جرم میں جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نے تارکین وطن کو اپنی گاڑیوں میں چھپایا تھا۔سمگلنگ گینگ ٹرک ڈرائیوروں کی بجائے بڑی تعداد میں گاڑی اور وین ڈرائیوروں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔کیلے کی مرکزی عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ان کا ہر ماہ پانچ سے دس برطانوی سمگلروں سے واسطہ پڑتا ہے۔جولی کولائرٹ نے بی بی سی کے فائل آن 4 پروگرام میں بتایا ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے لوگوں میں ایک چوتھائی تعداد برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہوتی ہے، جن کا مشرقی یورپ کے سمگلروں کے بعد دوسرا نمبر ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں ہم نے زیادہ سے زیادہ برطانوی سمگلر دیکھے ہیں۔ان کے مطابق سمگلر گینگ ان افراد کو اپنی گاڑیوں میں لے جانے کے لیے بھرتی کرتے ہیں، اور تارکین وطن اس کے لیے بہت سے پیسے دیتے ہیں کیونکہ وہ انھیں برطانیہ پہنچانے کی ضمانت دیتے ہیں۔جولی نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ ایک برس کے دوران برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 100افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عالمی جرائم کی جتنی بھی منڈیاں ہیں وہ سب انہی مغربی اقوام کی آشیر باد سے سرگرم ہیں اور اس سرگرمی میں وہ جنہیں بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں وہ یہی انسان ہوتے ہیں جنہیں ان کے کارندے مختلف حیلوں بہانوں اور زورزبردستی سے سمگل کرجاتے ہیں۔

مغربی اقوام کی یہ انسانیت دشمنی ان کا مکروہ چہرہ عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔ کاش کہ اہل اسلام اس سے عبرت لیں اور ان کی نقالی کو کمال سمجھنے سے اجتناب کریں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor